October 16, 2026 at 5:20 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

حضرات شوافع

جواب

علامہ تاج الدین السبکیؒ (المتوفیٰ ۷۷۷ھ) حضرت انسؓ کی حدیث مذکور کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ فَإِذَا ثَبَتَ أَنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، فَالْحَيُّ لَابُدَّ أَنْ يَكُوْنَ إِمَّا عَالِمًا أَوْ جَاهِلًا، وَلَا يَجُوْزُ أَنْ يَكُوْنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاهِلًا۔‘‘(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج:۳ ص:۴۱۱ طبع دار الْإحیاء)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: حضراتِ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں، جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو زندہ کے لئے لازم ہے کہ یا تو وہ عالم ہو اور یا جاہل، اور یہ بات تو ہرگز جائز نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جاہل ہوں (معاذ اللہ! تو لامحالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم ہوں گے)۔‘‘

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

’’لِأَنَّ عِنْدَنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ يَحِسُّ وَيَعْلَمُ، وَتُعْرَضُ عَلَيْهِ أَعْمَالُ الْأُمَّةِ، وَيُبَلَّغُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَا بَيَّنَّا۔‘‘ (ج:۳ ص:۴۱۲)

ترجمہ:۔ ’’ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں، حس و علم سے موصوف ہیں، اور آپ پر اُمت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور آپ کو صلوٰۃ و سلام پہنچائے جاتے ہیں، جس طرح کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔‘‘

نیز علامہ سبکیؒ اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وَمِنْ عَقَائِدِنَا أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، فَأَيْنَ الْمَوْتُ؟ إِلٰى أَنْ قَالَ: وَصَنَّفَ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ جُزْءًا سَمِعْنَاهُ فِيْ حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، وَاشْتَدَّ نَكِيْرُ الْأَشَاعِرَةِ عَلٰى مَنْ نَسَبَ هٰذَا الْقَوْلَ إِلَى الشَّيْخِ۔‘‘ (طبقات ج:۶ ص:۲۶۶)

ترجمہ:۔ ’’ہمارے عقیدہ میں یہ بات داخل ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں تو پھر ان پر موت کہاں؟ (پھر آگے فرمایا کہ) امام بیہقی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کی قبروں میں حیات پر ایک رسالہ تصنیف فرمایا ہے جو خود ہم نے سنا ہے اور جن لوگوں نے امام ابوالحسن اشعریؒ کی طرف یہ غلط بات منسوب کی ہے، اشاعرہ نے سختی سے اس کا ردّ کیا ہے۔‘‘

حافظ ابن حجرؒ المتوفیٰ ۸۵۲ھ:

’’إِنَّ حَيَاتَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ الْقَبْرِ لَا يَعْقُبُهَا مَوْتٌ، بَلْ يَسْتَمِرُّ حَيًّا، وَالْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ۔‘‘ (فتح الباری ج:۷ ص:۲۲ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں زندگی ایسی ہے جس پر پھر موت وارد نہیں ہوگی، بلکہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

ایک دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’وَإِذَا ثَبَتَ أَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ مِنْ حَيْثُ النَّقْلِ، فَإِنَّهُ يُقَوِّيْهِ مِنْ حَيْثُ النَّظَرِ كَوْنُ الشُّهَدَاءِ أَحْيَاءَ بِنَصِّ الْقُرْآنِ، وَالْأَنْبِيَاءُ أَفْضَلُ مِنَ الشُّهَدَاءِ۔‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۴۸۸ دارالنشر الْإسلامیہ لَاہور)

ترجمہ:۔ ’’اور جب نقل کے لحاظ سے ان کا زندہ ہونا ثابت ہے تو دلیل عقلی اور قیاس بھی اس کی تائید کرتا ہے وہ یہ کہ شہداء نص قرآن کی رو سے زندہ ہیں اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام تو شہداء سے اعلیٰ اور افضل ہیں (تو بطریق اولیٰ ان کو حیات حاصل ہوگی)۔‘‘

حضرات شوافع - شہید اسلام