حضور نبی اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت
کیا غیرمسلم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوسکتی ہے؟
سوال
پچھلے دنوں میرا کراچی جانے کا اتفاق ہوا، وہاں پر ایک جلسہ منعقد ہوا، جس میں پیش اِمام تشریف لائے، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا: حافظ صاحب! ایک عیسائی شخص کہہ رہا ہے کہ جلدی کرو مجھے کلمہ پڑھاؤ، کیونکہ مجھے رات خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے تجھے دِین، ایمان عطا کیا ہے، جلدی کر اور ایمان لے آ۔ لہٰذا اِمام صاحب نے اس شخص کی بات سنی اور پھر اس عیسائی شخص کے پاس گئے اور اسے کلمہ پڑھایا اور وہ شخص کلمہ پڑھنے کے فوراً بعد فوت ہوگیا۔ اب آپ یہ تحریر فرمائیں کہ آیا حافظ صاحب کی یہ بات دُرست تھی؟ کیا عیسائی شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوسکتا ہے؟
جواب
جواب:۔ ضرور ہوسکتا ہے! آپ کو اس میں کیا اِشکال ہے؟ اگر یہ خیال ہو کہ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا تو بڑے شرف کی بات ہے، یہ شرف کسی کافر کو کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیداری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا اس سے بڑھ کر شرف ہونا چاہئے، ابوجہل و ابولہب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری میں دیکھا، جب یہ چیز ان کے لئے شرف کا باعث نہ بنی، تو کسی غیرمسلم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا شرف کا باعث کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟ اصل باعثِ شرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور پیروی ہے، اگر یہ نہ ہو تو صرف زیارت کوئی شرف نہیں۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل اُمّتی یدخلون الجنّۃ إلّا من أبٰی، قیل: ومن أبٰی؟ قال: من أطاعنی دخل الجنّۃ ومن عصانی فقد أبٰی۔ رواہ البخاری۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷، باب الْإعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأوّل)۔

