October 15, 2026 at 2:00 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

۱:۔ حدیثِ جرید

جواب

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۵)

ترجمہ:۔ ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آواز سنی، جن کو قبر میں عذاب ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور عذاب بھی کسی بڑی چیز پر نہیں ہورہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل ہو)، ان میں سے ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا، اور دُوسرا چغل خور تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کی) ایک تَر شاخ لی اور اس کو بیچ سے آدھوں آدھ چیرا، انہیں ایک ایک کرکے دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہؓ نے (یہ دیکھ کر) پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید (اس عمل سے) ان کے عذاب میں (اس وقت تک کے لئے) تخفیف ہوجائے جب تک کہ یہ شاخیں خشک نہ ہوں۔”

یہ مضمون حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ سے بھی مروی ہے:

۱:۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ۔ (ابن ماجہ ص:۲۹، مجمع الزوائد ج:۱ ص:۲۰۷، فتح الباری ج:۱ ص:۳۲۱)

۲:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ (ابن ابی شیبہ ج:۱ ص:۳۷۶، موارد الظمآن ص:۱۹۹، مجمع ج:۳ ص:۵۷)

۳:۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ۔ (مجمع الزوائد ج:۱ ص:۲۰۸)

۴:۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ۔ (افراد دارقطنی، فتح الباری ج:۱ ص:۳۱۷)

۵:۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ۔ (نسائی بحوالہ فتح الباری ج:۱ ص:۳۱۹)

۶:۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ۔ (مجمع ج:۳ ص:۵۶، فتح ج:۱ ص:۳۲۰)

۷:۔ حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا۔ (مجمع ج:۱ ص:۲۰۷)

۸:۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما۔ (مجمع ج:۳ ص:۵۷)

۹:۔ حضرت یعلیٰ بن سیابہ رضی اللہ عنہ۔ (ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۶، مجمع ج:۳ ص:۵۷)

۱۰:۔ اس نوعیت کا ایک اور واقعہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں ج:۲ ص:۴۱۸ میں منقول ہے۔

۱۱:۔ اور اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسندِ احمد میں بسند صحیح منقول ہے۔ (مجمع الزوائد ج:۲ ص:۵۷)

۱۲:۔ نیز اسی نوعیت کا ایک واقعہ مصنف ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۶ اور مسندِ احمد میں حضرت یعلیٰ بن سیابہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (مجمع ج:۳ ص:۵۷)

ان احادیث میں ہمارے دعویٰ پر درج ذیل شواہد ہیں:

ت:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے عذابِ قبر کو محسوس فرمانا، اور جن دو شخصوں کو عذابِ قبر ہو رہا تھا، ان کی آواز سننا۔

ت:۔ دونوں قبروں پر شاخِ خرما کا گاڑنا۔

ت:۔ اور دریافت کرنے پر یہ فرمانا کہ: شاید ان کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوجائے جب تک کہ یہ شاخیں خشک نہ ہوں۔

اگر یہ گڑھا، جس کو قبر کہا جاتا ہے، عذابِ قبر کا محل نہ ہوتا تو ان شاخوں کو قبروں پر نصب نہ فرمایا جاتا، اور اگر میّت کے بدن کو عذاب نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو شخصوں کی آواز نہ سنتے، اور نہ قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے عذابِ قبر کا احساس ہوتا۔

۱:۔ حدیثِ جرید - شہید اسلام