حضور نبی اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت
خواب میں زیارتِ نبوی
سوال
کیا خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو کیسے پتا چلے کہ یہ خواب سچا ہے؟ بعض لوگ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دُوسری شکل میں دیکھتے ہیں، کیا وہ بھی صحیح خواب ہوگا؟
جواب
جواب:۔ صحیحین کی روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد متعدّد اور مختلف الفاظ میں مروی ہے کہ:
’’مَنْ رَّاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِیْ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ بِیْ!‘‘
ترجمہ:۔’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا!‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
’’مَنْ رَّاٰنِیْ فَقَدْ رَأَی الْحَقَّ!‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۹۴)
ترجمہ:۔’’جس نے مجھے دیکھا اس نے سچا خواب دیکھا!‘‘
خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتِ شریفہ کی دو صورتیں ہیں: ایک: یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلی شکل اور حلیہ مبارک میں دیکھے۔ دوم: یہ کہ کسی دُوسری ہیئت و شکل میں دیکھے۔ اہلِ علم کا اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل حلیہ مبارک میں ہو تو ارشادِ نبوی کے مطابق، واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، لیکن اگر کسی دُوسری ہیئت و شکل میں دیکھے تو اس کو بھی زیارتِ نبوی کہا جائے گا یا نہیں؟ اس میں علماء کے دو قول ہیں: ایک یہ کہ یہ زیارتِ نبوی نہیں کہلائے گی، کیونکہ ارشادِ نبوی کے مطابق خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَصلی شکل و صورت اور حلیہ مبارک میں دیکھے، پس اگر کسی نے مختلف حلیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو یہ حدیثِ بالا کا مصداق نہیں۔ اور بعض اہلِ علم کا قول یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہ کسی شکل و صورت اور حلیہ میں دیکھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل حلیہ مبارک سے مختلف شکل میں دیکھنا خواب دیکھنے والے کے نقص کی علامت ہے۔ شیخ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ ’’تعطیر الانام فی تعبیر المنام‘‘ میں دونوں قسم کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’فَعُلِمَ أَنَّ الصَّحِيْحَ، بَلِ الصَّوَابَ كَمَا قَالَهُ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رُؤْيَاهُ حَقٌّ عَلٰى أَيِّ حَالَةٍ فُرِضَتْ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ بِصُوْرَتِهِ الْحَقِيْقِيَّةِ فِيْ وَقْتٍ مَا، سَوَاءٌ كَانَ فِيْ شَبَابِهِ أَوْ رُجُوْلِيَّتِهِ أَوْ كُهُوْلَتِهِ أَوْ آخِرِ عُمْرِهِ لَمْ تَحْتَجْ إِلٰى تَأْوِيْلٍ، وَإِلَّا احْتِيْجَتْ لِتَعْبِيْرٍ يَتَعَلَّقُ بِالرَّائِيْ. وَمِنْ ثَمَّ قَالَ بَعْضُ عُلَمَاءِ التَّعْبِيْرِ: مَنْ رَآهُ شَيْخًا فَهُوَ غَايَةُ سِلْمٍ، وَمَنْ رَآهُ شَابًّا فَهُوَ غَايَةُ حَرْبٍ، وَمَنْ رَآهُ مُتَبَسِّمًا فَهُوَ مُتَمَسِّكٌ بِسُنَّتِهِ۔
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ رَآهُ عَلٰى هَيْئَتِهِ وَحَالِهِ كَانَ دَلِيْلًا عَلٰى صَلَاحِ الرَّائِيْ وَكَمَالِ جَاهِهِ وَظَفَرِهِ بِمَنْ عَادَاهُ، وَمَنْ رَآهُ مُتَغَيِّرَ الْحَالِ عَابِسًا كَانَ دَلِيْلًا عَلٰى سُوْءِ حَالِ الرَّائِيْ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِيْ جَمْرَةَ: رُؤْيَاهُ فِيْ صُوْرَةٍ حَسَنَةٍ حُسْنٌ فِيْ دِيْنِ الرَّائِيْ، وَمَعَ شَيْنٍ أَوْ نُقْصَانٍ فِيْ بَعْضِ بَدَنِهِ خَلَلٌ فِيْ دِيْنِ الرَّائِيْ. لِأَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمِرْآةِ الصَّقِيْلَةِ يَنْطَبِعُ فِيْهَا مَا يُقَابِلُهَا، وَإِنْ كَانَتْ ذَاتُ الْمِرْآةِ عَلٰى أَحْسَنِ حَالِهَا وَأَكْمَلِهَا، وَهٰذِهِ الْفَائِدَةُ الْكُبْرٰى فِيْ رُؤْيَاهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بِهِ يُعْرَفُ حَالُ الرَّائِيْ۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۷۶، ۲۷۷)
