عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
منکر و نکیر میّت کو قبر میں بٹھاتے ہیں
جواب
۱:۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
’’أَتَاہُ مَلَکَانِ فَأَقْعَدَاہُ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۸، ۱۸۴، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶، نسائی ج:۱ ص:۲۸۸، ابن حبان ج:۶ ص:۴۹، شرح السنہ ج:۵ ص:۴۱۵، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۴، مشکوٰۃ ص:۲۴)
ترجمہ:۔ ’’قبر میں میّت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھلاتے ہیں۔‘‘
۲:۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
’’إِذَا اُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِیْ قَبْرِہٖ۔۔۔۔۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳ واللفظ لہٗ، ابوداؤد ج:۲ ص:۶۵۴، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۵۰، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۸۱، مشکوٰۃ ص:۲۵)
ترجمہ:۔ ’’مؤمن کو جب قبر میں بٹھایا جاتا ہے ۔۔ ۔ ‘‘
مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہٖ ۔۔۔۔۔‘‘(مسند احمد ج:۴ ص:۲۸۷، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۲۷)
ترجمہ:۔ ’’پس اس میّت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھلاتے ہیں۔‘‘
۳:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنَّ الْمَیِّتَ یَصِیْرُ إِلَی الْقَبْرِ فَیُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فِیْ قَبْرِہٖ غَیْرَ فَزِعٍ وَّلَا مَشْغُوْفٍ -إلٰی قولہ- وَیُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوْئُ فِیْ قَبْرِہٖ فَزِعًا مَشْغُوْفًا۔‘‘ (ابن ماجہ ص:۳۱۵ واللفظ لہٗ، ابن حبان ج:۶ ص:۴۵، موارد الظمآن ص:۱۹۸، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۰، شرح الصدور ص:۵۸، مشکوٰۃ ص:۲۵)
ترجمہ:۔ ’’بلاشبہ میّت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو نیک صالح آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے، اس وقت نہ وہ گھبرایا ہوا ہوتا ہے اور نہ پریشان ۔۔۔۔۔۔ اور برے آدمی کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے، اس وقت وہ نہایت گھبرایا ہوا، پریشان ہوتا ہے۔‘‘
مستدرک حاکم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:
’’فَیُقَالُ لَہٗ: اُقْعُدْ! فَیَقْعُدُ وَتَمَثَّلَ لَہُ الشَّمْسُ۔‘‘ (ج:۱ ص:۳۷۹)
ترجمہ:۔ ’’میّت کو کہا جاتا ہے کہ بیٹھ جا، پس وہ (اُٹھ کر) بیٹھ جاتا ہے، اور اسے سورج (غروب ہوتا ہوا) نظر آتا ہے۔‘‘
مجمع الزوائد میں بروایت طبرانی ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَیُقَالُ لَہٗ: إِجْلِسْ! فَیَجْلِسُ، وَقَدْ مُثِّلَتْ لَہُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوْبِ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۳ حدیث:۴۲۶۹ رواہ الطبرانی فی الأوسط واسنادہ حسن)
ترجمہ:۔ ’’پس اسے (میّت سے) کہا جاتا ہے کہ: اُٹھ کر بیٹھ جا! پس وہ بیٹھ جاتا ہے، اور اسے سورج غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔‘‘
۴:۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
’’فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِّنَ فَتَفَرَّقَ عَنْہُ أَصْحَابُہٗ، جَآءَہٗ مَلَکٌ فِیْ یَدِہٖ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَہٗ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۳ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۴۷، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۷، اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۷، شرح الصدور ص:۵۵۔ وقال بسند صحیح)
ترجمہ:۔ ’’پس جب کسی انسان کو دفن کرکے اس کے دفن کرنے والے وہاں سے منتشر ہوجاتے ہیں، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے، پس وہ اس کو بٹھلاتا ہے۔۔۔۔۔‘‘
۵:۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے:
’’قَالَ: فَیُنَادِیْہِ: إِجْلِسْ! قَالَ: فَیُجْلَسُ فَیَقُوْلُ لَہٗ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (مسند احمد ج:۶ ص:۳۵۲ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۳ حدیث:۴۲۶۸، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۵، اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۱۸)
