October 15, 2026 at 2:01 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

احادیثِ واقعۂ قلیبِ بدر

جواب

’’ھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟‘‘

حدیثِ عائشہؓ:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلٰی أَنْ یُّطْرَحُوْا فِی الْقَلِیْبِ، فَطُرِحُوْا فِیْہِ، إِلّا مَا کَانَ مِنْ اُمَیَّۃَ بْنِ خَلْفٍ، فَإِنَّہٗ إِنْتَفَخَ فِیْ دِرْعِہٖ فَمَلَأَھَا فَذَھَبُوْا یُحَرِّکُوْہُ فَتَزَایَلَ فَأَقَرُّوْہُ وَاَلْقَوْا عَلَیْہِ مَا غَیَّبَہٗ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَۃِ، فَلَمَّا اَلْقَاھُمْ فِی الْقَلِیْبِ وَقَفَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا أَھْلَ الْقَلِیْبِ! ھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّیْ قَدْ وَجَدْتُّ مَا وَعَدَنِیْ رَبِّیْ حَقًّا!‘‘ (مسند احمد ج:۶ ص:۲۷۶ واللفظ لہٗ، ج:۲ ص:۳۸، صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳، صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۰۳، البدایہ والنہایہ ج:۳ ص:۲۹۳)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقتولین کے بارے میں حکم فرمایا کہ ان کو ایک گڑھے میں ڈال دیا جائے، چنانچہ ان کو ڈال دیا گیا، مگر یہ کہ امیہ بن خلف اپنی زرہ میں پھول گیا تھا، پس اس نے اس کو بھردیا تھا، اس کو حرکت دینے لگے تو وہ اور زیادہ بڑھتا جاتا، پس اس کو ویسے ہی رکھا اور اس پر کوئی ایسی چیز ڈال دی جو اس کو چھپادے، یعنی مٹی اور پتھر، پس جب صحابہؓ نے ان کو اس قلیب (گڑھے) میں ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر کھڑے ہوئے، پس ارشاد فرمایا کہ: اے اہل قلیب! کیا تم نے وہ چیز پالی جس کا تم سے تمہارے ربّ نے وعدہ کیا تھا؟ کیونکہ میں نے تو وہ چیز پالی جس کا مجھ سے میرے ربّ نے وعدہ کیا تھا! ۔۔۔ الخ۔‘‘

حدیثِ انسؓ:۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ أَخَذَ یُحَدِّثُنَا عَنْ أَھْلِ بَدْرٍ، فَقالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیُرِیْنَا مَصَارِعَھُمْ بِالْأَمْسِ، قَالَ: ھٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَآءَ اللّهُ غَدًا، قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِیْ بَعَثَہٗ بِالْحَقِّ! مَا أَخْطَؤُا تِیْکَ فَجُعِلُوْا فِیْ بِیْرٍ، فَأَتَاھُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَادٰی: یَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ! یَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ! ھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّیْ وَجَدْتُّ مَا وَعَدَنِیَ اللّهُ حَقًّا! فَقَالَ عُمَرُ: تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِیْھَا؟ فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُوْلُ مِنْھُمْ!‘‘ (نسائی ج:۱ ص:۲۹۳ واللفظ لہٗ، ابن ابی شیبہ ج:۱۴ ص:۳۷۹، مسلم ج:۱ ص:۳۰۳، ج:۲ ص:۳۸۷، مسند احمد ج:۳ ص:۱۰۴، ۱۴۵، ۲۶۳، ۲۸۷، اتحاف ج:۵ ص:۲۳، دلَائل النبوۃ ج:۳ ص:۴۸، درمنثور ج:۵ ص:۱۵۷)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ہم حضرت عمرؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، تو آپؓ ہم سے اہل بدر کے بارے میں بیان کرنے لگے، پس فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت ہمیں ان کی قتل گاہیں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ: یہ اِن شاء اللہ کل فلاں آدمی کی قتل گاہ ہوگی! حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! وہ لوگ ان جگہوں سے اِدھر اُدھر نہیں ہوئے، پس ان کو ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، پس پکار کر فرمایا: اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا تم نے پالیا ہے جو تمہارے ربّ نے وعدہ کیا تھا حق؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا، وہ تو میں نے حق پایا! حضرت عمرؓ نے کہا: آپ ایسے جسموں سے کلام فرماتے ہیں جن میں روحیں نہیں؟ پس ارشاد فرمایا: میں ان کو جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان سے زیادہ نہیں سنتے!‘‘

