صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
الجواب
جواب
سوالات پر غور کرنے سے پہلے چند اُمور بطورِ تمہید عرض کردینا مناسب ہے:
اوّل:۔اہلِ حق کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی تحقیر و تنقیص جائز نہیں، بلکہ تمام صحابہؓ کو عظمت و محبت سے یاد کرنا لازم ہے، کیونکہ یہی اکابر، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اُمت کے درمیان واسطہ ہیں، اِمامِ اعظم رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’فقہ اکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’وَلَا نَذْكُرُ الصَّحَابَةَ (وَفِيْ نُسْخَةٍ: وَلَا نَذْكُرُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) إِلَّا بِخَيْرٍ۔‘‘ (شرح فقہ اکبر: ملا علی قاریؒ ص:۸۵، طبع مجتبائی ۱۳۴۸ھ)
ترجمہ:۔’’اور ہم، صحابہ کرامؓ کو (اور ایک نسخہ میں ہے کہ ہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحابؓ میں سے کسی کو) خیر کے سوا یاد نہیں کرتے۔‘‘
اِمام طحاویؒ اپنے عقیدہ میں فرماتے ہیں:
’وَنُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نُفْرِطُ فِيْ حُبِّ أَحَدٍ مِنْهُمْ، وَلَا نَتَبَرَّأُ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ، وَنُبْغِضُ مَنْ يُبْغِضُهُمْ وَبِغَيْرِ الْحَقِّ يَذْكُرُهُمْ، وَلَا نَذْكُرُهُمْ إِلَّا بِالْخَيْرِ، وَحُبُّهُمْ دِيْنٌ وَإِيْمَانٌ وَإِحْسَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ وَنِفَاقٌ وَطُغْيَانٌ۔‘‘
(عقیدۃ الطحاوی ص:۶۶، طبع ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ)
ترجمہ:۔’’اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ سے محبت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی محبت میں افراط و تفریط نہیں کرتے۔ اور نہ کسی سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں، اور ہم ایسے شخص سے بغض رکھتے ہیں جو ان میں سے کسی سے بغض رکھے یا ان کو نارَوا الفاظ سے یاد کرے۔ ان سے محبت رکھنا دِین و اِیمان اور اِحسان ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر و نفاق اور طغیان ہے۔‘‘
اِمام ابوزرعہ عبیداللہ بن عبدالکریم الرازی رحمہ اللہ (المتوفی ۲۶۴ھ) کا یہ ارشاد بہت سے اکابر نے نقل کیا ہے کہ:
’’إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْقُصُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيْقٌ، لِأَنَّ الرَّسُوْلَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا حَقٌّ، وَالْقُرْآنُ حَقٌّ، وَإِنَّمَا أَدَّى إِلَيْنَا هٰذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا يُرِيْدُوْنَ أَنْ يَجْرَحُوْا شُهُوْدَنَا لِيُبْطِلُوْا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ، وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلٰى وَهُمْ زَنَادِقَةٌ۔‘‘ (مقدمہ العواصم من القواصم ص:۳۴)
ترجمہ:۔’’جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیص کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زِندیق ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نزدیک حق ہیں، اور قرآنِ کریم حق ہے، اور قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ہمیں صحابہ کرامؓ ہی نے پہنچائے ہیں، یہ لوگ صحابہ کرامؓ پر جرح کرکے ہمارے دِین کے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کتاب و سنت کو باطل کردیں، حالانکہ یہ لوگ خود جرح کے مستحق ہیں، کیونکہ وہ خود زِندیق ہیں۔‘‘
