October 15, 2026 at 2:00 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

۵:۔ عذابِ قبر کے مشاہدہ کے واقعات

جواب

۱:۔ ’’عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ ذُوَیْبٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: اَغَارَ رَجُلٌ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی سَرِیَّۃٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ، فَانْھَزَمَتْ، فَغَشِیَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ رَجُلًا مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَھُوَ مُنْھَزِمٌ، فَلَمَّا اَرَادَ اَنْ یَّعْلُوْہُ بِالسَّیْفِ قَالَ الرَّجُلُ: لَا إِلٰـہَ إِ لّا اللّهُ! فَلَمْ یَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی قَتَلَہٗ، ثُمَّ وَجَدَ فِیْ نَفْسِہٖ مِنْ قَتْلِہٖ، فَذَکَرَ حَدِیْثَہٗ لِرَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَھَلّا نَقَبْتَ عَنْہُ قَلْبَہٗ! ۔۔۔۔ فَلَمْ یَلْبَثُوْا إِلّا قَلِیْلًا حَتّٰی تُوُفِّیَ ذَالِکَ الرَّجُلُ الْقَاتِلُ، فَدُفِنَ فَأَصْبَحَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ اَھْلُہٗ فَحَدَّثُوْا رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اِدْفَنُوْہُ! فَدَفَنُوْہُ فَأَصْبَحَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ اَھْلُہٗ فَحَدَّثُوْا رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اِدْفَنُوْہُ! فَدَفَنُوْہُ فَأَصْبَحَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ، فَجَاؤُوْا رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثُوْہُ ذَالِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الْأَرْضَ قَدْ اَبَتْ اَنْ تَقْبَلَہٗ فَاطْرَحُوْہُ فِیْ غَارٍ مِّنَ الْغِیْرَانِ!‘‘ (بیہقی دلَائل النبوۃ ج:۴ ص:۳۰۹، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۷۸، مصنَّف عبدالرزاق ج:۱۰ ص:۱۷۳، کنز العمال ج:۱۵ ص:۱۴۷، ۱۴۸ حدیث:۴۰۴۵۴)

ترجمہ:۔ ’’حضرت قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے ایک صاحب نے مشرکین کے ایک دستہ پر حملہ کیا، اس دستہ کو شکست ہوئی، پھر ایک مسلمان نے مشرکوں کے ایک آدمی کو بھاگتے ہوئے جالیا، جب اس پر تلوار اُٹھانے کا ارادہ کیا تو اس شخص نے ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ‘‘ پڑھا، لیکن مسلمان کلمہ سن کر بھی ہٹا نہیں، یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر اس کے ضمیر نے اس کے قتل پر ملامت کی، چنانچہ اس نے اپنا قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: تو نے اس کا دل کرید کر کیوں نہ دیکھ لیا؟ تھوڑی مدت گزری تھی کہ اس قاتل کا انتقال ہوگیا، اسے دفن کیا گیا مگر اگلے دن دیکھا گیا کہ وہ کھلی زمین پر پڑا ہے، اس کے گھر کے لوگوں نے یہ قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دفن کردو! دوبارہ دفن کیا گیا تو پھر دیکھا کہ زمین پر پڑا ہوا ہے، تین بار یہی ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، اسے کسی غار میں ڈال دو!‘‘

۲:۔ ’’عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِّنْ بَنِی النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ ھَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَھْلِ الْکِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوْہُ، قَالُوْا: ھٰذَا قَدْ کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ، فَأَعْجَبُوْا بِہٖ، فَمَا لَبِثَ اَنْ قَصَمَ اللّهُ عُنُقَہٗ فِیْھِمْ، فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا، فَتَرَکُوْہُ مَنْبُوْذًا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۱۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۷۰، واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۳ ص:۱۲۰، ۱۲۱، ۲۴۵، صحیح ابن حبان بحوالہ موارد الظمآن ص:۳۶۵، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۷۸)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک شخص ہم سے یعنی بنونجار سے تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی ہوئی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وحی لکھا کرتا تھا، پھر وہ بھاگ کر اہلِ کتاب سے جاملا، انہوں نے اس کو خوب اُچھالا اور کہا کہ: یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے وحی لکھا کرتا تھا، وہ لوگ اس پر بہت خوش ہوئے، کچھ ہی دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن توڑ دی (یعنی مرگیا)، انہوں نے گڑھا کھود کر اسے دفن کردیا، صبح ہوئی تو زمین نے اس کو باہر پھینک دیا، انہوں نے اسے پھر دفن کیا، زمین نے اسے پھر باہر پھینک دیا، انہوں نے سہ بارہ دفن کیا، زمین نے اسے پھر اُگل دیا، عاجز ہوکر انہوں نے اسے بغیر دفن کے پڑا رہنے دیا۔‘‘

