October 15, 2026 at 2:00 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

قبر کا بھینچنا

جواب

بعض اوقات قبر مردے کو بھینچتی ہے، اس کو ’’ضَغْطَةُ الْقَبْرِ‘‘ فرمایا گیا ہے، مندرجہ ذیل احادیث میں اس کا ذکر ہے:

حدیثِ ابن عمرؓ:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَالَ ھٰذَا الَّذِیْ تَحَرَّکَ لَہُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَہٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَشَھِدَہٗ سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّۃً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْہُ۔‘‘ (نسائی ج:۱ ص:۲۸۹ واللفظ لہٗ، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۲۲، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۷، کنز العمال ج:۱۱ ص:۶۸۶، شرح الصدور ص:۴۵، المعتصر من المختصر ج:۱ ص:۱۱۵)

ترجمہ:۔ ’’فرمایا: یہ وہ تھے جن کی موت پر عرش بھی ہل گیا تھا، اور اس (کی روح) کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے تھے، اور اس کے جنازہ میں ستر ہزار ملائکہ نازل ہوئے تھے، مگر اسے بھی قبر نے بھینچا مگر بعد میں وسیع ہوگئی۔‘‘

حدیثِ عائشہؓ:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’إِنَّ لِلْقَبْرِ ضُغْطَۃً وَّلَوْ کَانَ أَحَدٌ نَاجِیًا مِّنْھَا نَجَا مِنْھَا سَعْدُ بْنُ مَعَاذٍ۔‘‘ (المعتصر من المختصر ج:۱ ص:۱۱۵، الْإحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج:۶ ص:۴۵، مسند احمد ج:۶ ص:۵۵، ۹۸ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۷ حدیث:۴۲۵۶، رجالہا رجال الصحیح، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۹، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۲۲، البدایۃ والنہایۃ ج:۴ ص:۱۲۸، شرح الصدور ص:۴۵)

ترجمہ:۔ ’’بلاشبہ قبر کے لئے بھینچنا ہے، اگر اس سے کسی کو نجات ہوتی تو (حضرت) سعد بن معاذؓ ضرور اس سے بچ جاتے۔‘‘

حدیثِ جابرؓ:۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَالَ: لَقَدْ تَضَایَقَ عَلٰی ھٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُہٗ حَتّٰی فَرَّجَہُ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْہُ۔‘‘(مسند احمد ج:۳ ص:۳۶۰، ۳۷۷ واللفظ لہٗ، مشکوٰۃ ص:۲۶، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۴۲، ۶۴۳، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۶، ۱۲۷ حدیث:۴۲۵۴، شرح الصدور ص:۴۵، البدایہ والنہایہ ج:۴ ص:۱۲۸)

ترجمہ:۔ ’’فرمایا: بلاشبہ اس نیک اور صالح آدمی پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کشادگی فرمادی۔‘‘

حدیثِ ابوہریرہؓ:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہٗ حَتّٰی تَلْتَقِیَ أَضْلَاعُہٗ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۶۸ واللفظ لہٗ، موارد الظمآن ص:۱۹۸، ابن حبان ج:۶ ص:۴۶، ۴۸، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۰۴)

ترجمہ:۔ ’’اس پر قبر تنگ کردی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دُوسرے میں گھس جاتی ہیں۔‘‘

حدیثِ ابوسعیدؓ:۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’قَالَ: یُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہٗ حَتّٰی تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُہٗ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۸۴ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۴۷)

ترجمہ:۔ ’’فرمایا: اس پر قبر تنگ کردی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دُوسرے میں گھس جاتی ہیں۔‘‘

حدیثِ ابن عمروؓ:۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’ثُمَّ یُؤْمَرُ بِہٖ فِیْ قَبْرِہٖ، فَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ حَتّٰی تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُہٗ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص: ۵۶۷، مجمع الزوائد ج:۲ ص:۳۲۸)

ترجمہ:۔ ’’پھر حکم کیا جاتا ہے اس کے بارے میں اس کی قبر میں، پس قبر تنگ ہوجاتی ہے اس پر، یہاں تک کہ پسلیاں ایک دُوسرے میں نکل جاتی ہیں۔‘‘

حدیثِ حذیفہؓ:۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ جَنَازَۃٍ فَلَمَّا انْتَھَیْنَا إِلَی الْقَبْرِ قَعَدَ عَلٰی شَفَتِہٖ فَجَعَلَ یَرُدُّ بَصَرَہٗ فِیْہِ ثُمَّ قَالَ: یُضْغَطُ فِیْہِ الْمُؤْمِنُ ضُغْطَۃً تَزُوْلُ مِنْھَا حَمَائِلُہٗ، وَیُمْلَأُ عَلَی الْکَافِرِ نَارًا۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۶ حدیث:۴۲۵۴، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۲۲، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۴۳، شرح الصدور ص:۴۵)

