عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
قبر میں پیش آنے والے حالات و واقعات
جواب
۱:۔ ’’عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ اَنَّہٗ حَدَّثَھُمْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ، وَتَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہٗ، إِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ، اَتَاہُ مَلَکَانِ، فَیُقْعِدَانِہٖ فَیَقُوْلَانِ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ، لِمُحَمَّدٍ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُوْلُ: أَشْھَدُ أَنَّہٗ عَبْدُاللّهِ وَرَسُوْلُہٗ! فَیُقَالُ لَہٗ: اُنْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اللّهُ بِہٖ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّۃِ! فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا۔ قَالَ قَتَادَۃُ: وَذُکِرَ لَنَا أَنَّہٗ یُفْسَحُ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ۔ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی حَدِیْثِ أَنَسٍ، قَالَ: وَأَمَّا الْمُنَافِقُ، أَوِ الْکَافِرُ فَیُقَالُ لَہٗ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ؟ فَیَقُوْلُ: لَا أَدْرِیْ! کُنْتُ أَقُوْلُ مَا یَقُوْلُ النَّاسُ۔ فَیُقَالُ: لَا دَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ، وَیُضْرَبُ بِمَطَارِقٍ مِّنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ!‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳، ۱۸۴ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۶۵۴، نسائی ج:۱ ص:۲۸۸، شرح السنہ ج:۵ ص:۴۱۵)
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کو دفن کرنے والے اس کے دفن سے فارغ ہوکر لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، تب اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں پھر اس سے کہتے ہیں کہ تو اس شخص یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ پس اگر مردہ مؤمن ہو تو کہتا ہے کہ: میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں! پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ: اپنے دوزخ کے ٹھکانے کی طرف دیکھ! اللہ تعالیٰ نے تجھے اس کے بدلے میں جنت کا ٹھکانا عطا فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: پس وہ جنت اور دوزخ دونوں میں اپنے ٹھکانوں کو دیکھتا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ہم سے یہ ذکر کیا گیا کہ پھر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔
لیکن کافر اور منافق، وہ فرشتوں کے سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ: میں نہیں جانتا (کہ یہ کون ہیں؟) میں تو ان کے بارے میں وہی بات کہتا تھا جو دُوسرے (کافر) لوگ کہتے تھے! پس اس سے کہا جاتا ہے کہ: نہ تو نے خود جانا اور نہ کسی جاننے والے کے پیچھے چلا! پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارا جاتا ہے، جس سے وہ ایسا چلاتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ قریب کی ساری مخلوق سنتی ہے۔‘‘
۲:۔ ’’عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰی صَلٰوۃً أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ فَقَالَ: مَنْ رَاٰی مِنْکُمُ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا؟ قَالَ: فَإِنْ رَاٰی أَحَدٌ قَصَّھَا، فَیَقُوْلُ: مَا شَآءَ اللّهُ! فَسَأَلَنَا یَوْمًا فَقَالَ: ھَلْ رَاٰی مِنْکُمْ أَحَدٌ رُؤْیًا؟ قُلْنَا: لَا! قَالَ: لٰـکِنِّیْ رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ رَجُلَیْنِ أَتَیَانِیْ فَأَخَذَا بِیَدَیَّ فَأَخْرَجَانِیْ إِلٰی أَرْضٍ مُّقَدَّسَۃٍ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَّرَجُلٌ قَآئِمٌ بِیَدِہٖ ۔۔۔۔۔۔ کَلُّوْبٌ مِّنْ حَدِیْدٍ، یُدْخِلُہٗ فِیْ شِدْقِہٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاہُ، ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْقِہِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَالکَ وَیَلْتَئِمُ شِدْقُہٗ ھذَا، فَیَعُوْدُ فَیَصْنَعُ مِثْلَہٗ، فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالَا: إِنْطَلِقْ! فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُّضْطَجِعٍ عَلٰی قَفَاہُ، وَرَجُلٌ قَآئِمٌ عَلٰی رَأْسِہٖ بِفِھْرٍ، أَوْ صَخْرَۃٍ، فَیَشْدَخُ بِھَا رَأْسَہٗ، فَإِذَا ضَرَبَہٗ تَدَھْدَہَ الْحَجَرُ، فَانْطَلَقَ إِلَیْہِ لِیَأْخُذَہٗ فَلَا یَرْجِعُ إِلٰی ھٰذَا حَتّٰی یَلْتَئِمَ رَأْسُہٗ وَعَادَ رَأْسُہٗ کَمَا ھُوَ، فَعَادَ إِلَیْہِ فَضَرَبَہٗ۔ قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَا: إِنْطَلِقْ! فَانْطَلَقْنَا إِلٰی نَقَبٍ مِّثْلَ التَّنُّوْرِ، أَعْلَاہُ ضَیِّقٌ وَّأَسْفَلُہٗ وَاسِعٌ تَتَوَقَّدُ تَحْتَہٗ نَارٌ، فَإِذَا اقْتَرَبَ إِرْتَفَعُوْا حَتّٰی کَادُوْا یَخْرُجُوْنَ، فَإِذَا خَمِدَتْ رَجَعُوْا فِیْھَا وَفِیْھَا رِجَالٌ وَّنِسَآءٌ عُرَاۃٌ فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالَا: إِنْطَلِقْ! فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی نَھْرٍ مِّنْ دَمٍ فِیْہِ رَجُلٌ قَآئِمٌ، وَعَلٰی وَسْطِ النَّھْرِ ۔۔۔۔۔۔ رَجُلٌ بَیْنَ یَدَیْہِ حِجَارَۃٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِیْ فِی النَّھْرِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّخْرُجَ رَمَاہُ الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِیْ فِیْہِ فَرَدَّہٗ حَیْثُ کَانَ، فَجَعَلَ کُلَّمَا جَآءَ لِیَخْرُجَ رَمٰی فِیْ فِیْہِ بِحَجَرٍ فَیَرْجِعُ کَمَا کَانَ، فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ ۔۔۔۔۔۔ قُلْتُ: قَدْ طَوَّفْتُمَانِی اللَّیْلَۃَ فَأَخْبِرَانِیْ عَمَّا رَأَیْتُ! قَالَا: نَعَمْ! أَمَّا الَّذِیْ رَأَیْتَہٗ یُشَقُّ شِدْقُہٗ فَکَذَّابٌ یُّحَدِّثُ بِالْکَذِبَۃِ فَتُحْمَلُ عَنْہُ حَتّٰی تَبْلُغَ الْآفَاقَ، فَیَصْنَعُ بِہٖ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَالَّذِیْ رَأَیْتَہٗ یُشْدَخُ رَأْسُہٗ فَرَجُلٌ عَلَّمَہُ اللّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْہُ بِاللَّیْلِ وَلَمْ یَعْمَلُ فَیْہِ بِالنَّھَارِ، یُفْعَلُ بِہٖ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَالَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِیْ النَّقَبِ فَھُمُ الزُّنَاۃُ، وَالَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِی النَّھْرِ آکِلُ الرِّبَا۔‘‘ الحدیث (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۵ واللفظ لہٗ، ج:۲ ص:۱۰۴۳، ترمذی ج:۲ ص:۵۳۔ یہی روایت حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، ملاحظہ ہو: موارد الظمآن ص:۴۴۵، مجمع الزوائد ج:۱ ص:۷۶، کنز العمال ج:۱۴ ص:۵۳۷،۵۳۸۔ مستدرک حاکم ج:۲ ص:۲۱۰)
ترجمہ:۔ ’’جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ فجر کی نماز پڑھ کر اپنے یار و اصحاب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کرتے تھے کہ: تم میں سے رات کو کسی نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟ اگر کوئی دیکھتا تو عرض کردیا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تعبیر ارشاد فرمادیا کرتے تھے۔ عادت کے موافق ایک بار سب سے پوچھا کہ: کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سب نے عرض کیا: کوئی نہیں دیکھا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے کہ دو شخص میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ کو ایک زمینِ مقدس کی طرف لے چلے، دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور دُوسرا کھڑا ہوا ہے، اور اس کے ہاتھ میں لوہے کا زنبور ہے، اس بیٹھے ہوئے کے کلے(۱) کو اس سے چیر رہا ہے، یہاں تک کہ گدی تک جاپہنچتا ہے، پھر دُوسرے کلے کے ساتھ بھی یہی معاملہ کر رہا ہے، اور پھر وہ کلا اس کا درست ہوجاتا ہے، پھر اس کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا بات ہے؟ وہ دونوں شخص بولے: آگے چلو! ہم آگے چلے یہاں تک کہ ایک ایسے شخص پر گزر ہوا جو کہ لیٹا ہوا ہے، سر پر ایک شخص ہاتھ میں بڑا بھاری پتھر لئے کھڑا ہے، اس سے اس کا سر نہایت زور سے پھوڑتا ہے، جب وہ پتھر اس کے سر پر دے مارتا ہے، پتھر لڑھک کر دور جاگرتا ہے، جب وہ اس کے اُٹھانے کے لئے جاتا ہے تو اب تک لوٹ کر اس کے پاس نہیں آنے پاتا کہ اس کا سر پھر اچھا خاصا جیسا تھا ویسا ہی ہوجاتا ہے، اور وہ پھر اس کو اسی طرح پھوڑتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ وہ دونوں بولے: آگے چلو! ہم آگے چلے، یہاں تک کہ ہم ایک غار پر پہنچے جو مثل تنور کے تھا، نیچے سے فراخ تھا اور اُوپر سے تنگ، اس میں آگ جل رہی تھی، اور اس میں بہت سے ننگے مرد اور عورت بھرے ہوئے ہیں، جس وقت وہ آگ اُوپر کو اُٹھتی ہے اس کے ساتھ وہ سب اُٹھ آتے ہیں، یہاں تک کہ قریب نکلنے کے ہوجاتے ہیں، پھر جس وقت بیٹھتی ہے وہ بھی نیچے چلے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ وہ دونوں بولے: آگے چلو! ہم آگے چلے، یہاں تک کہ ایک خون کی نہر پر پہنچے، اس کے بیچ میں ایک شخص کھڑا ہے، اور نہر کے کنارے پر ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے سامنے بہت سے پتھر پڑے ہیں، وہ نہر کے اندر والا شخص نہر کے کنارہ کی طرف آتا ہے، جس وقت نکلنا چاہتا ہے، کنارہ والا شخص اس کے منہ پر ایک پتھر اس زور سے مارتا ہے کہ وہ پھر اپنی پہلی جگہ پر جاپہنچتا ہے، پھر جب کبھی وہ نکلنا چاہتا ہے تو اسی طرح وہ پتھر مارکر اس کو ہٹادیتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے ان دونوں شخصوں سے کہا کہ: تم نے مجھ کو تمام رات پھرایا، اب بتاؤ کہ یہ سب کیا اسرار تھے؟ انہوں نے کہا کہ: وہ شخص جو تم نے دیکھا تھا کہ اس کے کلے چیرے جاتے تھے، وہ شخص جھوٹا ہے کہ جھوٹی باتیں کہا کرتا تھا اور وہ باتیں تمام جہان میں مشہور ہوجاتی تھیں، اس کے ساتھ قیامت تک یوں ہی کرتے ہیں۔ اور جس کا سر پھوڑتے ہوئے دیکھا، وہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو علمِ قرآن دیا، رات کو اس سے غافل ہوکر سو رہا اور دن کو اس پر عمل نہ کیا، قیامت تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ اور جن کو تم نے آگ کے غار میں دیکھا وہ زنا کرنے والے لوگ ہیں۔ اور جس کو خون کی نہر میں دیکھا وہ سود کھانے والا ہے۔‘‘ (بہشتی زیور حصہ اول سچی کہانیاں حکایت نمبر۴)
۳:۔ ’’عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَھَیْنَا إِلَی الْقَبْرِ وَلَمَّا یُلْحَدْ بَعْدُ، فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ کَأَنَّمَا عَلٰی رُؤُوْسِنَا الطَّیْرُ، وَبِیَدِہٖ عُوْدٌ یَّنْکُتُ بِہٖ فِی الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ: تَعَوَّذُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ! مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔
زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَالَ: إِنَّ الْمَیِّتَ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ، حِیْنَ یُقَالُ لَہٗ: یَا ھٰذَا! مَنْ رَّبُّکَ؟ وَمَا دِیْنُکَ؟ وَمَنْ نَّبِیُّکَ؟
وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ، فَیُجْلِسَانِہٖ، فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَنْ رَّبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: رَبِّیَ اللّهُ! فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: دِیْنِیَ الْإِسْلَامُ! فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَا ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ھُوَ رَسُوْلُ اللّهِ! فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: وَمَا یُدْرِیْکَ؟ فَیَقُوْلُ: قَرَأْتُ کِتَابَ اللّهِ، وَآمَنْتُ بِہٖ، وَصَدَّقْتُ!
زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ:ﵟ يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ ﵞ ثُمَّ اتَّفَقَا۔ فَیُنَادِیْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ: اَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ، فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَافْتَحُوْا لَہٗ بَابًا مِّنَ الْجَنَّۃِ! فَیَأْتِیْہِ مِنْ رَّوْحِھَا وَطِیْبِھَا، وَیُفْسَحُ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ مُدَّ بَصَرِہٖ۔
وَإِنَّ الْکَافِرَ ۔۔۔۔۔ فَذَکَرَ مَوْتَہٗ، قَالَ: فَتُعَادُ رُوْحَہٗ فِیْ جَسَدِہٖ، وَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ، فَیُجْلِسَانِہٖ، فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَنْ رَّبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: ھَاہْ! ھَاہْ! لَا أَدْرِیْ! فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: ھَاہْ! ھَاہْ! لَا أَدْرِیْ! فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَا ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ھَاہْ! ھَاہْ! لَا أَدْرِیْ! فَیُنَادِیْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ: اَنْ کَذَبَ، فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوْا لَہٗ بَابًا إِلَی النَّارِ! فَیَأْتِیْہِ مِنْ حَرِّھَا وَسَمُوْمِھَا، وَیَضِیْقُ عَلَیْہِ قَبْرُہٗ حَتّٰی تَخْتَلِفَ فِیْہِ أَضْلَاعُہٗ۔
زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یُقَیَّضُ لَہٗ أَعْمٰی، أَبْکَمُ، مَعَہٗ مِرْزَبَۃٌ مِّنْ حَدِیْدٍ، لَوْ ضُرِبَ بِھَا جَبَلٌ لَّصَارَ تُرَابًا، فَیَضْرِبُہٗ بِھَا ضَرْبَۃً یَّسْمَعُھَا مِنْ بَیْنِ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِ لّا الثَّقَلَیْنِ، فَیَصِیْرُ تُرَابًا ثُمَّ تُعَادُ فِیْہِ الرُّوْحُ۔‘‘ (جامع الاُصول ج:۱۱ ص:۱۷۷ واللفظ لہٗ، ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۹۸، مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۱، مسند احمد ج:۴ ص:۲۹۶)
ترجمہ:۔ ’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک انصاری کے جنازے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، قبر پر پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سروں پر پرندے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے (جیسا کہ گہری سوچ میں آدمی ایسا کیا کرتا ہے)، پھر سر مبارک کو اُوپر اُٹھاکر فرمایا کہ: عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو! دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا، پھر فرمایا کہ: جب لوگ میّت کو دفن کرکے لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ: میرا ربّ اللہ ہے! وہ کہتے ہیں کہ: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ: میرا دین اسلام ہے! وہ کہتے ہیں کہ: یہ آدمی کون تھا جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ: وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں! فرشتے کہتے کہ: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے کہ: میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھی ہے، میں اس پر ایمان لایا، اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی!
حق تعالیٰ شانہ‘ کے ارشاد: ﵟ يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ ﵞ (ابراهيم ٢٧) (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ کی برکت) سے دُنیا اور آخرت میں مضبوط رکھتا ہے) میں جس تثبیت کا ذکر ہے، اس سے مردے کا نکیرین کے سوال و جواب میں ثابت قدم رہنا مراد ہے۔
پھر ایک منادی آسمان سے آواز دیتا ہے کہ: میرے بندے نے سچ کہا! اس کے لئے جنت سے فرش بچھاؤ، اس کو جنت کا لباس پہنچاؤ، اور اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دو! چنانچہ (اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پس) اس کو جنت کی ہوا اور خوشبو آتی ہے، اور حدِ نظر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر کی موت کا ذکر کرنے کے بعد اس کی قبر کے حالات کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: اس کی رُوح اس کے بدن میں لوٹادی جاتی ہے، اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، وہ اس کو بٹھاتے ہیں، پھر اس سے کہتے ہیں کہ تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! میں نہیں جانتا! وہ کہتے ہیں کہ: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! میں نہیں جانتا! وہ کہتے ہیں کہ: یہ کون آدمی تھا جو تم میں بھیجا گیا؟ وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! میں نہیں جانتا! پس آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ: یہ جھوٹ بولتا ہے! اس کے لئے آگ کا فرش بچھاؤ، اس کو آگ کا لباس پہناؤ، اور اس کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دو! چنانچہ دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پس اس کو دوزخ کی گرمی اور اس کی لو پہنچتی ہے، اور اس کی قبر تنگ ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ پسلیاں ایک دُوسری میں نکل جاتی ہیں۔ نعوذ باللہ!