۳:۔ ’’عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: ۔۔۔۔۔ وَذَالِکَ اَنَّہٗ بَعَثَ رَجُلًا فَکَذَبَ عَلَیْہِ، فَدَعَا عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوُجِدَ مَیِّتًا قَدِ انْشَقَّ بَطْنُہٗ وَلَمْ تَقْبَلْہُ الْأَرْضُ۔‘‘ (بیہقی دلَائل النبوۃ ج:۶ ص:۲۴۵، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۷۸)

ترجمہ:۔ ’’حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (کسی کام سے) بھیجا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے ایک جھوٹ بولا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بددُعا فرمائی، اس کے نتیجہ میں وہ مردہ حالت میں پایا گیا، اس کا پیٹ پھٹا ہوا تھا، اور زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔‘‘

۴:۔ ’’عَنْ عِمْرَانَ ۔۔۔۔۔۔۔ شَھِدْتُّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَعَثَ جَیْشًا مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ ۔۔۔ الٰی قولہ ۔۔۔ فَلَمْ یَلْبَثْ إِلّا یَسِیْرًا حَتّٰی مَاتَ فَدَفَنَّاہُ، فَأَصْبَحَ عَلٰی ظَھْرِ الْأَرْضِ، فَقَالُوْا: لَعَلَّ عَدُوًّا نَّبَشَہٗ فَدَفَنَّاہُ ثُمَّ اَمَرْنَا غِلْمَانَنَا یَحْرُسُوْنَہٗ فَأَصْبَحَ عَلٰی ظَھْرِ الْأَرْضِ فَقُلْنَا: لَعَلَّ الْغِلْمَانَ نَعِسُوْا، فَدَفَنَّاہُ ثُمَّ حَرَسْنَاہُ بِأَنْفُسِنَا فَأَصْبَحَ عَلٰی ظَھْرِ الْأَرْضِ، فَأَلْقَیْنَاہُ فِیْ بَعْضِ تِلْکَ الشِّعَابِ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَنَبَذَتْہُ الْأَرْضُ فَأُخْبِرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: اِنَّ الْأَرْضَ لَتَقْبَلُ مَنْ ھُوَ أَشَرُّ مِنْہُ، وَلٰـکِنَّ اللّهَ أَحَبَّ أَنْ یُّرِیَکُمْ تَعْظِیْمَ حُرْمَۃِ لَا إِلٰـہَ إِلّا اللّهُ۔‘‘ (سنن ابن ماجۃ ص:۲۸۱، دلَائل النبوۃ بیہقی ج:۷ ص:۱۲۸)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر کافروں سے جہاد کے لئے بھیجا، (اس کے بعد ایک شخص کے قتل کا واقعہ ذکر کیا)، پھر وہ قاتل چند ہی دنوں کے بعد مرگیا، ہم نے اس کو دفن کیا تو صبح کو کھلی زمین پر پڑا تھا۔ ہم نے سوچا شاید کسی دشمن نے اس کو اُکھاڑ پھینکا ہے، ہم نے دوبارہ دفن کردیا، اور اس پر اپنے غلاموں کا پہرہ لگادیا، اگلے دن پھر زمین کی سطح پر پڑا تھا، ہم نے سوچا شاید غلام سوگئے ہوں گے، ہم نے تیسری بار دفن کیا اور خود پہرہ دیا، لیکن اگلے دن پھر زمین پر پڑا تھا، بالآخر ہم نے اسے ایک غار میں ڈال دیا۔

اور ایک روایت میں ہے کہ: زمین نے اسے باہر پھینک دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کی گئی تو فرمایا: زمین تو اس سے بھی بُرے لوگوں کو قبول کرلیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ تمہیں یہ دکھائیں کہ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ کی حرمت کس قدر بڑی ہے!‘‘