ترجمہ:۔ ’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ہم ایک جنازے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہم قبر تک پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے بیٹھ گئے اور اس میں نظرِ مبارک پھرانے لگے، پھر فرمایا کہ: اس میں مؤمن کو ایسا بھینچا جاتا ہے کہ اس سے اس کے کندھے اور سینہ ہل جاتے ہیں، اور کافر کی قبر آگ سے بھرجاتی ہے۔‘‘

حدیثِ ابن عباسؓ:۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَعَنِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَّھُوَ قَاعِدٌ عَلٰی قَبْرِہٖ، قَالَ: لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِّنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ أَوْ مَسْئَلَۃِ الْقَبْرِ لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّۃً ثُمَّ اُرْخِیَ عَنْہُ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط ورجالہ موثقون۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۷ حدیث:۴۲۵۷، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۴۰، شرح الصدور ص:۴۵)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا، ان کی قبر کے کنارہ پر بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص قبر کی آزمائش سے یا فرمایا قبر کے سوال سے نجات پاتا، تو البتہ سعد بن معاذ نجات پاتے، البتہ تحقیق ایک دفعہ تو ان کو بھی بھینچا گیا، پھر ان سے کشائش کردی گئی۔‘‘

حدیثِ انسؓ:۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: تُوُفِّیَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْنَا مَعَہٗ فَرَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُہْتَمًّا شَدِیْدَ الْحُزْنِ، فَجَعَلْنَا لَا نُکَلِّمُہٗ حَتّٰی إِنْتَھَیْنَا إِلَی الْقَبْرِ، فَإِذَا ھُوَ لَمْ یَفْرَغْ مِنْ لَحْدِہٖ، فَقَعَدَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْنَا حَوْلَہٗ، فَحَدَّثَ نَفْسَہٗ ھَنِیْعَۃً، وَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلَی السَّمَاءِ، ثُمَّ فَرَغَ مِنَ الْقَبْرِ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ فَرَأَیْتُہٗ یَزْدَادُ حُزْنُہٗ، ثُمَّ إِنَّہٗ فَرَغَ فَخَرَجَ، فَرَأَیْتُہٗ سُرِّیَ عَنْہُ وَتَبَسَّمَ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! رَأَیْنَاکَ مُہْتَمًّا حَزِیْنًا، فَلَمْ نَسْتَطِعْ أَنْ نُّکَلِّمَکَ، ثُمَّ رَأَیْنَاکَ سُرِّیَ عَنْکَ، فَلِمَ ذَالِکَ؟ قَالَ: کُنْتُ اُذَکُرُ ضِیْقَ الْقَبْرِ وَغَمَّہٗ وَضُعْفَ زَیْنَبَ، فَکَانَ ذَالِکَ یَشُقُّ عَلَیَّ، فَدَعَوْتُ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُّخَفِّفَ عَنْھَا فَفَعَلَ، وَلَقَدْ ضَغَطَھَا ضُغْطَۃً سَمِعَھَا مِنْ بَیْنَ الْخَافِقَیْنِ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۷، ۱۲۸ حدیث:۴۲۵۸، کنز العمال ج:۱۵ ص:۲۴۲، اتحاف السادۃ المتقین ج:۱۰ ص:۴۲۲، ۴۲۳، شرح الصدور ص:۴۵)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی، تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت غمگین ہیں، پس ہم آپ سے بات نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ قبر پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ ابھی ان کی لحد سے فراغت نہیں ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، وہ تھوڑی دیر دل میں کچھ سوچتے رہے اور آپ آسمان کی طرف دیکھتے رہے، پھر قبر سے فراغت ہوگئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں بہ نفس نفیس اُترے، پس میں نے دیکھا کہ آپ کا غم بڑھ رہا ہے، پھر آپ فارغ ہوگئے، پس باہر نکلے تو میں نے دیکھا کہ: آپ کی وہ کیفیت زائل ہوگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا، پس ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ شدید غمگین اور فکرمند ہیں، اس لئے ہم آپ سے بات نہیں کرسکے، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ کی وہ کیفیت زائل ہوگئی، فرمایا: اس کی وجہ یہ تھی کہ میں قبر کی تنگی اور غم کو اور زینب کے ضعف کو یاد کرتا تھا، پس یہ چیز مجھ پر شاق گزرتی تھی، پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان سے تخفیف فرمادیں، پس اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا، قبر نے اس کو ایسا بھینچا تھا کہ مشرق و مغرب کے لوگ اس کو سنتے۔‘‘

