October 15, 2026 at 2:00 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

متعہ کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا اُن پر تہمت ہے

سوال

گزشتہ تین چار دن کی بات ہے کہ ایک آدمی نے میرے ساتھ بحث کی کہ متعہ میرج کرنا جائز ہے۔ میں نے اُس سے کہا کہ: متعہ میرج کسے کہتے ہیں؟ اُس نے کہا کہ: کسی لڑکی کو روپے وغیرہ دے کر رضامند کرکے اس کے ساتھ صحبت کرنی جائز ہے، یعنی ہم بستری کرنا جائز ہے۔ میں نے اس سے دلیل مانگی تو اُس نے کہا کہ: حضرت علیؓ ایک دفعہ ایک آدمی کے گھر گئے، صبح ہوئی تو اُس آدمی نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ: اے علی! آپ تو بہت بہادر ہیں، آپ تو بڑے طاقت والے ہیں، آپ کافی عرصہ گھر بھی نہیں جاتے، آخر یہ جو جسمانی خواہش ہوتی ہے، یہ آپ کیسے پوری کرتے ہیں؟ تو حضرت علیؓ نے کہا کہ: میں متعہ میرج کرلیتا ہوں، آج رات کو میں نے آپ کی بیٹی سے متعہ میرج کی ہے۔ اُس آدمی کے الفاظ تھے: میرے پاس اب تین گواہ بھی موجود ہیں، جن کے سامنے اس آدمی نے یہ باتیں کہیں۔ ایک آدمی بحیثیت مسلمان ہونے کے حضرت علیؓ کے لئے یہ کہتا ہے۔ آپ دِینی، فقہی، قرآن اور حدیث کی رُو سے تفصیل سے لکھیں کہ ایسے آدمی کے لئے کیا فتویٰ ہے اور کیا جرمانہ ہے؟ کیا وہ ان الفاظ کو واپس لے اور توبہ کرے؟

جواب

جواب:۔ یہ شخص جس سے آپ کی گفتگو ہوئی، شیعہ ہوگا۔ شیعہ صاحبان متعہ کرتے، کراتے ہیں، اور اس کو بہت بڑا کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جو شخص ایک بار متعہ کرے وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے درجے کو پہنچ جاتا ہے، اور دُوسری بار متعہ کرے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درجے کو، تیسری بار کرے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درجے کو، اور چوتھی بار کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے کو پالیتا ہے۔(۱)

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک متعہ حرام ہے،(۲) اور یہ زنا ہی کی ایک شکل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جس واقعے کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے، یہ خالص جھوٹ ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بہتان و اِلزام ہے۔ اس شخص کو اپنے فاسد اور غلط خیال سے توبہ کرنی چاہئے۔(۳)

  1. (۱) روایت کردند
  2. (۲) ثم ذکر فی الفتح أدلۃ تحریم المتعۃ وأنہ کان فی حجۃ الوداع وکان تحریم تأبید لَا خلاف فیہ بین الأئمۃ وعلماء الأمصار إلّا طائفۃ من الشیعۃ، ونسبۃ الجواز إلٰی مالک کما وقع فی الھدایۃ غلط۔ (رد المختار ج:۳ ص:۵۱)، ونکاح المتعۃ باطل وھو أن یقول لِامرأۃ اتمتع بک کذا مدۃ بکذا من المال۔ وقال مالک: وھو جائز، لأنہ کان مباحًا فیبقی إلٰی أن یظھر ناسخۃ، قلنا: ثبت النسخ بإجماع الصحابۃ وابن عباس صح رجوعہ إلٰی قولھم فتقرر الْإجماع۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۳۱۲، ۳۱۳، طبع مکتبہ شرکت علمیہ، ملتان)۔
  3. (۳) والعمدۃ ما ثبت فی الصحیحین عن أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعۃ ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۳۱، صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۶۷، باب نھی رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم عن نکاح المتعۃ أخیرًا، صحیح مسلم ج:۱ ص:۴۵۲ باب نکاح المتعۃ طبع کتب خانہ رحیمیہ، انڈیا)۔
متعہ کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا اُن پر تہمت ہے - شہید اسلام