عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
منکر نکیر کا آنا
جواب
’’جاننا چاہئے کہ ’’فتنۂ قبر‘‘ دو فرشتوں کے سوالوں کا نام ہے، اور اس بارے میں مندرجہ ذیل صحابہؓ سے متواتر احادیث مروی ہیں: ابوہریرہ، براء، تمیم داری، عمر بن خطاب، انس، بشیر بن اکال، ثوبان، جابر بن عبداللہ، حذیفہ، عبادہ بن صامت، ابن عباس، ابن عمر، ابن عمرو، ابن مسعود، عثمان بن عفان، عمرو بن عاص، معاذ بن جبل، ابوامامہ، ابوالدرداء، ابورافع، ابوسعید خدری، ابوقتادہ، ابوموسیٰ، اسماء، عائشہ (رضی اللہ عنہم)۔‘‘ (شرح الصدور ص:۴۹، اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۲)
اس کے بعد ان دونوں حضرات نے ان تمام روایات کی تخریج کی ہے۔ یہاں پہلے ان احادیث کے مأخذ کی طرف اشارہ کرتا ہوں، جن کو ان دونوں حضرات نے ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد مزید احادیث کا اضافہ کروں گا، اور جن مأخذ تک ہماری رسائی نہیں، وہاں شرح الصدور اور شرح احیاء کے حوالہ سے ماخذ ذِکر کئے جائیں گے۔
۱:۔ حدیثِ انس رضی اللہ عنہ پہلے گزرچکی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:
’’أَتَاہُ مَلَکَانِ فَأَقْعَدَاہُ فَیَقُوْلَانِ لَہٗ۔۔۔۔۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۸، ۱۸۳ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۶۵۴، نسائی ج:۱ ص:۲۸۸)
ترجمہ:۔ ’’اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھلاتے ہیں ۔۔۔۔۔‘‘
۲:۔ حدیثِ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، جس کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہٗ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ، إِنْ کَانَ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَإِنْ کَانَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ فَمِنْ أَھْلِ النَّارِ، فَیُقَالُ: ھٰذَا مَقْعَدُکَ!‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۱۸۴ واللفظ لہٗ، ترمذی ج:۱ ص:۱۲۷، نسائی ج:۱ ص:۲۹۲، ابن ماجہ ص:۳۱۵)
ترجمہ:۔ ’’جب آدمی مر جاتا ہے (تو قبر میں سوال و جواب کے بعد) اس کے سامنے اس کا اصل ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو جنت میں اس کا ٹھکانا اسے پیش کیا جاتا ہے، اور اگر دوزخی ہو تو دوزخ میں اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، پھر اس کو بتایا جاتا ہے کہ: یہ تیرا ٹھکانا ہے!‘‘
اتحاف السادۃ المتقین شرح احیاء علوم الدین میں دیلمی کی مسند الفردوس سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:
’’اَلِظُّوْا اَلْسِنَتَکُمْ قَوْلَ لَا إِلٰـہَ إِلّا اللّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّهِ، وَإِنَّ اللّهَ رَبُّنَا، وَالْإِسْلَامُ دِیْنُنَا، وَمُحَمَّدًا نَبِیُّنَا، فَإِنَّکُمْ تُسْئَلُوْنَ عَنْھَا فِیْ قُبُوْرِکُمْ‘‘(اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۶)
ترجمہ:۔ ’’اپنی زبانوں کو کلمہ ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ‘‘ کا عادی بناؤ، اور یہ بات بہ کثرت کہا کرو کہ: ’’اللہ تعالیٰ ہمارا ربّ ہے، اسلام ہمارا دین ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں‘‘ کیونکہ تم سے ان اُمور کے بارے میں قبروں میں سوال کیا جاتا ہے۔‘‘
۳:۔ حدیثِ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’قَالَ: إِذَا اُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِیْ قَبْرِہٖ أَتٰی ۔۔۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶، نسائی ص:۲۹۰، ابوداوٗد ج:۲ ص:۶۵۴، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۲۷۷)
ترجمہ:۔ ’’فرمایا: جب مؤمن کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے، تو اس کے پاس فرشتوں کی آمد ہوتی ہے۔‘‘
۴:۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’یُقَالُ: مَا عِلْمُکَ بِھٰذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوْقِنُ، لَا أَدْرِیْ أَیَّھُمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ، فَیَقُوْلُ: ھُوَ مُحَمَّدٌ ھُوَ رَسُوْلُ اللّهِ جَآءَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَأَجَبْنَاہُ وَاتَّبَعْنَاہُ، ھُوَ مُحَمَّدٌ ثَلَاثًا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۹۸، مؤطا ص:۱۷۶)
