صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
۱:۔حضرتعلیرضیاللہعنہکاگھرمیںبیٹھجانا:
جواب
قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ نے پہلا قاصمہ (کمر توڑ حادثہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو قرار دیا ہے، اور اس سلسلے میں لکھا ہے کہ اس ہوش رُبا سانحے کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہوگیا تھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر وارفتگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی، وغیرہ وغیرہ۔
اس پوری عبارت سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس قیامت خیز سانحے کے جو اَثرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مرتب ہوئے، قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ ان اثرات کو ذِکر کر رہے ہیں، حضرت علی کرّم اللہ وجہہ پر اس حادثے کا یہ اثر ہوا تھا کہ وہ گھر میں عزلت نشین ہوگئے تھے۔
آپ نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ کسی محبوب ترین شخصیت کی رحلت کے بعد جہان ان کے لئے تیرہ و تار ہوجاتا ہے، ان کی طبیعت پر اِنقباض و افسردگی طاری ہوجاتی ہے، اور دِل پر ایک ایسی گرہ بیٹھ جاتی ہے جو کسی طرح نہیں کھلتی، ان کی طبیعت کسی سے ملنے یا بات کرنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوتی، وہ کسی قسم کا جزع فزع یا بے صبری کا اظہار نہیں کرتے، لیکن طبیعت ایسی بجھ جاتی ہے کہ مدتوں تک معمول پر نہیں آتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی محبوب اس خطۂ اَرضی پر نہیں ہوا، اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر کوئی عاشق زار اس چشمِ فلک نے نہیں دیکھا، ہمیں تو ان اکابر کے صبر و تحمل پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس عشق و محبت کے باوجود یہ حادثۂ عظیمہ کیسے برداشت کرلیا۔۔۔!
لیکن آپ اِنہیں عشاق کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔۔۔؟
راقم الحروف نے اپنے اکابر کو دیکھا ہے کہ جب درسِ حدیث کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے سانحۂ کبریٰ کا باب شروع ہوتا تو آنکھوں سے اشک ہائے غم کی جھڑی لگ جاتی، آواز گلوگیر ہوجاتی اور بسااوقات رونے کی ہچکیوں سے گھگی بندھ جاتی، جب اہلِ قلوب پر چودہ سو سال بعد بھی اس حادثۂ جان کاہ کا یہ اثر ہے تو جن عشاق کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ بیت گیا، سوچنا چاہئے کہ ان کا کیا حال ہوا ہوگا۔۔۔؟
رفتم و از رفتن من عالمے ویران شد
من مگر شمعم چوں رفتم بزم برہم ساختم
خاتونِ جنت، جگر گوشۂ رسول حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتی تھیں: ’’انس! تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو!‘‘(۷)
(صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۴۱)
اور مسندِ احمد کی روایت میں ہے: ’’تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرکے خود لوٹ آؤ!‘‘(۸) (حیاۃ الصحابہ ج:۲ ص:۳۲۸)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہوئی تو فرمایا: ’’آہ! میری کمر ٹوٹ گئی۔‘‘ صحابہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ مسجد میں پہنچے مگر کسی کو توقع نہ تھی کہ وہ مسجد تک آسکیں گے۔(۹)
(حیاۃ الصحابہ ج:۲ ص:۳۲۳)
اگر ہم درد کی اس لذّت اور محبت کی اس کسک سے ناآشنا ہیں، تو کیا ہم سے یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ جن حضرات پر یہ قیامت گزرگئی تو ہم ان کو معذور ہی سمجھ لیں۔۔۔!!
اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر میں بیٹھ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جمعہ، جماعت اور دِینی و معاشرتی حقوق و فرائض ہی کو چھوڑ بیٹھے تھے، شیخ محب الدین الخطیب رحمہ اللہ حاشیہ العواصم میں لکھتے ہیں:
’’وَأَضَافَ الْحَافِظُ ابْنُ كَثِيْرٍ فِيْ الْبِدَايَةِ وَالنِّهَايَةِ (ج:۵ ص:۲۴۹) أَنَّ عَلِيًّا لَمْ يَنْقَطِعْ عَنْ صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ خَلْفَ الصِّدِّيقِ، وَخَرَجَ مَعَهُ إِلٰى ذِي الْقَصَّةِ لَمَّا خَرَجَ الصِّدِّيقُ شَاهِدًا سَيْفَهُ يُرِيْدُ قِتَالَ أَهْلِ الرِّدَّةِ۔‘‘ (ص:۳۸)
ترجمہ:۔’’اور حافظ ابنِ کثیرؒ نے البدایہ والنہایہ (ج:۵ ص:۲۴۹) میں اس پر اتنا اِضافہ کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی اِقتدا میں نماز پڑھنے کا سلسلہ ترک نہیں فرمایا تھا، نیز جب حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ مرتدین سے قتال کرنے کے لئے تلوار سونت کر ’’ذی القصہ‘‘ تشریف لے گئے تو حضرت علی کرّم اللہ وجہہ بھی ان کے ساتھ نکلے تھے۔‘‘
پس جب آپ سے نہ دِینی و معاشرتی فرائض میں کوتاہی ہوئی اور نہ نصرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ میں ان سے کوئی اَدنیٰ تخلّف ہوا تو کیا اس بنا پر کہ شدّتِ غم کی وجہ سے ان پر خلوَت نشینی کا ذوق غالب آگیا تھا، آپ انہیں موردِ اِلزام ٹھہرائیں گے۔۔۔؟
- (۷) عن أنس ۔۔۔ فلما دفن قالت فاطمۃ: یا أنس! اطابت أنفسکم أن تحثوا علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم التراب؟
- (۸) وعند أحمد: قالت فاطمۃ رضی اللہ عنھا: یا أنس! أطابت أنفسکم أن دفنتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی التراب ورجعتم۔
- (۹) سمعتم یقولون: مات محمد! فاشتد أبوبکر وھو یقول: وای انقطاع ظھری! فما بلغ المسجد حتّٰی ظنوا انہ لم یبلغ۔

