October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

حیاتِ برزخی موضوعِ بحث ہے

سوال

سوال:۔ وفات شریف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے قائل کو منکر کہنا آپ کے نزدیک شرعی طور پر کیسا ہے؟ اور کیا علماء کی مختلف تحقیقات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا جاسکتا ہے؟ مثلاً ایک عالم نے دنیاوی زندگی کہا، دُوسرے نے برزخی اخروی کہا، تو کیا پہلے کو شرعی طور پر حق ہے کہ وہ دُوسرے کو منکر کہے؟
سوال:۔ مجھ جیسے چند نالائقوں کا خیال ہے کہ مسئلۂ حیات النبی کے ضمن میں علمائے دیوبند نے مولانا حسین علیؒ واں بھچراں کے تلامذہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جو مولانا احمد رضا خان نے اکابرینِ دیوبند سے کیا تھا (یعنی غلط پراپیگنڈ۱)، آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب

جواب:۔ سوال پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا، اگر صرف تعبیرات کا اختلاف ہو تو نزاع لفظی ہے، اور اگر نتیجہ ومآل کا فرق ہو تو لائقِ اعتناء ہے۔ مسئلۂ حیات میں حیاتِ برزخی ہی موضوعِ گفتگو ہے، نفی و اثبات کا تعلق اسی سے ہے، اگر دونوں فریقوں کا مدعا ایک ہی ہو تو نزاع لفظی ہوگا، نہیں تو معنوی ہوگا۔

جواب:۔ ہر شخص کو حق ہے کہ اپنے خیال کو صحیح سمجھے، لیکن اگر وہ خیال حقیقت واقعیہ پر مبنی ہو تو صحیح، ورنہ غلط ہوگا۔ اس ناکارہ کے خیال میں آپ کا خیال حقیقت واقعیہ پر مبنی نہیں۔

حیاتِ برزخی موضوعِ بحث ہے - شہید اسلام