یہ تو عام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں اہلِ حق کا عقیدہ ہے، جبکہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا شمار خواص صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ حضرت عباسؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: ’’عَمِّيْ وَصِنْوُ أَبِيْ(۱)‘‘ فرمایا کرتے تھے، یعنی ’’میرے چچا اور میرے باپ کی جگہ‘‘، اور ان کا بے حد اِکرام فرماتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے وسیلے سے اِستسقاء کرتے تھے،(۲) ان کے علاوہ حدیث کی کتابوں میں ان کے بہت سے فضائل و مناقب وارِد ہیں۔
اور حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے فضائل و مناقب تو حدِ شمار سے خارج ہیں، ان کے دیگر فضائل سے قطع نظر وہ اہلِ حق کے نزدیک خلیفۂ راشد ہیں، قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ ’’العواصم من القواصم‘‘ میں، جس کے حوالے آپ نے سوال میں درج کئے ہیں، لکھتے ہیں:
’’وَقُتِلَ عُثْمَانُ فَلَمْ يَبْقَ عَلَى الْأَرْضِ أَحَقُّ بِهَا مِنْ عَلِيٍّ، فَجَاءَتْهُ عَلَى قَدَرٍ فِيْ وَقْتِهَا وَمَحَلِّهَا، وَبَيَّنَ اللّٰهُ عَلٰى يَدَيْهِ مِنَ الْأَحْكَامِ وَالْعُلُوْمِ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يُبَيِّنَ. وَقَدْ قَالَ عُمَرُ: لَوْ لَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ! وَظَهَرَ مِنْ فِقْهِهِ وَعِلْمِهِ فِيْ قِتَالِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مِنِ اسْتِدْعَائِهِمْ، وَمُنَاظَرَتِهِمْ، وَتَرْكِ بَادِرَتِهِمْ، وَالتَّقَدُّمِ إِلَيْهِمْ قَبْلَ نَصْبِ الْحَرْبِ مَعَهُمْ، وَنِدَائِهِ: لَا نَبْدَأُ بِالْحَرْبِ، وَلَا يُتْبَعُ مُوَلٍّ، وَلَا يُجْهَزُ عَلٰى جَرِيْحٍ، وَلَا تُهَاجُ امْرَأَةٌ، وَلَا نَغْنَمُ لَهُمْ مَالًا. وَأَمَرَ بِقَبُوْلِ شَهَادَتِهِمْ وَالصَّلَاةِ خَلْفَهُمْ. حَتَّى قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ: لَوْ لَا مَا جَرَى مَا عَرَفْنَا قِتَالَ أَهْلِ الْبَغْيِ۔‘‘ (ص:۱۹۴)
ترجمہ:۔’’اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رُوئے زمین پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی خلافت کا مستحق نہیں تھا، چنانچہ نوشتۂ اِلٰہی کے مطابق انہیں خلافت اپنے ٹھیک وقت میں ملی، اور برمحل ملی۔ اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے وہ اَحکام و علوم ظاہر فرمائے جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ’’اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا!‘‘ اور اہلِ قبلہ سے قتال کرنے میں ان کے علم و تفقہ کے جوہر ظاہر ہوئے، مثلاً انہیں دعوت دینا، ان سے بحث و مناظرہ کرنا، ان سے لڑائی میں پہل نہ کرنا، اور ان کے ساتھ جنگ کرنے سے قبل یہ اعلان کرنا کہ ہم جنگ میں ابتدا نہیں کریں گے، بھاگنے والے کا تعاقب نہیں کیا جائے گا، کسی زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا، کسی خاتون سے تعرض نہیں کیا جائے گا، اور ہم ان کے مال کو غنیمت نہیں بنائیں گے، اور آپ کا یہ حکم فرمانا کہ اہلِ قبلہ کی شہادت مقبول ہوگی اور ان کی اقتدا میں نماز جائز ہے وغیرہ۔ حتیٰ کہ اہلِ علم کا قول ہے کہ: اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اہلِ قبلہ کے ساتھ قتال کے یہ واقعات پیش نہ آتے تو ہمیں اہلِ بغی کے ساتھ قتال کی صورت ہی معلوم نہ ہوسکتی۔‘‘
پس جس طرح کسی ایک نبی کی تکذیب پوری جماعتِ انبیائے کرام علیہم السلام کی تکذیب ہے، کیونکہ دراصل یہ وحیٔ الٰہی کی تکذیب ہے۔ ٹھیک اسی طرح کسی ایک خلیفۂ راشد کی تنقیص خلفائے راشدین کی پوری جماعت کی تنقیص ہے، کیونکہ یہ دراصل خلافتِ نبوّت کی تنقیص ہے۔ اسی طرح جماعتِ صحابہؓ میں سے کسی ایک کی تنقیص و تحقیر پوری جماعتِ صحابہؓ کی تنقیص ہے، کیونکہ یہ دراصل صحبتِ نبوّت کی تنقیص ہے، اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہْ! اَللہْ! فِیْ أَصْحَابِیْ، لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِّنْ بَعْدِیْ، فَمَنْ أَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ أَحَبَّھُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ أَبْغَضَھُمْ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۲۶)
