October 15, 2026 at 2:00 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

۲:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عذابِ قبر کو سننا

جواب

”فَسَمِعَ صَوْتَ اِنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ فِیْ قُبُوْرِھِمَا۔”

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۴)

ترجمہ:۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آواز سنی جن کو قبر میں عذاب ہو رہا تھا۔”

یہ مضمون بھی متعدد احادیث میں آیا ہے۔

۱:۔ ’’عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ) قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: یَہُوْدٌ تُعَذَّبُ فِیْ قُبُوْرِھَا۔‘‘(صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۴، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶ واللفظ لہٗ)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غروبِ آفتاب کے بعد باہر نکلے تو آواز سنی، فرمایا: یہود کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔‘‘

۲:۔ ’’عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَبِیُّ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَخْلٍ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ، یَبْرُزُ لِحَاجَتِہٖ۔ قَالَ: وَبِلَالٌ یَّمْشِیْ وَرَائَہٗ یُکْرِمُ نَبِیَّ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّمْشِیَ اِلٰی جَنْبِہٖ، فَمَرَّ نَبِیُّ اللّهِ صَلَّی اللّهِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَامَ حَتّٰی لَمَّ اِلَیْہِ بِلَالٌ، فَقَالَ: وَیْحَکَ یَا بِلَالُ! ھَلْ تَسْمَعُ مَا اَسْمَعُ؟ قَالَ: مَا اَسْمَعُ شَیْئًا! قَالَ: صَاحِبُ الْقَبْرِ یُعَذَّبُ! قَالَ: فَسَأَلَ عَنْہُ فَوَجَدَ یَہُوْدِیًّا۔‘‘ (رواہ احمد ورجالہ رجال الصحیح۔ مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۹ حدیث:۴۲۸۷ طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت۔ واخرجہ فی المستدرک ج:۱ ص:۴۰، وقال صحیح علٰی شرط الشیخین واقرہ الذھبی۔)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوطلحہؓ کے کھجوروں کے باغ میں قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جارہے تھے، حضرت بلال آپ کے پیچھے چل رہے تھے، ادب کی بنا پر برابر نہیں چل رہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ حضرت بلالؓ بھی آپہنچے، فرمایا: بلال! کیا تم بھی سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟ عرض کیا: میں تو کچھ نہیں سن رہا! فرمایا: صاحبِ قبر کو عذاب ہو رہا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبر کے بارے میں دریافت فرمایا کہ یہ کس کی قبر ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہودی کی قبر ہے۔‘‘

۳:۔ ’’عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْ لّا أَتَّھِمُہُ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ یَّمْشِیْ بِالْبَقِیْعِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا بِلَالُ! ھَلْ تَسْمَعُ مَا اَسْمَعُ؟ قَالَ: لَا، وَاللّهِ یَا رَسُوْلَ اللّهِ مَا اَسْمَعُہٗ! قَالَ: اَلَا تَسْمَعُ اَھْلَ ھٰذِہِ الْقُبُوْرِ یُعَذَّبُوْنَ؟ یَعْنِیْ قُبُوْرَ اَھْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ۔‘‘ (رواہ احمد ورجالہ رجال الصحیح، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۹ حدیث:۴۲۸۸)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے کسی صاحب نے بتایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلالؓ بقیع میں چل رہے تھے، اچانک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! جو کچھ میں سن رہا ہوں، کیا تم بھی سن رہے ہو؟ عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اس کو نہیں سن رہا۔ فرمایا: کیا تم اہلِ قبور کو سنتے نہیں ہو؟ ان کو قبروں میں عذاب ہو رہا ہے!‘‘

۴:۔ ’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّهِ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُمَا قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا نَخْلًا لِّبَنِی النَّجَّارِ، فَسَمِعَ اَصْوَاتَ رِجَالٍ مِّنْ بَنِی النَّجَّارِ مَاتُوْا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، یُعَذَّبُوْنَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَزْعًا، فَأَمَرَ أَصْحَابَہٗ أَنْ یَّتَعَوَّذُوْا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (رواہ احمد والبزار، ورجال احمد رجال الصحیح۔ مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۸ حدیث:۴۲۸۲۔ وکشف الأستار عن زوائد البزار ج:۱ ص:۴۱۲)

ترجمہ:۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کی ایک جگہ میں داخل ہوئے تو بنو نجار کے چند مُردوں کی آواز سنی، جو جاہلیت کے زمانے میں مرے تھے اور ان کو قبروں میں عذاب ہو رہا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گھبراکر نکلے، اور اپنے صحابہؓ کو حکم فرمایا کہ عذابِ قبر سے پناہ مانگیں۔‘‘

ان احادیث میں قبروں کے پاس جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عذابِ قبر کو سننا مذکور ہے، اگر یہ گڑھے (جن کو قبریں کہا جاتا ہے) عذاب کا محل نہ ہوتے اور قبروں میں مدفون ابدان کو عذاب نہ ہوتا، تو اس عذابِ قبر کا قبروں کے پاس سننا نہ ہوتا۔

۲:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عذابِ قبر کو سننا - شہید اسلام