October 15, 2026 at 2:01 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

فتنۃ القبر

جواب

۱:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّھُمْ یُعَذَّبُوْنَ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَھَائِمُ کُلُّھَا۔ فَمَا رَأَیْتُہٗ بَعْدُ فِیْ صَلٰوۃٍ إِلّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳، ج:۲ ص:۹۴۲ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۱ ص:۲۹۱)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: لوگوں کو قبر میں عذاب ہوتا ہے، جس کو تمام چوپائے سنتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں عذابِ قبر سے پناہ ضرور مانگتے تھے۔‘‘

صحیح مسلم کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’کَانَ یَدْعُوْ بِھٰؤُلَاءِ الدَّعْوَاتِ: اَللّٰھُمَّ فَإِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۴۷ واللفظ لہٗ، ترمذی ج:۲ ص:۱۸۷، ابن ماجہ ص:۲۷۲، مسند احمد ج:۶ ص:۵۷، ۲۰۷، مصنف عبدالرزاق ج:۲ ص:۲۰۸، ج:۳ ص:۵۸۹، شرح السنہ ج:۵ ص:۱۵۷)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں دوزخ کے فتنہ اور عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے۔‘‘

مسند حمیدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِیْ قُبُوْرِکُمْ‘‘ (مسند حمیدی ص:۹۴، مسند احمد ج:۶ ص:۵۳، ۸۹، ۲۳۸)

ترجمہ:۔ ’’قبروں میں تمہارا امتحان (یعنی تم سے سوال و جواب) ہوتا ہے۔‘‘

۲:۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ، وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔‘‘ (بخاری ج:۲ ص:۹۴۲ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۴۷، ترمذی ج:۲ ص:۱۸۷، نسائی ج:۲ ص:۳۱۳، مسند احمد ج:۳ ص:۱۷۹، ۲۰۵، ۲۳۶، ۲۶۴، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۵)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عجز و کسل سے، بزدلی اور انتہائی بڑھاپے سے، اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے۔‘‘

مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَالَ: تَعَوَّذُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ! قَالُوْا: وَمَا ذَاکَ یَا رَسُوْلَ اللّهِ؟ قَالَ: إِنَّ ھٰذِہِ الْأُمَّۃَ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِھَا۔‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۲۳۳)

ترجمہ:۔ ’’فرمایا: اللہ کی پناہ مانگو عذاب قبر سے، اور دوزخ کے عذاب سے اور فتنۂ دجال سے! صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فتنۂ قبر کیا چیز ہے؟ فرمایا: قبر میں اس اُمت کا امتحان کیا جاتا ہے۔‘‘

اور ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’فَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ غَفَرْتُ لَہٗ ذُنُوْبَہٗ کُلَّھَا وَاُجِیْرَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۵ ص:۲۹۱)

ترجمہ:۔ ’’پس مرابط اگر مرجائے یا شہید ہوجائے تو اس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور اسے عذابِ قبر سے بچالیا جاتا ہے۔‘‘

۳:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’کَانَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۴ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۱ ص:۲۹۰، حاکم ج:۱ ص:۵۳۳، کنزالعمال ج:۲ ص:۱۹۰)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عذابِ قبر سے اور دوزخ کے عذاب سے۔‘‘

ترمذی شریف کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِسْتَعِیْذُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ!‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۰۰)

ترجمہ:۔ ’’اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو عذابِ قبر سے!‘‘

سنن ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَنْ مَّاتَ مُرَابِطًا فِیْ سَبِیْلِ اللّهِ أَجْرٰی عَلَیْہِ اَجْرُ عَمَلِہِ الصَّالِحِ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُ، وَأَجْرٰی عَلَیْہِ رِزْقًا، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ‘‘(ابن ماجہ ص:۱۹۸ واللفظ لہٗ، کنزالعمال ج:۲ ص:۴۱۸)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں پہرہ دیتے ہوئے مرجائے، اس کے وہ تمام اعمالِ صالحہ جاری رہتے ہیں جو وہ کیا کرتا تھا، اور اس کا رزق جاری رکھا جاتا ہے، اور وہ قبر میں امتحان لینے والوں سے محفوظ رہتا ہے، اس سے سوال و جواب نہیں ہوتا۔‘‘

۴:۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو پہلے گزر چکی ہے) کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَامَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطِیْبًا فَذَکَرَ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۱ ص:۲۹۰، مشکوٰۃ ص:۲۶)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اس میں فتنۂ قبر کا ذکر فرمایا۔‘‘

مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّہٗ قَدْ اُوْحِیَ إِلَیَّ إِنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ!‘‘ (ج:۶ ص:۳۴۵)

ترجمہ:۔ ’’مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم سے قبروں میں امتحان ہوتا ہے۔‘‘

۵:۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۴۲، ۹۴۳، ج:۲ ص:۹۴۵ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۲ ص:۳۱۳، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۶، ج:۱۰ ص:۱۸۸)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں بخل سے، اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے، اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں نکمّی عمر کی طرف اُٹھایا جاؤں، اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں دُنیا کے فتنہ سے، اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عذابِ قبر سے۔‘‘

۶:۔ حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۴ واللفظ لہٗ، ج:۲ ص:۹۴۲، ابن ابی شیبہ ج:۱۰ ص:۱۹۳، مسند احمد ج:۶ ص:۳۶۵، کنزالعمال ج:۱۵ ص:۷۳۸)

ترجمہ:۔ ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔‘‘

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَدْ اُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ۔‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۵)

ترجمہ:۔ ’’مجھے وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہارا امتحان ہوتا ہے۔‘‘

کنز العمال بحوالہ طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِسْتَجِیْرُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ!‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۸)

ترجمہ:۔ ’’عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگو!‘‘

۷:۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’فَقَالَ: تَعَوَّذُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ! فَقَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ!‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶ واللفظ لہٗ، شرح السنہ ج:۵ ص:۱۶۲، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۳، ج:۱۰ ص:۱۸۵، کنز العمال ج:۲ ص:۲۶۳)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگو عذابِ قبر سے! پس صحابہ کرامؓ کہنے لگے: ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں عذابِ قبر سے!‘‘

۸:۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۱۸۷ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۱ ص:۲۹۰، ابن ماجہ ص:۲۷۲،۲۷۳، مسند احمد ج:۱ ص:۳۰۵، کنزالعمال ج:۲ ص:۲۶۳)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔‘‘

۹:۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’رِبَاطُ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَّقِیَامِہٖ، وَإِنْ مَّاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ، وَأَجْرٰی عَلَیْہِ رِزْقَہٗ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۴۲ واللفظ لہٗ، سنن کبریٰ بیہقی ج:۹ ص:۳۸، کنز العمال ج:۴ ص:۲۹۴، مسند احمد ج:۵ ص:۴۴۰، مشکوٰۃ ص:۳۳۹، درمنثور ج:۴ ص:۳۶۸)

ترجمہ:۔ ’’ایک دن رات اسلامی سرحد کا پہرہ دینا ایک مہینے کے قیام و صیام سے افضل ہے، اور اگر یہ شخص مرجائے تو جو عمل وہ کیا کرتا تھا وہ اس کے لئے برابر جاری رکھا جائے گا، اور اس کا رزق بھی جاری رکھا جائے گا، اور یہ شخص قبر کے امتحان سے مامون رہے گا۔‘‘

ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’رِبَاطُ یَوْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّهِ أَفْضَلُ، وَرُبَمَا قَالَ: خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَّقِیَامِہٖ، وَمَنْ مَّاتَ فِیْہِ وُقِیَ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَنَمٰی لَہٗ عَمَلُہٗ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۲۰۰ واللفظ لہٗ، کنز العمال ج:۴ ص:۳۲۶، ۳۲۷، مجمع الزوائد ج:۵ ص:۲۹۰)

ترجمہ:۔ ’’ایک دن اللہ کے راستے میں پہرہ دینا ایک مہینے کے قیام و صیام سے افضل ہے، اور جو شخص اس حالت میں مرجائے اسے قبر کے سوال و جواب سے بچایا جائے گا، اور اس کا عمل تا قیامت بڑھتا رہے گا۔‘‘

ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَنْ مَّاتَ مُرَابِطًا اُجِیْرَ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ!‘‘ (مستدرک حاکم ج:۲ ص:۸۰، ابن ابی شیبہ ج:۵ ص:۳۳۷، اتحاف ج:۱۰ ص:۳۸۱ واللفظ لہٗ)

ترجمہ:۔ ’’جو خدا کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے مرے، اسے فتنۂ قبر سے پناہ میں رکھا جائے گا!‘‘

۱۰:۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’کَانَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْھَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۵۰ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۲ ص:۳۱۴، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۴، ج:۱۰ ص:۱۸۶)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عاجز ہونے سے، کسل مندی سے، بزدلی سے، بخل سے، انتہائی بڑھاپے سے، اور قبر کے عذاب سے۔‘‘

