October 15, 2026 at 2:00 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

میّت کا، جنازہ اُٹھانے والوں کے کندھوں پر بولنا

جواب

’’عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ فَاحْتَمَلَھَا الرِّجَالُ عَلٰی أَعْنَاقِھِمْ، فَإِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ: قَدِّمُوْنِیْ! قَدِّمُوْنِیْ! وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ: یَا وَیْلَھَا! أَیْنَ تَذْھَبُوْنَ بِھَا؟ یَسْمَعُ صَوْتَھَا کُلُّ شَیْئٍ إِلّا الْإِنْسَانُ، وَلَوْ سَمِعَھَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۵، ۱۷۶، ۱۸۴، مسند احمد ج:۳ ص:۴۱، ۵۸، ۸۵، نسائی ج:۱ ص:۲۷۰، سنن کبریٰ بیہقی ج:۴ ص:۲۱، شرح السنہ ج:۵ ص:۳۲۵، کنز العمال ج:۱۵ ص:۵۹۹ حدیث:۴۲۳۷۴)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جب جنازہ رکھا جاتا ہے، پس لوگ اس کو اپنے کندھوں پر اُٹھالیتے ہیں، تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ: مجھے جلدی لے جاؤ! مجھے جلدی لے جاؤ! اور اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ: ہائے میری ہلاکت! تم اس جنازہ کو کہاں لے جارہے ہو؟ اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اور اگر اس کو انسان سن لیتا تو بے ہوش ہوجاتا۔‘‘

’’عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ مِھْرَانَ أَنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلٰی سَرِیْرِہٖ قَالَ: قَدِّمُوْنِیْ! قَدِّمُوْنِیْ! وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ یَعْنِی السُّوْءَ عَلٰی سَرِیْرِہٖ قَالَ: یَا وَیْلَتٰی! أَیْنَ تَذْھَبُوْنَ بِیْ؟‘‘ (نسائی ج:۱ ص:۲۷۰ واللفظ لہٗ، سنن کبریٰ بیہقی ج:۴ ص:۲۱)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: جب نیک آدمی کی میّت کو جنازہ کی چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ: مجھے (جلدی) آگے لے چلو! (جلدی) آگے لے چلو! اور جب کسی بدکار آدمی کی میّت کو جنازہ کی چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ: اے میری ہلاکت! مجھے کہاں لے جارہے ہو؟‘‘

میّت کا، جنازہ اُٹھانے والوں کے کندھوں پر بولنا - شہید اسلام