ترجمہ:۔’’پس معلوم ہوا کہ صحیح بلکہ صواب وہ بات ہے جو بعض حضرات نے فرمائی کہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بہرحال حق ہے۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل حلیہ مبارک میں دیکھا خواہ وہ حلیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی کا ہو یا پختہ عمری کا، یا زمانہ پیری کا، یا آخر عمر شریف کا، تو اس کی تعبیر کی حاجت نہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل شکل مبارک میں نہیں دیکھا تو خواب دیکھنے والے کے مناسب حال تعبیر ہوگی، اسی بنا پر بعض علمائے تعبیر نے کہا ہے کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑھاپے میں دیکھا تو یہ نہایت صلح ہے، اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوان دیکھا تو یہ نہایت جنگ ہے، اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تھامنے والا ہے۔
اور بعض علمائے تعبیر نے فرمایا ہے کہ: جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلی شکل و حالت میں دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی دُرست حالت، اس کی کمالِ وجاہت اور دُشمنوں پر اس کے غلبہ کی علامت ہے، اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرحالت میں (مثلاً) تیور چڑھائے ہوئے دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی حالت کے بُرا ہونے کی علامت ہے۔
حافظ ابنِ ابی جمرہؒ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی صورت میں دیکھنا، دیکھنے والے کے دِین کے اچھا ہونے کی علامت ہے، اور عیب یا نقص کی حالت میں دیکھنا دیکھنے والے کے دِین میں خلل کی علامت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال شفاف آئینے کی سی ہے، کہ آئینے کے سامنے جو چیز آئے، اس کا عکس اس میں آجاتا ہے، آئینہ بذاتِ خود کیسا ہی حسین و باکمال ہو (مگر بھدی چیز اس میں بھدی ہی نظر آئے گی)، اور خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتِ شریفہ کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے خواب دیکھنے والے کی حالت پہچانی جاتی ہے۔‘‘
اس سلسلے میں مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہٗ کی ایک تحقیق فتاویٰ عزیزی میں درج ہے، جو حسبِ ذیل ہے:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں اہلِ سنت اور شیعہ دونوں فرقہ کو میسر ہوتی ہے، اور ہر فرقے کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لطف و کرم اپنے حال پر ہونا بیان کرتے ہیں، اور اپنے موافق اَحکام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سننا بیان کرتے ہیں، غالباً دونوں فرقہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اِفراط کرنا اچھا معلوم نہیں ہوتا، اور خطراتِ شیطانی کو اس مقام میں دخل نہیں، تو ایسے خواب کے بارے میں کیا خیال کرنا چاہئے؟
جواب:۔ یہ جو حدیث شریف ہے: ’’مَنْ رَّآنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِیْ!‘‘ یعنی جناب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا تو اس نے فی الواقع مجھ کو دیکھا ہے، تو اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث خاص اس شخص کے بارے میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورتِ مبارکہ میں دیکھے جو بوقتِ وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مبارکہ تھی، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث عام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی وقت کی صورت میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی ابتدائے نبوّت سے تاوقتِ وفات، جوانی اور کلاںسالی اور سفر اور حضر اور صحت اور مرض میں جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صورتِ مبارک تھی، ان صورتوں میں سے جس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی فی الواقع اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوگا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں سنّی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، اسی طرح شیعہ نے کبھی نہ دیکھا ہے، اور فرضیات کا اعتبار نہیں۔
تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا چار قسموں پر ہے۔ ایک قسم: رُؤیائے الٰہی ہے کہ اتصال تعین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ اور دُوسری قسم: ملکی ہے اور وہ متعلقاتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا ہے، مثلاً: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نسبِ اطہر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور محبت میں سالک کا درجہ اور اس کے مانند اور جو اُمور ہیں، تو ان اُمور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدس میں دیکھنا پردۂ مناسبات میں ہو، جو فنِ تعبیر میں معتبر ہے۔ اور تیسری قسم: رُؤیائے نفسانی ہے کہ اپنے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صورت ہے، اس صورت میں دیکھنا۔ اور یہ تینوں اقسام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں صحیح ہیں۔
چوتھی قسم شیطانی ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدس میں شیطان اپنے کو خواب میں دِکھلائے، اور یہ صحیح نہیں ہوسکتا، یعنی ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدس کے مطابق شیطان اپنی صورتِ خبیث بناسکے اور خواب میں دِکھلاوے، البتہ مغالطہ دے سکتا ہے، اور تیسری قسم کے خواب میں بھی کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اور بات کے مشابہ شیطان بات کرتا ہے اور وسوسہ میں ڈالتا ہے، چنانچہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم پڑھتے تھے اور بعض آیات کے بعد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا تو شیطان نے کچھ عبارت خود بناکر پڑھ دی کہ اس سے بعض سامعین مشرکین کا شبہ قوی ہوگیا، اور یہ روایت اُوپر ایک مقام میں مفصل مذکور ہوئی ہے، تو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ حیات میں شیطان نے ایسا کیا تو خواب میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اسی وجہ سے شریعت میں ان اَحکام کا اعتبار نہیں جو خواب میں معلوم ہوں، اور خواب کی بات حدیث نہیں شمار کی جاتی۔ اور اگر کوئی بدعتی کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں حکم فرمایا ہے اور وہ حکم خلافِ شرع ہو تو اس بدعتی کے قول پر اعتبار نہ کیا جائے گا، والله اعلم!‘‘
(فتاویٰ عزیزی ج:۱ ص:۳۲۶ تا ۳۲۸ باب العقائد، طبع ایچ ایم سعید)
گزشتہ دنوں قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا طاہر احمد صاحب کی ’’خلافت‘‘ کی تائید میں قادیانی اخبار ’’الفضل ربوہ‘‘ میں آسمانی بشارات کے عنوان سے بعض چیزیں شائع کی گئیں، ان میں سے ایک کا تعلق خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے ہے، اس لئے اس کا اقتباس بلفظہٖ درج ذیل ہے:
’’دیکھا کہ مسجد مبارک (ربوہ) میں داخل ہو رہا ہوں، ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے، جتنی تیزی سے وِرد کرتا ہوں، سرور بڑھتا جاتا ہے اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے۔ محراب میں حضرت بابا گرونانک رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شبیہ کی صورت میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدر تیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پر نظر نہیں ٹکتی۔‘‘
(الفضل ربوہ ۶؍نومبر ۱۹۸۲ء)
علمِ تعبیر کی رُو سے اس خواب کی تعبیر بالکل واضح ہے، صاحبِ خواب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھوں کے پیشوا کی شکل میں نظر آنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا دِین و مذہب ۔۔۔جسے وہ غلط فہمی سے ’’اسلام‘‘ سمجھتے ہیں۔۔۔ دراصل سکھ مذہب کی شبیہ ہے، اور ان کے رُوحانی پیشوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز نہیں، بلکہ سکھوں کے پیشوا بابا نانک کے بروز ہیں۔