حدیثِ عبداللہ بن عمرؓ:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرُہٗ، قَالَ: إِطَّلَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی أَھْلِ الْقَلِیْبِ، فَقَالَ: ھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ فَقِیْلَ لَہٗ: تَدْعُوْا أَمْوَاتًا؟ قَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْھُمْ، وَلٰـکِنْ لَا یُجِیْبُوْنَ!‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۰۳، نسائی ج:۱ ص:۲۹۳، مسند احمد ج:۱ ص:۳۸، ۱۳۱، ابن ابی شیبہ ج:۱۴ ص:۳۷۷، البدایہ والنہایہ ج:۳ ص:۲۹۳)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گڑھے کی طرف جھانکا جس میں بدر کے کافر مقتول ڈال دئیے گئے تھے، پس فرمایا: کیا تم نے پایا اس چیز کو جس کا تم سے تمہارے ربّ نے وعدہ کیا تھا سچ؟ پس عرض کیا گیا کہ: کیا آپ بے جان مردوں کو پکارتے ہیں؟ فرمایا: تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے، لیکن وہ جواب نہیں دیتے!‘‘

حدیثِ ابن عباسؓ:۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’أَخْرَجَ أَبُو سَهْلٍ السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ الْجُنْدُ النَّيْسَابُوْرِيُّ الْخَامِسُ مِنْ حَدِيْثِهِ مِنْ طَرِيْقِ عَبْدِالْقُدُّوْسِ عَنْ أَبِيْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فِيْ قَوْلِهِ: ﵟ إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ ﵞ،ﵟ وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ ﵞ‘ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقِفُ عَلَى الْقَتْلٰى يَوْمَ بَدْرٍ وَيَقُوْلُ: هَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟‘‘ (درمنثور ج:۵ ص:۲۴۹)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ’’ إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ‘‘ اور ’’وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ‘‘ (بے شک آپ نہیں سناسکتے مردوں کو) اور (آپ نہیں سنانے والے ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں) کی تفسیر میں منقول ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے مقتولین پر بدر کے دن اور یوں فرماتے تھے کہ: جو وعدہ تم سے تمہارے ربّ نے کیا تھا، وہ تم نے سچ پایا یا نہیں؟ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘

حدیثِ ابوطلحہؓ:۔ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’عَنْ أَبِیْ طَلْحَۃَ أَنَّ نَبِیَّ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ یَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ رَجُلًا مِّنْ صَنَادِیْدِ قُرَیْشٍ، فَقُذِفُوْا فِیْ طُوًی مِّنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِیْثٍ مُّخَبَّثٍ، وَّکَانَ إِذَا ظَہَر عَلٰی قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَۃِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، فَلَمَّا کَانَ بِبَدْرٍ الْیَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِہٖ، فَشُدَّ عَلَیْھَا رَحْلُھَا ثُمَّ مَشٰی وَاتَّبَعَہٗ أَصْحَابُہٗ، وَقَالُوْا: مَا نَرٰی یَنْطَلِقُ إِلّا لِبَعْضِ حَاجَتِہٖ، حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَّۃِ الرَّکِیِّ، فَجَعَلَ یُنَادِیْھِمْ بِأَسْمَائِھِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِھِمْ: یَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ! وَیَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ! أَیَسُرُّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمُ اللّهَ وَرَسُوْلَہٗ؟ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا! فَھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَھَا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُوْلُ مِنْھُمْ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۵۶۶ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۴ ص:۲۹)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن چوبیس آدمیوں کے بارے میں جو قریش کے رئیس تھے، حکم فرمایا کہ ان کو بدر کے گندے اور خبیث گڑھے میں ڈال دیا جائے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تھے تو اس میدان میں تین دن ٹھہرتے تھے، جب تیسرا دن ہوا تو اپنی سواری کے بارے میں حکم فرمایا، پس اس کا کجاوہ کساگیا، پھر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ آپ کے ساتھ تھے، اور ہم نہیں جانتے تھے مگر یہ کہ آپ کسی کام کے لئے تشریف لے جارہے ہیں، یہاں تک کہ کھڑے ہوئے اس گڑھے کے کنارہ پر، پس ان کا اور ان کے باپوں کا نام لے کر پکارنے لگے کہ: اے فلاں بن فلاں! اور اے فلاں بن فلاں! کیا تم کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم نے اللہ اور اللہ کے رسول کی بات مان لی ہوتی؟ کیونکہ ہم نے تو جو ہم سے ہمارے ربّ نے وعدہ کیا تھا، اس کو سچ پایا! پس کیا تم نے پالیا ہے جو تمہارے ربّ نے (تم سے) وعدہ کیا تھا حق؟ راوی کہتے ہیں کہ: پس حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسے جسموں سے گفتگو فرماتے ہیں جن میں رُوح نہیں؟ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی کہ محمد کی جان اس کے قبضہ میں ہے! تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے!‘‘

حدیثِ موسیٰ بن عقبہؓ:۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’وَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلٰی قُرَیْشٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ، فَأُلْقُوْا فِیْ قَلِیْبِ بَدْرٍ وَّلَعَنُھُمْ وَھُوَ قَائِمٌ یُسَمِّیْھِمْ بِأَسْمَائِھِمْ غَیْرَ أَنَّ اُمَیَّۃَ بْنَ خَلْفٍ کَانَ رَجُلًا مُسَمَّنًا فَانْتَفَخَ فِیْ یَوْمِہٖ فَلَمَّا أَرَادُوْا أَنْ یُّلْقُوْہُ فِی الْقَلِیْبِ تَفْقَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: دَعُوْہٗ! وَھُوَ یَلْعَنُھُمْ، ھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟‘‘ (دلَائل النبوۃ ج:۳ ص:۱۱۷)

ترجمہ:۔ ’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولینِ قریش کے بارے میں حکم فرمایا تو ان کو بدر کے گڑھے میں ڈال دیا گیا، اور ان پر لعنت فرمائی، اور آپ کھڑے تھے ان کا اور ان کے باپوں کا نام لے رہے تھے، سوائے امیہ بن خلف کے کہ وہ موٹا تازہ آدمی تھا، پس اسی دن پھول گیا، پس جب لوگوں نے اس کو گڑھے میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو پھٹ گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو! اور آپ ان پر لعنت فرما رہے تھے اور ان سے کہہ رہے تھے کہ: جو وعدہ تم سے تمہارے ربّ نے کیا تھا، تم نے اس کو سچ پایا یا نہیں؟‘‘

’’لَا تُؤْذُوْا صَاحِبَ الْقَبْرِ‘‘

قبر مٹی کا ڈھیر نہیں، بلکہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔

قبر والے کو نہ صرف یہ کہ قبر کے ثواب و عذاب کا احساس ہوتا ہے، بلکہ قبر پر چڑھنے سے بھی اس کو ایذا ہوتی ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جانے کے آداب بیان فرمائے ہیں، مندرجہ ذیل احادیث میں اس کا ذکر ہے:

’’عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ أَنَّ إِبْنَ حَزْمِ أَبَا عَمَّارَۃَ أَوْ أَبَا عَمْرٍو قَالَ: رَاٰنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَّکِیٌٔ عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ: قُمْ! لَا تُؤْذِ صَاحِبَ الْقَبْرِ أَوْ یُؤْذِیْکَ۔‘‘ (البغوی، کنز العمال ج:۱۵ ص:۷۵۹ حدیث:۴۲۹۸۸)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوعمارہؓ یا ابو عمروؓ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں قبر کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھ جاؤ! قبر والے کو ایذا نہ دو، یا فرمایا کہ: قبر سے ٹیک نہ لگاؤ کہ یہ تیرے لئے عذاب کا سبب ہوگا!‘‘

