عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
حدیث کی سند پر اِشکال کا جواب
جواب
’’حَدِيْثُ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا وَكَّلَ اللّٰهُ بِهَا مَلَكًا يُبَلِّغُنِي، وَكَفَىٰ أَمْرَ دُنْيَاهُ وَآخِرَتِهِ، وَكُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا وَشَفِيْعًا»(خط)، رُوِيَ مِنْ حَدِيْثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، وَلَا يَصِحُّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ السُّدِّيُّ الصَّغِيْرُ، وَقَالَ الْعَقِيْلِيُّ: لَا أَصْلَ لِهٰذَا الْحَدِيْثِ (تُعُقِّبَ) بِأَنَّ الْبَيْهَقِيَّ أَخْرَجَهُ فِي الشُّعَب مِنْ هٰذَا الطَّرِيْقِ وَتَابَعَ السُّدِّيَّ عَنِ الأَعْمَشِ فِيْهِ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَخْرَجَهُ أَبُو الشَّيْخِ فِي الثَّوَاب، قُلْتُ: وَسَنَدُهُ جَيِّدٌ كَمَا نَقَلَهُ السَّخَاوِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْحَافِظِ ابْنِ حَجَرٍ وَاللّٰهُ أَعْلَم، وَلَهُ شَوَاهِدُ مِنْ حَدِيْثِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَخْرَجَهَا الْبَيْهَقِيُّ، وَمِنْ حَدِيْثِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ أَخْرَجَهُ الدَّيْلَمِيُّ، وَمِنْ حَدِيْثِ عَمَّارٍ أَخْرَجَهُ الْعَقِيْلِيُّ مِنْ طَرِيْقِ عَلِيِّ بْنِ الْقَاسِمِ الْكِنْدِيِّ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ شِيْعِيٌّ فِيْهِ نَظَرٌ لَا يُتَابَعُ عَلٰی حَدِيْثِهِ، وَفِي لِسَانِ الْمِيْزَان (ج:۴ ص:۲۴۹) أَنَّ ابْنَ حِبَّانَ ذَكَرَ عَلِيَّ بْنَ الْقَاسِمِ فِي الثِّقَات، وَقَدْ تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ صَالِحٍ وَقُبَيْصَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَخْرَجَهُمَا الطَّبَرَانِيُّ.۔‘‘ (تنزیہ الشریعۃ ج:۱ ص:۳۳۵ طبع بیروت)
ترجمہ:۔ ’’حدیث مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ ۔۔۔۔۔الخ، یعنی جس نے میری قبر کے پاس درود شریف پڑھا تو میں خود سنتا ہوں اور جس نے دور سے پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے فرشتہ مقرر کیا ہے جو مجھے پہنچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے دُنیا و آخرت کے کام پورے کرتا ہے، اور میں اس کے حق میں گواہ اور شفیع ہوں گا، (خطیب بغدادیؒ نے یہ حدیث نقل کی ہے) یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے اور صحیح نہیں، کیونکہ اس کی سند میں محمد بن مروان السدی الصغیر ہے اور امام عقیلیؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں (عقیلی کی اس بات پر گرفت کی گئی ہے کہ) امام بیہقی نے شعب الایمان میں اس طریق سے اس کی تخریج کی ہے اور ابومعاویہ اعمشؒ سے روایت کرنے میں سدی کا متابع ہے، اس کی تخریج امام ابوالشیخ نے کتاب الثواب میں کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابوالشیخ کی سند جید ہے، جیسا کہ علامہ سخاویؒ نے اپنے استاد حافظ ابن حجرؒ سے نقل کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور اس حدیث کے حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے شواہد موجود ہیں، جن کی تخریج امام بیہقی نے کی ہے، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حدیث بھی شاہد ہے، جس کی تخریج امام دیلمیؒ نے کی ہے اور حضرت عمارؓ کی حدیث بھی اس کا شاہد ہے، جس کی تخریج علی بن القاسم الکندی کے طریق سے امام عقیلیؒ نے کی ہے اور کہا ہے کہ: یہ راوی شیعہ ہے، اس میں کلام ہے اور اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی، مگر لسان المیزان (ج:۴ ص:۲۴۹) میں ہے کہ امام ابن حبان نے علی بن القاسم کو ثقات میں لکھا ہے اور عبدالرحمن بن صالح اور قبیصہ بن عقبہ اس کے متابع موجود ہیں۔‘‘
۳:۔ ’’عَنْ اَوْسِ بْنِ اَوْسٍ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہٗ) عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ مِنْ اَفْضَلِ اَیَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَفِیْہِ قُبِضَ وَفِیْہِ النَّفْخَۃُ وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ فَاَکْثِرُوْا عَلَیَّ مِنَ الصَّلٰوۃِ فَاِنَّ صَلٰوتَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَیَّ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّهِ! کَیْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَیْکَ وَقَدْ اَرِمْتَ؟ اَیْ یَقُوْلُوْنَ قَدْ بَلِیْتَ، قَالَ اِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ۔‘‘
(سنن نسائی ج:۱ ص:۲۰۳،۲۰۴ واللفظ لہٗ، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۵۶۰، ھذا حدیث صحیح علٰی شرط الصحیحین ولم یخرجاہ، ابو داؤد ج:۱ ص:۲۱۴(باب الْإستغفار)، سنن کبریٰ بیہقی ج:۳ ص:۲۴۹، دارمی ج:۱ ص:۳۰۷ (باب فضل الجمعۃ)، مسند احمد ج:۴ ص:۸، صحیح ابن خزیمہ ج:۳ ص:۱۱۸ حدیث:۱۷۳۳، ابن حبان (باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللّه علیہ وسلم ص:۱۱۸، الْإحسان بترتیب ابن حبان ج:۳ ص:۷۸ حدیث:۹۰۷، کتاب الروح (ابن القیمؒ) ص:۶۳، کنزالعمال ج:۸ ص:۳۶۸ حدیث:۲۳۳۰۱، ایضاً ج:۷ ص:۷۰۸ حدیث:۲۱۰۳۷، ترغیب منذری ج:۱ ص:۴۹۱، ایضاً ج:۲ ص:۵۰۳، ۵۰۴، نیل الأوطار ج:۳ ص:۳۰۴، ابن ابی شیبہ ج:۶ ص:۵۱۶، ابن ماجہ ص:۷۶، ۱۱۸، شرح الصدور ص:۱۳۷ مطابع الرشید مدینہ منورہ)
ترجمہ:۔ ’’حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک دنوں میں سے افضل دن جمعہ کا ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی میں صور پھونکا جائے گا اور اسی دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا، پس (جمعہ کے دن) مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا صلوٰۃ و سلام آپ کے انتقال کے بعد آپ کو کیسے پہنچے گا؟ حالانکہ آپ تو اس وقت مٹی میں مل جائیں گے؟ یعنی آپ تو بوسیدہ ہوجائیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز و جل نے زمین پر اس کو حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو کھائے۔‘‘
۴:۔ ’’عَنْ عَبْدِاللّهِ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ لِلّہِ مَلـٰٓـئِکَۃً سَیَّاحِیْنَ فِی الْاَرْضِ یُبَلِّغُوْنِیْ مِنْ اُمَّتِیَ السَّلَامَ۔‘‘ (نسائی ج:۱ ص:۱۸۹ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۱ ص:۴۴۱، ابن ابی شیبہ ج:۲ ص:۵۱۷، موارد الظمآن ص:۵۹۴، مشکوٰۃ ص:۸۶، البدایہ والنہایہ ج:۱ ص:۱۵۴، الجامع الصغیر ج:۱ ص:۹۳، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۲۸۰، الْإحسان بترتیب ابن حبان ج:۳ ص:۸ حدیث:۹،۱۰، مصنف عبدالرزاق ج:۲ ص:۱۵)
ترجمہ:۔ ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بے شک زمین میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے ملائکہ مقرر ہیں جو مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔‘‘
۵:۔ ’’عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَکْثِرُوا الصَّلٰوۃَ عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَاِنَّہٗ مَشْہُوْدٌ تَشْہَدُہٗ الْمَلـٰٓـئِکَۃُ، وَاِنَّ اَحَدًا لَنْ یُّصَلِّیَ عَلَیَّ اِلّا عُرِضَتْ عَلَیَّ صَلٰوتُہٗ حَتّٰی یَفْرَغَ مِنْھَا، قَالَ: قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، اِنَّ اللّهَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ، فَنَبِیُّ اللّهِ حَیٌّ یُّرْزَقُ۔‘‘ (ابن ما جہ ص:۱۱۸ واللفظ لہٗ، ترغیب ج:۲ ص:۵۰۳، نیل الأوطار ج:۳ ص:۳۰۴، شرح الصدور ص:۱۳۷ مطابع الرشید مدینہ منورہ)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، اس لئے کہ جمعہ کے دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس کے پڑھتے ہی اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اور موت کے بعد؟ فرمایا: اور موت کے بعد بھی۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے زمین پر اس بات کو کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے، پس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے، اسے رزق دیا جاتا ہے۔‘‘
