October 15, 2026 at 1:59 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

جنگِ جمل، صِفّین کے فریقین کو گالی گلوچ کرنا

سوال

جنگِ جمل، صِفّین میں جو کہ مسلمانوں کی باہمی مشاجرات بیان کی جاتی ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ ان جنگوں کو بیان کرنا، ان کے واقعات کو دُہرانا، پھر کسی ایک فریق کی طرف داری کرکے دُوسرے فریقِ مسلم کو گالی گلوچ دینا جائز ہے؟

جواب

جواب:۔ ان واقعات کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کے لئے دُہرانا اور کسی فریق کو بُرا بھلا کہنا سخت گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اکابر کی بے ادبی سے بچائے۔(۱)

  1. (۱) ویکف عن ذکر الصحابۃ إلّا بخیر لما ورد من الأحادیث الصحیحۃ فی مناقبھم ووجوب الکف عن الطعن فیھم کقولہ علیہ السلام: لَا تسبّوا أصحابی ۔۔۔ وما وقع بینھم من المنازعات والمحاربات فلہ محامل وتأویلات۔ (شرح العقائد النسفیۃ ص:۱۶۱ طبع مکتبہ خیر کثیر کراچی)۔
جنگِ جمل، صِفّین کے فریقین کو گالی گلوچ کرنا - شہید اسلام