October 15, 2026 at 1:59 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

حدیثیں حضرت ابوبکرؓ و دیگر خلفائے راشدینؓ سے زیادہ حضرت ابوہریرہؓ سے کیوں مروی ہیں؟

سوال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے زیادہ حدیثیں کیوں روایت ہیں؟ حالانکہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ہونی چاہئے تھیں۔

جواب

جواب:۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے کثرتِ روایت کی وجہ طولِ عمر اور اس کام کے لئے وقف ہونا ہے۔(۱) حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا ایک تو زمانہ بہت مختصر تھا، دُوسرے اس وقت اکابر صحابہ موجود تھے، اس لئے ان کو روایت کی نوبت کم آئی۔(۲) حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا وقت بھی زیادہ طویل نہیں تھا، پھر مہماتِ خلافت میں اِشتغال کی وجہ سے زیادہ فرصت بھی نہ تھی۔(۳) علاوہ ازیں بعض اکابر پر شدّتِ احتیاط کا غلبہ تھا، اس لئے وہ روایت سے قصداً اِحتراز کرتے تھے۔

  1. (۱) عن أنس بن مالک بن أبی عامر قال: کنت عند طلحۃ بن عبیداللہ فدخل علیہ رجل فقال: یا أبا محمد! واللہ ما ندری ھٰذا الیمانی أعلم برسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام أنتم تقول علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ما لم یقل یعنی أبا ھریرۃ فقال طلحۃ: واللہ ما یشک انہ سمع من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما لم نسمع وعلم ما لم نعلم، انا کنا قوما أغنیاء لنا بیوت وأھلون کنا نأتی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طرفی النھار ثم نرجع وکان أبا ھریرۃ رضی اللہ عنہ مسکینًا لَا مال لہ ولَا أھل ولَا ولد انما کانت یدہ مع ید النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وکان یدور معہ حیث ما دار ولَا نشک انہ قد علم ما لم نعلم وسمع ما لم نسمع ولم یتھمہ أحد منّا انہ تقوّل علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما لم یقل۔ (مستدرک حاکم ج:۳ ص:۵۱۱، ۵۱۲ طبع دار الکتاب العربی، بیروت)۔ عن أبی ھریرۃ قال: ان الناس یقولون أکثر أبوھریرۃ ولو لَا آیتان فی کتاب اللہ ما حدثت حدیثًا، ثم یتلوا: إن الذین یکتمون ما أنزلنا من البیّنٰت والھدیٰ ۔۔۔إلٰی قولہ۔۔۔ الرحیم، ان إخواننا من المھاجرین کان یشغلھم الصفق بالأسواق وإن إخواننا من الأنصار کان یشغلھم العمل فی أموالھم وإن أباھریرۃ کان یلزم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یشبع بطنہ ویحضر ما لَا یحضرون، ویحفظ ما لَا یحفظون۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۲ باب حفظ العلم)۔ أیضًا واکثرھم حدیثًا ابو ھریرۃ ثم أنس بن مالک ۔۔۔الخ۔ (تدریب الراوی ص:۲۹۲) وھو أحفظ الصحابۃ قال الشافعی: أبو ھریرۃ أحفظ من روی الحدیث فی دھرہ أیضًا۔ (تدریب مع التقریب ص:۲۹۲، ۲۹۳، طبع بیروت)۔
  2. (۲) فوائد: السبب فی قلّۃ ما روی عن أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ۔۔۔ أنہ تقدمت وفاتہ قبل انتشار الحدیث واعتناء الناس بسماعہ وتحصیلہ وحفظہ۔ (تدریب الراوی مع تقریب النواوی ص:۲۹۳ طبع بیروت)۔
  3. (۳) تذکرۃ الحفاظ، جلد اوّل، تذکرۂ عمر۔
حدیثیں حضرت ابوبکرؓ و دیگر خلفائے راشدینؓ سے زیادہ حضرت ابوہریرہؓ سے کیوں مروی ہیں؟ - شہید اسلام