عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
حضرات مالکیہ
جواب
’’نُقِلَ عَنِ الْإِمَامِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُوْلَ رَجُلٌ: زُرْتُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ رُشْدٍ مِنْ أَتْبَاعِهِ: إِنَّ الْكَرَاهَةَ لِغَلَبَةِ الزِّيَارَةِ فِي الْمَوْتَى، وَهُوَ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَاهُ اللّٰهُ تَعَالٰى بَعْدَ مَوْتِهِ حَيَاةً تَامَّةً، وَاسْتَمَرَّتْ تِلْكَ الْحَيَاةُ، وَهِيَ مُسْتَمِرَّةٌ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، وَلَيْسَ هٰذَا خَاصَّةً بِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ يُشَارِكُهُ الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَهُوَ حَيٌّ بِالْحَيَاةِ الْكَامِلَةِ مَعَ الِاسْتِغْنَاءِ عَنِ الْغِذَاءِ الْحِسِّيِّ الدُّنْيَوِيِّ۔‘‘ (نور الْإیمان بزیارۃ آثار حبیب الرحمٰن ص:۱۴ مولَانا عبدالحلیم فرنگی محلی، وکذالک فی وفاء الوفاء ج:۲ ص:۱۳۶۳ مصر)
ترجمہ:۔ ’’امام مالکؒ سے منقول ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص یوں کہے کہ: ’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کی۔‘‘ امام مالکؒ کے مقلدین میں سے ابن رُشد اس کی تشریح یہ کرتے ہیں کہـ: اس ناپسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ زیارت کا لفظ عام طور پر موتیٰ کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات شریفہ کے بعد اب حیات تامہ سے زندہ ہیں اور یہ حیات آئندہ بھی اسی طرح رہے گی۔ یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا خاصہ نہیں، بلکہ تمام انبیاء اس وصف میں آپ کے ساتھ شریک ہیں، پس آپ غذائے حس دنیوی سے استغنا کے باوجود حیاتِ کاملہ سے زندہ ہیں۔‘‘
علمائے مالکیّہ میں سے امام قرطبیؒ (تفسیر قرطبی ج:۵ ص: ۲۶۵) امام ابوحیان اندلسی (بحر المحیط ج:۱ ص:۲۸۳) علامہ ابن الحاج، علامہ ابن رشد اندلسی اور ابن ابی جمرۃ وغیرہم نے ان مسائل کا خوب تذکرہ کیا ہے۔
علامہ سمہودیؒ المتوفیٰ۹۱۱ھ:
’’وَلَا شَكَّ فِيْ حَيَاتِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ، وَكَذٰلِكَ سَائِرُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ حَيَاةً أَكْمَلَ مِنْ حَيَاةِ الشُّهَدَاءِ الَّتِيْ أَخْبَرَ اللّٰهُ تَعَالٰى بِهَا فِيْ كِتَابِهِ الْعَزِيْزِ۔‘‘ (وفاء الوفاء ج:۲ ص:۱۳۵۲ مطبعۃ السعادۃ مصر)
ترجمہ:۔ ’’وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں کوئی شک نہیں اور اسی طرح باقی تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کی یہ حیات شہداء کی اس حیات سے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے، بڑھ کر ہے۔‘‘
ایک دُوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
’’وَأَمَّا أَدِلَّةُ حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ، فَمُقْتَضَاهَا حَيَاةُ الْأَبْدَانِ كَحَالَةِ الدُّنْيَا، مَعَ الِاسْتِغْنَاءِ عَنِ الْغِذَاءِ۔‘‘ (وفاء الوفاء ج:۲ ص:۱۳۵۵)
ترجمہ:۔ ’’بہر کیف حضرات انبیاء علیہم السلام کی حیات کے دلائل اس کے مقتضی ہیں کہ یہ حیات ابدان کے ساتھ ہو، جیسا کہ دُنیا میں تھی مگر خوراک سے وہ مستغنی ہیں۔‘‘

