عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
۴:۔ بہائم کا عذابِ قبر کو سننا
جواب
۱:۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ:
’’ثُمَّ یُضْرَبُ بِمِطْرَقَۃٍ مِّنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً بَیْنَ اُذُنَیْہِ فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ إِ لّا الثَّقَلَیْنِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۸ واللفظ لہٗ، سنن ابوداؤد ج:۲ ص:۶۵۳، نسائی ج:۲ ص:۲۸۸، مسند احمد ج:۳ ص:۱۲۶، ۲۳۴)
ترجمہ:۔ ’’پھر اس (مردے) کو لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارا جاتا ہے، جس سے وہ مردہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جن و انس کے علاوہ قریب کے تمام حیوانات سنتے ہیں۔‘‘
۲:۔ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:
’’فَیُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِّنْ جَہَنَّمَ، ثُمَّ یُضْرَبُ ضَرْبَۃً تَسْمَعُ کُلُّ دَابَّۃٍ إِ لّا الثَّقَلَیْنِ۔ رواہ البزار‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۵ حدیث:۴۲۷۱، کشف الأستار عن زوائد البزار ج:۱ ص:۴۱۳)
ترجمہ:۔ ’’پھر اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر اس کو ماری جاتی ہے ایسی مار کہ اس کو سنتے ہیں تمام جانور سوائے جن و اِنس کے۔‘‘
۳:۔ حدیث ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ:
’’وَیُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ اِلَی النَّارِ، ثُمَّ یُقْمَعُہٗ قَمْعَۃً بِالْمِطْرَاقِ یَسْمَعُھَا خَلْقُ اللّهِ کُلُّھُمْ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ۔‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۴، ۲۹۶، کشف الأستار ج:۱ ص:۴۱۳، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۹ حدیث:۴۲۶۳)
ترجمہ:۔ ’’پھر اس (کافر مردے) کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر فرشتہ اس کو ایسا گرز مارتا ہے جس کو جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے۔‘‘
۴:۔ حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ:
’’فَیَضْرِبُہٗ بِھَا ضَرْبَۃً یَّسْمَعُھَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِ لّا الثَّقَلَیْنِ، فَیَصِیْرُ تُرَابًا، قَالَ: ثُمَّ تُعَادُ فِیْہِ الرُّوْحُ۔‘‘ (سنن ابو داوٗد ج:۲ ص:۲۹۸)
ترجمہ:۔ ’’پس فرشتہ اس کو ایسی ضرب لگاتا ہے، جس کو جن و انس کے سوا مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سنتی ہے، وہ اس ضرب سے مٹی ہوجاتا ہے۔ فرمایا: پھر اس میں دوبارہ رُوح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘
۵:۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا:
’’اِنَّھُمْ یُعَذَّبُوْنَ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَھَائِمُ کُلُّھَا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۴۲ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۱۷)
ترجمہ:۔ ’’مُردوں کو قبروں میں ایسا عذاب دیا جاتا ہے جس کو سب چوپائے سنتے ہیں۔‘‘
۶:۔ حدیث اُمّ مبشر رضی اللہ عنہا:
’’عَنْ اُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا فِیْ حَائِطٍ مِّنْ حَوَائِطِ بَنِی النَّجَّارِ، فِیْہِ قُبُوْرٌ مِّنْھُمْ ۔۔۔۔ وَھُوَ یَقُوْلُ: اِسْتَعِیْذُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ! قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! وَاِنَّھُمْ لَیُعَذَّبُوْنَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَھَائِمُ۔‘‘(رواہ احمد ورجالہ رجال الصحیح، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۹ حدیث:۴۲۸۹، موارد الظمآن ص:۲۰۰)
ترجمہ:۔ ’’حضرت اُمّ مبشر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: میں ایک دن بنو نجار کے باغ میں تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہاں بنو نجار کی کچھ قبریں تھیں (انہیں دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے عذابِ قبر سے پناہ مانگو! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قبر میں عذاب دیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! بے شک انہیں اپنی اپنی قبروں میں عذاب دیا جارہا ہے، جسے تمام جانور سنتے ہیں۔‘‘
۷:۔ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ:
’’اِنَّ الْمَوْتٰی لَیُعَذَّبُوْنَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ حَتّٰی اَنَّ الْبَھَائِمَ تَسْمَعُ اَصْوَاتَھُمْ۔‘‘ (رواہ الطبرانی فی الکبیر واسنادہ حسن۔ مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۴۰ حدیث:۴۲۹۱)
ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مُردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، یہاں تک کہ چوپائے ان کی آواز سنتے ہیں۔‘‘
۸:۔ حدیث ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ:
’’کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ وَّھُوَ یَسِیْرُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ، فَنَفَرَتْ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! مَا شَأْنُ رَاحِلَتِکَ نَفَرَتْ؟ قَالَ: اِنَّھَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یُّعَذَّبُ فِیْ قَبْرِہٖ فَنَفَرَتْ لِذَالِکَ۔‘‘ (رواہ الطبرانی فی الأوسط وفیہ جابر الجعفی وفیہ کلام کثیر وقد وثق، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۹، ۱۴۰ حدیث:۴۲۹۰)
ترجمہ:۔ ’’ایک سفر میں، میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ناقہ پر تشریف لے جارہے تھے کہ اچانک سواری بدک گئی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی سواری کو کیا ہوا؟ یہ بدک کیوں گئی؟ فرمایا: اس نے ایک شخص کی آواز سنی جس کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے بدک گئی۔‘‘
ان احادیث میں جن و انس کے علاوہ باقی حیوانات کا عذابِ قبر کو سننا مذکور ہے۔ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عذابِ قبر ایک حسی چیز ہے جس کو نہ صرف اس عالم میں محسوس کیا جاسکتا ہے، بلکہ جن و انس کے علاوہ باقی مخلوق کو اس کا ادراک بھی ہوتا ہے، جن و انس کو جو ادراک نہیں ہوتا اس میں ایک حکمت یہ ہے کہ ان کا ایمان، ایمان بالغیب رہے۔ دُوسری وہ حکمت ہے جو اُوپر بیان ہوچکی ہے کہ اگر عذابِ قبر کا انکشاف انسانوں کو عام طور سے ہوجایا کرتا تو کوئی شخص مُردوں کو قبرستان میں دفن کرنے کی ہمت نہ کرتا۔ بہرحال اس عذاب کا محسوس ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ عذابِ قبر اسی گڑھے میں ہوتا ہے اور یہ کہ میّت کے بدن کو بھی ہوتا ہے۔

