October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

عقیدۂ حیات النبی اور مذاہبِ اَربعہ

جواب

فضل اللہ بن حسین تورپشتی الحنفیؒ المتوفیٰ۶۳۰ھ:

’’وازاں جملہ آنست کہ بدانند کہ کالبدوے را زمین نخورد وبوسیدہ نشود وچوں زمین ازوے شگافتہ شود کالبدوے بحال خود باشد وحشر وے ودیگر انبیاء چنیں باشد حدیث درست است کہ إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ۔ واول ہمہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مابرخیزد از قبر مبارک۔‘‘ (المعتمد فی المعتقد باب:۲ فصل:۴ ص:۱۰۷ مطبع مظہر العجائب مدراس ۱۲۸۸ھ)

ترجمہ:۔ ’’ان خصوصیات میں سے ایک یہ بھی جاننی چاہئے کہ آپ کے جسم مبارک کو زمین نہیں کھاتی اور نہ وہ ریزہ ریزہ ہوگا اور (قیامت کو) جب زمین شق ہوگی تو آپ کا جسم مبارک اپنی حالت میں محفوظ ہوگا، اور اسی وجود مبارک کے ساتھ آپ اور دیگر جملہ انبیاء علیہم السلام کا حشر ہوگا اور صحیح حدیث میں آتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے اجسام حرام کردئیے ہیں (پھر آگے فرمایا کہ) انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور سب سے پہلے قبر مبارک سے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھیں گے۔‘‘

ملا علی قاری رحمہ اللہ:

’’فَمِنَ الْمُعْتَقَدِ الْمُعْتَمَدِ أَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِيْ قَبْرِهِ كَسَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، وَهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ، وَأَنَّ لِأَرْوَاحِهِمْ تَعَلُّقًا بِالْعَالَمِ الْعُلْوِيِّ وَالسُّفْلِيِّ كَمَا كَانَ فِيْ الْحَالِ الدُّنْيَوِيِّ، فَهُمْ بِحَسَبِ الْقَلْبِ عَرْشِيُّوْنَ وَبِاعْتِبَارِ الْقَالَبِ فَرْشِيُّوْنَ۔‘‘ (شرح الشفا لعلی القاری علیٰ ہامش نسیم الریاض فی شرح الشفا ج:۳ ص:۴۹۹)

ترجمہ:۔ ’’عقیدہ جس پر پورا اعتماد ہے، وہ یہی ہے کہ حضور اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں اور اسی طرح تمام انبیاء اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں، اور ان کی ارواح قدسیہ کو عالم علوی اور عالم سفلی کے ساتھ ایک تعلق بھی ہوتا ہے، جیسا کہ دنیاوی حالت میں تھا۔ پس وہ قلوب کے اعتبار سے عرشی اور جسم کے اعتبار سے فرشی ہیں۔‘‘

علامہ ابن ہمامؒ المتوفیٰ ۶۸۱ھ:

’’۔۔۔۔۔تَسْتَقْبِلُ الْقَبْرَ بِوَجْهِكَ، ثُمَّ تَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ۔۔۔۔۔وَذٰلِكَ إِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْقَبْرِ الشَّرِيْفِ الْمُكَرَّمِ عَلٰى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ۔۔۔۔۔ثُمَّ يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفَاعَةَ فَيَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَسْأَلُكَ الشَّفَاعَةَ، يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَسْأَلُكَ الشَّفَاعَةَ ۔۔۔۔۔ وَلْيُكْثِرْ دُعَاءَهُ بِذٰلِكَ فِي الرَّوْضَةِ الشَّرِيْفَةِ عَقِيْبَ الصَّلَوَاتِ وَعِنْدَ الْقَبْرِ، وَيَجْتَهِدْ فِيْ خُرُوْجِ الدَّمْعِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَمَارَاتِ الْقَبُوْلِ، وَيَنْبَغِيْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ عَلٰى جِيْرَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَنْصَرِفَ مُتَبَاكِيًا مُتَحَسِّرًا عَلَى الْفِرَاقِ الْحَضْرَةِ الشَّرِيْفَةِ النَّبَوِيَّةِ وَالْقُرْبِ مِنْهَا۔‘‘ (فتح القدیر ج:۲ ص:۳۳۶، ۳۳۷، ۳۳۹ اواخر الحج، مصر)

