حضور نبی اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت
خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے صحابیؓ کا درجہ
سوال
کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ اگر کسی شخص کو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوجائے، اسے صحابہ کرامؓ کا درجہ ملتا ہے؟
جواب
جواب:۔ ایسا سمجھنا بالکل غلط ہے، خواب میں زیارت سے صحابی کا درجہ نہیں ملتا۔ ’’صحابی‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ایمان کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو، اور پھر ایمان پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔(۱) یہاں یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ صحابی کا درجہ کسی غیرصحابی کو نہیں مل سکتا، خواہ وہ کتنا ہی بڑا غوث، قطب اور ولی اللہ کیوں نہ ہو؟(۲)
- (۱) الفصل الأوّل فی تعریف الصحابی، وأصح ما وقفت علیہ من ذٰلک أن الصحابی من لقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤمنا بہ ومات علی الْإسلام فیدخل فیمن لقیہ، من طالت مجالستہ أو قصرت ومن روٰی عنہ أو لم یرو۔ (الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، خطبۃ الکتاب ومقدمتہ ج:۱ ص:۷ طبع دار صادر، بیروت)۔
- (۲) وروی ابن بطۃ باسناد صحیح عن ابن عباس أنہ قال: لَا تسبّوا أصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فلمقام أحدھم ساعۃ یعنی مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم خیر من عمل أحدکم أربعین سنۃ۔ وفی روایۃ وکیع خیر من عبادۃ أحدکم عمرہ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۳ طبع مجتبائی دہلی)۔ عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ أختار أصحابی علی الثقلین سویٰ النبیّین والمرسلین۔ (الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ خطبۃ الکتاب ومقدمتہ ج:۱ ص:۱۲ طبع دار صادر، بیروت)۔