حدیثِ ابن مسعودؓ:۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’عَنْ عَبْدِاللّهِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) قَالَ: إِذَا اُدْخِلَ الرَّجُلُ قَبْرَہٗ فَإِنْ کَانَ مِنْ أَھْلِ السَّعَادَۃِ ثَبَّتَہُ اللّهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فَیُسْأَلُ: مَا أَنْتَ؟ فَیَقُوْلُ: أَنَا عَبْدُاللّهِ حَیًّا وَّمَیِّتًا وَّأَشْھَدُ أَنْ لّا إِلٰـہَ إِلّا اللّهُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ قَالَ: فَیُقَالُ: کَذَالِکَ کُنْتَ! قَالَ: فَیُوَسَّعُ عَلَیْہِ قَبْرُہٗ مَا شَآءَ اللّهُ وَیُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ إِلَی الْجَنَّۃِ۔۔۔الخ‘‘ (ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۷۷، اتحاف ج:۱۰ ص:۴۱۷)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آدمی کو اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اگر وہ اہل سعادت میں سے ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قول ثابت کے ساتھ ثابت قدم رکھتے ہیں، پس اس سے پوچھا جاتا ہے کہ: تو کون ہے؟ پس وہ کہتا ہے کہ: میں اللہ کا بندہ ہوں، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ فرمایا: پس اس کو کہا جاتا ہے کہ: تو ایسا ہی تھا! پس اس پر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے، جتنی کہ اللہ کو منظور ہے، اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘

حدیثِ براء بن عازبؓ:۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’فَیُنَادِیْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ، اَنْ کَذَبَ عَبْدِیْ، فَأَفْرِشُوْا لَہٗ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوْا لَہٗ بَابًا إِلَی النَّارِ، فَیَأْتِیْہِ حَرُّھَا وَسَمُوْمُھَا وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہٗ حَتّٰی تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُہٗ۔‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۲۹، ۲۴۳، ابن ابی شیبہ ج:۳ ص:۳۸۲)

ترجمہ:۔ ’’(دوزخی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:) پس آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ: میرا بندہ جھوٹ بولتا ہے! پس اس کے لئے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور اس کے لئے آگ کی طرف دروازہ کھول دو، پس اس شخص کو آگ کی تپش اور لو پہنچتی ہے، اور قبر اس پر تنگ ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں اِدھر سے اُدھر نکل جاتی ہیں۔‘‘

حدیثِ معاذؓ:۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’اَلضُّمَّۃُ فِی الْقَبْرِ کَفَّارَۃٌ لِّکُلِّ مُؤْمِنٍ لِکُلِّ ذَنْبٍ بَقِیَ عَلَیْہِ وَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ۔‘‘ (کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۳۹، ۶۴۲)

ترجمہ:۔ ’’قبر میں بھینچنا ہر مؤمن کے لئے کفارہ ہے، ہر اس گناہ کے لئے جو اس پر باقی ہو اور اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو۔‘‘

حدیثِ عبید بن عمیرؓ:۔ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’ثُمَّ یُسْلَبُ کَفَنُہٗ فَیُبَدَّلَ ثِیَابًا مِّنْ نَّارٍ، وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ حَتّٰی تَخْتَلِفَ فِیْہِ أَضْلَاعُہٗ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۳ ص:۵۹۱)

ترجمہ:۔ ’’پھر اس کا کفن چھین لیا جاتا ہے، اور اس کے بجائے آگ کے کپڑے بدل دئیے جاتے ہیں، اور قبر اس پر تنگ کردی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس میں اس کی پسلیاں اِدھر سے اُدھر نکل جاتی ہیں۔‘‘

حدیثِ صفیہ بنت ابی عبیدؓ:۔ حضرت صفیہ بن ابوعبید رضی اللہ عنہا کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَتَیْنَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ أَبِیْ عُبَیْدٍ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ کُنْتُ لَأَرٰی لَوْ أَنَّ أَحَدًا اُعْفِیَ مِنْ ضُغْطَۃِ الْقَبْرِ لَعُفِیَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضُمَّۃً۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۸ حدیث:۴۲۶۱)

ترجمہ:۔ ’’حضرت نافع فرماتے ہیں کہ: ہم حضرت صفیہ بنت ابی عبیدؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، (یہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی اہلیہ تھیں) تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: میرا خیال یہ تھا کہ اگر کسی کو قبر کے بھینچنے سے معافی مل جائے گی تو سعد بن معاذؓ کو ضرور معافی ملے گی، اور البتہ تحقیق ایک دفعہ تو ان کو بھی بھینچا گیا۔‘‘

حدیثِ ابو ایوبؓ:۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَعَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ أَنَّ صَبِیًّا دُفِنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ اُفِلَتْ أَحَدٌ مِّنْ ضُمَّۃِ الْقَبْرِ لَأُفِلَتْ ھٰذَا الصَّبِیُّ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ رجال الصحیح۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۲۸ حدیث: ۴۲۵۹، کنز العمال ج:۱۵ ص:۱۴۰)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک بچہ دفن کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اگر کوئی قبر کے بھینچنے سے محفوظ رہتا تو یہ بچہ ضرور محفوظ رہتا۔‘‘

قبر کا بھینچنا - شہید اسلام