ترجمہ:۔ ’’تم حضور انور کی قبر شریف کے سامنے ہوکر السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ عرض کرو ۔۔۔۔ اور یہ اس لئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی قبر شریف میں دائیں کروٹ قبلہ کی طرف رُخ کئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر حضور انور سے شفاعت کرنے کی التجا بھی کرے اور کہے کہ: یا رسول اللہ! میں شفاعت کے لئے سوال عرض کرتا ہوں، روضۂ شریفہ میں درود شریف کے بعد ۔۔۔۔۔۔ اور قبر کے پاس پھر کثرت سے دُعا کرے اور آنسو آجانے کی حد تک زاری کرے، کیونکہ یہ قبولیت کی علامات میں سے ہے، اور چاہئے کہ روضۂ اطہر کے مجاورین پر کچھ صدقہ بھی کرے، پھر روتا ہوا اور آپ کے قربِ اقدس سے جدا ہونے کا غم ساتھ لیتے ہوئے واپس ہو۔‘‘

شارح بخاری علامہ عینیؒ المتوفیٰ ۸۵۵ھ:

’’وَمَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ أَنَّ فِي الْقَبْرِ حَيَاةً وَمَوْتًا، فَلَا بُدَّ مِنْ ذَوْقِ الْمَوْتَتَيْنِ لِكُلِّ أَحَدٍ غَيْرِ الْأَنْبِيَاءِ۔‘‘(عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۸ ص:۱۸۵ جزء:۱۶)

ترجمہ:۔ ’’پورے اہلِ سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ قبر میں حیات اور پھر موت یہ دونوں سلسلے ہوتے ہیں، پس ہر ایک کو دو موتوں کا ذائقہ چکھنے سے چارہ نہیں، ماسوائے انبیاء کے (کہ وہ اپنی قبروں میں زندہ رہتے ہیں، ان پر دوبارہ موت نہیں آتی)۔‘‘

علامہ عینیؒ ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوْتُوْنَ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، بَلْ هُمْ أَحْيَاءُ۔‘‘ (’’باب فضیلۃ ابی بکر علٰی سائر الصحابۃ‘‘ عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۸ ص:۱۸۵ جزء:۱۶)

ترجمہ:۔ ’’یقینا انبیائے کرامؑ اپنی قبور شریفہ میں مردہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ وہاں زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

علامہ بدر الدین محمود بن احمد العینی الحنفیؒ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ’’اَمَتَّنَا اثْنَتَينِ‘‘ الآیۃ کی تفسیر کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:

’’أَرَادَ بِالْمَوْتَتَيْنِ: الْمَوْتَ فِي الدُّنْيَا وَالْمَوْتَ فِي الْقَبْرِ، وَهُمَا مَوْتَتَانِ الْمَعْرُوْفَتَانِ الْمَشْهُوْرَتَانِ، فَلِذٰلِكَ ذَكَرَهُمَا بِالتَّعْرِيْفِ، وَهُمَا الْمَوْتَتَانِ الْوَاقِعَتَانِ لِكُلِّ أَحَدٍ غَيْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوْتُوْنَ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، بَلْ هُمْ أَحْيَاءُ، وَأَمَّا سَائِرُ الْخَلْقِ فَإِنَّهُمْ يَمُوْتُوْنَ فِيْ الْقُبُوْرِ ثُمَّ يُحْيَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔‘‘ (عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۸ ص:۱۸۵ جزء:۱۶، باب فضیلۃ ابی بکر علی سائر الصحابۃ، مطبع دار الفکر بیروت)

ترجمہ:۔ ’’دو موتوں سے ایک وہ موت مراد ہے جو دُنیا میں آتی ہے اور دُوسری وہ ہے جو قبر میں آتی ہے، یہی دو معروف و مشہور موتیں ہیں (اس لئے ان کو الف و لام حرف تعریف سے ذکر کیا ہے) ہاں حضرات انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ اپنی قبروں میں نہیں مرتے بلکہ وہ زندہ ہی رہتے ہیں، بخلاف دیگر مخلوق کے کہ (حساب و کتاب کے بعد) وہ قبروں میں وفات پاجاتے ہیں اور پھر قیامت کے دن وہ زندہ ہوں گے۔‘‘

