October 16, 2026 at 5:23 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

حضرات حنابلہ

جواب

’’قَالَ ابْنُ عَقِيْلٍ مِنَ الْحَنَابِلَةِ: هُوَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِيْ قَبْرِهِ، يُصَلِّي۔‘‘ (الروضۃ البہیہ ص:۱۴)

ترجمہ:۔ ’’(حنابلہ کے مشہور بزرگ) ابن عقیل فرماتے ہیں کہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔‘‘

عقیدۂ حیات النبی اور اَکابرینِ اُمت:

امام عبدالقادر البغدادیؒ المتوفیٰ ۴۲۹ھ:

’’وَأَجْمَعُوْا عَلٰى أَنَّ الْحَيَاةَ شَرْطٌ فِيْ الْعِلْمِ وَالْقُدْرَةِ وَالْإِرَادَةِ وَالرُّؤْيَةِ وَالسَّمْعِ، وَأَنَّ مَنْ لَيْسَ بِحَيٍّ لَا يَصِحُّ أَنْ يَكُوْنَ عَالِمًا قَادِرًا مُرِيْدًا سَامِعًا مُبْصِرًا، وَهٰذَا خِلَافُ قَوْلِ الصَّالِحِيِّ وَأَتْبَاعِهِ مِنَ الْقَدَرِيَّةِ فِيْ دَعْوَاهُمْ جَوَازَ وُجُوْدِ الْعِلْمِ وَالْقُدْرَةِ وَالرُّؤْيَةِ وَالْإِرَادَةِ فِيْ الْمَيِّتِ۔‘‘ (الفَرق بین الفِرق ص:۳۳۷ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’اہل سنت والجماعت اس بات پر متفق ہیں کہ علم، قدرت، ارادہ، دیکھنے اور سننے کے لئے حیات شرط ہے اور اس امر پر بھی اہل سنت کا اجماع ہے کہ جو ذات حیات سے متصف نہ ہو وہ عالم، قادر، مرید اور سننے، دیکھنے والی نہیں ہوسکتی۔ منکرین تقدیر میں صالحی اور اس کے پیروکاروں کا قول اس کے خلاف ہے، ان کا یہ دعویٰ ہے کہ علم و قدرت دیکھنا اور ارادہ کرنا حیات کے بغیر بھی جائز ہوسکتا ہے۔‘‘

امام بیہقی ؒالمتوفیٰ ۴۵۸ھ:

’’إِنَّ اللّٰهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ رَدَّ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ أَرْوَاحَهُمْ، فَهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ كَالشُّهَدَاءِ ۔۔۔الخ۔‘‘ (حیات الأنبیاء ص:۱۴، وفاء الوفاء ج:۲ ص:۱۳۵۲، شرح مواہب زرقانی ج:۵ ص۳۳۲)

ترجمہ:۔ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء علیہم السلام کے ارواح ان کی طرف لوٹا دیئے ہیں، سو وہ اپنے رَبّ کے ہاں شہیدوں کی طرح زندہ ہیں۔‘‘

امام شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاویؒ المتوفیٰ ۹۰۲ھ:

’’نَحْنُ نُؤْمِنُ وَنُصَدِّقُ بِأَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ يُرْزَقُ فِيْ قَبْرِهِ، وَأَنَّ جَسَدَهُ الشَّرِيْفَ لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ، وَالْإِجْمَاعُ عَلٰى هٰذَا۔‘‘ (القول البدیع ص:۱۲۵ طبع الٰہ آباد)

ترجمہ:۔ ’’ہم اس بات پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اور آپ کو رزق ملتا ہے اور آپ کے جسد اطہر کو زمین نہیں کھاسکتی، اور اسی پر اِجماع منعقد ہے۔‘‘

علامہ جلال الدین سیوطیؒ المتوفیٰ ۹۱۱ھ:

’’حَيَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ قَبْرِهِ هُوَ وَسَائِرُ الْأَنْبِيَاءِ مَعْلُوْمَةٌ عِنْدَنَا عِلْمًا قَطْعِيًّا لِمَا قَامَ عِنْدَنَا مِنَ الْأَدِلَّةِ فِيْ ذٰلِكَ، وَتَوَاتَرَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ الدَّالَّةُ عَلٰى ذٰلِكَ۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۴۷ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت بحوالہ انباء الأذکیاء)