ترجمہ:۔’’میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! ان کو میرے بعد ہدفِ ملامت نہ بنالینا، پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔‘‘
خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنا اور انہیں خیر کے ساتھ یاد کرنا لازم ہے، خصوصاً حضراتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم، جنھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نیابتِ نبوّت کا منصب حاصل ہوا۔ اسی طرح وہ صحابہ کرامؓ جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں محب و محبوب ہونا ثابت ہے، ان سے محبت رکھنا حُبِّ نبوی کی علامت ہے۔ اس لئے اِمام طحاویؒ اس کو دِین و اِیمان اور اِحسان سے تعبیر فرماتے ہیں، اور ان کی تنقیص و تحقیر کو کفر و نفاق اور طغیان قرار دیتے ہیں۔
دوم:۔ایک واقعے کے متعدّد اَسباب و علل ہوسکتے ہیں، اور ایک قول کی متعدّد توجیہات ہوسکتی ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے، یا کسی کے قول کی توجیہ کرتے ہوئے صاحبِ واقعہ کی حیثیت و مرتبہ کو ملحوظ رکھنا لازم ہوگا۔ مثلاً: ایک مسلمان یہ فقرہ کہتا ہے کہ: ’’مجھے فلاں ڈاکٹر سے شفا ہوئی‘‘، تو قائل کے عقیدے کے پیشِ نظر اس کو کلمۂ کفر نہیں کہا جائے گا۔ لیکن یہی فقرہ اگر کوئی دہریہ کہتا ہے تو یہ کلمۂ کفر ہوگا۔ یا مثلاً: کسی پیغمبر کی توہین و تذلیل اور اس کی داڑھی نوچنا کفر ہے، لیکن جب ہم یہی واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ان کی شان و حیثیت کے پیشِ نظر کسی کو اس کا وسوسہ بھی نہیں آتا۔(۳)
سوم:۔جس چیز کو آدمی اپنا حق سمجھتا ہے، اس کا مطالبہ کرنا، نہ کمال کے منافی ہے اور نہ اسے حرص پر محمول کرنا صحیح ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر کون کامل و مخلص ہوگا؟ لیکن حقوق میں بعض اوقات ان کے درمیان بھی منازعت کی نوبت آتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلے فرماتے تھے، مگر اس بات پر نکیر نہیں فرماتے تھے کہ یہ منازعت کیوں ہے؟ اور نہ حق طلبی کو حرص کہا جاتا ہے۔
چہارم:۔اِجتہادی رائے کی وجہ سے فہم میں خطا ہوجانا لائقِ مؤاخذہ نہیں، اور نہ یہ کمال و اخلاص کے منافی ہے۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام باجماعِ اہلِ حق معصوم ہیں، مگر اِجتہادی خطا کا صدور ان سے بھی ممکن ہے، لیکن ان پر چونکہ وحیٔ الٰہی اور عصمت کا پہرہ رہتا ہے، اس لئے انہیں خطائے اِجتہادی پر قائم نہیں رہنے دیا جاتا، بلکہ وحیٔ الٰہی فوراً انہیں متنبہ کردیتی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ دیگر کاملین معصوم نہیں، ان سے خطائے اِجتہادی سرزد ہوسکتی ہے، اور ان کا اس پر برقرار رہنا بھی ممکن ہے، البتہ حق واضح ہوجانے کے بعد وہ حضرات بھی اپنی خطائے اِجتہادی پر اِصرار نہیں فرماتے بلکہ بغیر جھجک کے اس سے رُجوع فرمالیتے ہیں۔(۴)