امام ملا علی قاریؒ المتوفیٰ ۱۰۱۴ھ:

’’إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، فَيُمْكِنُ لَهُمْ سَمَاعُ صَلَاةِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِمْ۔‘‘ (مرقات طبع بمبئی ج:۲ ص:۲۰۹)

ترجمہ:۔ ’’بے شک انبیائے کرام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ سن سکتے ہیں، اس شخص کو جو ان پر درود پڑھے۔‘‘

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ المتوفیٰ ۱۰۵۲ھ:

’’حیات انبیاء متفق علیہ است، ہیچ کس را دروے خلافے نیست۔‘‘ (اشعۃ اللمعات ج:۱ ص:۶۱۳ مطبع نول کشور لکھنؤ)

ترجمہ:۔ ’’حضور انور کی حیات ایک متفق علیہ اجماعی مسئلہ ہے، کسی کا (اہل حق میں سے) اس میں اختلاف نہیں۔‘‘

علامہ شرنبلالی ؒ: المتوفیٰ ۱۰۶۹ھ:

’’وَمِمَّا هُوَ مُقَرَّرٌ عِنْدَ الْمُحَقِّقِيْنَ أَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ يُرْزَقُ، مُتَمَتِّعٌ بِجَمِيْعِ الْمَلَاذِّ وَالْعِبَادَاتِ، غَيْرَ أَنَّهُ أُحْجِبَ عَنْ أَبْصَارِ الْقَاصِرِيْنَ عَنْ شَرِيْفِ الْمَقَامَاتِ ۔۔۔۔۔ يَنْبَغِيْ لِمَنْ قَصَدَ زِيَارَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْثِرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهَا، وَتَبْلُغُ إِلَيْهِ۔‘‘ (مراقی الفلاح ص:۴۰۵ طبع میر محمد کراچی)

ترجمہ:۔ ’’محققین کے نزدیک یہ طے شدہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں، آپ کو رزق بھی ملتا ہے اور عبادات سے آپ لذت بھی اٹھاتے ہیں، ہاں اتنی بات ہے کہ وہ ان نگاہوں سے پردے میں ہیں جو ان مقامات تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں ۔۔۔۔۔ جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کے لئے آئے، اسے چاہئے کہ کثرت سے درود عرض کرے، کیونکہ آپ اسے خود سن رہے ہوتے ہیں، اور (دور سے) آپ کو پہنچایا بھی جاتا ہے۔‘‘

علامہ طحطاویؒ المتوفیٰ ۱۲۳۳ھ:

’’(فَإِنَّهُ يَسْمَعُهَا) أَيْ إِذَا كَانَتْ بِالْقُرْبِ مِنْهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَتُبْلَغُ إِلَيْهِ) أَيْ يُبَلِّغُهَا الْمَلَكُ إِذَا كَانَ الْمُصَلِّي بَعِيْدًا۔‘‘ (طحطاوی ص:۴۰۵ طبع میر محمد کراچی)

ترجمہ:۔ ’’آپ صلوٰۃ و سلام کو اس وقت خود سنتے ہیں جب قریب سے عرض کیا جارہا ہو اور فرشتے اس وقت پہنچاتے ہیں جب یہ دور سے پڑھا جارہا ہو۔‘‘

’’فَقَدْ أَفَادَ فِي الدُّرِّ الْمُنْتَقَى أَنَّهُ خِلَافُ الْإِجْمَاعِ، قُلْتُ: مَا نُسِبَ إِلَى الْإِمَامِ الْأَشْعَرِيِّؒ إِمَامِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ مِنْ إِنْكَارِ ثُبُوْتِهَا بَعْدَ الْمَوْتِ فَهُوَ افْتِرَاءٌ وَبُهْتَانٌ، وَالْمُصَرَّحُ بِهِ فِيْ كُتُبِهِ وَكُتُبِ أَصْحَابِهِ خِلَافُ مَا نُسِبَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَعْدَائِهِ، لِأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، وَقَدْ أَقَامَ النَّكِيْرَ عَلٰى افْتِرَاءِ ذٰلِكَ الْإِمَامِ الْعَارِفِ أَبُو الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيُّ۔۔۔۔۔‘‘ (رد المختار، باب المغنم ج:۴ ص:۱۵۱، ایچ ایم سعید کراچی)

