October 15, 2026 at 3:11 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

۲:۔طلبِ‌میراث:

جواب

جہاں تک بار بار ترکہ مانگنے کا تعلق ہے، یہ محض غلط فہمی ہے، ایک بار صدیقی دور میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ترکہ ضرور مانگا تھا، اور بلاشبہ یہ ان کی اِجتہادی رائے تھی، جس میں وہ معذور تھے، اسے اپنا حق سمجھ کر مانگ رہے تھے، اس وقت نصِ نبوی:

’’لَا نُوَرَّثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ!‘‘(۱۰)

ترجمہ:۔’’ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، جو کچھ ہم چھوڑ کر جائیں، وہ صدقہ ہے!‘‘

کا یا تو ان کو علم نہیں ہوگا یا ممکن ہے کہ حادثۂ وصالِ نبوی کی وجہ سے ان کو ذہول ہو، جس طرح اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آیت: ’’وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ‘‘ سے ذہول ہوگیا تھا، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیت (دیگر آیات کے ساتھ) برسرِ منبر تلاوت فرمائی تو انہیں ایسا محسوس ہوا، گویا یہ آیت آج ہی نازل ہوئی تھی۔(۱۱)

الغرض ان اکابر کا ترکہ طلب کرنا، نہ مال کی حرص کی بنا پر تھا اور نہ یہ ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس ارشادِ نبوی سننے کے بعد انہوں نے دوبارہ کبھی مطالبہ دُہرایا ہو، یا انہوں نے اس حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کوئی منازعت فرمائی ہو۔ قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’وَقَالَ لِفَاطِمَةَ وَعَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نُوَرَّثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ، فَذَكَرَ الصَّحَابَةُ ذٰلِكَ۔‘‘ (العواصم ص:۴۸)

ترجمہ:۔’’اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرات فاطمہ، علی اور عباس رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں، وہ صدقہ ہے!‘‘ تب دیگر صحابہؓ نے بھی یہ حدیث ذکر کی۔‘‘

اس کے حاشیہ میں شیخ محب الدین الخطیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ ابْنُ تَيْمِيَّةَ فِيْ مِنْهَاجِ السُّنَّةِ (ج:۲ ص:۱۵۸) قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نُوَرَّثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ! رَوَاهُ عَنْهُ أَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُوْ هُرَيْرَةَ، وَالرِّوَايَةُ عَنْ هٰؤُلَاءِ ثَابِتَةٌ فِيْ الصِّحَاحِ وَالْمَسَانِيْدِ۔‘‘ (ص:۴۸)

ترجمہ:۔’’شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ منہاج السنۃ (ج:۲ ص:۱۵۸) میں لکھتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ: ’’ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے!‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مندرجہ ذیل حضرات روایت کرتے ہیں: حضرات ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف، عباس بن عبدالمطلب، اَزواجِ مطہرات اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور ان حضرات کی احادیث صحاح و مسانید میں ثابت ہیں۔‘‘

اس سے واضح ہے کہ حدیث: ’’لَا نُوَرَّثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ!‘ کہ خود حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما بھی روایت کرتے ہیں، اس لئے یا تو ان کو اس سے پہلے اس حدیث کا علم نہیں ہوگا یا وقتی طور پر ذہول ہوگیا ہوگا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کے مفہوم میں کچھ اشتباہ ہوا ہو، اور وہ اس کو صرف منقولات کے بارے میں سمجھتے ہوں، بہرحال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متنبہ کردینے کے بعد انہوں نے نہ اس حدیث میں کوئی جرح و قدح فرمائی، نہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے منازعت کی، بلکہ اپنے موقف سے دستبردار ہوگئے۔

