عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
اکابر علمائے دیوبند کی تصریحات
جواب
الجواب: عِنْدَنَا وَعِنْدَ مَشَايِخِنَا حَيَاةُ حَضْرَةِ الرِّسَالَةِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِي قَبْرِهِ الشَّرِيفِ، وَحَيَاتُهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُنْيَوِيَّةٌ مِنْ غَيْرِ تَكْلِيفٍ، وَهِيَ مُخْتَصَّةٌ بِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِجَمِيعِ الأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِمْ وَالشُّهَدَاءِ، لَا بَرْزَخِيَّةٌ كَمَا هِيَ حَاصِلَةٌ لِسَائِرِ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ لِجَمِيعِ النَّاسِ، كَمَا نَصَّ عَلَيْهِ الْعَلَّامَةُ السُّيُوطِيُّ فِي رِسَالَتِهِ إِنْبَاءُ الأَذْكِيَاءِ بِحَيَاةِ الأَنْبِيَاءِ، حَيْثُ قَالَ: قَالَ الشَّيْخُ تَقِيُّ الدِّينِ السُّبْكِيُّ: حَيَاةُ الأَنْبِيَاءِ وَالشُّهَدَاءِ فِي الْقَبْرِ كَحَيَاتِهِمْ فِي الدُّنْيَا، وَيَشْهَدُ لَهُ صَلَاةُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي قَبْرِهِ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ تَسْتَدْعِي جَسَدًا حَيًّا إِلَى آخِرِ مَا قَالَ، فَثَبَتَ بِهٰذَا أَنَّ حَيَاتَهُ دُنْيَوِيَّةٌ بَرْزَخِيَّةٌ لِكَوْنِهَا فِي عَالَمِ الْبَرْزَخِ، وَلِشَيْخِنَا شَمْسِ الإِسْلَامِ وَالدِّينِ مُحَمَّدِ قَاسِمِ الْعُلُومِ عَلَى الْمُسْتَفِيدِينَ قَدَّسَ اللّٰهُ سِرَّهُ الْعَزِيزُ فِي هٰذَا الْمَبْحَثِ رِسَالَةٌ مُسْتَقِلَّةٌ دَقِيقَةُ الْمَأْخَذِ بَدِيعَةُ الْمَسْلَكِ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا، قَدْ طُبِعَتْ وَشَاعَتْ فِي النَّاسِ، وَاسْمُهَا آبُ حَيَاةٍ أَيْ مَاءُ الْحَيَاةِ.۔۔۔۔۔الخ‘‘ (المہند علی المفند ص:۱۳،۱۴، عقائد علمائے دیوبند اور حسام الحرمین ص:۲۲۱ مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)
ترجمہ:۔ ’’پانچواں سوال:۔ کیا فرماتے ہو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں حیات کے متعلق کہ کوئی خاص حیات آپ کو حاصل ہے یا عام مسلمانوں کی طرح برزخی حیات ہے؟
جواب:۔
ہمارے اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دُنیا کی سی ہے، بلا مکلف ہونے کے، اور یہ حیات مخصوص ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ، برزخی نہیں ہے جو حاصل ہے تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوں کو، چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے اپنے رسالہ انباء الاذکیاء بحیٰوۃ الانبیاء میں بتصریح لکھا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ علامہ تقی الدین سبکیؒ نے فرمایا ہے کہ انبیاء علیہم السلام و شہداء کی قبر میں حیات ایسی ہے جیسی دُنیا میں تھی اور موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا اس کی دلیل ہے، کیونکہ نماز زندہ جسم کو چاہتی ہے ۔۔۔ ۔ الخ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی ہے اور اس معنی کو برزخی بھی کہ عالم برزخ میں حاصل ہے اور ہمارے شیخ مولانا محمد قاسم صاحب قدس سرہ کا اس مبحث میں ایک مستقل رسالہ بھی ہے، نہایت دقیق اور انوکھے طرز کا بے مثل جو طبع ہوکر لوگوں میں شائع ہوچکا ہے، اس کا نام ’’آبِ حیات‘‘ ہے۔‘‘
حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارنپوریؒ الحنفی المتوفیٰ ۱۲۹۷ھ:
’’وَالْأَحْسَنُ أَنْ يُقَالَ: إِنَّ حَيَاتَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَعَقَّبُهَا مَوْتٌ بَلْ يَسْتَمِرُّ حَيًّا، وَالأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ۔‘‘ (حاشیہ بخاری ج:۱ ص:۵۱۷)
ترجمہ:۔ ’’بہتر بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ایسی ہے کہ اس کے بعد موت وارد نہیں ہوتی، بلکہ دوامی حیات آپ کو حاصل ہے اور باقی حضرات انبیائے کرام علیہم السلام بھی اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘
قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ المتوفیٰ ۱۳۲۳ھ:
’’قبر کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔ انبیاء کے سماع میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ج:۱ ص:۱۰۰)