۵:۔ ’’عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ اَنَّ مُحْلِمًا لَمَّا جَلَسَ بَیْنَ یَدَیہِ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ، قَالَ لَہٗ: آمَنْتَہٗ ثُمَّ قَتَلْتَہٗ؟ ثُمَّ دَعَا عَلَیْہِ، قَالَ الْحَسَنُ: فَوَاللّهِ! مَا مَکَثَ مُحْلِمٌ إِلّا سَبْعًا حَتّٰی مَاتَ، فَلَفَظَتْہُ الْأَرْضُ، ثُمَّ دَفَنُوْہُ، فَلَفَظَتْہُ الْأَرْضُ، ثُمَّ دَفَنُوْہُ فَلَفَظَتْہُ الْأَرْضُ، فَرَضَمُوْا عَلَیْہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ حَتّٰی وَارَوْہُ، فَبَلَغَ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِنَّ الْأَرْضَ لَتُطَابِقُ عَلٰی مَنْ ھُوَ شَرٌّ مِّنْہُ وَلٰـکِنَّ اللّهَ أَرَادَ أَنْ یَّعِظَکُمْ فِیْ حَرَمٍ مَّا بَیْنَکُمْ لَمَّا أَرَاکُمْ مِنْہُ۔‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ج:۴ ص:۲۲۵، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۲۹۴)

ترجمہ:۔ ’’حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ: محلم (ایک مسلمان کو قتل کرکے) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے امن دینے کے بعد قتل کردیا؟ پھر اس کے حق میں بددعا فرمائی، حضرت حسنؒ فرماتے ہیں کہ: محلم اس واقعہ کے ایک ہفتہ بعد مرگیا، تو زمین نے اس کو اُگل دیا، لوگوں نے اسے پھر دفن کیا، تو زمین نے اسے پھر اُگل دیا، بالآخر لوگوں نے اس کے گرد پتھر جمع کرکے اسے چھپادیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو فرمایا کہ: زمین تو اس سے بھی برے لوگوں کو چھپالیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ منظر تم کو دکھاکر یہ چاہا کہ تمہاری آپس کی حرمتوں کے بارے میں تم کو نصیحت و عبرت دلائیں۔‘‘

۶:۔ ’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَمَا اَسِیْرٌ بِجَنْبَاتِ بَدْرٍ، إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِّنْ حُفْرَۃٍ فِیْ عُنُقِہٖ سِلْسِلَۃٌ، فَنَادَانِیْ: ’’یَا عَبْدَاللّهِ! إِسْقِنِیْ‘‘ فَلَا اَدْرِیْ أَعَرِفَ إِسْمِیْ أَوْ دَعَانِیْ بِدِعَایَۃِ الْعَرَبِ، وَخَرَجَ رَجُلٌ مِّنْ ذَالِکَ الْحَفِیْرِ فِیْ یَدِہٖ سَوْطٌ، فَنَادَانِیْ: یَا عَبْدَاللّهِ! لَا تَسْقِہٖ فَإِنَّہٗ کَافِرٌ، ثُمَّ ضَرَبَہٗ بِالسَّوْطِ حَتّٰی عَادَ إِلٰی حُفْرَتِہٖ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُہٗ، فَقَالَ لِیْ: أَوَ قَدْ رَأَیْتَہٗ؟ قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ: ذَاکَ عَدُوُّ اللّهِ أَبُوْ جَھْلِ بْنِ ھِشَامٍ! وَذَاکَ عَذَابُہٗ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘ (قال الہیثمی رواہ الطبرانی فی الأوسط وفیہ عبداللّه بن محمد المغیرۃ وھو ضعیف، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۴۱ حدیث:۴۲۹۴)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: دریں اثنا کہ میں بدر کے قریب سے گزر رہا تھا، اتنے میں ایک گڑھے سے ایک شخص نکلا جس کے گلے میں زنجیر تھی، اس نے مجھے پکار کر کہا: ’’اے عبداللہ! مجھے پانی پلاؤ۔‘‘ مجھے معلوم نہیں کہ آیا اسے میرا نام معلوم تھا، یا عرب کے دستور کے مطابق اس نے ’’عبداللہ‘‘ (اللہ کا بندہ) کہہ کر پکارا۔ اس گڑھے سے ایک اور آدمی نکلا، جس کے ہاتھ میں کوڑا تھا، اس نے مجھے پکار کر کہا کہ: ’’اس کو پانی نہ پلانا، یہ کافر ہے!‘‘ پس اس نے پہلے شخص کو کوڑا مارا اور مار مار کر گڑھے کی طرف واپس لے گیا، میں جلدی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سارا قصہ عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے واقعی اس کو دیکھا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: یہ اللہ کا دشمن ابوجہل تھا! اور قیامت تک اس کی یہی سزا ہے!‘‘ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ!

