October 15, 2026 at 2:01 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

حیاۃ الانبیاء قرآن کی روشنی میں

جواب

۱:۔ ﵟ وَسۡـَٔلۡ مَنۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلۡنَا مِن دُونِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ءَالِهَةٗ يُعۡبَدُونَ ٤٥ ﵞ (الزخرف ٤٥)

ترجمہ:۔ ’’اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے، پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا دُوسرے معبود ٹھہرادئیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے؟‘‘

اس آیت کے ذیل میں صاحب زاد المسیر لکھتے ہیں:

’’إِنَّهُ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ جُمِعَ لَهُ الْأَنْبِيَاءُ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ: سَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ، الْآيَةَ، فَقَالَ: لَا أَسْأَلُ، قَدِ اكْتَفَيْتُ، رَوَاهُ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهٰذَا قَوْلُ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالزُّهْرِيِّ وَابْنِ زَيْدٍ، قَالُوْا: جُمِعَ لَهُ الرُّسُلُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، فَلَقِيَهُمْ، وَأُمِرَ أَنْ يَسْأَلَهُمْ، فَمَا شَكَّ وَلَا سَأَلَ۔‘‘ (زاد المسیر فی علم التفسیر ج:۷ ص:۳۱۹)

ترجمہ:۔ ’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر پہنچایا گیا تو آپ کے لئے تمام انبیاء کو جمع کیا گیا، آپ نے نماز میں ان سب کی امامت فرمائی، پھر حضرت جبرئیلؑ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: ’’آپ ان سب پیغمبروں سے پوچھئے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے ۔۔۔الخ۔‘‘ پس آپ نے فرمایا: ’’مجھے سوال کی ضرورت نہیں، میں نے اس پر اکتفا کیا (جو مجھے بتلایا گیا) ۔۔۔۔۔ حضرت سعید بن جبیر، زہری اور ابن زید فرماتے ہیں کہ معراج کی رات آپ کے لئے تمام انبیائے کرام کو جمع کیا گیا، اس موقع پر آپ کی ان سے ملاقات ہوئی اور آپ کو حکم ہوا کہ آپ ان سے پوچھئے، پس آپ کو نہ تو شک تھا اور نہ آپ نے پوچھا۔‘‘

تفسیر کبیر میں ہے:

’’قَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰى بَعَثَ اللّٰهُ لَهُ آدَمَ وَجَمِيْعَ الْمُرْسَلِيْنَ مِنْ وَلَدِهِ، فَأَذَّنَ جِبْرَائِيْلُ ثُمَّ أَقَامَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! تَقَدَّمْ، فَصَلِّ بِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَاسْأَلْ يَا مُحَمَّدُ! مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا، الْآيَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَسْأَلُ لِأَنِّيْ لَسْتُ شَاكًّا فِيْهِ۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۲۷ ص:۲۱۶)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عطاء حضرت ابن عباسؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے جایا گیا، اور جب آپ مسجد اقصیٰ میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام جو ان کی اولاد میں سے تھے سب کو جمع کیا، پس حضرت جبرئیلؑ نے اذان اور اقامت کہی اور عرض کیا: اے محمد! آگے بڑھیئے اور ان کو نماز پڑھائیے، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرئیلؑ نے فرمایا: اے محمد! اور پوچھئے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے کچھ نہیں پوچھتا کہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘

تفسیر قرطبی میں اس کی مزید تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں:

’’لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰى – وَهُوَ مَسْجِدُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ – بَعَثَ اللّٰهُ لَهُ آدَمَ وَمَنْ وُلِدَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ، وَجِبْرَائِيْلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنَ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! تَقَدَّمْ! فَصَلِّ بِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ’’سَلْ يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُوْنَ‘‘ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’لَا أَسْأَلُ قَدِ اكْتَفَيْتُ‘‘قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانُوْا سَبْعِيْنَ نَبِيًّا، مِنْهُمْ إِبْرَاهِيْمُ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰى عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَلَمْ يَسْأَلْهُمْ، لِأَنَّهُ كَانَ أَعْلَمَ بِاللّٰهِ مِنْهُمْ.

فِيْ غَيْرِ رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَصَلَّوْا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةَ صُفُوْفٍ، الْمُرْسَلُوْنَ ثَلَاثَةَ صُفُوْفٍ وَالنَّبِيُّوْنَ أَرْبَعَةً، وَكَانَ يَلِيْ ظَهْرَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللّٰهِ، وَعَلٰى يَمِيْنِهِ إِسْمَاعِيْلُ، وَعَلٰى يَسَارِهِ إِسْحَاقُ، ثُمَّ مُوْسٰى، ثُمَّ سَائِرُ الْمُرْسَلِيْنَ، فَأَمَّهُمْ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَامَ، فَقَالَ: ’’إِنَّ رَبِّيْ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أَسْأَلَكُمْ هَلْ أُرْسِلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَدْعُوْ إِلَى عِبَادَةِ غَيْرِ اللّٰهِ؟‘‘ فَقَالُوْا: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّا نَشْهَدُ أَنَّا أُرْسِلْنَا أَجْمَعِيْنَ بِدَعْوَةٍ وَاحِدَةٍ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مَا يُعْبَدُ مِنْ دُوْنِهِ بَاطِلٌ، وَأَنَّكَ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَسَيِّدُ الْمُرْسَلِيْنَ، قَدِ اسْتَبَانَ ذٰلِكَ لَنَا بِإِمَامَتِكَ إِيَّانَا، وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَكَ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ فَإِنَّهُ مَأْمُوْرٌ أَنْ يَتَّبِعَ أَثَرَكَ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک معراج پر لے جایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اور جو ان کی اولاد میں سے انبیاء تھے، سب کو اکٹھا فرمایا، جبرئیل علیہ السلام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ پس جبرئیل نے اذان و اقامت کہی اور عرض کیا: اے محمد! آگے بڑھیئے اور ان کو نماز پڑھائیے، جب آپ فارغ ہوئے تو جبرئیلؑ نے عرض کیا: آپ سوال کیجئے ان رسولوں سے جو آپ سے پہلے بھیجے گئے تھے کہ کیا ہم نے اللہ کے علاوہ کوئی معبود بنائے تھے کہ جن کی پوجا کی جاتی تھی؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سوال کی ضرورت نہیں کہ میں نے اس پر کفایت کی (جو مجھے بتایا گیا)۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ وہاں ستر نبی تھے، جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام بھی تھے، پس آپ نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا، اس لئے کہ آپ ان سب سے زیادہ اللہ کی جانب سے علم رکھتے تھے، ابن عباسؓ کی روایت کے علاوہ دُوسری روایت میں ہے کہ: پس آپ کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی سات صفیں تھیں، جن میں سے تین صفیں رسولوں کی اور چار انبیاء کی تھیں، آپ کے پیچھے متصل حضرت ابراہیم علیہ السلام، دائیں جانب حضرت اسماعیل علیہ السلام اور بائیں جانب حضرت اسحق علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور پھر تمام انبیاء تھے، آپ نے ان کو دو رکعتیں نماز پڑھائی، جب آپ نماز پڑھاکر فارغ ہوئے تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا: بے شک میرے رب نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ کیا تم میں سے کوئی ایک ایسا رسول بھیجا گیا تھا جو لوگوں کو غیراللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہو؟ ان سب نے کہا: اے محمد! بے شک ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم بھیجے گئے ایک (اللہ) کی طرف دعوت دینے کے لئے اور یہ کہ نہیں کوئی معبود سوا اللہ تعالیٰ کے، اور یہ کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل ہے، اور بے شک آپ خاتم النبیین اور تمام رسولوں کے سردار ہیں۔

اور یہ بات اس سے واضح ہوگئی ہے کہ آپ نے ہماری امامت فرمائی ہے، اور یہ کہ آپ کے علاوہ قیامت تک کوئی دُوسرا نبی نہیں آئے گا، سوائے عیسیٰ بن مریمؑ کے کہ بے شک وہ اس پر مامور ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرے۔‘‘

