October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

منکرینِ حیات کا حکم

جواب

’’إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ كَمَا تَقَرَّرَ، وَإِنَّهُ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ۔‘‘(فتح الملہم ج:۳ ص:۴۱۹ باب فضل الصلاۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ۔ المطبعۃ الشہیرۃ بھاندہ پریس جالندھر)

ترجمہ:۔ ’’جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زندگی کا انکار کیا ہے اور وہ معتزلہ اور ان کے ہم عقیدہ ہیں، اہل سنت نے ان کے دلائل کے جوابات دیئے ہیں۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ المتوفیٰ ۸۵۲ھ نے بھی اسی انداز بیان کو اختیار فرمایا ہے کہ منکرین حیات اہل سنت میں سے نہیں:

’’قَدْ تَمَسَّكَ بِهِ مَنْ أَنْكَرَ الْحَيَاةَ فِيْ الْقَبْرِ، وَأُجِيْبَ عَنْ أَهْلِ السُّنَّةِ ۔۔۔۔۔ أَنَّ حَيَاتَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ الْقَبْرِ لَا يَعْقُبُهَا مَوْتٌ، بَلْ يَسْتَمِرُّ‘‘(فتح الباری ج:۷ ص:۲۲ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’منکرینِ حیات فی القبر اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور اہل سنت کی طرف سے ان کا جواب دیا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زندگی ایسی ہے کہ دوبارہ اس پر موت نہیں اور آپ اب دائمی طور پر زندہ ہیں۔‘‘

حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوریؒ نے بھی اس عبارت کو حاشیہ بخاری جلد:۱ صفحہ:۵۱۷ پر نقل اور تسلیم فرمایا ہے۔

اب تک کی گزارشات سے واضح ہوا ہوگا کہ قرآن و سنت اور اکابر علمائے امت کی تصریحات کی روشنی میں یہ عقیدہ اہل سنت کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس سے دورِ حاضر کے بعض تجدد پسندوں کے علاوہ کسی نے اختلاف نہیں کیا، وہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اکابرین دیوبند نے ’’المہند علی المفند‘‘ مرتب فرماکر امت کے سامنے یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ علمائے دیوبند اہل سنت کا عقیدہ اس سلسلہ میں بھی وہی ہے جو اسلافِ امت کا تھا۔

مگر بایں ہمہ جب شرذمۂ قلیلہ نے اس اجماعی عقیدہ سے اختلاف کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف اس سے بیزاری کا اظہار کیا گیا، بلکہ دورِ حاضر کے اساطین امت نے اس مسئلے کی اہمیت اور حقیقت کو واضح کرتے ہوئے درج ذیل تحریر مرتب فرماکر مشتہر فرمائی اور متفقہ اعلان فرمایا:

منکرینِ حیات کا حکم - شہید اسلام