October 16, 2026 at 5:22 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

حیات النبی آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں

جواب

ترجمہ:۔ ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں اپنے اس کمرے میں جس میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں، بلاحجاب داخل ہوجاتی تھی اور میں سمجھتی تھی کہ ایک تو میرے شوہر ہیں اور دُوسرے میرے والد ماجد، پس جب ان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی تو اللہ کی قسم! میں اس حجرہ میں حضرت عمرؓ سے حیا کی وجہ سے بغیر پردہ کبھی نہ جاتی تھی۔‘‘

اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے حاشیۂ مشکوٰۃ میں ہے:

’’حَيَاءً مِنْ عُمَرَ أَوْضَحُ دَلِيْلٍ عَلٰی حَيَاةِ الْمَيِّتِ۔‘‘ (حاشیہ مشکوٰۃ ص:۱۵۴)

ترجمہ:۔ ’’حیاءً من عمر کے الفاظ میّت کی زندگی پر واضح دلیل ہیں۔‘‘

اس پر علامہ طیبی شارح مشکوٰۃ لکھتے ہیں:

’’قَالَ الطِّيْبِيُّ فِيْهِ: وَيَحْتَرِمُهُ كَمَا كَانَ يَحْتَرِمُهُ فِي الْحَيَاةِ۔‘‘ (شرح طیبی ج:۳ ص:۴۱۶ ادارۃ القرآن کراچی)

ترجمہ:۔ ’’علامہ طیبی نے کہا ہے کہ اس (حدیث) میں اس امر کی دلیل ہے کہ میت کا احترام بھی اسی طرح کیا جائے جس طرح کہ زندگی میں کیا جاتا ہے۔‘‘

۲:۔ ’’عَنْ سَعِیْدٍ بْنِ الْمُسَیِّبِ قَالَ لَمْ اَزَلْ اَسْمَعُ الْأَذَانَ وَالْإِقَامَۃَ فِیْ قَبْرِ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیَّامَ الْحَرَّۃِ حَتّٰی عَادَ النَّاسُ۔‘‘ (خصائص کبریٰ ج:۲ ص:۲۸۱، الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۴۸ بحوالہ دلَائل النبوۃ، زرقانی ج:۵ ص:۳۳۲،۳۳۳)

ترجمہ:۔ ’’حضرت سعید بن مسیبؒ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ واقعہ حرہ کے دنوں میں، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف سے اذان اور اقامت کی آواز سنتا رہا، یہاں تک کہ لوگ واپس آگئے۔‘‘

شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ لکھتے ہیں:

’’إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ كَمَا تَقَرَّرَ، وَأَنَّهُ يُصَلِّيْ فِيْ قَبْرِهِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ۔‘‘ (فتح الملہم ج:۳ ص:۴۱۹)

ترجمہ:۔ ’’بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی قبر شریف میں) زندہ ہیں، جیسا کہ ثابت ہوچکا، اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں اذان اور اقامت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہیں۔‘‘

حیات النبی آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں - شہید اسلام