عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
حیاۃ الانبیاء حدیث کی روشنی میں
جواب
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: (حضرات) انبیائے کرامؑ اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز ادا فرماتے ہیں۔ اس حدیث کو روایت کیا ہے ابویعلیٰ اور مسند بزار نے اور ابویعلیٰ کے تمام راوی ثقہ ہیں۔‘‘
علامہ جلال الدین سیوطیؒ اپنی مشہور زمانہ تصنیف الحاوی للفتاویٰ میں حیات انبیاء سے متعلق اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حَيَاةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَبْرِهِ هُوَ وَسَائِرُ الْأَنْبِيَاءِ مَعْلُوْمَةٌ عِنْدَنَا عِلْمًا قَطْعِيًّا لِمَا قَامَ عِنْدَنَا مِنَ الْأَدِلَّةِ فِي ذٰلِكَ، وَتَوَاتَرَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ۔‘‘ (ج:۲ ص:۱۴۷)
ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیائے کرام کا اپنی اپنی قبروں میں حیات ہونا ہمارے نزدیک علم قطعی سے ثابت ہے، اس لئے کہ اس سلسلہ میں ہمارے نزدیک دلائل و اخبار درجہ تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں۔‘‘
مزید اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:
’’قَالَ الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الاعْتِقَاد: الأَنْبِيَاءُ بَعْدَ مَا قُبِضُوا رُدَّتْ إِلَيْهِمْ أَرْوَاحُهُمْ، فَهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ كَالشُّهَدَاءِ، وَقَالَ الْقُرْطُبِيُّ فِي التَّذْكِرَةِ فِي حَدِيْثِ الصَّعْقَةِ نَقْلًا عَنْ شَيْخِهِ: الْمَوْتُ لَيْسَ بِعَدَمٍ مَحْضٍ، وَإِنَّمَا هُوَ انْتِقَالٌ مِنْ حَالٍ إِلٰی حَالٍ.‘‘(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۴۹)
ترجمہ:۔ ’’امام بیہقی کتاب الاعتقاد میں فرماتے ہیں کہ انبیاء کی ارواح قبض ہوجانے کے بعد ان کی طرف لوٹا دی جاتی ہیں، پس وہ اپنے رَبّ کے ہاں شہداء کی طرح زندہ ہیں۔ علامہ قرطبی نے تذکرہ میں حدیث صعقہ کے ذیل میں اپنے شیخ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: موت کا معنی عدم محض نہیں، بلکہ ایک حال سے دُوسرے حال کی طرف منتقل ہونے کا نام موت ہے۔‘‘
مزید آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’قَالَ الْمُتَكَلِّمُوْنَ الْمُحَقِّقُوْنَ مِنْ أَصْحَابِنَا: إِنَّ نَبِيَّنَا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ بَعْدَ وَفَاتِهِ۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۴۹)
ترجمہ:۔ ’’ہمارے اصحاب میں سے محقق متکلمین فرماتے ہیں کہ بے شک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے بعد زندہ ہیں۔‘‘
آگے مزید لکھتے ہیں:
’’وَقَالَ الشَّيْخُ تَقِيُّ الدِّيْنِ السُّبْكِيُّ: حَيَاةُ الأَنْبِيَاءِ وَالشُّهَدَاءِ فِي الْقَبْرِ كَحَيَاتِهِمْ فِي الدُّنْيَا، وَيَشْهَدُ لَهُ صَلاَةُ مُوْسٰی فِي قَبْرِهِ، فَإِنَّ الصَّلاَةَ تَسْتَدْعِيْ جَسَدًا حَيًّا۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۵۲)
ترجمہ:۔ ’’شیخ تقی الدین سبکی فرماتے ہیں کہ انبیاء اور شہداء کی قبر کی حیات ان کی دنیاوی حیات کی مانند ہے، اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے، کیونکہ نماز پڑھنا زندہ جسم کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘
حضرت مجدد الف ثانی،ؒ حضرت انسؓ کی اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’برزخ صغریٰ چوں از یک وجہ از مواطن دنیوی است، گنجائش ترقی دارد، واحوال ایں موطن نظر باشخاص متفاوتہ تفاوت فاحش دارد الانبیاء یصلون فی القبور شنیدہ باشند۔‘‘ (مکتوبات دفتر دوم مکتوب:۱۶)
ترجمہ:۔ ’’چھوٹا برزخ (یعنی قبر) جب ایک وجہ سے دنیوی جگہوں میں سے ہے تو یہ ترقی کی گنجائش رکھتا ہے، اور مختلف اشخاص کے اعتبار سے اس جگہ کے حالات خاصے متفاوت ہیں، آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
۲:۔ ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ عِنْدَ قَبْرِیْ سَمِعْتُہٗ، وَمَنْ صَلّٰی عَلَیَّ نَائِیًا اُبْلِغْتُہٗ۔ رواہ البیہقی فی شعب الْإِیمان۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۸۷ واللفظ لہٗ، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۲۸۰، کنز العمال ج:۱ ص:۴۹۲ حدیث:۲۱۶۵، ص:۴۹۸ حدیث:۲۱۹۷، ۲۱۹۸، اتحاف السادۃ المتقین زبیدیؒ ج:۳ ص:۲۸۹، تفسیر در منثور ج:۵ ص:۲۱۹، فتح الباری ج:۶ ص:۴۸۸، الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۴۷)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس نے میری قبر کے پاس سے مجھ پر درود شریف پڑھا، میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود و سلام پڑھتا ہے، وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔‘‘

