صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے خطبے میں حضرت عمرؓ روئے تھے یا حضرت ابوبکرؓ؟
سوال
’’جنگ‘‘ کا اسلامی صفحہ پڑھا، ریٹائرڈ جسٹس قدیرالدین صاحب اپنے مضمون ’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ۹؍ذی الحجہ کو جمعہ کے روز ۱۰ھ میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے میدان میں جو خطبہ دیا تھا، اس میں دِینِ اسلام کے مکمل ہونے کی نوید سنائی۔ اس وقت مسلمان خوش ہو رہے تھے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید اب آپ ہم لوگوں میں زیادہ دن نہ رہیں۔ لیکن مولانا صاحب! کچھ دن پہلے یہی مضمون اسلامی صفحے پر شاید مولانا احتشام الحق صاحب نے لکھا تھا، جس میں انہوں نے اسی خطبے کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بجائے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے رونے کے متعلق لکھا تھا، اور ہوبہو یہی الفاظ لکھے تھے۔ براہِ کرم انہی صفحات میں جواب دے کر ممنون فرمائیں تاکہ تسلی ہوجائے۔ پردیس میں عام کتب نہ ہونے کی وجہ سے مطالعے سے محروم ہیں، ورنہ سوال کی نوبت نہ آتی۔ اُمید ہے آپ ضرور جواب دیں گے۔
جواب
جواب:۔ اس آیت کے نازل ہونے کے موقع پر رونے کا واقعہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کا ہے،(۱) مگر جسٹس صاحب نے حدیث کے الفاظ صحیح نقل نہیں کئے، جس کی وجہ سے آپ کو اس واقعے کا اشتباہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے کے واقعے سے ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شاید اب آپ ہم لوگوں میں زیادہ دن نہ رہیں، بلکہ یہ فرمایا تھا: ’’اب تک تو ہمارے دِین میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن آج وہ مکمل ہوگیا، اور جب کوئی چیز مکمل ہوجاتی ہے تو اس میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ کمی اور نقصان شروع ہوجاتا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم سچ کہتے ہو!‘‘ (تفسیر ابنِ کثیر ج:۲ ص:۱۳)۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے کا واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات کے دوران ایک خطبے میں فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دُنیا میں رہے یا حق تعالیٰ کے جوارِ رحمت میں چلا جائے‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس اشارے کو سمجھ گئے اور رونے لگے، جبکہ دُوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم اس وقت نہیں سمجھے۔(۲)
- (۱) عن ھارون بن عنترۃ عن أبیہ قال: لما نزلت: ﵟ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ ٠٠٠٠ ﵞ وذٰلک یوم الحج الأکبر بکٰی عمر فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ما یبکیک؟ قال: أبکانی انا کنا فی زیادۃ من دیننا فأما إذا أکمل فإنہ لم یکمل شیء إلّا نقص، فقال: صدقت۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۴۶۶، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۲) عن أبی سعید الخدری أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلس علی المنبر فقال: ان عبدًا خیّرہ اللہ بین أن یؤتیہ من زھرۃ الدنیا ما شاء وبین ما عندہ، فاختار ما عندہ۔ فبکٰی أبوبکر، قال: فدیناک بآبائنا واُمھاتنا، فعجبنا لہ، فقال الناس: انظروا إلٰی ھٰذا الشیخ یخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن عبد خیّرہ اللہ بین أن یؤتیہ من زھرۃ الدنیا وبین ما عندہ، وھو یقول فدیناک بآبائنا واُمھاتنا، فکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھو المخیّر وکان أبوبکر أعلمنا۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۵۴۶ باب وفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسل

