عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
حضرت موسیٰؑ کا قبر میں نماز پڑھنا
جواب
’’عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رَضِیَ اللّهُ عَنْہٗ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ، وَھُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہٖ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۶۸ طبع رحیمیہ دیوبند واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۵ ص:۵۹، ۳۶۲، ۳۶۵، مسند احمد ج:۳ ص:۱۴۸، ۲۴۸، سنن نسائی ج:۱ ص:۲۴۲، کنز العمال ج:۱۱ ص:۵۱۸ حدیث:۳۲۳۸۶، تلخیص الحبیر ج:۲ ص:۱۲۶، الْإحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج:۱ ص:۲۱۶ طبع مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل پاکستان)
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میرا معراج کی رات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر گزر ہوا تو وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘

