صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
خلفائے راشدین میں چار خلفاءؓ کے علاوہ دُوسرے خلفاء کیوں شامل نہیں؟
سوال
دِینی طور پر جب خلفائے راشدین کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد صرف چار خلفائے راشدین لئے جاتے ہیں، یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، اس کے بعد حضرت اِمام حسنؓ اور حضرت امیر معاویہؓ جو کہ دونوں صحابی ہیں، ان کا نام کیوں نہیں شامل کیا جاتا؟ حالانکہ یہ بھی خلفائے راشد ہیں اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا دور بھی نہایت مثالی دور رہا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ خاص طور پر جو چار خلفاء کو ’’حق چار یار‘‘ کہا جاتا ہے، آپ قرآن و حدیث سے ان چار خلفاء کی خصوصیت کو ثابت کرکے جواب دیں، اور یہ بھی کہ حضرت اِمام حسنؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کا ان کے ساتھ کیوں نہیں ذکر کیا جاتا؟
جواب
جواب:۔ ’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘‘ کے لئے دیگر اوصاف کے ساتھ ہجرت شرط تھی،(۱) جس کی طرف سورۂ النور کی آیتِ اِستخلاف میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔(۲) اور یہ شرط صرف چاروں خلفائے راشدینؓ میں پائی گئی ہے۔ حضرت اِمام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کی خلافت کا تتمہ تھی، جس سے خلافتِ نبوّت کے تیس سال پورے ہوئے،(۳) جس کی تصریح حدیث نبوی: ’’خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُوْنَ سَنَةً‘‘ میں آئی ہے، یعنی خلافتِ نبوّت تیس سال ہوگی۔ یہ ترمذی اور ابوداؤد کی روایت ہے۔(۴) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں چونکہ ہجرت کی شرط نہیں پائی گئی اس لئے ان کا شمار خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں نہیں کیا جاتا۔ ان کی خلافت، خلافتِ عادلہ تھی اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ چونکہ صحابی نہیں، تابعی ہیں۔ اس لئے ان کی خلافت بھی خلافتِ راشدہ نہیں کہلاتی، البتہ خلافتِ راشدہ کے مشابہ تھی۔(۵)
- (۱) از جملہ لوازمِ خلافت خاصہ آنست کہ خلیفہ از مہاجرینِ اوّلین باشد۔ (إزالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء ج:۱ ص:۱۰، مطبوعہ سہیل اکیڈمی)۔
- (۲) قولہ تعالٰی: ﵟ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ ﵞ فیہ قولَان: أحدھما یعنی أرض مکۃ لأن المھاجرین سألوا اللہ تعالٰی ذٰلک فوعدوا کما وعدت بنواسرائیل ۔۔۔ الثانی: بلاد العرب والعجم۔ (تفسیر القرطبی ج:۱۲ ص:۲۹۹)۔
- (۳) وخلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ منھا خلافۃ الصدیق سنتان وثلاثۃ أشھر، وخلافۃ عمر عشر سنین ونصف، وخلافۃ عثمان اثنا عشر سنۃ، وخلافۃ علی اربعۃ سنین وتسعۃ أشھر، وخلافۃ الحسن ابنہ ستۃ أشھر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۸۳)۔
- (۴) ترمذی ج:۲ ص:۴۵، ابواب الفتن، باب ما جاء فی الخلافۃ، طبع رشیدیہ ساہیوال۔ ابوداؤد ج:۲ ص:۲۸۱، کتاب السنۃ، باب فی الخلفاء، طبع ایچ ایم سعید۔
- (۵) والخلافۃ ثلاثون سنۃ بعدھا ملک وامارۃ لقولہ علیہ السلام الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ۔۔۔ فمعاویۃ ومن بعدہ لَا یکون خلفاء بل ملوکًا وأُمراء۔ (شرح عقائد ص:۱۰۵، قدیم نسخہ)۔