اسی طرح اس آیت سے حیات الانبیاء پر استدلال کرتے ہوئے خاتمۃ المحدثین علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ:

’’یُسْتَدَلُّ بِهٰذَا عَلٰى حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ‘‘ (مشکلات القرآن ص:۲۳۴، درمنثور ج:۶ ص:۱۶، رُوح المعانی ج:۲ ص:۲۵، جمل ج:۴ ص:۸۸، شیخ زادہ ج:۳ ص:۲۹۸، خفاجی ج:۴ ص:۴۴۴)

۲:۔ ﵟ وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَلَا تَكُن فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآئِهِۦۖ ﵞ (السجدة ٢٣)

ترجمہ:۔’’اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ فرماتے ہیں:

’’معراج کی رات ان سے ملے تھے اور بھی کئی بار۔‘‘ (موضح القرآن)

اور ملاقات بغیر حیات ممکن نہیں، لہٰذا اس آیت میں اقتضاء النص سے حیات النبی کا ثبوت ہوتا ہے۔ یہاں اصول فقہ کا یہ مسئلہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ جو حکم اقتضاء النص سے ثابت ہوتا ہے وہ بحالت انفراد قوت واستدلال میں عبارت النص کے مثل ہوتا ہے۔

اسی طرح علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وَأَرَادَ بِذٰلِكَ لِقَاءَهُ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ كَمَا ذُكِرَ فِي الصَّحِيْحَيْنِ وَغَيْرِهِمَا، وَرُوِيَ نَحْوَ ذٰلِكَ عَنْ قَتَادَةَ وَجَمَاعَةٍ مِنَ السَّلَفِ ۔۔۔۔۔وَكَانَ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالٰى: ﵟ فَلَا تَكُن فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآئِهِۦۖ ﵞ عَلٰى هٰذَا وَعْدَهُ تَعَالٰى نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِلِقَاءِ مُوْسٰى، وَتَكُوْنُ الْآيَةُ نَازِلَةً قَبْلَ الْإِسْرَاءِ۔‘‘ (روح المعانی ج:۲۱ ص:۱۳۸)

ترجمہ:۔ ’’اس سے مراد یہ ہے کہ معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی، جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں ہے۔ اور اسی طرح کی ایک اور روایت حضرت قتادہؓ اور سلف کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے ۔۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد:’’سو آپ اس کے ملنے میں شک نہ کیجئے‘‘ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کا وعدہ فرمایا، اس اعتبار سے یہ آیت واقعہ معراج سے پہلے نازل ہوئی ہے۔

تفسیر زاد المسیر میں ہے:

’’وَالثَّانِيْ مِنْ لِقَاءِ مُوْسٰی لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ، قَالَهُ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ السَّائِبِ۔‘‘ (زاد المسیر ج:۶ ص:۳۴۳)

ترجمہ:۔ ’’دُوسری بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات معراج کی رات ہوئی تھی۔‘‘

تفسیر بحر محیط میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے:

’’أَيْ: مِنْ لِقَائِكَ مُوْسٰی، إِيْ: فِي لَيْلَةِ الْإِسْرَاءِ، إِيْ: شَاهَدْتَهُ حَقِيْقَةً، وَهُوَ النَّبِيُّ الَّذِيْ أُوْتِيَ التَّوْرَاةَ، وَقَدْ وَصَفَهُ الرَّسُوْلُ، فَقَالَ: طُوَالٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُؤَةَ حِيْنَ رَآهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ۔۔۔۔۔‘‘ (بحر محیط ج:۷ ص:۲۰۵)

ترجمہ:۔ ’’یعنی آپ معراج کی رات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات میں شک نہ کیجئے، یعنی آپ نے واقعتا ان کو دیکھا ہے، اور وہ وہی نبی تھے جن کو تورات دی گئی تھی اور تحقیق آپ نے ان کا حلیہ بیان کیا اور فرمایا: وہ لمبے قد کے گھنگریالے بالوں والے تھے، جیسے قبیلہ شنؤہ کے آدمی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔‘‘