۷:۔ ’’(وَقَالَ) إِبْنُ أَبِی الدُّنْیَا حَدَّثَنِیْ أَبِیْ، حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنَ دَاوٗدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ عَنِ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ: بَیْنَمَا رَاکِبٌ یَّسِیْرُ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، إِذْ مَرَّ بِمَقْبَرَۃٍ، فَإِذَا بِرَجُلٍ قَدْ خَرَجَ مِنْ قَبْرٍ یَّلْتَھِبُ نَارًا مُصَفَّدًا فِی الْحَدِیْدِ، فَقَالَ: ’’یَا عَبْدَاللّهِ! إِنْضَحْ، یَا عَبْدَاللّهِ! إِنْضَحْ‘‘ قَالَ: وَخَرَجَ آخَرُ یَتْلُوْہُ فَقَالَ: ’’یَا عَبْدَاللّهِ! لَا تَنْضَحْ، یَا عَبْدَاللّهِ! لَا تَنْضَحْ‘‘ قَالَ: وَغَشِیَ عَلَی الرَّاکِبِ، وَعَدَلَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ إِلَی الْعَرْجِ، قَالَ: وَأَصْبَحَ قَدِ ابْیَضَّ شَعْرُہٗ، فَأُخْبِرَ عُثْمَانُ بِذَالِکَ، فَنَھٰی أَنْ یُّسَافِرَ الرَّجُلُ لِوَحْدِہٖ۔‘‘ (کتاب الروح ص:۹۴)

ترجمہ:۔ ’’ابن ابی الدنیاؒ کہتے ہیں کہ: مجھ سے بیان کیا میرے والد نے، وہ کہتے ہیں کہ: ہم سے بیان کیا حماد بن سلمہ نے، وہ روایت کرتے ہیں ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے: دریں اثنا کہ ایک سوار مکہ و مدینہ کے درمیان جارہا تھا کہ ایک قبرستان سے گزرا، اچانک ایک شخص قبر سے نمودار ہوا جو آگ سے بھڑک رہا تھا، اور لوہے کی بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، اس نے کہا: ’’اے بندۂ خدا! مجھے پانی دے دو، اے بندۂ خدا! مجھے پانی دے دو۔‘‘ اور ایک اور شخص اس کے پیچھے سے نکلا، اس نے پکار کر کہا: ’’اے بندۂ خدا! اسے پانی نہ دینا، اے بندۂ خدا! اسے پانی نہ دینا۔‘‘ اس منظر سے سوار پر غشی طاری ہوگئی اور اس کی سواری اس کو موضع ’’عرج‘‘ لے گئی، اور اس صدمہ سے اس شخص کے بال سفید ہوگئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع کی گئی تو آپؓ نے آدمی کے تنہا سفر کرنے سے منع فرمادیا۔‘‘

۸:۔ ’’وَقَدْ ذَکَرَ ابْنُ أَبِی الدُّنْیَا فِیْ ’’کِتَابِ الْقُبُوْرِ‘‘ عَنِ الشَّعْبِیِّ اَنَّہٗ ذَکَرَ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَرَرْتُ بِبَدْرٍ فَرَأَیْتُ رَجُلًا یَّخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ فَیَضْرِبُہٗ رَجُلٌ بِمِقْمَعَۃٍ حَتّٰی یَغِیْبَ فِی الْأَرْضِ، ثُمَّ یَخْرُجُ فَیَفْعَلُ بِہٖ ذَالِکَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ذَالِکَ أَبُوْ جَھْلِ بْنِ ھِشَامٍ یُعَذَّبُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ!‘‘ (کتاب الروح ص:۹۳)