ترجمہ:۔ ’’میّت سے کہا جاتا ہے کہ: تم اس شخص (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ تو مؤمن جواب دیتا ہے کہ: حضرت محمد رسول اللہ ہیں ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ جو ہمارے پاس واضح اَحکام اور ہدایت لے کر آئے۔ ہم نے آپ ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ کو قبول کیا اور آپ ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ کی پیروی کی، تین مرتبہ کہتا ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘
۵:۔ حدیثِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پہلے گزرچکی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِذَا اُقْبِرَ الْمَیِّتُ، أَوْ قَالَ: أَحَدُکُمْ، أَتَاہُ مَلَکَانِ، أَسْوَدَانِ، أَزْرَقَانِ، یُقَالُ لِأَحَدِھِمَا: اَلْمُنْکَرُ، وَالْآخَرُ: اَلنَّکِیْرُ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۲۷ واللفظ لہٗ، ابن ماجہ ص:۳۱۵، مستدرک ج:۱ ص:۳۷۹، ابن حبان ج:۶ ص:۴۵)
ترجمہ:۔ ’’جب میّت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، سیاہ رنگ اور نیلی آنکھوں والے، ایک کو منکر اور دُوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔‘‘
۶:۔ حدیثِ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَإِذَا دَفَنْتُمُوْنِیْ فَسَنُّوْا عَلَیَّ التُّرَابُ سَنًّا، ثُمَّ اَقِیْمُوْا حَوْلَ قَبْرِیْ قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جُزُوْرٌ وَّیُقْسَمُ لَحْمُھَا، حَتّٰی أَسْتَأْنِسَ بِکُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا رَاجِعٌ بِہٖ رُسُلُ رَبِّیْ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۷۶ واللفظ لہٗ، سنن کبریٰ ج:۴ ص:۵۶)
ترجمہ:۔ ’’جب مجھے دفن کرچکو تو مجھ پر مٹی ڈالنا، پھر میری قبر کے گرد اتنی دیر تک کھڑے رہنا کہ اُونٹ کو ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جائے، تاکہ مجھے تمہاری موجودگی سے اُنس ہو، اور میں یہ دیکھوں کہ اپنے ربّ کے فرستادوں کو کیا جواب دیتا ہوں؟‘‘
۷:۔ حدیثِ عثمان رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَقَالَ: إِسْتَغْفِرُوْا لِأَخِیْکُمْ وَاسْأَلُوْا لَہٗ بِالتَّثْبِیْتِ فَإِنَّہُ الْآنَ یُسْأَلُ!‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۱۰۳ واللفظ لہٗ، مستدرک حاکم ج:۱ ص:۳۷۰، مشکوٰۃ ص:۲۶، کنزالعمال ج:۷ ص:۵۸، سنن کبریٰ ج:۴ ص:۵۶)
ترجمہ:۔ ’’فرمایا: اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے ثابت قدمی کی دعا کرو، کیونکہ اب اس سے سوال وجواب ہو رہا ہے۔‘‘
۸:۔ حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَإِذَا اُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَہٗ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہٗ جَآءَہٗ مَلَکٌ شَدِیْدٌ الْإِنْتِھَارِ، فَیَقُوْلُ لَہٗ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ھٰذَا الرَّجُلِ؟ ۔۔۔ الخ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۹ حدیث:۴۲۶۴ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۳ ص: ۳۴۶، مصنف عبدالرزاق ج: ۳ ص: ۵۸۵، الْإحسان بترتیب ابن حبان ج:۶ ص:۴۷)
ترجمہ:۔ ’’جب مؤمن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور اس کو دفن کرنے والے لوٹتے ہیں، تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے، نہایت جھڑکنے والا، وہ کہتا ہے کہ: تو اس شخص کے (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے) بارے میں کیا کہتا ہے؟‘‘
۹:۔ ’’حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَأَمَّا فِتْنَۃُ الْقَبْرِ! فَبِیَّ تُفْتَنُوْنَ، وَعَنِّیْ تُسْأَلُوْنَ، فَإِذَا کَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ اُجْلِسَ فِیْ قَبْرِہٖ غَیْرَ فَزَعٍ، وَلَا مَشْعُوْفٍ، ثُمَّ یُقَالُ لَہٗ: فِیْمَ کُنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: فِیَّ الْإِسْلَامُ!‘‘ (مسند احمد ج:۶ ص:۱۴۰، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۰ حدیث:۴۲۶۵ واللفظ لہٗ)
ترجمہ:۔ ’’رہی قبر کی آزمائش! سو تم سے میرے بارے میں امتحان لیا جاتا ہے اور میرے بارے میں تم سے سوال کیا جاتا ہے، پس جب مردہ نیک آدمی ہو تو اسے قبر میں بٹھایا جاتا ہے، درآںحالیکہ نہ وہ گھبرایا ہوا ہوتا ہے اور نہ حواس باختہ ہوتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ: تو کس دین پر تھا؟ وہ کہتا ہے: اسلام پر!‘‘
