معراج
حضرت جبرائیلؑ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرش اور عرش پر عمامہ باندھتے دیکھنا
سوال
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو جو فرمایا کہ: فرش پر جاکے دیکھو کہ میرا محبوب کیا کر رہا ہے؟ جبرائیلؑ نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ اپنا عمامہ مبارک سر پر باندھ رہے تھے، جب واپس عرشِ معلی پر جاتے ہیں تو وہاں بھی یہی منظر دیکھتے ہیں کہ وہاں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا عمامہ مبارک باندھ رہے ہیں، اس پر حضرت جبرائیلؑ سخت حیران ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم کو زمین پر جس حالت پر دیکھا، اسی حالت میں انہیں یہاں بھی دیکھ رہا ہوں۔ تو اے اللہ! آپ کے سوا ان کے سامنے بھی سجدہ جائز ہونا چاہئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے جبرائیل! تم یہ باتیں نہیں جانتے کہ حضورِ اکرم نے اپنے صحابہؓ کو یہ بتایا اور فرمایا کہ: اگر ما سوا اللہ کے کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو بیوی کا خاوند کے آگے اور اولاد کا والدین کے آگے اور پھر اُمت کا رسول کے آگے ہوتا۔ براہِ کرم اس پر روشنی ڈالیں کہ یہ کس حد تک دُرست ہے؟
جواب
جواب:۔ جبرائیل علیہ السلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرش پر اور عرش پر عمامہ باندھتے دیکھنے کی روایت میری نظر سے نہیں گزری، بظاہر من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ ان صاحب سے دریافت کیجئے کہ انہوں نے یہ روایت کہاں دیکھی ہے؟ اور پھر مجھے لکھئے۔
اور یہ حدیث کہ: ’’اگر اللہ تعالیٰ کے سوا سجدہ جائز ہوتا تو بیوی خاوند کے آگے، اولاد باپ کے آگے اور پھر اُمت رسول کے آگے سجدہ کرتی‘‘ یہ بھی کہیں نہیں دیکھی۔ حدیث میں جو آیا ہے وہ یہ ہے کہ: ایک صحابی نے جب یہ کہا کہ: فلاں جگہ کے لوگ اپنے رئیس کو سجدہ کرتے ہیں، آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(۱)
اولاد کے والدین کو اور اُمت کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے کا کہیں نہیں دیکھا۔ اس حدیث کا حوالہ بھی ان صاحب سے دریافت کیجئے۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لو کُنتُ آمر أحدًا أن یسجد لأحد، لأمرتُ المرأۃ أن تسجد لزوجِھا۔ (مشکوٰۃ ص:۲۸۱، باب عشرۃ النساء، الفصل الثانی)۔