اور یہ ان مؤمنینِ قانتین کی شان ہے جن میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ الغرض ’’بار بار ترکہ مانگنے‘‘ کی جو نسبت ان اکابر کی طرف سوال میں کی گئی ہے، وہ صحیح نہیں۔ ایک بار انہوں نے مطالبہ ضرور کیا تھا، جس میں معذور تھے، مگر وضوحِ دلیل کے بعد انہوں نے حق کے آگے سرِ تسلیم خم کردیا۔ البتہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت میں یہ درخواست ضرور کی تھی کہ ان اوقافِ نبویہ کی تولیت ان کے سپرد کردی جائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اَوّلاً اس میں کچھ تأمل ہوا، لیکن بعد میں ان کی رائے بھی یہی ہوئی، اور یہ اوقاف ان کی تحویل میں دے دئیے گئے۔ بعد میں ان اوقاف کے انتظامی اُمور میں ان کے درمیان منازعات کی نوبت آئی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علیؓ کی شکایت کی (جس کا تذکرہ سوال سوم میں کیا گیا ہے)، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ درخواست کی کہ یہ اوقاف تقسیم کرکے دونوں کی الگ الگ تولیت میں دے دئیے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست مسترد فرمادی۔

صحیح بخاری میں مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کی طویل روایت کئی جگہ ذکر کی گئی ہے،’’باب فرض الخمس‘‘ میں ان کی روایت کے متعلقہ الفاظ یہ ہیں:

’’ثُمَّ جِئْتُمَانِیْ تَکَلَّمَانِیْ وَکَلَّمْتُکُمَا وَاحِدَۃً وَّأَمْرُکُمَا وَاحِدٌ جِئْتَنِیْ یَا عَبَّاسُ! تَسْأَلُنِیْ نَصِیْبَکَ مِنْ إِبْنِ أَخِیْکَ وَجَاءَنِیْ ھٰـذَا یُرِیْدَ عَلِیًّا یُرِیْدُ نَصِیْبَ امْرَأَتِہٖ مِنْ أَبِیْھَا، فَقُلْتُ لَکُمَا: إِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَا نُوْرِثُ، مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ!‘‘ فَلَمَّا بَدَا لِیْ أَنْ أَدْفَعُہٗ إِلَیْکُمَا، قُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُھَا إِلَیْکُمَا عَلٰی اَنْ عَلَیْکُمَا عَھْدُ اللہِ وَمِیْثَاقِہٖ لِتَعْمَلَانِ فِیْھَا بِمَا عَمِلَ فِیْھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا عَمِلَ فِیْھَا أَبُوْ بَکْرٍ، وَبِمَا عَمِلْتَ فِیْھَا مُنْذُ وَلَّیْتُھَا، فَقُلْتُمَا: إِدْفَعْھَا إِلَیْنَا، فَبِذٰلِکَ دَفَعْتُھَا إِلَیْکُمَا، فَأَنْشُدُکُمْ بِاللہِ ھَلْ دَفَعْتُھَا إِلَیْہِمَا بِذٰلِکَ؟ قَالَ الرَّھْطُ: نَعَمْ! ثُمَّ أَقْبَلَ عَلٰی عَلِیٍّ وَّعَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَنْشُدُکُمَا بِاللہِ ھَلْ دَفَعْتُھَا إِلَیْکُمَا بِذٰلِکَ؟ قَالَ: نَعَمْ! قَالَ: فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّیْ قَضَاءَ غَیْرِ ذٰلِکَ؟ فَوَاللہِ الَّذِیْ بِإِذْنِہٖ تَقُوْمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ! لَا أَقْضِیْ فِیْھَا غَیْرَ ذٰلِکَ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْھَا فَادْفَعَاھَا إِلَیَّ، فَإِنِّیْ أَکْفِیْکَمَاھَا۔‘‘ (بخاری، باب فرض الخمس ج:۱ ص:۴۳۶)