۳:۔ ﵟ وَلَا تَقُولُواْ لِمَن يُقۡتَلُ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتُۢۚ بَلۡ أَحۡيَآءٞ وَلَٰكِن لَّا تَشۡعُرُونَ ١٥٤ ﵞ (البقرة ١٥٤)

ترجمہ:۔ ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں، ان کی نسبت یوں نہ کہو کہ وہ مردے ہیں، بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں، لیکن تم حواس سے ادراک نہیں کرسکتے۔‘‘

۴:۔ﵟ وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ ١٦٩ ﵞ (آل عمران ١٦٩)

ترجمہ:۔ ’’بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے مقرب ہیں، ان کو رزق بھی ملتا ہے، وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے۔‘‘

ان دونوں آیتوں کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وَإِذَا ثَبَتَ أَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ مِنْ حَيْثُ النَّقْلِ، فَإِنَّهُ يُقَوِّيهِ مِنْ حَيْثُ النَّظَرِ كَوْنُ الشُّهَدَاءِ أَحْيَاءَ بِنَصِّ الْقُرْآنِ، وَالْأَنْبِيَاءُ أَفْضَلُ مِنَ الشُّهَدَاءِ۔‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۳۷۹)

یعنی جب نقل کے اعتبار سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ شہداء زندہ ہیں تو عقل کے اعتبار سے بھی یہ بات پختہ ہوجاتی ہے کہ انبیائے کرامؑ زندہ ہیں اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام تو شہداء سے ہر حال میں افضل ہیں، اس لئے اس آیت سے ان کی حیات بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔

غور فرمائیے کہ حافظ الدنیا کس قدر قوت کے ساتھ آیت کریمہ سے بدلالۃ النص بلکہ بدرجہ اولویت حیات الانبیاء کو ثابت فرما رہے ہیں۔

۵:۔ ﵟ فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ ﵞ (سبأ ١٤)

ترجمہ:۔ ’’پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کردیا تو کسی چیز نے ان کے مرنے کا پتہ نہ بتلایا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے عصا کو کھاتا تھا، سو جب وہ گر پڑے تب جنات کو حقیقت معلوم ہوئی۔‘‘

اس آیت سے بھی بطریق دلالۃ النص حیات الانبیاء کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جب کیڑوں نے مضبوط اور سخت ترین عصائے سلیمانی کو کھالیا تو جسم عنصری کا کھانا اس سے کہیں سہل اور آسان تھا، مگر اس کے باوجود جسم کا ٹکا رہنا، بلکہ محفوظ ہونا حیات کی صریح دلیل ہے۔

اسی طرح اس آیت میں ذکر شدہ ’’خرور سلیمان‘‘ سے بھی حضرات انبیاء کی حیات مبارکہ پر استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے جسد اطہر کے زمین پر آجانے کو ’’خرّ‘‘ کے لفظ کے ساتھ تعبیر فرمایا، مگر اس کو سقط سے تعبیر نہیں فرمایا، کیونکہ ’’خرّ‘‘ کا لفظ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جہاں کہیں بھی مذکور ہے، وہ زندہ انسان کے جھک جانے یا گر جانے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے، مثلاً:

الف:۔ ﵟ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدٗاۖ ﵞ (يوسف ١٠٠)

ترجمہ:۔ ’’سجدہ میں گر پڑے اور رجوع ہوئے۔‘‘

ب:۔ﵟ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ ﵞ (الأعراف ١٤٣)

ترجمہ:۔ ’’پس ان کے رَبّ نے جو اس پر تجلی فرمائی، تجلی نے ان کے پرخچے اُڑا دئیے اور موسیٰ بیہوش ہوکر گر پڑے۔‘‘