پھر اس پر ایک اندھا بہرا فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے، جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہوتا ہے، اگر وہ گرز پہاڑ پر ماردیا جائے تو وہ مٹی ہوجائے، وہ کافر مردے کو اس گرز سے ایسی مار مارتا ہے جس کو جنوں اور انسانوں کے سوا مشرق و مغرب کے درمیان کے سارے حیوان سنتے ہیں، وہ گرز لگنے سے مٹی ہوجاتا ہے، پھر اس میں دوبارہ رُوح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘
۴:۔ ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْمَیِّتَ یَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ، فَإِنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَانَتِ الصَّلٰوۃُ عِنْدَ رَأْسِہٖ، وَکَانَ الصَّوْمُ عَنْ یَّمِیْنِہٖ، وَکَانَتِ الزَّکٰوۃُ عَنْ یَّسَارِہٖ، وَکَانَ فِعْلُ الْخَیْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَۃِ وَالصَّلٰوۃِ وَالصِّلَۃِ وَالْمَعْرُوْفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَی النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَیْہِ، فَیُؤْتٰی مِنْ قِبَلِ رَأْسِہٖ فَتَقُوْلُ الصَّلٰوۃُ: مَا قِبَلِیْ مَدْخَلٌ! وَیُؤْتٰی مِنْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ الصَّوْمُ: مَا قِبَلِیْ مَدْخَلٌ! وَیُؤْتٰی مِنْ عَنْ یَّسَارِہٖ فَتَقُوْلُ الزَّکٰوۃُ: مَا قِبَلِیْ مَدْخَلٌ! وَیُؤْتٰی مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ فَیَقُوْلُ فِعْلُ الْخَیْرَاتِ: مَا قِبَلِیْ مَدْخَلٌ! فَیُقَالُ لَہٗ: اُقْعُدْ! فَیَقْعُدُ، وَتَمَثَّلَ لَہُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوْبِ فَیُقَالُ لَہٗ: مَا تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ کَانَ فِیْکُمْ؟ وَمَا تَشْھَدُ بِہٖ؟ فَیَقُوْلُ: دَعُوْنِیْ أُصَلِّیْ! فَیَقُوْلُوْنَ: إِنَّکَ سَتَفْعَلُ، وَلٰـکِنْ أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُکَ عَنْہُ! قَالَ: وَعَمَّ تَسْأَلُوْنِیْ عَنْہُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُکَ عَنْہُ! فَیَقُوْلُ: دَعُوْنِیْ أُصَلِّیْ! فَیَقُوْلُوْنَ: إِنَّکَ سَتَفْعَلُ، وَلٰـکِنْ أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُکَ عَنْہُ! قَالَ: وَعَمَّ تَسْأَلُوْنِیْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: أَخْبِرْنَا مَا تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ کَانَ فِیْکُمْ؟ وَمَا تَشْھَدُ بِہٖ عَلَیْہِ؟ فَیَقُوْلُ: مُحَمَّدًا (صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) أَشْھَدُ أَنَّہٗ عَبْدُاللّهِ وَإِنَّہٗ جَآءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللّهِ! فَیُقَالُ لَہٗ: عَلٰی ذَالِکَ حُیِّیْتَ، وَعَلٰی ذَالِکَ مُتَّ، وَعَلٰی ذَالِکَ تُبْعَثُ إِنْ شَآءَ اللّهُ! ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِّنْ قِبَلِ النَّارِ، فَیُقَالُ لَہٗ: اُنْظُرْ إِلٰی مَنْزِلِکَ وَإِلٰی مَا أَعَدَّ اللّهُ لَکَ لَوْ عَصَیْتَ! فَیَزْدَادُ غِبْطَۃً وَّسُرُوْرًا، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِّن قِبَلِ الْجَنَّۃِ، فَیُقَالُ لَہٗ: اُنْظُرْ إِلٰی مَنْزِلِکَ وَإِلٰی مَا أَعَدَّ اللّهُ لَکَ! فَیَزْدَادُ غِبْطَۃً وَّسُرُوْرًا، وَذَالِکَ قَوْلُ اللّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی:ﵟ يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَۚ وَيَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ٢٧ ﵞ ابراهيم ٢٧ قَالَ: وَقَالَ أَبُو الْحِکَمِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: فَیُقَالُ لَہٗ: اُرْقُدْ رَقَدَۃَ الْعُرُوْسِ الَّذِیْ لَا یُوْقِظُہٗ إِلّا أَعَزُّ أَھْلِہٖ إِلَیْہِ أَوْ أَحَبُّ أَھْلِہٖ إِلَیْہِ! ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی حَدِیْثِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: وَإِنْ کَانَ کَافِرًا أَتٰی مِنْ قِبَلِ رَأْسِہٖ، فَلَا یُوْجَدُ شَیْئٌ، وَیُؤْتٰی عَنْ یَّمِیْنِہٖ، فَلَا یُوْجَدُ شَیْئٌ، ثُمَّ یُؤْتٰی عَنْ یَّسَارِہٖ، فَلَا یُوْجَدُ شَیْئٌ، ثُمَّ یُؤْتٰی مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ فَلَا یُوْجَدُ شَیْئٌ، فَیُقَالُ لَہٗ: اُقْعُدْ! فَیَقْعُدُ خَائِفًا مَّرْعُوْبًا، فَیُقَالُ لَہٗ: مَا تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ کَانَ فِیْکُمْ؟ وَمَاذَا تَشْھَدُ بِہٖ عَلَیْہِ؟ فَیَقُوْلُ: أَیُّ رَجُلٍ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: اَلرَّجُلُ الَّذِیْ کَانَ فِیْکُمْ! قَالَ: فَلَا یَھْتَدِیْ لَہٗ۔ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: مُحَمَّدًا! فَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوْا، فَقُلْتُ کَمَا قَالُوْا! فَیَقُوْلُوْنَ: عَلٰی ذَالِکَ حُیِّیْتَ، وَعَلٰی ذَالِکَ مُتَّ، وَعَلٰی ذَالِکَ تُبْعَثُ إِنْ شَآءَ اللّهُ! ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِّنْ قِبَلِ الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ: اُنْظُرْ إِلٰی مَنْزِلِکَ وَإِلٰی مَا أَعَدَّ اللّهُ لَکَ لَوْ کُنْتَ أَطَعْتَہٗ! فَیَزْدَادُ حَسْرَۃً وَّثُبُوْرًا۔ قَالَ: ثُمَّ یَضِیْقُ عَلَیْہِ قَبْرُہٗ حَتّٰی تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُہٗ۔ قَالَ: وَذَالِکَ قَوْلُہٗ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: فَإِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمٰی۔‘‘ (مستدرک حاکم ج:۱ ص:۳۷۹، واللفظ لہٗ۔ ابن حبان ج:۶ ص:۶۵۔ موارد الظمآن ص:۱۹۷،۱۹۸۔ ابن ماجۃ ص:۳۱۵۔ ترمذی ج:۱ ص:۱۲۷)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب لوگ مردے کو دفناکر واپس لوٹتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، پھر اگر مردہ مؤمن ہو تو نماز اس کے سر کی طرف ہوتی ہے، روزہ دائیں طرف ہوتا ہے، زکوٰۃ بائیں جانب ہوتی ہے، اور دُوسری نفلی عبادتیں مثلاً: صدقہ، نفل نماز، صلہ رحمی، لوگوں کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک کرنا، اس کی پائینتی کی طرف ہوتے ہیں، اگر کوئی اس کے سر کی طرف آنا چاہے تو نماز کہتی ہے کہ: ادھر راستہ نہیں! اور اگر دائیں جانب سے آنا چاہے تو روزہ کہتا ہے کہ: ادھر سے کوئی راستہ نہیں! اور اگر بائیں جانب سے آنا چاہے تو زکوٰۃ کہتی ہے: ادھر سے کوئی راستہ نہیں! اور پاؤں کی طرف سے آنا چاہے تو نفلی عبادتیں کہتی ہیں کہ: ادھر سے کوئی راستہ نہیں!
پھر فرشتے (منکر و نکیر) اس کو کہتے ہیں کہ: اُٹھ کر بیٹھ! وہ بیٹھ جاتا ہے، تو اس کو ایسا لگتا ہے گویا سورج غروب ہونے کے قریب ہے، فرشتے اس سے کہتے ہیں: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تم میں تھا؟ اور تو اس کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے؟ مردہ کہتا ہے: ٹھہرو! میں ذرا نماز پڑھ لوں! فرشتے کہتے ہیں کہ: نماز خیر تم پڑھتے رہنا، ہم جو کچھ پوچھتے ہیں، اس کا جواب دے! وہ کہتا ہے: تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: یہی جو ہم نے سوال کیا ہے، اس کا جواب دو! وہ کہتا ہے: ذرا ٹھہرو! میں نماز پڑھ لوں! وہ کہتے ہیں: یہ تو خیر تم کرتے رہو گے، ہم تجھ سے جو کچھ پوچھتے ہیں، وہ ہمیں بتاؤ! وہ کہتا ہے: اور تم مجھ سے پوچھتے کیا ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بتا کہ یہ شخص جو تم میں تھا، اس کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ اور کیا شہادت دیتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ: تمہاری مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے پاس سے حق اور سچا دین لے کر آئے! پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ: تو اسی عقیدے پر جیا، اسی پر مرا، اور اِن شاء اللہ اسی پر اُٹھایا جائے گا! پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول کر بتایا جاتا ہے کہ: دیکھ! اگر تو نافرمان ہوتا تو دوزخ میں تیرا یہ ٹھکانا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے تیری سزا کے لئے یہ سامان تیار کر رکھا تھا! اس سے اس کی مسرت اور شادمان میں اضافہ ہوجاتا ہے، پھر اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول کر بتایا جاتا ہے کہ: دیکھ! اب جنت میں یہ تیرا گھر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے تیری راحت کا یہ سامان تیار کر رکھا ہے! اور حق تعالیٰ شانہ کے مندرجہ ذیل ارشاد کا یہی مطلب ہے:
ﵟ يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ ﵞ (ابراهيم ٢٧)
ترجمہ:۔ ’’اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ کی برکت) سے دُنیا اور آخرت میں مضبوط رکھتا ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ: سوجاؤ! جیسے دلہن سوجاتی ہے کہ اس کی محبوب ترین شخصیت کے سوا کوئی نہیں جگا سکتا۔
اگر مردہ کافر ہو تو اگر اس کے سر کی طرف سے آنا چاہیں تو کوئی روکنے والا نہیں، دائیں طرف سے آنا چاہیں تو وہاں بھی کوئی موجود نہیں، بائیں طرف سے آنا چاہیں تو ادھر بھی کوئی چیز موجود نہیں، اور اگر پائینتی کی طرف سے آنا چاہیں تو اس جانب بھی کوئی روکنے والی چیز موجود نہیں، چنانچہ فرشتے اس کو کہتے ہیں: بیٹھ جا! وہ خوفزدہ اور مرعوب ہوکر بیٹھ جاتا ہے، فرشتے کہتے ہیں: یہ شخص کون تھا جو تم میں موجود تھا؟ اور تو اس کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے؟ وہ کہتا ہے: کون سا آدمی؟ فرشتے کہتے ہیں کہ: یہی شخص جو تم میں تھا! لیکن وہ نہیں سمجھتا کہ کس آدمی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ پھر فرشتے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی لے کر) کہتے ہیں کہ: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟) وہ کہتا ہے کہ: میں نے لوگوں کو ان کے بارے میں ایک بات کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی وہی بات کی (کہ -نعوذ باللہ- آپ سچے نہیں!)، فرشتے کہتے ہیں کہ: تو اسی عقیدے پر جیا، اسی پر مرا، اور اِن شاء اللہ اسی پر اُٹھایا جائے گا! پھر اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول کر اس سے کہا جاتا ہے کہ: دیکھ! اگر تو فرماںبردار ہوتا تو تیری یہ جگہ تھی، اور اللہ تعالیٰ نے تیری راحت کا یہ سامان تیار کر رکھا تھا! پس اس کی حسرت و ہلاکت میں اضافہ ہوجاتا ہے، پھر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دُوسری میں سے نکل جاتی ہیں۔ اور یہی مطلب ہے حق تعالیٰ شانہ کے اس ارشاد کا:
ﵟ وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا ﵞ (طه ١٢٤)
ترجمہ:۔ ’’اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض کرے گا، تو اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا، اور قیامت کے روز ہم اس کو اندھا کرکے (قبر سے) اُٹھائیں گے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
۵:۔ ’’عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُصَلّاہُ فَرَأی نَاسًا کَأَنَّھُمْ یَکْتَثِرُوْنَ، قَالَ: اَمَا إِنَّکُمْ لَوْ أَکْثَرْتُمْ ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلِکُمْ عَمَّا أَرٰی، فَأَکْثِرُوْا مِنْ ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ اَلْمَوْتِ! فَإِنَّہٗ لَمْ یَأْتِ عَلَی الْقَبْرِ یَوْمٌ إِلّا تَکَلَّمَ، فَیَقُوْلُ: أَنَا بَیْتُ الْغُرْبَۃِ! أَنَا بَیْتُ الْوَحْدَۃِ! وَأَنَا بَیْتُ التُّرَابِ! وَأَنَا بَیْتُ الدُّوْدِ! فَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَہُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَّأَھْلًا! أَمَا إِنْ کُنْتَ لَأَحَبَّ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِیْ إِلَیَّ، فَإِذَا وُلِّیْتُکَ الْیَوْمَ وَصِرْتَ إِلَیَّ فَسَتَرٰی صَنِیْعِیْ بِکَ! قَالَ: فَیَتَّسِعُ لَہٗ مَدَّ بَصَرِہٖ، یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ إِلَی الْجَنَّۃِ۔ وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوِ الْکَافِرُ قَالَ لَہُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَّلَا أَھْلًا! أَمَا إِنْ کُنْتَ لَأَبْغَضُ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِیْ إِلَیَّ، فَإِذَا وُلِّیْتُکَ الْیَوْمَ وَصِرْتَ إِلَیَّ، فَسَتَرٰی صَنِیْعِیْ بِکَ! قَالَ: فَیَلْتَئِمُ عَلَیْہِ حَتّٰی یَلْتَقِیَ عَلَیْہِ وَتَخْتَلِفُ أَضْلَاعُہٗ! قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِہٖ فَأَدْخَلَ بَعْضَھَا فِیْ جَوْفِ بَعْضٍ۔ قَالَ: وَیُقَیَّضُ لَہٗ سَبْعِیْنَ تِنِّیْنًا، لَوْ أَنَّ وَاحِدًا مِّنْھَا نَفَخَ فِی الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَیْئًا مَّا بَقِیَتِ الدُّنْیَا، فَیَنْھَشْنَہٗ وَیَخْدَشْنَہٗ حَتّٰی یُفْضٰی بِہٖ إِلَی الْحِسَابِ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ، أَوْ حُفْرَۃٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارِ! ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَا نَعْرِفُہٗ إِ لّا مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ۔‘‘ (جامع ترمذی ج:۲ ص:۷۲)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلیٰ پر تشریف لائے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ہنس رہے ہیں، یہ دیکھ کر فرمایا کہ: سنو! اگر تم لذتوں کو چور چور کرنے والی چیز کو کثرت سے یاد کرتے تو وہ تم کو اس حالت سے مشغول کردیتی جو میں دیکھ رہا ہوں، پس لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو، کیونکہ قبر پر کوئی دن نہیں گزرتا ہے جس میں یہ بات نہ کہتی ہو کہ میں بے وطنی کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں، پھر جب بندۂ مؤمن اس میں دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس کو خوش آمدید کہنے کے بعد کہتی ہے کہ: میرے پشت پر جتنے لوگ چلتے تھے تو ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا، آج جبکہ تو میرے سپرد کیا گیا ہے اور مجھ تک پہنچا ہے تو تو دیکھ لے گا کہ میں تجھ سے کیسا اچھا برتاؤ کرتی ہوں، چنانچہ وہ اس کے لئے حدِ نظر تک کشادہ ہوجاتی ہے، اور اس کے لئے جنت کی طرف ایک درازہ کھول دیا جاتا ہے۔
اور جب بدکار یا (فرمایا کہ) کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے کہ: تیرا آنا نامبارک ہے، میری پشت پر جتنے لوگ چلتے پھرتے تھے تو ان میں مجھے سب سے زیادہ مبغوض تھا، آج جبکہ تو میرے حوالے کیا گیا ہے، اور میرے پاس پہنچا ہے تو دیکھ لے گا کہ میں تجھ سے کیسا برا سلوک کرتی ہوں، پس قبر اس پر مل جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کو اس قدر بھینچ دیتی ہے کہ اِدھر کی ہڈیاں اُدھر نکل جاتی ہیں، (اس کو سمجھانے کے لئے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دُوسری میں ڈالیں۔ فرمایا: اور اس پر ستر زہریلے سانپ مسلط کردئیے جاتے ہیں، (یہ سانپ اس قدر زہریلے ہیں کہ) اگر ان میں سے ایک زمین پر پھونک مارے تو رہتی دُنیا تک زمین پر کوئی سبزہ نہ اُگے، پس وہ سانپ اسے ہمیشہ نوچتے اور کاٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسے قیامت کے دن حساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا!‘‘
مندرجہ بالا چند احادیث بطورِ نمونہ ذکر کی ہیں، ان میں جو مضامین ذکر فرمائے گئے ہیں، ان کا خلاصہ درج ذیل عنوانات کے تحت پیش کیا جاتا ہے:
- (۱) عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اِنّ أعمال أُمّتی تعرض علیّ فی کل یوم الجمعۃ ۔۔۔ الخ‘‘ (حلیۃ الأولیاء ج:۶ ص:۱۷۹)۔ ’’عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ یقول: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إنّ أعمالکم تعرض علٰی أقاربکم وعشائرکم من الأموات، فإن کان خیرًا اِستبشروا بہ، وإن کان غیر ذٰلک قالوا: اللّٰھم لَا تمتھم حتّٰی تھدیھم کما ھدیتنا۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۵۴ باب عرض أعمال الأحیاء علی الأموات)۔

