October 15, 2026 at 1:59 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح مؤقت تھے؟

سوال

روزنامہ جنگ میں ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد‘‘ کے عنوان سے ایک صاحب کے جواب میں لکھا تھا کہ حضرت علیؓ نے حضرت فاطمۃ الزہراؓکی وفات کے بعد کئی نکاح کئے اور کئی اولادیں ہوئیں، آپ نے حضرت علیؓ کی بعض اولاد کے نام بھی درج فرمائے ہیں۔ مولانا صاحب! سوال یہ ہے کہ جناب فاطمۃ الزہراؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے جو متعدّد نکاح کئے تھے، کیا وہ دائمی تھے یا مؤقتی نکاح تھے؟ برائے مہربانی آپ اس کی وضاحت کریں یعنی فاطمۃ الزہراؓکی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے جو نکاح کئے تھے، کیا وہ دائمی تھے یا مؤقتی (متعہ) نکاح تھے؟ نیز حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے علاوہ حضرت علیؓ کی چند اَزواج کے نام درج فرمائیں۔

جواب

جواب:۔ اسلام میں نکاحِ مؤقت کا کوئی تصوّر نہیں،(۱) اگر ایسا ہوتا تو طلاق مشروع نہ کی جاتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو نکاح کئے وہ مؤقت نہیں تھے، آپ کی کچھ اَزواج آپ کی زندگی میں فوت ہوگئیں، بعض کو طلاق دے دی، کچھ آپ کے آخری لمحہ تک رہیں۔ حافظ ابنِ کثیرؒ البدایہ والنہایہ ج:۷ ص:۳۳۲ میں لکھتے ہیں کہ: آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیات میں کوئی اور نکاح نہیں کیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد کئی نکاح کئے، بعض بیویاں آپ کی زندگی میں فوت ہوگئیں، بعض کو طلاق دے دی۔ انتقال کے وقت آپ کی چار بیویاں اور اُنیس کنیزیں تھیں، چودہ، پندرہ صاحبزادے اور سترہ صاحبزادیاں تھیں۔ صاحبزادوں کے اسماء گرامی یہ ہیں: حسنؓ، حسینؓ، محسنؓ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، محمد بن حنفیہؓ، محمد اوسطؓ، محمد اصغرؓ، عبداللہؓ، عباسؓ، جعفرؓ، عبیداللہؓ، یحییٰ،ؓ عونؓ۔ اور صاحبزادیوں کے نام یہ ہیں: زینب کبریٰ، اُمِّ کلثوم (ان کا عقد امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا)، رقیہ، اُمّ الحسن، رملہ کبریٰ، اُمّ ہانی، میمونہ، زینب صغریٰ، رملہ صغریٰ، اُمِّ کلثوم صغریٰ، فاطمہ، امامہ، خدیجہ، اُمّ الکرام، اُمِّ جعفر، اُمِّ سلمہ، جمانہ۔(۲)

  1. (۱) عن أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعۃ ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۳۱)۔ أیضًا فی الدر المختار: وبطل نکاح متعۃ ومؤقت وان جھلت المدۃ أو طالت فی الأصح ولیس منہ ما لو نکحھا علٰی أن یطلّقھا بعد شھر أو نوی مکثہ معھا مدۃ معینۃ۔ (الدر المختار مع الرد المختار ج:۳ ص:۵۱)۔
  2. (۲) البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۳۳۱، ۳۳۳، طبع دار الفکر، بیروت۔
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح مؤقت تھے؟ - شہید اسلام