ترجمہ:۔ ’’دار منتقٰی میں ہے کہ: (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت آپ کی وفات شریفہ کے بعد اب بھی حقیقتاً باقی ہے اور اُسے صرف حکماً باقی کہنا) خلافِ اجماع ہے۔ میں کہتا ہوں: امامِ اہلِ سنت اِمام اشعریؒ کی طرف جو یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی حقیقتاً رسالت کے بقا کے منکر تھے، یہ ان پر افتراء اور بہتان ہے، کیونکہ ان کی اور ان کے تلامذہ کی کتابوں میں صراحتاً اس کے برعکس مذکور ہے۔ دراصل یہ بات ان کے دشمنوں نے ان کی طرف منسوب کردی ہے، کیونکہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ اس افتراء کے خلاف امام عارف ابو القاسم قشیریؒ نے اپنی کتاب میں ردّ کیا ہے۔‘‘

ایک دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’إِنَّ الْمَنْعَ هُنَا لِانْتِفَاءِ الشَّرْطِ، وَهُوَ إِمَّا عَدَمُ وُجُوْدِ الْوَارِثِ بِصِفَةِ الْوِرَاثَةِ كَمَا اقْتَضَاهُ الْحَدِيْثُ، وَإِمَّا عَدَمُ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ بِنَاءً عَلٰى أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ كَمَا وَرَدَ فِيْ الْحَدِيْثِ۔‘‘ (رسائل ابن عابدین ج:۲ ص:۲۰۲ سہیل اکیڈمی لَاہور)

ترجمہ:۔ ’’بے شک منع یہاں انتفائے شرط کی وجہ سے ہے اور وہ یا تو وارث وجود صفت وارثیت کے ساتھ نہ ہونا ہے، جیسا کہ حدیث اس کا تقاضا کرتی ہے، اور یا وارث کی موت کا نہ ہونا اس بنا پر کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔‘‘

علامہ ابن عابدین شامیؒ امام ابوالحسن اشعریؒ کی طرف غلط منسوب عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’لِأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، وَقَدْ أَقَامَ النَّكِيْرَ عَلٰى افْتِرَاءِ ذٰلِكَ الْإِمَامُ الْعَارِفُ أَبُو الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيُّ۔‘‘ (شامی ج:۴ ص:۱۵۱ باب المغنم)

ترجمہ:۔ ’’اس لئے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور امام ابوالقاسم القشیریؒ نے اس افتراء کی سختی سے تردید کی ہے۔‘‘

ایک دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ كَمَا وَرَدَ فِيْ الْحَدِيْثِ۔‘‘ (رسائل ابن عابدین ج:۲ ص:۲۰۲ سہیل اکیڈمی لَاہور)

ترجمہ:۔ ’’حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔‘‘

علامہ محمد عابد السندیؒ المتوفیٰ ۱۲۵۷ھ:

’’أَمَّا هُمْ (أَيْ الْأَنْبِيَاءُ) فَحَيَاتُهُمْ لَا شَكَّ فِيْهَا، وَلَا خِلَافَ لِأَحَدٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ فِيْ ذٰلِكَ ۔۔ فَهُوَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ عَلَى الدَّوَامِ۔‘‘ (رسالہ مدنیہ ص:۴۱)

ترجمہ:۔ ’’انبیائے کرام کی حیات میں کوئی شک نہیں اور نہ علماء میں سے کسی کا اس سے اختلاف ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب دائمی طور پر زندہ ہیں۔‘‘

نواب قطب الدین دہلویؒ المتوفیٰ۱۲۸۹ھ:

’’زندہ ہیں انبیاء علیہم السلام قبروں میں۔ یہ مسئلہ متفق علیہ ہے، کسی کو اس میں خلاف نہیں کہ حیات ان کو وہاں حقیقی جسمانی دُنیا کی سی ہے۔‘‘ (مظاہر حق ج:۱ ص:۴۴۵)

عقیدۂ حیات النبی اور مذاہبِ اَربعہ - شہید اسلام