’’عَنْ عَمْرٍو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَأَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَّکِیٌٔ عَلٰی قَبْرٍ، قَالَ: لَا تُؤْذِ صَاحِبَ الْقَبْرِ!‘‘ (ابن عساکر، مسند احمد، کنز العمال ج:۱۵ ص:۷۶۰ حدیث:۴۲۹۹۰)

ترجمہ:۔ ’’عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں قبر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر والے کو ایذا نہ پہنچاؤ!‘‘

’’عَنْ عَمَّارَۃَ بْنِ حَزْمٍ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ قَالَ: رَاٰنِیْ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلٰی قَبْرٍ، قَالَ: أَنْزِلْ عَنِ الْقَبْرِ! لَا تُؤْذِ صَاحِبَ الْقَبْرِ وَلَا یُؤْذِیْکَ!‘‘ (طبرانی، مستدرک، عمارۃ بن حزم ج:۳ ص:۵۹۰، شرح معانی الآثار ج:۱ ص:۳۴۶، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۵۷ حدیث:۴۲۶۰۵، ترغیب ج:۴ ص:۳۷۴، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۶۱)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: قبر والے کو ایذا نہ دے! قبر سے اُتر جا! تاکہ تیرا یہ عمل تیرے لئے عذابِ آخرت کا سبب نہ بنے۔‘‘

ان احادیث سے ثابت ہوا کہ:

الف:۔ عذاب و ثواب قبر برحق ہے۔

ب:۔ عذاب و ثواب کا تعلق اسی گڑھے سے ہے، جس کو عرفِ عام میں قبر کہا جاتا ہے، چنانچہ حدیث میں صراحت فرمائی گئی ہے کہ:’’اَلْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ أَوْ حُفْرَۃٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارِ۔‘‘ (قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا)۔

ج:۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عذاب و ثواب قبر کی احادیث متواتر ہیں اور ان کا انکار ایک مسلمان کے لئے (جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہو) ممکن نہیں۔

د:۔ چونکہ برزخ کے معاملات عام لوگوں کے احساس و مشاہدہ سے ماورا ہیں، اس لئے عذاب و ثواب قبر کا انکار محض اپنے احساس و مشاہدہ کی بنا پر قطعاً غلط ہے، اس لئے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و مشاہدات پر ایمان رکھنا ضروری ہے، اور وہ بقدر ضرورت اُوپر آچکے ہیں، جو ایک مؤمن کے لئے کافی و شافی ہیں۔

چہارم:۔ اب تک ہم نے عام اموات کے بارے میں گفتگو کی ہے، اور یہ بتایا ہے کہ ان کا ثواب و عذاب متواتر ہے، جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں، اس پر ایمان لانا فرض ہے، اور اس کے منکر کے حق میں اندیشۂ کفر ہے۔

اب ہم اس پر گفتگو کریں گے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بالخصوص سید الانبیاء سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قبر شریفہ میں حیات ہونا اور حیات کے تمام لوازم کے ساتھ متصف ہونا برحق اور قطعی ہے، اور اس پر امت کا اجماع ہے، چنانچہ مذکورہ بالا تقریباً ایک سو پچاس احادیث سے حضرات انبیائے کرام کی حیات (جو عام اموات، شہداء اور صدیقین سے افضل ہیں) دلالت النص سے بطریقِ اَوْلیٰ ثابت ہوتی ہے، چنانچہ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ اپنے رفیق خاص حضرت مولانا سیّد احمد رضا بجنوریؒ کے نام لکھے گئے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:

’’۱:۔ شہداء کے لئے بنص قرآن ’’حیات‘‘ حاصل ہے اور مزید دفع تجویز کے لئے ’’يُرْزَقُوْنَ‘‘ کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جیسے آج کل محاورہ بھی ہے: ’’فُلَانٌ حَيٌّ يُرْزَقُ‘‘ عام اہل برزخ سے ان کی حیات ممتاز ہے۔

۲:۔ جب انبیاء کا درجہ عام شہداء سے اعلیٰ و ارفع ہے تو بدلالۃ النص یا بالاولیٰ خود قرآن کریم سے ان کی حیات ثابت ہوئی(عَلَيْهِمُ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُ)اور جب مرتبہ اعلیٰ و ارفع ہے تو حیات بھی اقویٰ واکمل ہوگی۔

۳:۔ اس حیات کی اکملیت کے بارے میں دو حدیثیں آئی ہیں ۔۔۔’’اِنَّ اللّهَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاء‘‘ اور حدیث: ’’الْاَنْبِیَاءُ اَحْیَاءٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ یُصَلُّوْنَ‘‘ اور اس کے علاوہ بھی روایات ہیں ۔۔۔ اور ان احادیث کے شواہد کے طور پر دیگر احادیث صحیح موجود ہیں، مثلاً موسیٰ علیہ السلام کا تلبیۂ حج۔

۴:۔ رُوح کے تعلقات اجساد سے پانچ قسم کے ہیں: ۱:۔ فی حالۃ الجنین، ۲:۔ بعد الولادۃ فی الدنیا اور اس کی دو صورتیں ہیں، ۳:۔ حالتِ نوم میں اور حالتِ یقظہ میں، ۴:۔ بعد الموت فی البرزخ، ۵:۔ بعد البعث فی الحشر۔ ضعیف ترین اول و رابع ہے، قوی ترین خامس اور متوسط دنیوی ہے، ’’کَمَا حَقَّقَہُ الْمُتَکَلِّمُوْنَ وَابْنُ الْقَیِّمِ فِیْ کِتَابِ الرُّوْحِ وَالْقَارِیْ فِیْ شَرْحِ الْفِقْہِ الْاَکْبَرِ‘‘۔

۵:۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی نوم جیسے ممتاز ہے عام نوم سے (اِنَّ عَیْنَایَ تَنَامَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ) اسی طرح ان کی موت کی حالت بھی عام اموات جیسی نہیں، ’’اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ‘‘، اور عام موتیٰ میں تحقیق موت سے، انقطاع الروح عن الجسد بالکلیہ ہوتا ہے اور یہاں بالکلیہ نہیں ہوتا اور پھر علوِ مرتبہ جتنا ہوتا ہے، اتنا ہی تعلق قوی ہوگا۔

۶:۔ مفارقۃ الروح عن الجسد سے مفارقت تعلق الروح عن الجسد لازم نہیں آتا۔

۷:۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد مبارک کو تروح کی کیفیت حاصل ہو، جیسے معراج میں جسد پر رُوح کی کیفیت طاری ہوئی، تجسد ارواح اور تروح اجساد دونوں کی نظیریں عالم شہادت میں ہیں تو عالم ارواح میں کیوں استبعاد کیا جائے جبکہ اس کا تعلق عالم غیب سے ہے۔

۸:۔ دنیا میں صوفیاء کرام کے یہاں ابدانِ مثالیہ کا تعدد وقت واحد میں، متعدد امکنہ میں ظہور اور آثار کے ثبوت پر مشہور واقعات ہیں، انبیائے کرام کی نقل و حرکت بالاجساد المتروحہ اس کی نظیر ہوگی۔

۹:۔ الغرض انبیائے کرام کے لئے حیات، بقائے اجساد، نقل و حرکت، ادراک و علم سب چیزیں حاصل ہیں۔

۱۰:۔ یہ حیات، دنیوی حیات کے مماثل بلکہ اس سے اقویٰ ہے، دُنیا میں ہمیشہ جسد کو رُوح کی خاصیت حاصل نہیں ہوتی اور برزخ میں ہوتی ہے، اب اگر اس کو حیاتِ دنیوی سے بعض حضرات نے تعبیر کیا ہے تو اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کیا ہے، بہرحال وہ حیاتِ دنیوی بھی ہے اور حیاتِ برزخی بھی، صرف حیاتِ برزخی نہیں جس میں عام شہداء یا اموات بھی شریک ہوں، بلکہ اقویٰ و اکمل ہے، اس لئے حیاتِ دنیوی کے مماثل ہے، بلکہ اس سے بھی اقویٰ ہے۔