ترمذی کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّہٗ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنَ الْھَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۱۹۷)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے انتہائی بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔‘‘

۱۱:۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْکَسْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۱۸۸ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۲ ص:۳۱۴، مسند احمد ج:۵ ص:۴۲، حاکم ج:۱ ص:۳۵، ۲۵۲۔ قال صحیح علٰی شرط مسلم، واقرہ الذھبی۔ ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۴، کنز العمال ج:۲ ص:۱۸۱)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں دنیوی افکار سے، کسل مندی سے اور عذابِ قبر سے۔‘‘

۱۲:۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوْءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَۃِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۳۱۶ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۱ ص:۲۲، ۵۴، ابن ماجہ ص:۲۷۳، مستدرک حاکم ج:۱ ص:۵۳۰، وقال ھٰذا حدیث صحیح علٰی شرط الصحیحین، واقرہ الذھبی، ابن ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۷۴)

ترجمہ:۔ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے بزدلی سے، بخل سے، نکمّی عمر سے، عذابِ قبر سے اور سینے کے فتنے سے۔‘‘

۱۳:۔ حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’لِلشَّھِیْدِ عِنْدَ اللّهِ سِتُّ خِصَالٍ: یُغْفَرُ لَہٗ فِیْ أَوَّلِ دَفْعَۃٍ، وَیُرٰی مَقْعَدُہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَیُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۹۹ واللفظ لہٗ، ابن ماجہ ص:۲۰۱، مسند احمد ج:۴ ص:۱۳۱، مشکوٰۃ ص:۳۳۳، کنز العمال ج:۴ ص:۴۰۵)

ترجمہ:۔ ’’شہید کو چھ انعام ملتے ہیں، اول مرتبہ میں اس کی بخشش ہوجاتی ہے، جنت میں اس کو اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے، اور اسے عذابِ قبر سے بچایا جاتا ہے۔‘‘

۱۴:۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’لَوْ سَأَلْتَ اللّهَ أَنْ یُّعَافِیَکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ، لَکَانَ خَیْرًا لَکَ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۳۸ واللفظ لہٗ، جامع الأصول ج:۴ ص:۳۴۸، مسند احمد ج:۱ ص:۴۳۳، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۴، شرح السنہ ج:۵ ص:۱۶۳)

ترجمہ:۔ ’’اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرتے کہ تمہیں دوزخ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے عافیت میں رکھیں، تو یہ تمہارے لئے بہتر ہوتا۔‘‘

ترمذی شریف کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘

(ترمذی ج:۲ ص:۱۷۵)

ترجمہ:۔ ’’اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔‘‘

حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ ۔۔۔ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (مستدرک حاکم ج:۱ ص:۵۳۴)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ۔۔۔ دجال کے فتنہ سے اور عذابِ قبر سے۔‘‘

۱۵:۔ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَلَّذِیْ مَاتَ مُرَابِطًا فِیْ سَبِیْلِ اللّهِ فَإِنَّہٗ یَنْمِیْ لَہٗ عَمَلُہٗ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَیَأْمَنُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۹۵ واللفظ لہٗ، ابوداؤد ج:۱ ص:۳۳۸، مشکوٰۃ ص:۲۳۲، مستدرک حاکم ج:۲ ص:۷۹، مسند احمد ج:۶ ص:۲۰، موارد الظمآن ص:۳۹۱، اتحاف ج:۱۰ ص:۳۸۱، درمنثور ج:۲ ص:۱۱۴)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص راہِ خدا میں پہرہ دیتے ہوئے مرجائے، قیامت تک اس کا عمل بڑھتا رہتا ہے، اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہتا ہے۔‘‘

۱۶:۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو پہلے گزرچکی ہے) کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَالَ: وَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہٖ فَیَقُوْلَانِ لَہٗ: مَنْ رَّبُّکَ؟ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۲۹۸ واللفظ لہٗ، عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۱، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۴، ۳۷۵، مسند احمد ج:۴ ص:۴۹۶)

ترجمہ:۔ ’’اور میّت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، پس اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ: تیرا ربّ کون ہے؟ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘

۱۷:۔ حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَعَوَّذُ بِھِنَّ دُبُرَ الصَّلٰوۃِ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْـیَا وَعَـذَابِ الْـقَـبْرِ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۱۹۶، نسائی ج:۲ ص:۳۱۶، ۳۱۷، ابن ماجہ ص:۲۷۳)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، اور فرماتے: اے اللہ! میں آپ سے بزدلی، بخل، ارذلِ عمر، دُنیا کی آزمائش اور عذابِ قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

۱۸:۔ حضرت سلیمان بن صرو اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَنْ قَتَلَہٗ بَطْنُہٗ لَمْ یُعَذَّبْ فِیْ قَبْرِہٖ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۲۶ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۱ ص:۲۸۸، کنز العمال ج:۴ ص:۴۲۴، مسند احمد ج:۴ ص:۲۶۲، ج:۵ ص:۲۹۲، موارد الظمآن ص:۱۸۶)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص پیٹ کے مرض میں فوت ہوا، اسے عذابِ قبر نہیں ہوگا۔‘‘

۱۹:۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ۔‘‘(ترمذی ج:۲ ص:۱۹۰، کنز العمال ج:۲ ص:۱۸۱، عن شعب الْإیمان بیہقی)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور سینے کے وسواس سے۔‘‘

۲۰:۔ حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہؓ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسْلِ ۔۔۔۔۔ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۳۱۶ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۲ ص:۱۸۵، ۱۸۶)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں سستی سے، قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے۔‘‘

۲۱:۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَسُوْءِ الْعُمْرِ، وَفِتْنَۃِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۳۱۳)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے: بخل، بزدلی، بری عمر،سینے کے فتنہ اور عذابِ قبر سے۔‘‘

۲۲:۔ حضرت راشد بن سعد عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! مَا بَالُ الْمُؤْمِنِیْنَ یُفْتَنُوْنَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ إِلّا الشَّھِیْدُ؟‘‘ (نسائی ج:۱ ص:۲۸۹)

ترجمہ:۔ ’’یا رسول اللہ! کیا شہید کے علاوہ تمام مؤمنوں کو قبر میں آزمایا جائے گا؟‘‘

۲۳:۔ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ ۔۔۔۔۔ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔‘‘ (نسائی ج:۲ ص:۳۱۶)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں زندگی اور مرنے کے بعد کے فتنہ سے۔‘‘

۲۴:۔ حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’أَعُوْذُ بِکَ ۔۔۔۔۔ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْغِنٰی وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔‘‘(مستدرک حاکم ج:۱ ص:۵۲۴)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، دولت کے فتنے سے اور قبر کی آزمائش سے۔‘‘

۲۵:۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّ ھٰذِہِ الْأُمَّۃَ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِھَا!‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۳۴۶ واللفظ لہٗ، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۶، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۴۸)

ترجمہ:۔ ’’بے شک یہ امت قبروں میں آزمائی جاتی ہے!‘‘

مصنف عبدالرزاق کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’فَأَمَرَ أَصْحَابَہٗ أَنْ یَّتَعَوَّذُوْا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۴)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرامؓ کو فرمایا کہ: عذابِ قبر سے پناہ مانگا کرو۔‘‘

۲۶:۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو گزرچکی ہے) کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّ ھٰذِہِ الْأُمَّۃَ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِھَا!‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۳ واللفظ لہٗ، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۳)

ترجمہ:۔ ’’بے شک یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے۔‘‘

مجمع الزوائد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَنْ تُوُفِّیَ مُرَابِطًا وُقِیَ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ!‘‘ (مجمع الزوائد ج:۵ ص:۳۷۶ حدیث:۹۵۰۲)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوا، وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔‘‘

موارد الظمآن کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’لَوْ لَا أَنْ تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّهَ أَنْ یُّسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ الَّذِیْ أَسْمَعُ مِنْہُ، إِنَّ ھٰذِہِ الْأُمَّۃَ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِھَا۔‘‘(موارد الظمآن ص:۱۹۹، کنزالعمال ج:۱۵ ص:۶۴۴)

ترجمہ:۔ ’’اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دوگے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی عذابِ قبر سنادے جو میں سنتا ہوں۔‘‘

اتحاف السادۃ المتقین شرح احیاء علوم الدین کے الفاظ یہ ہیں

’’مَنْ تُوُفِّیَ مُرَابِطًا وُقِیَ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ!‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۳۸۲)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوا، وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔‘‘

۲۷:۔ حضرت ام بشر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِسْتَعِیْذُوْا بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ! قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! وَلِلْقَبْرِ عَذَابٌ؟ قَالَ: إِنَّھُمْ لَیُعَذَّبُوْنَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَھَائِمُ۔‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۴، ۳۷۵ واللفظ لہٗ، موارد الظمآن ص:۲۰۰، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۹ حدیث:۴۲۸۹)

