حضور نبی اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی حقیقت
سوال
خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی حقیقت کیا ہے؟ یعنی جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے، اس کی شفاعت ضروری ہوجاتی ہے؟ کیا اِبلیسِ لعین، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام کی شکل میں آسکتا ہے؟
جواب
جواب:۔ حدیث شریف میں ہے کہ: ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا‘‘۔(۱) اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں ہوجانا مبارک ہے، مگر اس کو بزرگی کی دلیل نہیں سمجھنا چاہئے۔ اصل چیز بیداری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی ہے، جو اِتباعِ سنت کا اہتمام کرتا ہو، وہ اِن شاء اللہ مقبول ہے، اور جو شخص سنتِ نبوی سے منحرف ہو، وہ مردُود ہے۔ خواہ اس کو روزانہ زیارت ہوتی ہو، اور اس کے لئے شفاعت بھی ضروری نہیں۔
- (۱) من رآنی فی المنام فقد رآنی، فان الشیطان لَا یتمثل فی صورتی۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۴، کتاب الرؤیا، الفصل الأوّل)۔