پنجم:۔رائے کا اختلاف ایک فطری اَمر ہے، اور کاملین و مخلصین کے درمیان اختلافِ رائے کی وجہ سے کشاکشی اور شکر رنجی پیدا ہوجانا بھی کوئی مستبعد اَمر نہیں، بلکہ روزمرّہ کا مشاہدہ ہے۔ قیدیانِ بدر کے قتل یا فدیہ کے بارے میں حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان جو اِختلافِ رائے ہوا، وہ کس کو معلوم نہیں؟ لیکن محض اس اختلافِ رائے کی وجہ سے کسی کا نام دفترِ اِخلاص و کمال سے نہیں کاٹا گیا۔ باوجودیکہ وحیٔ الٰہی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تائید کی، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پر ۔۔۔ جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل تھی ۔۔۔ رحیمانہ عتاب بھی ہوا،(۵) مگر کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضل و کمال اور صدیقیتِ کبریٰ میں کوئی اَدنیٰ فرق بھی آیا؟ اسی طرح بنوتمیم کا وفد جب بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تو اس مسئلے پر، کہ ان کا رئیس کس کو بنایا جائے؟ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلافِ رائے ہوا، جس کی بنا پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی تک نوبت پہنچی، اور سورۂ حجرات کی ابتدائی آیات اس سلسلے میں نازل ہوئیں،(۶) اس کے باوجود ان دونوں بزرگوں کے قرب و منزلت اور محبوبیت عنداللہ و عند رسولہٖ میں کوئی فرق نہیں آیا۔
الغرض اس کی بیسیوں نظیریں مل سکتی ہیں کہ انتظامی اُمور میں اختلافِ رائے کی بنا پر کشاکشی اور تلخی تک کی نوبت آسکتی ہے، مگر چونکہ ہر شخص اپنی جگہ مخلص ہے، اس لئے یہ کشاکشی ان کے فضل و کمال میں رخنہ انداز نہیں سمجھی جاتی۔
ششم:۔حکومت و امارت ایک بھاری ذمہ داری ہے، اور اس سے عہدہ برآ ہونا بہت ہی مشکل اور دُشوار ہے، اس لئے جو شخص اپنے بارے میں پورا اطمینان نہ رکھتا ہو کہ وہ اس عظیم ترین ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکے گا، اس کے لئے حکومت و امارت کی طلب شرعاً و عرفاً مذموم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے:
’’إِنَّکُمْ سَتَحْرُصُوْنَ عَلَی الْإِمَارَۃِ وَسَتَکُوْنُ نَدَامَۃً یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۵۸، کتاب الأحکام، باب ما یکرہ من الحرص علی الْإمارۃ)
ترجمہ:۔’’بے شک تم امارت کی حرص کروگے اور عنقریب یہ قیامت کے دن سراپا ندامت ہوگی۔ پس یہ دُودھ پلاتی ہے تو خوب پلاتی ہے اور دُودھ چھڑاتی ہے تو بُری طرح چھڑاتی ہے۔‘‘
لیکن جو شخص اس کے حقوق ادا کرنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو، اس کے لئے اس کا مطالبہ شرعاً و عقلاً جائز ہے، اور اگر وہ کسی خیر کا ذریعہ ہو تو مستحسن ہے، سیّدنا یوسف علیہ السلام کا اِرشاد قرآنِ کریم میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے شاہِ مصر سے فرمایا تھا:
ﵟ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ ٥٥ ﵞ (يوسف ٥٥)
ترجمہ:۔’’ملکی خزانوں پر مجھ کو مأمور کردو، میں ان کی حفاظت رکھوں گا، اور خوب واقف ہوں۔‘‘
اور قرآنِ کریم ہی میں سیّدنا سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دُعا بھی نقل کی گئی ہے:
ﵟ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٣٥ ﵞ (ص ٣٥)
ترجمہ:۔’’اے میرے رَبّ! میرا (پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لئے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانہ میں) کسی کو میسر نہ ہو۔‘‘ (بیان القرآن)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت و نیابت، جسے اسلام کی اصطلاح میں ’’خلافتِ راشدہ‘‘ کہا جاتا ہے، ایک عظیم الشان فضیلت و منقبت اور حسبِ ذیل وعدۂ اِلٰہی کی مصداق ہے:
ﵟوَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنٗاۚ يَعۡبُدُونَنِي لَا يُشۡرِكُونَ بِي شَيۡـٔٗاۚ ﵞ (النور ٥٥)
ترجمہ:۔’’(اے مجموعہ اُمت!) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں، ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اِتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطا فرمائے گا، جیسا کہ ان سے پہلے (اہلِ ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی، اور جس دِین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا ہے (یعنی اسلام) اس کو ان کے (نفعِ آخرت) کے لئے قوّت دے گا، اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدل باَمن کردے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں۔‘‘ (بیان القرآن)