ترجمہ:۔ ’’عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قبر میں عذاب ہوگا؟ فرمایا: ہاں! ان (کفار) کو قبر میں ایسا عذاب دیا جارہا ہے جسے تمام جانور سنتے ہیں۔‘‘

۲۸:۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَیُؤْمَنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ۔‘‘ (مسند احمد ج:۴ ص:۱۵۰، مجمع الزوائد ج:۵ ص:۳۷۵ حدیث:۹۴۹۵، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۳۸۱)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص اسلامی سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوا، وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔‘‘

۲۹:۔ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَلَا! إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَّتِکَ وَحَبْلَ جَوَارِکَ فَقِہْ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ۔‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۴۹۱)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! فلاں بن فلاں آپ کی امان اور آپ کے جوار میں آیا ہے، اسے قبر کی آزمائش سے بچالیجئے!‘‘

۳۰:۔ جارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ‘‘(مسند احمد ج:۵ ص:۲۷۱)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عذابِ قبر اور فتنۂ قبر سے۔‘‘

۳۱:۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَیُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ‘‘ (مسند احمد ج:۴ ص:۱۳۱، مجمع الزوائد ج:۵ ص:۲۹۳)

ترجمہ:۔ ’’اور (شہید) عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔‘‘

۳۲:۔ حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’کَیْفَ بِکَ یَا عُمَرُ! بِفَتَّانَیْ الْقَبْرِ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۲)

ترجمہ:۔ ’’اے عمر! اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب قبر میں تیرے پاس منکر و نکیر آئیں گے؟‘‘

۳۳:۔ حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’فَقَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْٓ إِسْرَآئِیْلَ؟ کَانَ الرَّجُلُ مِنْھُمْ إِذَا أَصَابَہُ الشَّیْئُ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَہٗ بِالْمِقْرَاضِ فَنَھَاھُمْ عَنْ ذَالِکَ فَعُذِّبَ فِیْ قَبْرِہٖ۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۵،۳۷۶)

ترجمہ:۔ ’’جانتے نہیں ہو کہ بنی اسرائیل کے اس آدمی کے ساتھ کیا ہوا؟ بنی اسرائیل میں سے کسی کو اگر پیشاب لگ جاتا تو اسے مقراض سے کاٹ لیتا، مگر اس شخص نے ان کو اس سے روکا، جس کی وجہ سے اسے عذابِ قبر دیا گیا۔‘‘

۳۴:۔ حضرت یعلیٰ بن شبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّ صَاحِبَ ھٰذَا الْقَبْرِ یُعَذَّبُ ۔۔۔۔۔‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۶)

ترجمہ:۔ ’’بے شک اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے۔‘‘

۳۵:۔ حضرت حکم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الْعَدُوِّ وَمِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۱۰ ص:۱۹۵)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں دشمن کے غلبہ سے، قرض کے غلبہ سے، فتنۂ دجال سے اور عذابِ قبر سے۔‘‘

۳۶:۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے اثر کے الفاظ یہ ہیں:

’’فَإِنَّ بِھَا عَذَابًا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۵ ص:۳۲۶)

ترجمہ:۔ ’’بے شک وہاں عذابِ قبر کی طرح کا ایک عذاب ہے۔‘‘

۳۷:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۔‘‘ (کنز العمال ج:۲ ص:۲۱۰)

ترجمہ:۔ ’’(اے اللہ!) میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور آگ کے عذاب سے۔‘‘

۳۸:۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’حَادَتْ عَنْ رَجُلٍ یُّضْرَبُ فِیْ قَبْرِہٖ مِنْ أَجَلِ النَّمِیْمَۃِ‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۷۳۹)

ترجمہ:۔ ’’(میری خچر اس لئے) بدکی ہے کہ ایک شخص کو قبر میں چغل خوری کرنے کی وجہ سے مارا جارہا ہے۔‘‘

۳۹:۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا مولاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’یَا مَیْمُوْنَۃَ! تَعَوَّذِیْ بِاللّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘(کنز العمال ج:۱۵ ص:۷۳۸)

ترجمہ:۔ ’’اے میمونہ! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو عذابِ قبر سے۔‘‘