ترجمہ:۔ ’’ابن ابی الدنیاؒ نے کتاب القبور میں امام شعبیؒ سے نقل کیا ہے کہ: ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں بدر سے گزر رہا تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ زمین سے نکلتا ہے تو دُوسرا آدمی اس کو ہتھوڑے سے مارتا ہے، یہاں تک کہ وہ زمین میں غائب ہوجاتا ہے، وہ پھر نکلتا ہے تو دُوسرا اس کے ساتھ یہی کرتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ابوجہل بن ہشام ہے! اسے قیامت تک یہی عذاب ہوتا رہے گا۔‘‘

۹:۔ ’’(وَذَکَرَ) مِنْ حَدِیْثِ حَمَّادِ بْنِ سَلْمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللّهِ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أَسِیْرُ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ عَلٰی رَاحِلَۃٍ وَّأَنَا مُحَقِّبٌ إِدَاوَۃً، إِذْ مَرَرْتُ بِمَقْبَرَۃٍ فَإِذَا رَجُلٌ خَارِجٌ مِّنْ قَبْرِہٖ یَلْتَھِبُ نَارًا وَّفِیْ عُنُقِہٖ سِلْسِلَۃٌ یَّجُرُّھَا، فَقَالَ: ’’یَا عَبْدَاللّهِ! إِنْضَحْ، یَا عَبْدَاللّهِ! إِنْضَحْ۔‘‘ فَوَاللّهِ! مَا أَدْرِیْ أَعَرِفَنِیْ بِاسْمِیْ أَمْ کَمَا تَدْعُوا النَّاسُ؟ قَالَ: فَخَرَجَ آخَرُ فَقَالَ: ’’یَا عَبْدَاللّهِ! لَا تَنْضَحْ، یَا عَبْدَاللّهِ! لَا تَنْضَحْ۔‘‘ ثُمَّ إِجْتَذَبَ السِّلْسِلَۃَ فَأَعَادَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ۔‘‘ (کتاب الروح ص:۹۴)

ترجمہ:۔ ’’اور ابن ابی الدنیا نے حماد بن سلمہ کی روایت سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں سے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ: انہوں نے فرمایا کہ: دریں اثنا کہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان اُونٹنی پر سوار ہوکر جارہا تھا، میری سواری پرپانی کا مشکیزہ بھی تھا، ایک قبرستان سے گزرا تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی قبر سے نکل رہا ہے، جس پر آگ بھڑک رہی ہے اور اس کی گردن میں زنجیر ہے، جس کو وہ گھسیٹ رہا ہے، اس نے مجھے پکار کر کہا کہ: ’’اے عبداللہ! پانی دو، اے عبداللہ! پانی دو‘‘ پس اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ وہ میرے نام کو جانتا تھا یا جس طرح لوگ کسی کو بندۂ خدا کہہ کر پکارتے ہیں، اسی طرح اس نے مجھے بھی پکارا، پھر اس کے پیچھے ایک اور شخص نکلا، اس نے مجھے پکار کر کہا کہ: ’’اے عبداللہ! اس کو پانی نہ دینا، اے عبداللہ! اس کو پانی نہ دینا‘‘ پھر وہ پہلے شخص کی زنجیر کھینچ کر اسے دوبارہ قبر میں لے گیا۔‘‘

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’کتاب الروح‘‘ میں اس نوعیت کے مزید اٹھارہ واقعات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

’’وَهٰذِهِ الْأَخْبَارُ وَأَضْعَافُهَا وَأَضْعَافُ أَضْعَافِهَا مِمَّا لَا يَتَّسِعُ لَهُ الْكِتَابُ، مِمَّا أَرَاهُ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ لِبَعْضِ عِبَادِهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَنَعِيْمِهِ عِيَانًا، وَأَمَّا رُؤْيَةُ الْمَنَامِ فَلَوْ ذَكَرْنَاهَا لَجَاءَتْ عِدَّةُ أَسْفَارٍ۔‘‘(کتاب الروح ص:۹۹)

ترجمہ:۔ ’’یہ واقعات اور اس سے دوگنے چوگنے واقعات، جو اس کتاب میں نہیں سماسکتے، ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو قبر کے عذاب و ثواب کا مشاہدہ کرادیا، جہاں تک خواب کے واقعات کا تعلق ہے، اگر ہم انہیں ذکر کرنے بیٹھیں تو ان کے لئے کئی دفتر چاہئیں۔‘‘

۵:۔ عذابِ قبر کے مشاہدہ کے واقعات - شہید اسلام