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی قبر مبارک میں اور اسی طرح دیگر حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات ہمارے نزدیک قطعی طور پر ثابت ہے، کیونکہ اس پر ہمارے نزدیک دلائل قائم ہیں اور تواتر کے ساتھ اخبار موجود ہیں جو اس پر دلالت کرتے ہیں۔‘‘

علامہ سیوطیؒ عقیدۂ حیات النبی کے تواتر کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’إِنَّ مِنْ جُمْلَةِ مَا تَوَاتَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاةُ الْأَنْبِيَاءِ فِيْ قُبُوْرِهِمْ۔‘‘ (النظم المتناثر من الحدیث المتواتر کذا فی شرح البوستوی۔ص:۴ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’یعنی جو چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ مروی ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

علامہ عبدالوہاب شعرانی ؒ المتوفیٰ ۹۷۳ھ:

عقیدۂ حیات النبی کے تواتر کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’قَدْ صَحَّتِ الْأَحَادِيْثُ أَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِيْ قَبْرِهِ، يُصَلِّيْ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ۔‘‘ (منح المنۃ ص:۹۲ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’بلا شبہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں، اَذان واِقامت سے نماز پڑھتے ہیں۔‘‘

ملا علی قاریؒ المتوفیٰ ۱۰۱۴ھ:

’’فَمِنَ الْمُعْتَقَدِ الْمُعْتَمَدِ أَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِيْ قَبْرِهِ كَسَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، وَهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ، وَأَنَّ لِأَرْوَاحِهِمْ تَعَلُّقًا بِالْعَالَمِ الْعُلْوِيِّ وَالسُّفْلِيِّ كَمَا كَانُوْا فِيْ الْحَالِ الدُّنْيَوِيِّ، فَهُمْ بِحَسَبِ الْقَلْبِ عَرْشِيُّوْنَ وَبِاعْتِبَارِ الْقَالَبِ فَرْشِيُّوْنَ۔‘‘ (شرح شفاء ج:۲ ص:۱۴۲ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’قابل اعتماد عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں، جس طرح دیگر انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں، اور اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور ان کے ارواح کا عالم علوی اور سفلی دونوں سے تعلق ہوتا ہے، جیسا کہ دُنیا میں تھا، سو وہ قلب کے لحاظ سے عرشی، اور جسم کے اعتبار سے فرشی ہیں۔‘‘

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ المتوفیٰ ۱۰۵۲ھ:

’’حیات انبیاء متفق علیہ است ہیچ کس را دروے خلافے نیست۔‘‘

(اشعۃ اللمعات ج:۱ ص:۶۱۳ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ)

ترجمہ:۔ ’’حیاتِ انبیاء متفق علیہ ہے، کسی کا اس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘

عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب نجدیؒ المتوفیٰ ۱۲۰۶ھ:

’’وَالَّذِيْ نَعْتَقِدُ أَنَّ رُتْبَةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى مَرَاتِبِ الْمَخْلُوْقِيْنَ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَأَنَّهُ حَيٌّ فِيْ قَبْرِهِ حَيَاةً مُسْتَقِرَّةً أَبْلَغَ مِنْ حَيَاةِ الشُّهَدَاءِ الْمَنْصُوْصِ عَلَيْهَا فِيْ التَّنْزِيْلِ، إِذْ هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُمْ بِلَا رَيْبٍ، وَأَنَّهُ يَسْمَعُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ۔‘‘ (بحوالہ اتحاف النبلاء ص:۴۱۵ طبع کانپور)

ترجمہ:۔ ’’جس چیز کا ہم اعتقاد کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ مطلقاً ساری مخلوق سے بڑھ کر ہے اور آپ اپنی قبر مبارک میں حیاتِ دائمی سے متصف ہیں، جو شہداء کی حیات سے اعلیٰ و ارفع ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم سے ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ شہداء سے افضل ہیں، اور جو شخص آپ پر (عِنْدَ الْقَبْرِ) سلام کہتا ہے، آپ سنتے ہیں۔‘‘