۱۰:۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِذَا اُدْخِلَ الرَّجُلُ قَبْرَہٗ فَإِنْ کَانَ مِنْ أَھْلِ السَّعَادَۃِ ثَبَّتَہُ اللّهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ، فَیُسْأَلُ: مَا أَنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: أَنَا عَبْدُاللّهِ حَیًّا وَّمَیِّتًا!‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۷، اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۶، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۷ حدیث:۴۲۷۸)
ترجمہ:۔ ’’جب آدمی کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اگر اہل سعادت میں سے ہو تو اللہ تعالیٰ اسے قولِ ثابت کے ساتھ ثابت قدم رکھتے ہیں، چنانچہ اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ: تم کون ہو؟ تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ: میں زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کا بندہ تھا اور مرنے کے بعد بھی!‘‘
۱۱:۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ بھی یہی ہیں۔
۱۲:۔ حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کی موقوف حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’وَذَکَرَ مُنْکَرًا وَّنَکِیْرًا یَخْرُجَانِ فِیْ أَفْوَاھِھِمَا وَأَعْیُنِھِمَا النَّارُ ۔۔۔۔ فَقَالَا: مَنْ رَّبُّکَ؟‘‘ (مصنَّف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۹۰، ۵۹۱)
ترجمہ:۔ ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منکر نکیر کا تذکرہ فرمایا کہ: ان کے منہ سے اور آنکھوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں: تیرا ربّ کون ہے؟‘‘
۱۳:۔ حدیثِ ابورافع رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا! وَلٰـکِنِّیْ اَفَّفْتُ مِنْ صَاحِبِ ھٰذَا الْقَبْرِ الَّذِیْ سُئِلَ عَنِّیْ فَشَکَّ فِیَّ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۶ حدیث:۴۲۷۵ واللفظ لہٗ، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۴۱، اتحاف ج:۱ ص:۴۱۸)
ترجمہ:۔ ’’پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! (میں نے تم پر اُف نہیں کی) بلکہ اس قبر والے پر اُف کی ہے، جس سے میرے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے میرے بارے میں شک کا اظہار کیا۔‘‘
۱۴:۔ حدیثِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِذَا دُفِنَ الْمَیِّتُ یَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ حِیْنَ إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ مُنْصَرِفِیْنَ، قَالَ: ثُمَّ یُجْلَسُ فَیُقَالُ لَہٗ: مَنْ رَّبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: اللہ!‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۶ حدیث:۴۲۷۷، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۱۶)
ترجمہ:۔ ’’میّت کو دفن کرنے والے جب واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، فرمایا: پھر اس کو بٹھلایا جاتا ہے، پس اس سے کہا جاتا ہے کہ: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے!‘‘
۱۵:۔ حدیثِ ابودرداء رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَجَآءَکَ مَلَکَانِ أَزْرَقَانِ جَعْدَانِ یُقَالُ لَھُمَا: مُنْکَرٌ وَّنَکِیْرٌ، فَقَالَا: مَنْ رَّبُّکَ؟ وَمَا دِیْنُکَ؟ وَمَنْ نَّبِیُّکَ؟۔۔۔الخ‘‘(اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص: ۴۱۷، شرح الصدور ص:۵۵)
ترجمہ:۔ ’’پھر تیرے پاس دو فرشتے آئیں گے، جن کی آنکھیں نیلی اور بال مڑے ہوئے ہوں گے، ان کو منکر و نکیر کہا جاتا ہے، وہ دونوں کہیں گے کہ: تیرا ربّ کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟‘‘
۱۶:۔ حضرت بشیر اکال المعوی کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنِّیْ مَرَرْتُ بِقَبْرٍ وَّھُوَ یُسْأَلُ عِنِّیْ فَقَالَ: لَا أَدْرِیْ! فَقَلْتُ: لَا دَرَیْتَ!‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۴۲، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۵ حدیث:۴۲۷۴، شرح الصدور ص:۵۰)
ترجمہ:۔ ’’بے شک میں ایک قبر کے پاس سے گزرا تھا، جس سے میرے بارے میں سوال کیا جارہا تھا، اس نے جواب دیا کہ: میںنہیں جانتا! اس پر میں نے کہا کہ: تم نے نہ خود جانا (نہ کسی جاننے والے کی بات مانی!)۔‘‘