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ المتوفیٰ ۱۳۴۶ھ:
’’إِنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِي قَبْرِهِ، كَمَا أَنَّ الأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ۔‘‘ (بذل المجہود باب التشہد ج:۲ ص:۱۱۷)
ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں جس طرح کہ دیگر حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘
حضرت مولانا سید محمد انور شاہؒ المتوفیٰ ۱۳۵۲ھ:
’’وَقَدْ يَتَخَيَّلُ أَنَّ رَدَّ الرُّوحِ يُنَافِي الْحَيَاةَ وَهُوَ يُقَرِّرُهَا، فَإِنَّ الرَّدَّ إِنَّمَا يَكُونُ إِلَى الْحَيِّ لَا إِلَى الْجَمَادِ، كَمَا وَقَعَ فِي حَدِيثِ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ، يُرِيْدُ بِقَوْلِهِ: الأَنْبِيَاءُ مَجْمُوْعُ الأَشْخَاصِ لَا الأَرْوَاحُ فَقَطْ ۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (تحیۃ الْإسلام ص:۳۵، ۳۶ مدنیہ پریس بجنور، یوپی)
ترجمہ:۔ ’’کبھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ رُوح کا لوٹانا حیات کے منافی ہے، حالانکہ ردّ رُوح حیات کو ثابت کرتا ہے، کیونکہ رُوح زندہ کی طرف لوٹائی جاتی ہے نہ کہ جماد کی طرف، جیسا کہ لیلۃ التعریس کی حدیث میں ہے (جب سب حضرات سو گئے تھے اور سورج چڑھنے کے بعد بیدار ہوئے اور اس میں ردّ رُوح کا ذکر ہے، بخاری ج:۱ ص: ۸۳) اور انبیاء احیاء سے حضرات انبیاء کے مجموع اشخاص مراد ہیں نہ کہ فقط ارواح (یعنی وہ اپنے اجسام کے ساتھ زندہ ہیں)۔‘‘
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’إِنَّ كَثِيْرًا مِنَ الأَعْمَالِ قَدْ ثَبَتَتْ فِي الْقُبُوْرِ كَالْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ عِنْدَ الدَّارِمِيِّ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ ۔۔۔۔۔۔۔الخ۔‘‘ (فیض الباری ج:۱ ص:۱۸۳ کتاب العلم، باب من اجاب الفتیاء، طبع مجلس علمی ڈابھیل)
ترجمہ:۔ ’’قبروں میں بہت سے اعمال کا ثبوت ملتا ہے، جیسے اذان و اقامۃ کا ثبوت دارمی کی روایت میں، اور قراءت قرآن کا ترمذی کی روایت میں۔‘‘
حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ المتوفیٰ۱۳۶۲ھ:
’’بیہقی وغیرہ نے حدیث انسؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں، کذا فی المواہب، اور یہ نماز تکلیفی نہیں بلکہ تلذّذ کے لئے ہے اور اس حیات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ آپ کو ہر جگہ پکارنا جائز ہے ۔۔۔۔۔الخ۔‘‘ (نشر الطیب ص:۲۰۸، ۲۰۹ طبع کتب خانہ اشاعت العلوم سہارنپور)
اور ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
’’آپ بنص حدیث قبر میں زندہ ہیں۔‘‘ (التکشف ص:۴۴۶)
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ المتوفیٰ۱۳۶۹ھ:
’’إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ كَمَا تَقَرَّرَ، وَإِنَّهُ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ۔‘‘(فتح الملہم ج:۳ ص:۴۱۹ باب فضل الصلاۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ۔ المطبعۃ الشہیرۃ بھاندہ پریس جالندھر)
ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں جیسا کہ اپنی جگہ یہ ثابت ہے اور آپ اپنی قبر میں اذان واِقامت سے نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی ؒ المتوفیٰ۱۳۷۷ھ:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات نہ صرف روحانی ہے جو کہ عام شہداء کو حاصل ہے، بلکہ جسمانی بھی اور از قبیل حیاتِ دُنیوی، بلکہ بہت وجوہ سے اس سے قوی تر۔‘‘
(مکتوبات شیخ الاسلام مکتوب نمبر:۴۴ ج:۱ ص:۱۲۰ مطبوعہ مکتبہ دینیہ دیوبند یوپی)
ایک دُوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’وہ (وہابی) وفاتِ ظاہری کے بعد انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ جسمانی اور بقائے علاقہ بین الروح والجسم کے منکر ہیں اور یہ (علمائے دیوبند) حضرات صرف اس کے قائل ہی نہیں بلکہ مثبت بھی ہیں، اور بڑے زور وشور سے اس پر دلائل قائم کرتے ہوئے متعدد رسائل اس بارے میں تصنیف فرماکر شائع کرچکے ہیں۔‘‘ (نقشِ حیات ج:۱ ص:۱۲۰ مطبوعہ عزیز پبلی کیشنز لاہور)