ترجمہ:۔’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تم دونوں میرے پاس آئے درآنحالیکہ تمہاری بات ایک تھی اور تمہارا معاملہ ایک تھا، اے عباس! تم میرے پاس آئے، تم مجھ سے اپنے بھتیجے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے مال سے حصہ مانگ رہے تھے، اور یہ صاحب، یعنی علیؓ اپنی بیوی کا حصہ ان کے والد کے مال سے مانگ رہے تھے۔ پس میں نے تم سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں، وہ صدقہ ہے!‘‘ پھر میری رائے ہوئی کہ یہ اوقاف تمہارے سپرد کردئیے جائیں، چنانچہ میں نے تم سے کہا کہ: اگر تم چاہو تو میں تمہارے سپرد کئے دیتا ہوں مگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق ہوگا کہ تم ان میں وہی معاملہ کروگے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، اور جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا، اور جو میں نے کیا، جب سے یہ میری تولیت میں آئے ہیں۔ تم نے کہا کہ: ٹھیک ہے، یہ آپ ہمارے سپرد کردیجئے۔ چنانچہ اسی شرط پر میں نے یہ اوقاف تمہارے سپرد کئے۔ پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا میں نے اسی شرط پر ان کے سپرد کئے تھے یا نہیں؟ سب نے کہا: جی ہاں! پھر حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا میں نے یہ اوقاف اسی شرط پر تمہاری تحویل میں دئیے تھے یا نہیں؟ دونوں نے کہا: جی ہاں! اسی شرط پر دئیے تھے۔ فرمایا: اب تم مجھ سے اور فیصلہ چاہتے ہو (کہ دونوں کو الگ الگ حصہ تقسیم کرکے دے دُوں)، پس قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں! میں اس کے سوا تمہارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا، اب اگر تم ان اوقاف کی تولیت سے عاجز آگئے ہو تو میرے سپرد کردو، میں ان کے معاملے میں تمہاری کفایت کروں گا۔‘‘

اس روایت کے ابتدائی الفاظ سے یہ وہم ہوتا ہے کہ ان دونوں اکابر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پھر میراث کا مطالبہ کیا تھا، مگر سوال و جواب اور اس روایت کے مختلف ٹکڑوں کو جمع کرنے کے بعد مراد واضح ہوجاتی ہے کہ اس مرتبہ ان کا مطالبہ ترکہ کا نہیں تھا، بلکہ ان کے نزدیک بھی یہ حقیقت مسلّم تھی کہ ان اراضی کی حیثیت وقف کی ہے، اور وقف میں میراث جاری نہیں ہوتی، اس بار ان کا مطالبہ ترکہ کا نہیں تھا، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ اس کی تولیت ان کے سپرد کردی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اَوّلاً اس میں تأمل ہوا کہ کہیں یہ تولیت بھی میراث ہی نہ سمجھ لی جائے، لیکن غور و فکر کے بعد ان حضرات کی درخواست کو آپ نے قبول فرمالیا اور یہ اوقاف ان دونوں حضرات کے سپرد کردئیے گئے۔

پھر جس طرح انتظامی اُمور میں متولیانِ وقف میں اختلافِ رائے ہوجاتا ہے، ان کے درمیان بھی ہونے لگا، حضرت علی رضی اللہ عنہ علم و فقاہت میں چونکہ فائق تھے، اس لئے وہ اپنی رائے کو ترجیح دیتے تھے، گویا عملی طور پر بیشتر تصرف ان اوقاف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا چلتا تھا، اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے تصرفات مغلوب تھے، اس سے ان کو شکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ ان اوقاف کو تقسیم کرکے ہر ایک کا زیرِ تصرف حصہ الگ کردیا جائے، مگر حضرت عمرؓ نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا کہ یا تو اتفاقِ رائے سے دونوں اس کا انتظام چلاؤ، ورنہ مجھے واپس کردو، میں خود ہی اس کا انتظام کرلوں گا۔

اور علیٰ سبیل التنزّل یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ حضرات، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی پہلی بار طلبِ ترکہ ہی کے لئے آئے تھے، تب بھی ان کے موقف پر کوئی علمی اِشکال نہیں، اور نہ ان پر مال و دولت کی حرص کا اِلزام عائد کرنا ہی دُرست ہے، بلکہ یوں کہا جائے گا کہ ان کو حدیث کی تأویل میں اختلاف تھا، جیسا کہ بخاری شریف کے حاشیہ میں اس کی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔

شرح اس کی یہ ہے کہ حدیث: ’’لَا نُوْرِثُ، مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃً!‘‘ تو ان کے نزدیک مسلّم تھی، مگر وہ اس کو صرف منقولات کے حق میں سمجھتے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو منقولات و غیرمنقولات سب کے حق میں عام قرار دیا، بلاشبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حدیث کا جو مطلب سمجھا، وہی صحیح تھا۔ لیکن جب تک ان حضرات کو اس مفہوم پر شرحِ صدر نہ ہوجاتا، ان کو اِختلاف کرنے کا حق حاصل تھا، اس کی نظیر مانعینِ زکوٰۃ کے بارے میں حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کا مشہور مناظرہ ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے بار بار کہتے تھے:

’’کَیْفَ تُقَاتِلَ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا إِلٰـہَ إِلّا اللہ، فَمَنْ قَالَھَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّیْ مَالَہٗ وَنَفْسَہٗ إِلّا بِحَقِّہٖ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللہِ۔‘‘(صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۸)

ترجمہ:۔’’آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کرسکتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ ’’لا الٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کے قائل ہوجائیں، پس جو شخص اس کلمے کا قائل ہوگیا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی، مگر حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔‘‘

یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث کا مفہوم سمجھنے میں دِقت پیش آرہی ہے، اور وہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے موقف کو خلافِ حدیث سمجھ کر ان سے بحث و اختلاف کرتے ہیں، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی اِرشادِ نبوی کا وہ مفہوم کھول دیا جو حضرت صدیقِ اکبرؓ پر کھلا تھا۔ جب تک انہیں شرحِ صدر نہیں ہوا انہوں نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے نہ صرف اختلاف کیا، بلکہ بحث ومناظرہ تک نوبت پہنچی۔ ٹھیک اسی طرح ان حضرات کو بھی حدیث: ’’لَا نُوْرِثُ، مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃً!‘‘ میں جب تک شرحِ صدر نہیں ہوا کہ اس کا مفہوم وہی ہے جو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے سمجھا، تب تک ان کو اِختلاف کا حق تھا، اور ان کا مطالبہ ان کے اپنے اِجتہاد کے مطابق بجا اور دُرست تھا۔ لیکن بعد میں ان کو بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح شرحِ صدر ہوگیا، اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے موقف کو صحیح اور دُرست تسلیم کرلیا، جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے اپنے دورِ خلافت میں ان اوقاف کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی، بلکہ ان کی جو حیثیت حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ متعین کرگئے تھے، اسی کو برقرار رکھا۔

اگر ان کو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے موقف پر شرحِ صدر نہ ہوا ہوتا تو ان اوقاف کی حیثیت تبدیل کرنے سے انہیں کوئی چیز مانع نہ ہوتی۔

خلاصہ یہ کہ مطالبۂ ترکہ ان حضرات کی طرف سے ایک بار ہوا، بار بار نہیں، اور اس کو مال و دولت کی حرص سے تعبیر کرنا کسی طرح بھی زیبا نہیں، اس کو اِجتہادی رائے کہہ سکتے ہیں، اور اگر وہ اس سے رُجوع نہ بھی کرتے تب بھی لائقِ ملامت نہ تھے، اب جبکہ انہوں نے اس سے رُجوع بھی کرلیا تو یہ ان کی بے نفسی و للہیت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے، اس کے بعد بھی ان حضرات پر لب کشائی کرنا نقصِ علم کے علاوہ نقصِ اِیمان کی بھی دلیل ہے۔

  1. (۱۱) ﵟ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ ﵞ ۔۔۔ حتّٰی فرغ من الآیۃ ثم قال: فمن کان یعبد اللہ فان اللہ حیٌّ لَا یموت، ومن کان یعبد محمدًا فإن محمدًا قد مات۔ فقال عمر: أو انھا فی کتاب اللہ؟ ما شعرت أنھا فی کتاب اللہ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۵ ص:۲۴۲) فقال عمر: ھٰذہ الآیۃ فی القرآن؟ واللہ! ما علمت أن ھٰذہ الآیۃ أُنزلت قبل الیوم۔ (أیضًا ج:۵ ص:۲۴۳، طبع دار الفکر، بیروت)۔
۲:۔طلبِ‌میراث: - شہید اسلام