October 16, 2026 at 5:21 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

مسئلہ حیات النبی کے متعلق دورِ حاضر کے اکابرِ دیوبند کا مسلک اور ان کا متفقہ اعلان

جواب

صرف یہ ہے کہ احکام شرعیہ کے وہ مکلف نہیں ہیں، لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور روضۂ اقدس میں جو درود پڑھا جاوے بلاواسطہ سنتے ہیں، اور یہی جمہور محدثین اور متکلمین اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے، اکابر دیوبند کے مختلف رسائل میں یہ تصریحات موجود ہیں، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی تو مستقل تصنیف حیاتِ انبیاء پر ’’آبِ حیات‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ جو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے ارشد خلفاء میں سے ہیں، ان کا رسالہ ’’المہند علی المفند‘‘ بھی اہل انصاف اور اہل بصیرت کے لئے کافی ہے، اب جو اس مسلک کے خلاف دعویٰ کرے اتنی بات یقینی ہے کہ ان کا اکابرِ دیوبند کے مسلک سے کوئی واسطہ نہیں۔ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ۔‘‘

’’وہ (وہابی) وفاتِ ظاہری کے بعد انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ جسمانی اور بقائے علاقہ بین الروح والجسم کے منکر ہیں اور یہ (علمائے دیوبند) حضرات صرف اس کے قائل ہی نہیں بلکہ مثبت بھی ہیں، اور بڑے زور وشور سے اس پر دلائل قائم کرتے ہوئے متعدد رسائل اس بارے میں تصنیف فرماکر شائع کرچکے ہیں۔‘‘

(نقشِ حیات ج:۱ ص:۱۲۰ مطبوعہ عزیز پبلی کیشنز لاہور)

۲:۔ مولانا عبدالحق

مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

۳:۔ مولانا محمد صادق ؒ

سابق ناظم محکمۂ اُمورِ مذہبیہ بہاولپور

۴:۔ مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ

شیخ الحدیث دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈوالٰہ یار سندھ

۵:۔ مولانا شمس الحق افغانی ؒ

صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان

۶:۔ مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ

شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور

۷:۔ مولانا مفتی محمد حسنؒ

مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

۸:۔ مولانا رسول خاںؒ

جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور

۹:۔ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ

مہتمم دارالعلوم کراچی

۱۰:۔ مولانا احمد علی لاہوریؒ

امیر نظام العلماء و امیر خدام الدین لاہور(تلک عشرۃ کاملۃ)

(ماہنامہ پیام مشرق لاہور جلد:۳ شمارہ:۴ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ/ ستمبر ۱۹۶۰ء)(بحوالہ تسکین الصدور ص:۳۷)

الغرض میرا اور میرے اکابر کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضۂ مطہرہ میں حیاتِ جسمانی کے ساتھ حیات ہیں، یہ حیات برزخی ہے مگر حیاتِ دنیوی سے قوی تر ہے، جو لوگ اس مسئلے کا انکار کرتے ہیں، ان کا اکابر علمائے دیوبند اور اساطینِ امت کی تصریحات کے مطابق علمائے دیوبند سے تعلق نہیں ہے، اور میں ان کو اہل حق میں سے نہیں سمجھتا، اور وہ میرے اکابر کے نزدیک گمراہ ہیں، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں اور اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق روا نہیں۔ وَاللّٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيْلُ

  1. (۱) کلہ: سر، گال، جبڑا۔ (غیاث اللغات ص:۱۱۴۶ طبع علمی کتاب گھر لاہور)۔
مسئلہ حیات النبی کے متعلق دورِ حاضر کے اکابرِ دیوبند کا مسلک اور ان کا متفقہ اعلان - شہید اسلام