عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
۳:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی عذابِ قبر کا سننا ممکن ہے
جواب
۱:۔ ’’عَنْ زَیْدٍ بْنِ ثَابِتٍ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ) قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَائِطٍ لِّبَنِی النَّجَّارِ عَلٰی بَغْلَۃٍ لَّہٗ، وَنَحْنُ مَعَہٗ اِذْ حَادَتْ بِہٖ فَکَادَتْ تُلْقِیْہِ وَاِذَا اَقْبُرَ سِتَّۃٍ اَوْ خَمْسَۃٍ اَوْ اَرْبَعَۃٍ – قَالَ: کَذَا کَانَ یَقُوْلُ الْجُرَیْرِیُ- فَقَالَ: مَنْ یَّعْرِفُ أَصْحَابَ ھٰذِہِ الْأَقْبُرِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا! قَالَ: فَمَتٰی مَاتَ ھٰؤُلَاءِ؟ قَالَ: مَاتُوْا فِی الْإشْرَاکِ! فَقَالَ: اِنَّ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِھَا، فَلَوْ لَا اَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّهَ اَنْ یُّسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِیْ اَسْمَعُ مِنْہُ ۔۔۔۔۔ الحدیث۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶)
ترجمہ:۔ ’’حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہوکر بنونجار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اچانک خچر بدک گیا، قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرجاتے، وہاں کوئی چار، پانچ یا چھ قبریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان قبروں کو کوئی پہچانتا ہے؟ ایک آدمی نے عرض کیا: جی ہاں! میں جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کب مرے تھے؟ اس نے عرض کیا: حالتِ شرک میں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ لوگ اپنی قبروں میں عذاب دئیے جاتے ہیں، اور اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردے دفن کرنا چھوڑ دوگے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر سنادیتے جس طرح میں سنتا ہوں۔‘‘
۲:۔ یہی حدیث صحیح ابن حبان میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (موارد الظمآن ص:۲۰۲)
۳:۔ ’’عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا مِّنْ قَبْرٍ، فَقَالَ: مَتٰی مَاتَ ھٰذَا؟ قَالُوْا: مَاتَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ! فَسُرَّ بِذَالِکَ وَقَالَ: لَوْ لَا اَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّهَ اَنْ یُّسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ۔‘‘ (سنن نسائی ج:۱ ص:۲۹۰ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶، موارد الظمآن ص:۲۰۰)
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی تو فرمایا: یہ کب مرا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ زمانۂ جاہلیت میں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مُردے دفن کرنا چھوڑ دوگے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی عذاب قبر ہوتا ہوا سنائی دیتا۔‘‘
۴:۔ ’’عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرْبًا لِّبَنِی النَّجَّارِ کَأَنَّہٗ یَقْضِیْ حَاجَتَہٗ فَخَرَجَ وَھَوَ مَذْعُوْرٌ، فَقَالَ: لَوْ لَا اَنْ تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّهَ اَنْ یُّسْمِعَکُمْ مِّنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا اَسْمَعَنِیْ۔‘‘ (اسنادہ صحیح، کنز العمال ج:۱۵ ص: ۷۴۰ حدیث:۴۲۹۴۳)
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ویرانے میں قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو گھبراکر نکلے، اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی وہ عذابِ قبر سنادے جو میں سنتا ہوں!‘‘
مندرجہ بالا احادیث ہمارے مدعا پر تین وجہ سے شاہد ہیں:
۱:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عذابِ قبر کو خود سننا۔
۲:۔ اور یہ فرمانا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی عذابِ قبر سنادیں، جو میں سن رہا ہوں۔ جس سے معلوم ہوا کہ عذابِ قبر کا سننا ہمارے حق میں بھی ممکن ہے۔ اگر عذاب کا تعلق قبر کے گڑھے سے نہ ہوتا تو قبروں کے اس عذاب کے سننے کی کوئی وجہ نہ تھی۔
۳:۔ اور یہ فرمانا کہ: اندیشہ یہ ہے کہ خوف کی وجہ سے تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے۔ اگر عذاب کا تعلق قبر کے گڑھے سے نہ ہوتا تو اس اندیشہ کی کوئی وجہ نہ تھی۔

