عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
حضرات انبیائے کرامؑ سے ملاقات
جواب
’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہٗ) قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ لَقِیْتُ مُوْسٰی قَالَ: فَنَعَتَہٗ فَاِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُہٗ قَالَ: مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَاَنَّہٗ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَۃٍ قَالَ: وَلَقِیْتُ عِیْسٰی فَنَعَتَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: رَبْعَۃٌ اَحْمَرُ کَاَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِیْمَاسٍ یَعْنِی الْحَمَّامَ وَرَأَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ وَاَنَا اَشْبَہُ وُلْدِہٖ بِہٖ۔۔۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۸۹، واللفظ لہٗ ۴۸۱، ج:۲ ص:۶۸۴، ۸۳۶، ۸۳۸، صحیح مسلم ج:۱ ص:۹۶، ترمذی ج:۲ ص:۱۴۱، مصنف عبدالرزاق ج:۵ ص:۳۲۹، مسند احمد ج:۲ ص:۲۸۲، نسائی ج:۲ ص:۳۲۹، الْإحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج:۱ ص:۲۲۱)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی، (حضرت ابوہریرہؓ نے) فرمایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حلیہ بیان فرمایا اور کہا: پس وہ جوان تھے، میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: لمبے اور کھلے بالوں والے تھے، ایسے جیسے کہ قبیلہ شنؤہ کے مرد ہوتے ہیں۔ فرمایا: اور میں عیسیٰ علیہ السلام سے ملا، پھر آپ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا اور کہا: وہ چوڑے جسم کے سرخ رنگ تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ابھی ابھی غسل خانے سے نکل کر آئے ہیں، اور میں نے حضرت ابراہیمؑ کو دیکھا اور میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ ہوں۔‘‘
حدیث ابن عمرؓ:
’’عَنْ اِبْنِ عُمَرَ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہٗ) قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: رَأَیْتُ عِیْسٰی وَمُوْسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ، فَاَمَّا عِیْسٰی فَاَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدْرِ، وَاَمَّا مُوْسٰی فَأَدْمُ جَسِیْمٌ سَبِطٌ کَاَنَّہٗ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۸۹)
ترجمہ:۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (شب معراج میں) میں نے حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو سرخ رنگ، پرگوشت جسم اور چوڑے سینے والے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور موزوں ساخت والے تھے، وہ ایسے تھے جیسے (سوڈان) کے طویل القامہ زط ہوتے ہیں۔‘‘