اور صاحبِ خواب کو اَنوارات کا نظر آنا جس کی وجہ سے وہ خواب کی اصل مراد کو نہیں پہنچ سکے، شیطان کی وہی تلبیس ہے جس کا تذکرہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہٗ نے فرمایا ہے، اور ان انوارات میں یہ اشارہ تھا کہ ان کے پیشوا نے بابا نانک کا بروز ہونے کے باوجود تلبیس و تدلیس کے ذریعہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے ان کی طرح بہت سے حقیقت ناشناس لوگوں نے دھوکا کھایا۔
چونکہ خواب کی یہ تعبیر بالکل واضح تھی، اسی لئے صاحبِ خواب کو مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا ناصر احمد صاحب نے خواب کے اظہار سے منع کیا، چنانچہ صاحبِ خواب لکھتے ہیں:
’’پھر (مرزا بشیر احمد صاحب نے) فرمایا: کسی سے خواب بیان نہیں کرنی، خلافتِ ثالثہ کا انتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر (مرزا ناصر احمد صاحب کی خدمت میں) بھجوادیا۔ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ذریعہ پیغام ملا کہ حضور (یعنی مرزا ناصر احمد صاحب) فرماتے ہیں کہ: خواب آگے نہیں بیان کرنی۔‘‘
(مرزا عبدالرشید وکالت تبشیر ربوہ)
مناسب ہے کہ اس خواب کی تائید میں بعض دیگر اکابر کے خواب و کشوف بھی ذِکر کردئیے جائیں۔
۱:۔مولانا محمد لدھیانوی مرحوم ’’فتاویٰ قادریہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا صاحب (مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی قدس سرہٗ، صدر المدرّسین دارالعلوم دیوبند) نے حسب وعدہ کے ایک فتویٰ اپنے ہاتھ سے لکھ کر ہمارے پاس ڈاک میں اِرسال فرمایا، جس کا مضمون یہ تھا کہ یہ شخص میری دانست میں غیرمقلد معلوم ہوتا ہے، اور اس کے اِلہامات اولیاء اللہ کے اِلہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیضِ باطنی حاصل نہیں کیا، معلوم نہیں کہ اس کو کس رُوح کی اویسیت ہے۔‘‘
(فتاویٰ قادریہ ص:۱۷)
حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی قدس سرہٗ نے تو اس سے لاعلمی کا اظہار فرمایا کہ مرزا صاحب کو کس رُوح سے ’’فیض‘‘ پہنچا ہے، مگر ’’الفضل‘‘ میں ذکر کردہ خواب سے یہ عقدہ حل ہوجاتا ہے کہ مرزا صاحب کو سکھوں کے مذہبی پیشوا سے رُوحانی اِرتباط تھا، مرزا صاحب نے جو کچھ لیا ہے، انہی سے لیا ہے۔
۲:۔’’مرزا غلام احمد قادیانی نے شہر لودیانہ میں آکر ۱۳۰۱ھ میں دعویٰ کیا کہ میں مجدّد ہوں۔ عباس علی صوفی اور منشی احمد جان مع مریدان او رمولوی محمد حسن مع اپنے گروہ اور مولوی شاہدین اور عبدالقادر اور مولوی نور محمد مہتمم مدرسہ حقانی وغیرہ نے اس کے دعویٰ کو تسلیم کرکے امداد پر کمر باندھی۔ منشی احمد جان نے مع مولوی شاہدین وعبدالقادر ایک مجمع میں جو واسطے اہتمام مدرسہ اسلامیہ کے اُوپر مکان شاہزادہ صفدر جنگ صاحب کے تھا، بیان کیا کہ علی الصباح مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اس شہر لودیانہ میں تشریف لائیں گے، اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کرکے کہا کہ جو شخص اس پر ایمان لائے گا گویا وہ اوّل مسلمان ہوگا۔
مولوی عبداللہ صاحب مرحوم برادرم نے بعد کمال بردباری اور تحمل کے فرمایا:
اگرچہ اہلِ مجلس کو میرا بیان کرنا ناگوار معلوم ہوگا لیکن جو بات خدا جل شانہ‘ نے اس وقت میرے دِل میں ڈالی ہے، بیان کئے بغیر میری طبیعت کا اِضطرار دُور نہیں ہوتا، وہ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی جس کی تم تعریف کر رہے ہو، بے دِین ہے۔
منشی احمد جان بولا کہ: میں اوّل کہتا تھا کہ اس پر کوئی عالم یا صوفی حسد کرے گا۔
راقم الحروف (مولانا محمد عبدالقادر لودیانویؒ) نے مولوی عبداللہ صاحب کو بعد برخاست ہونے جلسہ کے کہا کہ: جب تک کوئی دلیل معلوم نہ ہو بلاتأمل کسی کے حق میں زبان طعن کی کھولنی مناسب نہیں۔ مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ: اس وقت میں نے اپنی طبیعت کو بہت روکا لیکن آخر الامر یہ کلام خدا جل شانہ‘ نے جو میرے سے اس موقع پر سرزد کرایا ہے، خالی از اِلہام نہیں!