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں
’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ اُجْلِسَ فِیْ قَبْرِہٖ فَیُقَالُ لَہٗ: مَنْ رَّبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: اللہ تَعَالٰی! ۔۔۔۔الخ۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۸، شرح الصدور ص:۵۵)
ترجمہ:۔ ’’جب مؤمن مرجاتا ہے تو اسے اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ!‘‘
۱۸:۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَإِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَسُوِّیَ عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَ عَنْہُ أَصْحَابُہٗ، أَتَاہُ مُنْکَرٌ وَّنَکِیْرٌ، فَیُجْلِسَانِہٖ فِیْ قَبْرِہٖ۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۷، شرح الصدور ص۵۴)
ترجمہ:۔ ’’جب مردے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس کو دفن کرنے والے رُخصت ہوجاتے ہیں، تو اس کے پاس منکر اور نکیر آتے ہیں، پس اسے قبر میں بٹھاتے ہیں۔‘‘
۱۹:۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’کَیْفَ أَنْتَ فِیْ أَرْبَعِ أَذْرُعٍ فِیْ ذِرَاعَیْنِ، وَرَأَیْتَ مُنْکَرًا وَّنَکِیْرًا؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! وَمَا مُنْکَرٌ وَّنَکِیْرٌ؟ قَالَ: فَتَّانَا الْقَبْرِ!‘‘ (اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۴، شرح الصدور ص:۵۴)
ترجمہ:۔ ’’چار ہاتھ لمبی اور دو ہاتھ چوڑی جگہ (قبر) میں تیری کیا حالت ہوگی جب تم منکر اور نکیر کو دیکھو گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! منکر اور نکیر کون ہیں؟ فرمایا: قبر میں امتحان لینے والے فرشتے!‘‘
۲۰:۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’ثُمَّ سَدُّوْا عَلَیْکَ مِنَ اللَّبِنِ وَاَکْثَرُوْا عَلَیْکَ مِنَ التُّرَابِ، فَجَآءَکَ مَلَکَانِ، أَزْرَقَانِ، جَعْدَانِ، یُقَالُ لَھُمَا مُنْکَرٌ وَّنَکِیْرٌ۔‘‘ (کتاب الزہد ابن مبارکؒ، بیہقی، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۸-۳۸۹، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۷ واللفظ لہٗ، شرح الصدور ص:۵۵)
ترجمہ:۔ ’’تیری اس وقت کیا حالت ہوگی جب تمہیں قبر میں رکھ کر تمہارے اُوپر اینٹیں چن دیں گے اور ڈھیر ساری مٹی ڈال دیں گے؟ پھر تیرے پاس کیری آنکھوں اور ڈراؤنی شکل کے دو فرشتے آئیں گے، جنہیں منکر و نکیر کہا جاتا ہے۔‘‘
۲۱:۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَإِنَّ مُنْکَرًا وَّنَکِیْرًا فَیَتَأَخَّرُ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا فَیَقُوْلُ: إِنْطَلِقْ بِنَا ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۴۵، کنزالعمال ج:۱۵ ص:۶۰۵، شرح الصدور ص:۴۴، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۳۶۸ واللفظ لہٗ)
ترجمہ:۔ ’’جب (مردہ سوالوں کے جواب صحیح دے دیتا ہے تو) منکر و نکیر ایک دُوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں کہ: بس اب یہاں سے چلئے!‘‘
۲۲:۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنَّ الْمَلَکَ لَیَمْشِیْ مَعَہٗ إِلَی الْقَبْرِ، فَإِذَا سُوِّیَ عَلَیْہِ، سَلَکَ فِیْہِ، فَذٰلِکَ حِیْنَ یُخَاطِبُ۔‘‘ (شرح الصدور ص:۴۰، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۲۲)
ترجمہ:۔ ’’بے شک فرشتہ جنازہ کے ہمراہ قبر کی طرف جاتا ہے، پس جب میّت کو قبر میں رکھ کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ فرشتہ اس کی قبر میں چلا جاتا ہے، اور اس سے مخاطب ہوتا ہے۔‘‘
۲۳:۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’وَیَبْعَثُ اللّهُ إِلَیْہِ مَلَکَیْنِ، أَبْصَارُھُمَا کَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ، وَأَصْوَاتُھُمَا کَالرَّعْدِ الْقَاصِفِ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۲۶۸)
ترجمہ:۔ ’’(کافر) میّت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس دو فرشتے (منکر و نکیر) بھیجتے ہیں، جن کی آنکھیں چندھیا دینے والی بجلی کی طرح چمکتی ہوں گی اور آواز کڑکتی بجلی کی طرح ہوگی۔‘‘
۲۴:۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مروی حدیث کے علاوہ اس مضمون پر حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کی مرسل بھی ہے۔

