October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

۳:۔حضرت‌علی‌اور‌حضرت‌عباس‌رضی‌اللہ‌عنہما‌کی‌باہمی‌منازعت:

جواب

اس منازعت کا منشا اُوپر ذکر کیا جاچکا ہے، اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ یہ منازعت کسی نفسانیت کی وجہ سے نہیں تھی، نہ مال و دولت کی حرص سے اس کا تعلق ہے، بلکہ اوقاف کے اِنتظام و اِنصرام میں رائے کے اختلاف کی بنا پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وقتی طور پر شکایت پیدا ہوگئی تھی، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے، ایسا اختلافِ رائے نہ مذموم ہے، نہ فضل و کمال کے منافی ہے۔ جہاں تک حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کا تعلق ہے جو سوال میں نقل کئے گئے ہیں، اور جن کے حوالے سے ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ ان پر اخلاقی پستی کا فتویٰ صادر کیا گیا ہے، تو سائل نے یہ الفاظ تو دیکھ لئے مگر یہ نہیں سوچا کہ یہ الفاظ کس نے کہے تھے؟ کس کو کہے تھے؟ اور ان دونوں کے درمیان خوردی و بزرگی کا کیا رشتہ تھا؟ اور عجیب تر یہ کہ قاضی ابوبکر بن العربیؒ کی جس کتاب کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں، اسی کتاب میں خود موصوف نے جو جواب دیا ہے، اسے بھی نظرانداز کردیا گیا۔ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ ’’العواصم‘‘ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کو نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’قُلْنَا: أَمَّا قَوْلُ الْعَبَّاسِ لِعَلِيٍّ، فَقَوْلُ الْأَبِ لِلِابْنِ، وَذٰلِكَ عَلَى الرَّأْسِ مَحْمُوْلٌ، وَفِيْ سَبِيْلِ الْمَغْفِرَةِ مَبْذُوْلٌ، وَبَيْنَ الْكِبَارِ وَالصِّغَارِ، فَكَيْفَ الْآبَاءُ وَالْأَبْنَاءُ، مَغْفُوْرٌ مَوْصُوْلٌ۔‘‘(ص:۱۹۳ طبع: بیروت)

ترجمہ:۔’’ہم کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے بارے میں حضرت عباسؓ کے الفاظ، بیٹے کے حق میں باپ کے الفاظ ہیں، جو سر آنکھوں پر رکھے جاتے ہیں، اور سبیل مغفرت میں صرف کئے جاتے ہیں، بڑے اگر چھوٹوں کے حق میں ایسے الفاظ استعمال کریں تو انہیں لائقِ مغفرت اور صلہ رحمی پر محمول کیا جاتا ہے، چہ جائیکہ باپ کے الفاظ بیٹے کے حق میں۔‘‘

اور ’’العواصم‘‘ ہی کے حاشیہ میں فتح الباری (ج:۶ ص: ۱۲۵) کے حوالے سے لکھا ہے:

’’قَالَ الْحَافِظُ: وَلَمْ أَرَ فِيْ شَيْءٍ مِنَ الطُّرُقِ أَنَّهُ صَدَرَ مِنْ عَلِيٍّ فِيْ حَقِّ الْعَبَّاسِ شَيْءٌ، بِخِلَافِ مَا يُفْهَمُ مِنْ قَوْلِهِ فِيْ رِوَايَةِ عَقِيْلٍ: “اسْتَبَّا”، وَاسْتِصْوَابُ الْمَازَرِيِّ صَنِيْعَ مَنْ حَذَفَ هٰذِهِ الْأَلْفَاظَ مِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ، وَقَالَ: لَعَلَّ بَعْضَ الرُّوَاةِ وَهَمَ فِيْهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَحْفُوْظَةً، فَأَجْوَدُ مَا تُحْمَلُ عَلَيْهِ أَنَّ الْعَبَّاسَ قَالَهَا دَلَالًا عَلٰى عَلِيٍّ، لِأَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ، فَأَرَادَ رَدْعَهُ عَمَّا يَعْتَقِدُ أَنَّهُ مُخْطِئٌ فِيْهِ۔‘‘ (ص:۱۳۲ طبع: بیروت)

ترجمہ:۔’’حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ کسی روایت میں میری نظر سے یہ نہیں گزرا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں کچھ کہا گیا ہو، بخلاف اس کے جو عقیل کی روایت میں ’’استبا‘‘ کے لفظ سے سمجھا جاتا ہے، اور مازریؒ نے ان راویوں کے طرزِ عمل کو دُرست قرار دیا ہے جنھوں نے اس حدیث میں ان الفاظ کے ذکر کو حذف کردیا ہے۔ مازریؒ کہتے ہیں: غالباً کسی راوی کو وہم ہوا ہے اور اس نے غلطی سے یہ الفاظ نقل کردئیے ہیں، اور اگر یہ الفاظ محفوظ ہوں تو ان کا عمدہ ترین محمل یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ناز کی بنا پر کہے، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت ان کے نزدیک اولاد کی تھی، اس لئے پُرزور الفاظ میں ان کو ایسی چیز سے روکنا چاہا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ غلطی پر ہیں۔‘‘

حافظؒ کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل اُمور منقح ہوگئے:

اوّل:۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی نامناسب لفظ سرزد نہیں ہوا، اور عقیل کی روایت میں ’’استبا‘‘ کے لفظ سے جو اس کا وہم ہوتا ہے، وہ صحیح نہیں۔

دوم:۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے جو اَلفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نقل کئے گئے ہیں، ان میں بھی راویوں کا اختلاف ہے، بعض ان کو نقل کرتے ہیں اور بعض نقل نہیں کرتے۔ حافظؒ، مازریؒ کے حوالے سے ان راویوں کی تصویب کرتے ہیں، جنھوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے، جن راویوں نے نقل کئے ہیں، ان کا تخطیۂ کرتے ہیں اور اسے کسی راوی کا وہم قرار دیتے ہیں۔

سوم:۔بالفرض یہ الفاظ محفوظ بھی ہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹے کی ہے، اور والدین، اولاد کے حق میں اگر اَز راہِ عتاب ایسے الفاظ استعمال کریں تو ان کو بزرگانہ ناز پر محمول کیا جاتا ہے، نہ کوئی عقل مند اِن الفاظ کو ان کی حقیقت پر محمول کیا کرتا ہے اور نہ والدین سے ایسے الفاظ کے صدور کو لائقِ ملامت تصوّر کیا جاتا ہے، اس لئے حضرت عباسؓ کے یہ الفاظ بزرگانہ ناز پر محمول ہیں۔

تمہیدی نکات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی طرف اشارہ کرچکا ہوں، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اس واقعے کو موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے ملاکر دیکھئے! کیا یہ واقعہ اس واقعے سے بھی زیادہ سنگین ہے؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس عتاب و غضب سے ان کے مقام و مرتبے پر کوئی حرف نہیں آتا، تو اگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کے حق میں اپنے مقام و مرتبے کے لحاظ سے کچھ الفاظ استعمال کرلئے تو ان پر ۔۔۔نعوذ باللہ! ثم نعوذ باللہ!۔۔۔ اخلاقی پستی کا فتویٰ صادر کر ڈالنا، میں نہیں سمجھتا کہ دِین و اِیمان یا عقل و دانش کا کون سا تقاضا ہے؟ بلاشبہ گالی گلوچ شرفاء کا وطیرہ نہیں، مگر یہاں نہ تو بازاری گالیاں دی گئی تھیں، اور نہ کسی غیر کے ساتھ سخت کلامی کی گئی تھی، کیا اپنی اولاد کو سخت الفاظ میں عتاب کرنا بھی وطیرۂ شرفاء سے خارج ہے؟ اور پھر حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دُعا وارِد ہے:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَھْدًا لَّنْ تُخْلِفَنِیْہِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ آذَیْتُہٗ، شَتَمْتُہٗ، لَعَنْتُہٗ، جَلَدْتُّہٗ، فَاجْعَلْھَا لَہٗ صَلٰوۃً وَّزَکٰوۃً وَّقُرْبَۃً تُقَرِّبُہٗ بِھَا إِلَیْکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۲۴)

ترجمہ:۔’’اے اللہ! میں آپ سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں، آپ میرے حق میں اس کو ضرور پورا کردیجئے، کیونکہ میں بھی انسان ہی ہوں، پس جس مؤمن کو میں نے ستایا ہو، اسے کوئی نامناسب لفظ کہا ہو، اس پر لعنت کی ہو، اس کو مارا ہو، آپ اس کو اس شخص کے حق میں رحمت و پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بنادیجئے کہ اس کی بدولت اس کو قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائیں۔‘‘

اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سب و شتم کی نسبت فرمائی ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے حق میں میری زبان سے ایسا لفظ نکل گیا ہو جس کا وہ مستحق نہیں تو آپ اس کو اس کے لئے رحمت و قربت کا ذریعہ بنادیجئے۔ کیا اس کا ترجمہ ’’گالی گلوچ‘‘ کرکے ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اخلاقی پستی کی تہمت دھری جائے گی؟ اور اسے وطیرۂ شرفاء کے خلاف کہا جائے گا۔۔۔؟ حق تعالیٰ شانہ سخن فہمی اور مرتبہ شناسی کی دولت سے کسی مسلمان کو محروم نہ فرمائے۔

۳:۔حضرت‌علی‌اور‌حضرت‌عباس‌رضی‌اللہ‌عنہما‌کی‌باہمی‌منازعت: - شہید اسلام