معراج
معراج جسمانی کا ثبوت
سوال
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جسمانی ہوئی یا رُوحانی؟ برائے کرم تفصیلی جواب سے نوازیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معراج حاصل نہیں ہوئی تھی۔
جواب
جواب:۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ ’’نشر الطیب‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’تحقیق سوم:۔ جمہور اہلِ سنت و جماعت کا مذہب یہ ہے کہ معراج بیداری میں جسد کے ساتھ ہوئی اور دلیل اس کی اِجماع ہے، اور مستند اس اِجماع کا یہ اُمور ہوسکتے ہیں ۔ ۔۔۔ (آگے اس کے دلائل فرماتے ہیں)۔‘‘ (نشر الطیب ص:۸۰ مطبوعہ سہارنپور)
اور علامہ سہیلیؒ ’’الروض الانف شرح سیرت ابن ہشام‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’مہلب نے شرح بخاری میں اہلِ علم کی ایک جماعت کا قول نقل کیا ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوئی، ایک مرتبہ خواب میں، دُوسری مرتبہ بیداری میں جسد شریف کے ساتھ۔‘‘(۱) (ج:۱ ص:۲۴۴)
اس سے معلوم ہوا کہ جن حضرات نے یہ فرمایا کہ معراج خواب میں ہوئی تھی، انہوں نے پہلے واقعے کے بارے میں کہا ہے، ورنہ دُوسرا واقعہ جو قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ میں مذکور ہے، وہ بلاشبہ بیداری کا واقعہ ہے۔(۲)
- (۱) ورأیت المھلب فی شرح البخاری قد حکی ھٰذا القول عن طائفۃ من العلماء وانھم قالوا: کان الْإسراء مرتین، مرۃ فی نومہ، ومرۃ فی یقظتہ ببدنہ صلی اللہ علیہ وسلم (قال المُؤلف) وھٰذا القول ھو الذی یصح وبہ تتفق معانی الأخبار ۔۔۔إلخ۔ (الروض الأنف شرح سیرت ابن ھشام ج:۱ ص:۲۴۴، شرح ما فی حدیث الْإسراء من المشکل طبع ملتان وطبع مصر)۔
- (۲) ﵟ سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ﵞ٠٠٠ الخ (الإسراء ١)۔
- (3) شرح عقائد (ص:۱۴۳، طبع خیر کثیر) میں ہے: والمعراج لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الیقظۃ بشخصہٖ الی السماء، ثم الٰی ما شاء اللہ تعالٰی من العلٰی حق أی ثابت بالخبر المشھور۔ وأیضًا تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۱۱۶ وشرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۴۵۔