ترجمہ:۔ ’’فرمایا: قبر میں میّت کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اسے آواز دیتا ہے اور اسے بٹھلادیتا ہے اور اسے کہتا ہے ۔۔۔۔۔‘‘
کنز العمال میں ایک دُوسری روایت میں حضرت اسماء کی حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ یُقْعَدُ فِیْ قَبْرِہٖ۔‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۶ بحوالہ طبرانی)
ترجمہ:۔ ’’بلاشبہ مؤمن کو قبر میں بٹھلایا جاتا ہے۔‘‘
۶:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَإِذَا کَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ اُجْلِسَ فِیْ قَبْرِہٖ غَیْرَ فَزِعٍ وَّلَا مَشْغُوْفٍ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (مسند احمد ج:۶ ص:۱۴۰ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۰ حدیث:۴۲۶۵، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۸، شرح الصدور ص:۵۹)
ترجمہ:۔ ’’جب میّت نیک صالح ہو تو اس کو قبر میں بٹھلایا جاتا ہے اور اس وقت اسے کوئی گھبراہٹ اور پریشانی نہیں ہوتی۔‘‘
۷:۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
’’أَمَّا الْمُنَافِقُ! فَیُقْعَدُ إِذَا تَوَلّٰی عَنْہُ أَھْلُہٗ ۔۔۔۔۔‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۳۴۶ واللفظ لہٗ، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۶، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۶، طبرانی وبیہقی عذاب القبر وابن ابی الدنیا شرح الصدور ص:۵۰)
ترجمہ:۔ ’’رہا منافق! تو جب اس کے دفن کرنے والے چلے جاتے ہیں تو اس کو (قبر میں) بٹھلایا جاتا ہے۔‘‘
ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِذَا دُخِلَ الْمَیِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتِ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوْبِھَا، فَیُجْلَسُ یَمْسَحُ عَیْنَیْہِ۔۔۔۔۔‘‘ (ابن ماجۃ ص:۳۱۶)
ترجمہ:۔ ’’جب میّت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو اسے سورج غروب ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، پھر اسے بٹھلایا جاتا ہے اور وہ آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔‘‘
۸:۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ جُلِسَ فِیْ قَبْرِہٖ فَیُقَالُ: مَنْ رَّبُّکَ؟‘‘(مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۳۷ حدیث:۴۲۷۸، وقال: رواہ الطبرانی فی الکبیر واسنادہ حسن، اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۶، شرح الصدور ص:۵۳)
ترجمہ:۔ ’’مؤمن جب مرجاتا ہے تو اسے قبر میں بٹھلایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ: تیرا ربّ کون ہے؟‘‘
۹:۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی موقوف حدیث میں ہے:
’’ثُمَّ جَآءَکَ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ جَعْدَانِ أَسْمَائُھُمَا مُنْکَرٌ وَّنَکِیْرٌ فَأَجْلَسَاکَ ثُمَّ سَأَلَاکَ ۔۔۔۔۔۔‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۹)
ترجمہ:۔ ’’پھر تیرے پاس سیاہ رنگ، کیری آنکھوں، ڈراؤنی شکل والے دو فرشتے آئیں گے، جن کے نام منکر اور نکیر ہیں، پھر وہ تمہیں بٹھائیں گے اور تم سے سوال کریں گے۔‘‘
۱۰:۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنَّ الْمَیِّتَ یَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ حِیْنَ یُوَلُّوْنَ۔ قَالَ: ثُمَّ یُجْلَسُ فَیُقَالُ لَہٗ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۶، طبرانی اوسط حسن، شرح الصدور ص:۵۲)
ترجمہ:۔ ’’بلاشبہ میّت دفن کرکے واپس جانے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، فرمایا: پھر اس کو بٹھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔‘‘
۱۱:۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ اُجْلِسَ فِیْ قَبْرِہٖ ۔۔۔۔۔‘‘ (اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۸ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۹۱ حدیث:۱۱۱۰۰، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، ابن مندہ، شرح الصدور ص:۵۵، ۵۶)
ترجمہ:۔ ’’بلاشبہ جب کوئی مؤمن مرجاتا ہے تو اسے قبر میں بٹھایا جاتا ہے۔‘‘
۱۲:۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’أَتَاہُ مُنْکَرٌ وَّنَکِیْرٌ، فَیُجْلِسَانِہٖ فِیْ قَبْرِہٖ ۔۔۔۔۔‘‘
(اتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۴۱۷، شرح الصدور ص:۵۴)
ترجمہ:۔ ’’میّت کے پاس منکر اور نکیر آتے ہیں، اور اسے قبر میں بٹھاتے ہیں۔‘‘