اختلاف تعبیرات میں نزاع لفظی ہے، اس دُنیا سے رسمی تعلق منقطع ہونے کے بعد برزخی دور شروع ہوتا ہے، اب جو چاہے اطلاق کیا جائے۔

۱۱:۔ اگر احادیث و نصوص میں حیات کا ثبوت ہے اور پھر عدمِ نکاح بالازواج المطہرات اور عدمِ توریث وغیرہ کی علت اصل حیات کو کہا جائے تو درست ہے، بہرحال حکمِ شرعی کی کوئی علت ہی ہوتی ہے، اور یہاں تو علت از قبیل العلل المعتبرہ کے ہوگی نہ کہ علل مرسلہ کی قسم سے، اور اس علت کی تنقیح، اصول تنقیح المناط اور تحقیق المناط سے زیادہ قطعی ہوگی۔‘‘ (بینات شعبان ۱۳۸۸ھ)

خیرالقرون سے لے کر چودہ صدیوں تک اس مسئلے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف و افتراق نہیں تھا بلکہ تمام اکابرین امت نے اپنی اپنی تصنیفات میں اپنے اپنے انداز میں اس مسئلے کو واضح فرمایا، یہاں تک کہ اکابر اسلاف میں سے بعض حضرات نے اس موضوع پر مستقل رسائل تصنیف فرمائے اور ثابت کیا کہ حیاتِ انبیاء کا مسئلہ بالکل واضح، بے غبار اور امت کا اجماعی عقیدہ رہا ہے، اور جس طرح حضرات شہداء کرام کی حیات قرآن کریم سے ثابت ہے، اسی طرح حضرات انبیائے کرام کی حیات بھی بطور دلالت النص قرآن کریم سے ثابت ہے، لیکن ناس ہو خودرائی و خودروی اور اسلاف بیزاری کا کہ اس نے تحقیق کے نام پر جہالت، اور سنت کے نام پر بدعت کو رواج دیا، جس کی وجہ سے نام نہاد محققین نے جہاں دُوسرے بعض اجماعی مسائل سے انحراف کیا وہاں اس عقیدہ کا بھی انکار کردیا، چنانچہ محدث العصر حضرت بنوریؒ تحریر فرماتے ہیں:

’’انبیائے کرام علیہم الصلوات والسلام کی حیات بعد الممات کا مسئلہ صاف اور متفقہ مسئلہ تھا، شہداء کی حیات بنص قرآن ثابت تھی اور دلالۃ النص سے انبیائے کرام کی حیات قرآن سے ثابت تھی، اور احادیث نبویہ سے عبارۃ النص کے ذریعہ ثابت تھی، لیکن برا ہو اختلاف اور فتنوں کا کہ ایک مسلّمہ حقیقت زیر بحث آکر مشتبہ ہوگئی، کتنی ہی تاریخی بدیہیات کو کج بحثوں نے نظری بنالیا اور کتنے ہی حقائق شرعیہ کو کج فہمی نے مسخ کرکے رکھ دیا، یہ دُنیا ہے اور دُنیا کے مزاج میں داخل ہے کہ یہاں ہر دور میں کج فہم، کجرو اور کج بحث موجود ہوتے ہیں، زبان بند کرنا تو اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت میں ہے، ملاحدہ و زنادقہ کی زبان کب بند ہوسکی؟ کیا اس دور میں امام حسینؓ کی شہادت کو افسانہ نہیں بتایا گیا؟ اور کہا گیا کہ یہ واقعہ ہے ہی نہیں؟ اور کیا امام حسینؓ کو باغی اور واجب القتل اور یزید (بن معاویہؓ) کو امیرالمؤمنین اور خلیفۂ برحق ثابت نہیں کیا گیا؟ کسی صحیح حدیث کو ضعیف بنانے کے لئے کسی راوی کے بارے میں کتبِ رجال میں جرح کا کوئی کلمہ دیکھ لینا بس کافی ہے کہ اس پر بنیاد قائم کی جائے؟ اگر عقل سلیم سے کام نہ لیا جائے اور صرف کسی کتاب میں جرح کو دیکھا جائے تو امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ تمام کے تمام ائمہ مجروح ہو کر دین کا سرمایہ ختم ہی ہوجائے گا۔

