October 15, 2026 at 3:11 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

۴:۔لاٹھی‌کی‌حکومت:

جواب

حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’أَنْتَ وَاللہِ بَعْدَ ثَلٰثٍ عَبْدُ الْعَصَا۔‘‘ (بخدا! تم تین دن بعد محکوم ہوگے) صحیح بخاری (ج:۲ ص:۶۳۹) کے حاشیہ میں ’’عَبْدُ الْعَصَا‘‘

’’كِنَايَةٌ عَنْ صَيْرُوْرَتِهِ تَابِعًا لِغَيْرِهِ، كَذَا فِيْ التَّوْشِيْحِ. قَالَ فِيْ الْفَتْحِ: وَالْمَعْنٰى أَنَّهُ يَمُوْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَتَصِيْرُ أَنْتَ مَأْمُوْرًا عَلَيْكَ، وَهٰذَا مِنْ قُوَّةِ فِرَاسَةِ الْعَبَّاسِ۔‘‘

ترجمہ:۔’’یہ اس سے کنایہ ہے کہ وہ دُوسروں کے تابع ہوں گے۔ توشیح میں اسی طرح ہے۔ حافظؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ: مراد یہ ہے کہ تین دن بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوجائے گا، اور تم پر دُوسروں کی امارت ہوگی، اور یہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی قوّتِ فراست تھی۔‘‘

خلاصہ یہ کہ’’عَبْدُ الْعَصَا‘‘ جس کا ترجمہ، ترجمہ نگار نے ’’لاٹھی کی حکومت‘‘ کیا ہے، مراد اس سے یہ ہے کہ تم محکوم ہوگے، اور تمہاری حیثیت عام رعایا کی سی ہوگی۔

یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ کنائی الفاظ میں لفظی ترجمہ مراد نہیں ہوتا، اور اگر کہیں لفظی ترجمہ گھسیٹ دیا جائے تو مضمون بھونڈا بن جاتا ہے، اور قائل کی اصل مراد نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ مثلاً: عربوں میں ’’فُلَانٌ كَثِيْرُ الرَّمَادِ‘‘ کا لفظ سخاوت سے کنایہ ہے، اگر اس کا لفظی ترجمہ گھسیٹ دیا جائے کہ: ’’فلاں کے گھر راکھ کے ڈھیر ہیں‘‘ تو جو شخص اصل مراد سے واقف نہیں، وہ راکھ کے ڈھیر تلے دَب کر رہ جائے گا، اور اسے یہ فقرہ مدح کے بجائے مذمت کا آئینہ دار نظر آئے گا ۔۔۔ یہی حال ۔۔۔ ’’عَبْدُ الْعَصَا‘‘ کا بھی سمجھنا چاہئے۔ کرنے والے نے اس کا لفظی ترجمہ کرڈالا، اور عام قارئین چونکہ عرب کے محاورات اور لفظ کی اس کنائی مراد سے واقف نہیں، اس لئے انہیں لاٹھیوں کی بارش کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔

ایک حدیث میں آتا ہے:

’’لَا تَرْفَعْ عَصَاکَ عَنْ أَھْلِکَ۔‘‘ (مجمع بحار الأنوار ج:۳ ص:۶۱۰)

ترجمہ:۔’’اپنے گھر والوں سے کبھی لاٹھی ہٹاکر نہ رکھو۔‘‘

مجمع البحار میں اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’أَيْ لَا تَدَعْ تَأْدِيبَهُمْ وَجَمْعَهُمْ عَلٰى طَاعَةِ اللّٰهِ تَعَالٰى، يُقَالُ: ’’شَقَّ الْعَصَا‘‘، أَيْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَلَمْ يُرَدِ الضَّرْبُ بِالْعَصَا، وَلٰكِنَّهُ مَثَلٌ ۔۔۔ لَيْسَ الْمُرَادُ بِالْعَصَا الْمَعْرُوفَةَ، بَلْ أَرَادَ الأَدَبَ، وَذَا حَاصِلٌ بِغَيْرِ الضَّرْبِ۔‘‘ (ج:۳ ص:۶۱۰، طبع مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ، دکّن ہند)

ترجمہ:۔’’یعنی ان کی تأدیب اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طاعت پر جمع کرنے کا کام کبھی نہ چھوڑو، محاورے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے ’’لاٹھی چیر ڈالی‘‘ یعنی جماعت سے الگ ہوگیا۔ یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لاٹھی سے مارنا نہیں، بلکہ یہ ایک ضرب المثل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں عصا سے معروف لاٹھی مراد نہیں، بلکہ ادب سکھانا مراد ہے اور یہ مارنے پیٹنے کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

اسی طرح’’عَبْدُ الْعَصَا‘‘ میں بھی معروف معنوں میں لاٹھی مراد نہیں، نہ لاٹھی کی حکومت کا یہ مطلب ہے کہ وہ حکومت لاٹھیوں سے قائم ہوگی یا قائم رکھی جائے گی، بلکہ خود حکومت و اِقتدار ہی کو ’’لاٹھی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ تم دُوسروں کی حکومت کے ماتحت ہوگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز و خویش اور آپ کے پروردہ تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ سایہ ان کی حیثیت گویا ایک طرح سے شہزادے کی تھی (اگر یہ تعبیر سوئِ ادب نہ ہو)، حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کو جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تین دن بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایۂ عاطفت اُٹھتا محسوس ہو رہا ہے، اس کے بعد تمہاری حیثیت، ملتِ اسلامیہ کے عام افراد کی سی ہوگی۔

۴:۔لاٹھی‌کی‌حکومت: - شہید اسلام