عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
میّت کا دفن کرنے والے کے جوتوں کی آہٹ سننا
جواب
۱:۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں:
’’قَالَ: اَلْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَتَوَلّٰی وَذَھَبَ أَصْحَابُہٗ حَتّٰی إِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص: ۱۷۸،۱۸۳، مسلم ج:۲ ص:۳۸۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۶۵۴، نسائی ج:۱ ص:۲۸۸، شرح السنہ ج:۵ ص:۴۱۵، ابن حبان ج:۶ ص:۴۹)
ترجمہ:۔ ’’مردہ جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کو دفن کرنے والے واپس لوٹتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔‘‘
۲:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’قَالَ: فَیَجْلِسُ۔ قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ: فَإِنَّہٗ یَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ‘‘(عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۶۷)
ترجمہ:۔ ’’اسے بٹھایا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ: پھر وہ (دفن کرکے لوٹنے والوں کے) قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔‘‘
۳:۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں:
’’قَالَ: إِنَّ الْمَیِّتَ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ۔‘‘ (مسند احمد ج:۲ ص:۴۴۵ واللفظ لہٗ، حاکم ج:۱ ص:۳۷۹، ۳۸۰، وقال صحیح علیٰ شرط مسلم، واقرہ الذھبی۔ ابن حبان ج:۶ ص:۴۵-۴۸، موارد الظمآن ص:۱۹۶،۱۹۷، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۳ حدیث:۴۲۶۹، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۱۹)
ترجمہ:۔ ’’جب لوگ مردہ کو دفن کرکے واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک دُوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنَّ الْمَیِّتَ یَسْمَعُ حِسَّ النِّعَالِ إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ۔‘‘ (شرح السُّنَّۃ ج:۵ ص:۴۱۳)
ترجمہ:۔ ’’بے شک میّت جوتوں کی آہستہ سی آہٹ کو بھی سنتا ہے، جب لوگ اسے دفن کرکے واپس لوٹتے ہیں۔‘‘
۴:۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَإِنَّہٗ یَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِہٖ إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ۔‘‘ (مصنَّف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۱، احمد ج:۴ ص:۲۹۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۶۵۴)
ترجمہ:۔ ’’اور بے شک وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے، جب لوگ اسے دفن کرکے واپس لوٹتے ہیں۔‘‘
۵:۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِذَا دُفِنَ الْمَیِّتُ سَمِعَ خَفْقَ نِعَالِھِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ مُنْصَرِفِیْنَ۔‘‘ (رواہ الطبرانی فی الکبیر، ورجالہ ثقات۔ مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۷ حدیث:۴۲۷۷، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۰۰، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۱۶، درمنثور ج:۴ ص:۸۲)
ترجمہ:۔ ’’میّت کو جب دفن کرکے لوٹتے ہیں تو وہ (میّت) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔‘‘
۶:۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’حَتّٰی یَسْمَعَ صَاحِبُکُمْ خَبْطَ نِعَالِکُمْ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۳)
ترجمہ:۔ ’’یہاں تک کہ تمہارا ساتھی (میّت) تمہارے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔‘‘
۷:۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’قَالَ: إِنَّ الْمَیِّتَ یُقْعَدُ وَھُوَ یَسْمَعُ خَطْوَ مُشَیِّعِیْہٖ۔‘‘ (اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۳۹۷)
ترجمہ:۔ ’’میّت کو بٹھایا جاتا ہے اور وہ اپنے رُخصت کرنے والوں کے قدموں کی چاپ کو سنتا ہے۔‘‘