الغرض حیاتِ انبیائے کرام علیہم السلام کا مسئلہ بھی تقریباً اسی قسم کی کج بحثوں میں الجھ کر اچھا خاصا فتنہ بن گیا، عصمت تو انبیائے کرام کا خاصہ ہے، علماء معصوم تو ہیں نہیں، کچھ حضرات نے دانستہ یا نادانستہ حدیثی و کلامی بحثیں پیدا کردیں اور سمجھا یہ گیا یا سمجھایا گیا کہ اس طرح توسل بالاموات اور استعانت بغیر اللہ وغیرہ وغیرہ بہت سی بدعات کا خاتمہ ہوجائے گا، گویا علاج یہ تجویز کیا گیا کہ حیاتِ انبیاء سے انکار کرتے ہی یہ مفاسد ختم ہوسکتے ہیں، اس کی مثال تو ایسی ہوئی کہ بارش سے بچنے کے لئے پرنالے کے نیچے جاکر بیٹھ گئے، بہرحال ان تفصیلات میں جانے کی حاجت نہیں، خلفشار کو ختم کرنے کے لئے ارباب فکر و خلوص نے چند حضرات کے نام تجویز کئے کہ اس اختلاف کو جس نے فتنہ کی شکل اختیار کرلی ہے، ختم کرنے کی کوشش کریں، راقم الحروف کا نام بھی انہیں میں شامل تھا، تجویز یہ ہوئی کہ اس موضوع پر ایک محققانہ کتاب مؤثر انداز میں لکھی جائے اور تشکیک پیدا کرنے والے حضرات کے شبہات کا جواب بھی دیا جائے، اور مسئلے کے تمام گوشوں پر سیر حاصل تبصرہ بھی کیا جائے، باتفاق رائے اس کام کی انجام دہی کے لئے جناب برادر گرامی مآثر مولانا ابو الزاہد محمد سرفراز صاحب منتخب ہوگئے، جن کے دماغ میں بحث و تمحیص کی صلاحیت بھی ہے اور قلم میں پختگی بھی، علوم دینیہ اور حدیث و رجال سے اچھی اور قابل قدر مناسبت بلکہ عمدہ بصیرت بھی ہے، مختلف مکان سے غرر نقول جمع کرنے کی پوری قدرت بھی ہے اور حسن ترتیب کی پوری اہلیت بھی، الحمدللہ کہ برادر موصوف نے توقع سے زیادہ مواد جمع کرکے تمام گوشوں کو خوب واضح کردیا اور تحقیق کا حق ادا کردیا ہے، میرے ناقص خیال میں اب یہ تالیف (تسکین الصدور فی تحقیق احوال الموتیٰ فی البرزخ والقبور) اس مسئلے میں جامع ترین تصنیف ہے، اور اس دور میں جتنی تصانیف اس مسئلے پر لکھی گئی ہیں ان سب میں جامع، واضح، عالمانہ بلکہ محققانہ ہے، اللہ تعالیٰ موصوف کی اس خدمت کو قبول سے نوازے اور اس قسم کی مزید خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘(تسکین الصدور ص:۲۲تا۲۴)

اس تمہید کے بعد اب ہم بالترتیب قرآن و سنت اور اجماع امت کے حوالہ سے حیاتِ النبی پر چند گزارشات پیش کریں گے، سب سے پہلے ملاحظہ ہو حیاتِ الانبیاء قرآن کریم کی روشنی میں:

احادیثِ واقعۂ قلیبِ بدر - شہید اسلام