اس روز مولوی عبداللہ صاحب بہت پریشان خاطر رہے، بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہیں کیا، بوقتِ شب دو شخصوں سے اِستخارہ کروایا اور آپ بھی اسی فکر میں سوگئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ میں ایک مکان بلند پر مع مولوی محمد صاحب و خواجہ احسن شاہ صاحب بیٹھا ہوں، تین آدمی دُور سے دھوتی باندھے ہوئے چلے آتے معلوم ہوئے، جب نزدیک پہنچے تو ایک شخص جو آگے آگے آتا تھا، اس نے دھوتی کو کھول کر تہبند کی طرح باندھ لیا، خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اسی وقت سے بیدار ہوگئے اور دِل کی پراگندگی یک لخت دُور ہوگئی اور یقین کُلّی حاصل ہوا کہ یہ شخص پیرایۂ اسلام میں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ موافق تعبیرِ خواب کے دُوسرے دن قادیانی مع دو ہندوؤں کے لودھیانہ میں آیا۔ (اس خواب میں بھی یہی اشارہ تھا کہ یہ صاحب ہندومت کو اِسلام کا لبادہ اوڑھا رہے ہیں- ناقل)۔‘‘ (فتاویٰ قادریہ ص:۲)
۳،۴:۔مولانا عبداللہ لدھیانویؒ کے ساتھ جن دو شخصوں نے استخارہ کیا تھا، ان کے بارے میں مولانا محمد صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’اِستخارہ کنندگان میں سے ایک کو معلوم ہوا کہ یہ شخص بے علم ہے، اور دُوسرے شخص نے خواب میں مرزا کو اس طرح دیکھا کہ ایک عورت برہنہ تن کو اپنی گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ مرزا دُنیا کو جمع کرنے کے درپے ہے، دِین کی کوئی پروا نہیں۔‘‘ (حوالۂ بالا)
۵:۔اسی فتاویٰ قادریہ میں ہے کہ:
’’شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری مرحوم نے (جو صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے) بروقتِ ملاقات فرمایا کہ: مجھ کو بعد اِستخارہ کرنے کے یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ اس کا دُم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو زنار اس کے گلے میں پڑا ہوا نظر آیا، جس سے اس شخص کا بے دِین ہونا ظاہر ہے، اور یہ بھی میں یقینا کہتا ہوں کہ جو اہلِ علم اس کی تکفیر میں اب متردّد ہیں، کچھ عرصے بعد سب کافر کہیں گے۔ (زنار بھی بطورِ خاص کسی کے ہندو ہونے کی علامت ہے، اس سے ’’الفضل‘‘ میں درج شدہ خواب کی تائید ہوتی ہے کہ یہ صاحب ہندوؤں سے مستفید ہیں- ناقل)۔‘‘ (حوالۂ بالا)
۶:۔مولانا محمد ابراہیم میرسیالکوٹی ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں (جو ۱۳۲۱ھ میں مرزا صاحب کی زندگی میں شائع ہوئی) لکھتے ہیں:
’’جب اس فرقۂ مبتدعہ مرزائی کو کوئی پچھلی تفسیر بتائیں تو کفار کی طرح ’’أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ‘‘ کہہ کر جھٹ انکار کردیتے ہیں، اور اگر ان کے رُوبرو حدیثِ نبوی صلی اللہ علیٰ صاحبہا وسلم پڑھیں تو اسے بوجہ بے علمی کے مخالف و معارضِ قرآن بناکر دُور پھینک دیتے ہیں، اور اپنی تفسیر بالرائے کو جو حقیقت میں تحریف و تأویل منہی عنہ ہوتی ہے، مؤید بالقرآن کہتے ہیں (ظاہر ہے یہ طرزِ عمل کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا- ناقل)، بیچارے کم علم لوگ اس سے دھوکا کھاجاتے ہیں اور ورطۂ تردّدات و گردابِ شبہات میں گھر جاتے ہیں، سو ایسے شبہات کے وقت میں اللہ عزیز و حکیم نے مجھ عاجز کو محض اپنے فضل و کرم سے راہِ حق کی ہدایت کی اور ہر طرح سے ظاہراً و باطناً، معقولاً و منقولاً مسئلۂ حقہ سمجھایا۔ چنانچہ عنفوانِ شباب میں ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارتِ بابرکت سے مشرف ہوا، اس طرح کہ آپ ایک گاڑی پر سوار ہیں اور بندہ اس کو آگے سے کھینچ رہا ہے، اس حالتِ باسعادت میں آپ سے کادیانی علیہ ما علیہ کی نسبت عرض کی، آپ نے زبانِ وحی ترجمان سے باَلفاظِ طیبہ یوں فرمایا کہ: کوئی خطرے کی بات نہیں! اللہ تعالیٰ اس کو جلدی ہلاک کردے گا۔‘‘ (شہادۃ القرآن طبع اول ص:۴)