۶:۔ ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّهُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلّا رَدَّ اللّهُ عَلَیَّ رُوْحِیْ حَتّٰی اَرُدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ۔‘‘ (ابو داؤد ج:۱ ص:۲۷۹ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۲ ص:۵۲۷، سنن کبریٰ بیہقی ج:۵ ص:۲۴۵، ترغیب و ترہیب ج:۲ ص:۴۹۹، کنزالعمال ج:۱ ص:۴۹۸ حدیث:۲۲۰۰، فیض القدیر ج:۵ ص:۴۶۷، مجمع الزوائد ج:۱۰ ص:۱۶۲، وقال فیہ عبداللّه بن یزید الْاسکندرانی ولم اعرفہ ومہدی بن جعفر ثقۃ وفیہ خلاف وبقیۃ رجالہ ثقات)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب کوئی شخص مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری رُوح کو میری طرف لوٹا دیتے ہیں، یہاں تک کہ میں اس سلام کہنے والے کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘
۷:۔ ’’عَـنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّهُ عَـنْـہُ قَـالَ: قَـالَ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:۔۔۔۔۔ حَیْثُمَا کُنْتُمْ فَصَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلٰوتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ۔‘‘ (مسند احمد ج:۲ ص:۳۶۷ واللفظ لہٗ، ابوداؤد ج:۱ ص:۲۷۹، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۲۸۰، مشکوٰۃ ص:۸۶، فتح الباری ج:۶ ص:۴۸۸)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ: مجھ پر درود پڑھو، کیونکہ مجھ تک تمہارا درود پہنچتا ہے، چاہے تم جہاں بھی ہوؤ۔‘‘
۸:۔ ’’اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ رَضِـیَ اللّهُ عَـنْـہُ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہٖ! لَیَنْزِلَنَّ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ۔۔۔۔۔ ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلٰی قَبْرِیْ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! لَاُجِیْبَنَّہٗ۔‘‘ (مسند ابو یعلیٰ ج:۱۱ ص:۴۶۲ حدیث:۶۵۸۴ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۱۱، المطالب العالیہ ج:۴ ص:۲۳ باب حیاتہ فی قبرہ، ج:۴ ص:۳۴۹ حدیث:۴۵۷۴، الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۴۸، خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۲۸۰، رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۳۵)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! کہ البتہ نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ بن مریمؑ ۔۔۔۔۔ پھر اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہوکر یہ کہے گا: یا محمد! تو میں ان کو جواب دوں گا۔‘‘
علامہ آلوسیؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ:
’’۔۔۔۔۔إِنَّهُ (عِيْسٰی) عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْخُذُ الأَحْكَامَ مِنْ نَبِيِّنَا صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِفَاهًا بَعْدَ نُزُوْلِهِ، وَهُوَ (صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فِي قَبْرِهِ الشَّرِيْفِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَأُيِّدَ بِحَدِيْثِ أَبِي يَعْلٰی: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَيَنْزِلَنَّ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلٰی قَبْرِي وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! لَأَجَبْتُهُ۔‘‘ (روح المعانی ج:۲۲ ص:۳۵)
ترجمہ:۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پر حاضر ہوکر آپ سے براہ راست احکام حاصل کریں گے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں استراحت فرما ہوں گے، اور اس کی تائید ابویعلیٰ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ: اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام میری قبر پر آکر یا محمد کہیں گے تو میں اس کا جواب دوں گا۔‘‘