۴۰:۔ حضرت ابوالحجاج ثمانی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’یَقُوْلُ الْقَبْرُ لِلْمَیِّتِ ۔۔۔۔۔ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّیْ بَیْتُ الظُّلْمَۃِ وَبَیْتُ الْفِتْنَۃِ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۴۴ واللفظ لہٗ، حلیۃ الأولیاء ج:۶ ص:۹۰، اتحاف ج:۶ ص:۳۰۱)

ترجمہ:۔ ’’قبر میّت سے کہتی ہے کہ: کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ میں اندھیرے اور آزمائش کا گھر ہوں؟‘‘

۴۱:۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَنْ رَّابَطَ فِیْ سَبِیْلِ اللّهِ آمَنَہُ اللّهُ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۵ ص:۳۶۷ حدیث:۹۵۰۱ واللفظ لہٗ، کنز العمال ج:۴ ص:۲۸۲)

ترجمہ:۔ ’’جس شخص نے اسلامی سرحد پر پہرہ دیا، اسے اللہ تعالیٰ فتنۂ قبر سے محفوظ فرماویں گے۔‘‘

۴۲:۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’رِبَاطُ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ یَّعْدِلُ صِیَامَ شَھْرِ وَقِیَامَہٗ ۔۔۔۔۔ وَیُوْقَی الْفَتَّانِ۔‘‘ (کنز العمال ج:۴ ص:۳۲۷ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۵ ص:۳۷۷ حدیث:۹۵۰۳)

ترجمہ:۔ ’’ایک دن اللہ کے راستے میں پہرہ دینا ایک مہینے کے قیام و صیام سے افضل ہے ۔۔۔۔۔ اور جو شخص اس حال میں مرجائے اسے قبر کے سوال و جواب سے بچالیا جائے گا۔‘‘

۴۳:۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَنْ مَّاتَ مُرَابِطًا فِیْ سَبِیْلِ اللّهِ ۔۔۔۔۔ وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ وَیَبْعَثُہُ اللّهُ تَعَالٰی آمِنًا مِّنَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ۔‘‘ (اتحاف ج:۱۰ ص:۳۸۲)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص اللہ کے راستہ میں پہرہ دے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اسے منکر و نکیر کے سوال و جواب سے محفوظ رکھے گا، اور قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے بھی وہ مامون رہے گا۔‘‘

۴۴:۔ حضرت ثابت بنانی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِذَا وُضِعَ الْمَیِّتُ فِیْ قَبْرِہٖ إِحْتَوَشَتْہُ أَعْمَالَہُ الصَّالِحَۃُ وَجَآءَ مَلَکُ الْعَذَابِ، فَیَقُوْلُ لَہٗ بَعْضُ أَعْمَالِہٖ: إِلَیْکَ عَنْہُ، فَلَوْ لَمْ یَکُنْ إِلّا أَنَا لَمَا وَصَلْتَ إِلَیْہِ‘‘(حلیۃ الأولیاء ج:۶ ص:۱۸۹)

ترجمہ:۔ ’’جب میّت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے اعمالِ صالحہ اسے گھیر لیتے ہیں، اور جب فرشتہ عذاب آنے لگتا ہے تو اس کے اعمالِ صالحہ میں سے ایک عمل کہتا ہے: اس سے دور رہئے! اگر میں اکیلا ہی ہوتا تب بھی آپ اس کے قریب نہیں آسکتے تھے۔‘‘

۴۵:۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِأَبِیْ سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ ۔۔۔۔۔ وَافْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ وَنَوِّرْ لَہٗ فِیْہِ۔‘‘(صحیح مسلم، جامع الاُصول ج:۱۱ ص:۸۴، ابوداؤد ج:۲ ص:۴۴۵، مسند احمد ج:۶ ص:۲۹۷، بیہقی سنن کبریٰ ج:۳ ص:۳۸۴، شرح السنہ ج:۵ ص:۳۰۰، اتحاف ج:۵ ص:۱۰۳)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! ابوسلمہ کی مغفرت فرما اور اس کے درجات بلند فرما، اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اس کو منور فرما۔‘‘

۴۶:۔ حضرت عوف بن مالک کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ ۔۔۔۔۔ وَأَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۱۱ واللفظ لہٗ، نسائی ج:۱ ص:۲۸۱، مسند احمد ج:۶ ص:۲۳، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۲۹۱، ج:۱۰ ص:۴۰۹)

ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! اس کی مغفرت فرما اور اسے عذابِ قبر سے نجات عطا فرما۔‘‘

فتنۃ القبر - شہید اسلام