لہٰذا حضرت سلیمان علیہ السلام کے جسدِ اطہر کے سلامت زمین پر آنے سے حیات بعد الوفات کا جو بھی انکار کرتا ہے، وہ قرآن کے معارف اور علوم سے ناواقف ہے۔

۶:۔ ﵟ وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۖ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَﵞ (الأنعام ٥٤)

ترجمہ:۔’’اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آویں جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو یوں کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی ہے، تمہارے رَبّ نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ایمان کی دولت کے ساتھ بارگاہ نبوت پر حاضر ہو، اس کے لئے خداوند قدوس کا اپنے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ آپ اس کو السلام علیکم کی دعا کے ساتھ رب کی رحمت و مغفرت کا پیغام پہنچائیے، تو حق تعالیٰ کا یہ حکم دونوں حالتوں (مَا قَبْلَ الْمَوْتِ وَمَا بَعْدَ الْمَوْتِ) کے لئے عام ہے، یعنی رہتی دُنیا تک کے لئے یہ حکم باقی ہے، جس طرح قرآن کریم کی دیگر آیات کے بارے میں یہ اصول مسلّم ہے کہ اگرچہ ان کے نزول کا واقعہ خاص ہے، لیکن ان کا حکم قیامت تک کے لئے جاری و باقی ہے، اسی طرح اس آیت مبارکہ میں بھی یہ حکم قیامت تک کے لئے ہے۔

۷:۔ ﵟ وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ جَآءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِيمٗا ٦٤ ﵞ (النساء ٦٤)

ترجمہ:۔ ’’اور اگر جس وقت اپنا نقصان کر بیٹھے تھے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا، رحمت کرنے والا پاتے۔‘‘

علمائے امت کی تصریحات سے ثابت ہے کہ حیات نبوی کی ظاہری حیثیت ختم ہونے کے بعد بھی جو مؤمن بارگاہ نبوت میں حاضر ہوکر خداوند قدوس سے طلب مغفرت کرے گا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی دُعا و مغفرت کا مستحق ہوگا۔ چنانچہ تفسیر قرطبی میں ہے:

’’عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَعْرَابِيٌّ بَعْدَ مَا دَفَنَّا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَرَمٰی بِنَفْسِهِ عَلٰی قَبْرِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَثَا عَلٰی رَأْسِهِ مِنْ تُرَابِهِ، فَقَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ فَسَمِعْنَا قَوْلَكَ، وَوَعَيْتَ عَنِ اللّٰهِ، فَوَعَيْنَا عَنْكَ، وَكَانَ فِيْمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ: ﵟ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ ﵞ الْآيَةُ، وَقَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَجِئْتُكَ تَسْتَغْفِرُ لِي! فَنُوْدِيَ مِنَ الْقَبْرِ: إِنَّهُ قَدْ غُفِرَ لَك!‘‘ (تفسیر قرطبی ج:۵ ص: ۲۶۵،۲۶۶)

یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کے تین روز بعد ایک بدوی نے روضۂ اقدس پر حاضر ہوکر اس آیت کریمہ کے حوالہ سے مغفرت طلب کی، روایت ہے کہ مرقدِ اَطہر سے صدا آئی:

’’إِنَّهُ قَدْ غُفِرَ لَك!‘‘

ان ارشادات ربانی کے مطابق رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی عالم دُنیا کی حیات ظاہری ختم ہونے کے بعد بھی حاضری دینے والے اُمتی کو سلام علیکم کے جواب سے نوازتی ہے، اور آپ اس کو رب کی رحمت و مغفرت کا پیغام پہنچانے اور ان کے لئے دُعائے مغفرت کرنے پر خداوند قدوس کی طرف سے مامور ہیں، یہ بھی آپ کی حیاتِ جاودانی اور اسی مدینہ والی قبر میں حیات پر قرآنی دلیل اور واضح ثبوت ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی انکار کرے تو منکر کو یہی کہا جاسکتا ہے کہ: اگر تو نہ مانے تو بہانے ہزار۔۔۔!

حیاۃ الانبیاء قرآن کی روشنی میں - شہید اسلام