جو شخص اس خلافت کی اہلیت رکھتا ہو، اس کے لئے اس کے حصول کی خواہش مذموم نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ درجے کے فضل و کمال کو حاصل کرنے کی فطری خواہش ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر میں یہ اعلان فرمایا کہ: ’’میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دُوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اس سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہر شخص اس فضیلت کو حاصل کرنے کا خواہش مند تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَۃَ اِلّا یَوْمَئِذٍ، قَـالَ: فَتَسَاوَرْتُ لَھَا رَجَاءً اَنْ ادَّعٰی لَھَا، قَالَ: فَدَعَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ فَأَعْطَاہُ إِیَّاھَا۔ الحدیث۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷۹)
ترجمہ:۔’’میں نے اس دن کے سوا امارت کو کبھی نہیں چاہا، پس میں اپنے آپ کو نمایاں کر رہا تھا، اس اُمید پر کہ میں اس کے لئے بلایا جاؤں۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا اور وہ جھنڈا اُن کو عنایت فرمایا۔‘‘
ظاہر ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ خواہش کرنا کہ امارت کا جھنڈا انہیں عنایت کیا جائے، اس بشارت اور اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تھا۔ شیخ محی الدین نوویؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’إِنَّمَا كَانَتْ مَحَبَّتُهُ لَهَا لِمَا دَلَّتْ عَلَيْهِ الْإِمَارَةُ مِنْ مَحَبَّتِهِ لِلّٰهِ وَلِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَحَبَّتِهِمَا لَهُ، وَالْفَتْحِ عَلٰى يَدَيْهِ۔‘‘ (حاشیہ صحیح مسلم)
ترجمہ:۔’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس دن امارت کی محبت و خواہش کرنا اس وجہ سے تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محب و محبوب ہونے کی دلیل تھی، اور اس شخص کے ہاتھ پر فتح ہونے والی تھی۔‘‘
الغرض خلافت نبوّت ایک غیرمعمولی شرف، امتیاز اور مجموعۂ فضائل و فواضل ہے، جو حضرات اس کے اہل تھے اور انہیں اس کا پورا اطمینان تھا کہ وہ اس کے حقوق اِن شاء اللہ پورے طور پر ادا کرسکیں گے، ان کے دِل میں اگر اس شرف و فضیلت کے حاصل کرنے کی خواہش ہو تو اس کو ’’خواہشِ اِقتدار‘‘ سے تعبیر کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ یہ کارِ نبوّت میں شرکت اور جارحۂ نبوی بننے کی حرص کہلائے گی، مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
’’اَیامِ خلافت بقیہ ایامِ نبوّت بودہ است۔ گویا در اَیامِ نبوّت حضرت پیغامبر صلی اللہ علیہ وسلم تصریحاً بزبان مے فرمود، و در اَیامِ خلافت ساکت نشستہ بدست و سر اشارہ مے فرماید۔‘‘ (ازالۃ الخفاء ج:۱ ص:۲۵)
ترجمہ:۔’’خلافتِ راشدہ کا دور، دورِ نبوّت کا بقیہ تھا۔ گویا دورِ نبوّت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صراحتاً ارشادات فرماتے تھے، اور دورِ خلافت میں خاموش بیٹھے ہاتھ اور سر کے اشارے سے سمجھاتے تھے۔‘‘
ان مقدمات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اب اپنے سوالات پر غور فرمائیے:
- (۱) وعن ابی أسید الساعدی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للعباس بن عبدالمطلب ۔۔۔ ثم قال: یا رَبّ! ھٰذا عمی وصنو أبی ۔۔۔الخ۔ (مجمع الزوائد ج:۹ ص:۳۲۲، کتاب المناقب)۔