علامہ قاضی شوکانی ؒ المتوفیٰ ۱۲۵۵ھ:

’’وَقَدْ ذَهَبَ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُحَقِّقِيْنَ إِلٰى أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ بَعْدَ وَفَاتِهِ، وَأَنَّهُ يَسُرُّ بِطَاعَاتِ أُمَّتِهِ، وَأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَا يَبْلَوْنَ، مَعَ أَنَّ مُطْلَقَ الْإِدْرَاكِ كَالْعِلْمِ وَالسَّمَاعِ ثَابِتٌ بِسَائِرِ الْمَوْتَىٰ، إِلٰى أَنْ قَالَ: وَوَرَدَ النَّصُّ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ فِيْ حَقِّ الشُّهَدَاءِ أَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ يُرْزَقُوْنَ، وَأَنَّ الْحَيَاةَ فِيْهِمْ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْجَسَدِ، فَكَيْفَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِيْنَ، وَقَدْ ثَبَتَ فِيْ الْحَدِيْثِ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ، رَوَاهُ الْمُنْذِرِيُّ وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ، وَفِيْ صَحِيْحِ مُسْلِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَرَرْتُ بِمُوْسٰى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكُثَيْبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّيْ فِيْ قَبْرِهِ۔‘‘ (نیل الأوطار ج:۳ ص:۳۰۵ طبع دار الفکر بیروت)

ترجمہ:۔ ’’بے شک محققین کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے بعد زندہ ہیں اور آپ اپنی امت کی طاعات سے خوش ہوتے ہیں اور یہ کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے اجسام بوسیدہ نہیں ہوتے، حالانکہ مطلق ادراک جیسے علم اور سماع وغیرہ تو یہ سب مُردوں کے لئے ثابت ہے (پھر آگے کہا) اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں شہداء کے بارے میں نص وارد ہوئی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ان کو رزق ملتا ہے اور ان کی حیات جسم سے متعلق ہے، تو حضراتِ انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کی حیات جسم سے کیوں متعلق نہ ہوگی؟ اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ امام منذریؒ نے اس کو روایت کیا ہے اور امام بیہقیؒ نے اس کی تصحیح کی ہے اور صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نے معراج کی رات سرخ رنگ کے ٹیلے کے پاس موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں کھڑے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘

نواب قطب الدین خان صاحبؒ المتوفیٰ ۱۲۷۹ھ:

’’زندہ ہیں انبیاء علیہم السلام قبروں میں، یہ مسئلہ متفق علیہ ہے کسی کو اس میں خلاف نہیں کہ حیات ان کو وہاں حقیقی جسمانی دُنیا کی سی ہے۔‘‘ (مظاہر حق ج:۱ ص:۴۴۵ باب الجمعۃ قبیل فصل الثالث طبع منشی نو لکشور لکھنؤ)

مولانا شمس الحق صاحب عظیم آبادیؒ المتوفیٰ ۱۳۲۹ھ:

’’إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ فِيْ قُبُوْرِهِمْ أَحْيَاءُ۔‘‘ (عون المعبود ج:۱ ص:۴۰۵ طبع نشر السنہ بوہر گیٹ ملتان)

ترجمہ:۔ ’’حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

مولانا ابوالعتیق عبدالہادی محمد صدیق نجیب آبادی الحنفیؒ:

’’إِنَّهُمْ اتَّفَقُوْا عَلٰى حَيَاتِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَلْ حَيَاةُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا، لَا خِلَافَ لِأَحَدٍ فِيْهَا۔‘‘ (انوار المحمود شرح ابی داؤد ج:۱ ص:۶۱۰)

ترجمہ:۔ ’’محدثین کرامؒ اس بات پر متفق ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں بلکہ تمام حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات متفق علیہا ہے، اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘

حضرات حنابلہ - شہید اسلام