October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

۵:۔حضرت‌عباسؓ‌کا‌مشورہ:

جواب

قاضی ابوبکر رحمہ اللہ کی کتاب ’’العواصم من القواصم‘‘ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ اس طرح نقل کئے گئے ہیں:

’’اِذْهَبْ بِنَا إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنَسْأَلْهُ: فِيْمَنْ يَكُوْنُ هٰذَا الأَمْرُ بَعْدَهُ، فَإِنْ كَانَ فِيْنَا، عَلِمْنَا ذٰلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِيْ غَيْرِنَا، عَلِمْنَا فَأَوْصٰى بِنَا‘‘(ص:۱۲۶ طبع: بیروت)

ترجمہ:۔’’چلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں، آپ سے دریافت کریں کہ آپ کے بعد یہ اَمرِ خلافت کس کے پاس ہوگا؟ پس اگر ہمارے پاس ہوا تو ہمیں معلوم ہوجائے گا، اور اگر کسی دُوسرے کے پاس ہوا، تب بھی ہمیں معلوم ہوجائے گا، اس صورت میں آپ ہمارے حق میں وصیت فرمادیں گے۔‘‘

اور یہ بعینہٖ صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۳۹ کے الفاظ ہیں، آپ نے اوّل تو ان الفاظ کا ترجمہ ہی صحیح نہیں کیا، معلوم نہیں کہ یہ ترجمہ جناب نے خود کیا ہے، یا کسی اور کا ترجمہ نقل کیا ہے۔

دوم:۔یہ کہ اہلِ علم آج تک صحیح بخاری پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں، مگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں ان کو کبھی اِشکال پیش نہیں آیا۔ خود قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ اس روایت کو نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’رَأْيُ الْعَبَّاسِ عِنْدِي أَصَحُّ وَأَقْرَبُ إِلَى الآخِرَةِ، وَالتَّصْرِيحُ بِالتَّحْقِيقِ، وَهٰذَا يُبْطِلُ قَوْلَ مُدَّعِي الْإِشَارَةِ بِاسْتِخْلَافِ عَلِيٍّ، فَكَيْفَ أَنْ يَدَّعِيَ فِيهِ نَصٌّ۔‘‘ (ص:۱۲۶ طبع: بیروت)

ترجمہ:۔’’حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی رائے میرے نزدیک زیادہ صحیح اور آخرت کے زیادہ قریب ہے۔ اور اس میں تحقیق کی تصریح ہے اور اس سے ان لوگوں کا قول باطل ہوجاتا ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنائے جانے کا اشارہ فرمایا تھا، چہ جائیکہ اس باب میں نص کا دعویٰ کیا جائے۔‘‘

انصاف فرمائیے! کہ جس رائے کو ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ زیادہ صحیح اور اَقرب الی الآخرۃ فرمارہے ہیں، آپ انہی کی کتاب کے حوالے سے اسے ’’خلافت کی فکر پڑنے‘‘ سے تعبیر کرکے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو موردِ اِلزام ٹھہرا رہے ہیں۔

اور آپ کا یہ خیال بھی آپ کا حسنِ ظن ہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کارروائیاں کہاں ہوتیں‘‘۔ خود آپ نے جو روایت نقل کی ہے، اس میں تصریح ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت مایوسی کی حد میں داخل ہوچکی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدام کو داغِ مفارقت دینے والے ہیں، عین اس حالت میں اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ جو اُمور اختلاف و نزاع اور اُمت کے شقاق و اِفتراق کا موجب ہوسکتے ہیں، ان کا تصفیہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے کرالینا مناسب ہے، تاکہ بعد میں شورش و فتنہ نہ ہو، تو آپ کا خیال ہے کہ وہ بڑا ہی سنگ دِل ہے، اس کو ذرا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و محبت ہے، نہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا صدمہ ہے، اور نہ وفات کا غم ہے ۔۔۔ آپ ہی فرمائیں کہ کیا یہ صحتمندانہ طرزِ فکر ہے؟

آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان ۔۔۔بنوہاشم ۔۔۔ کے بزرگ ترین فرد تھے، اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ خاندان کے بزرگوں کو ایسے موقعوں پر آئندہ پیش آنے والے واقعات کا ہولناک منظر پریشان کیا کرتا ہے، اگر کسی اُلجھن کا اندیشہ ہو تو وہ وفات پانے والے شخص کی زندگی ہی میں اس کا حل نکالنے کی تدبیر کیا کرتے ہیں۔

یہ روزمرّہ کے وہ واقعات ہیں جن سے کم و بیش ہر شخص واقف ہے، ایسے موقعوں پر اس قسم کے سرد و گرم چشیدہ بزرگوں کی راہنمائی کو ان کے حسنِ تدبر اور دُوراندیشی پر محمول کیا جاتا ہے، اور کسی معاشرے میں ان کے اس بزرگانہ مشورے کو سنگدلی پر محمول نہیں کیا جاتا، اور نہ کسی ذہن میں یہ وسوسہ آتا ہے کہ ان بڑے بوڑھوں کو مرحوم سے کوئی تعلق نہیں، مرنے والا مر رہا ہے، ان کو ایسی باتوں کی فکر پڑی ہے۔

ٹھیک یہی بزرگانہ حسنِ تدبر اور دُوربینی و دُوراندیشی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اس رائے پر آمادہ کر رہی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب دُنیا سے تشریف لے جارہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کا مسئلہ خدانخواستہ کوئی پیچیدہ صورت اختیار نہ کرلے، اس لئے اس کا تصفیہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ ہوجائے تو بہتر ہے۔ اور ان کا یہ اندیشہ محض ایک توہماتی مفروضہ نہیں تھا، بلکہ بعد میں یہ واقعہ بن کر سامنے آیا، اور یہ تو حق تعالیٰ شانہ‘ کی عنایتِ خاصہ تھی کہ یہ نزاع فوراً دَب گیا، ورنہ خدانخواستہ یہ طول پکڑ جاتا تو سوچئے کہ اس اُمت کا کیا بنتا؟ اب اگر عین مایوسی کی حالت میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی فہم وفراست سے یہ مشورہ دیا کہ یہ قصہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہی میں طے ہوجانا چاہئے، تو فرمائیے کہ انہوں نے کیا بُرا کیا۔۔۔؟

اُوپر میں نے جس عنایتِ خداوندی کا ذکر کیا ہے، غالباً اسی کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد گرامی: ’’یَأْبَی اللہ وَالْمُؤْمِنُوْنَ إِلّا اَبَابَکْرٍ!‘‘ میں اشارہ فرمایا تھا، چنانچہ:

’’عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مَرَضِہٖ: اُدْعِیْ لِیْ أَبَابَکْرٍ أَبَاکَ وَأَخَاکَ حَتّٰی أَکْتُبَ کِتَابًا فَإِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَّتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ وَّیَقُوْلُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللہ وَالْمُؤْمِنُوْنَ إِلّا أَبَابَکْرٍ!‘‘

(صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷۳)

ترجمہ:۔’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا کہ: میرے پاس اپنے باپ ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دُوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے، اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں سب سے بڑھ کر خلافت کا مستحق ہوں، دُوسرا نہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اہلِ ایمان ابوبکر کے سوا کسی اور کا اِنکار کرتے ہیں۔‘‘

صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے:

’’لَقَدْ ھَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُّ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰی أَبِیْ بَکْرٍ وَّابْنَہٗ فَأَعْھَدَ أَنْ یَّقُوْلَ الْقَائِلُوْنَ أَوْ یَتَمَنَّی الْمُتَمَنُّوْنَ ثُمَّ قُلْتُ: یَأْبَی اللہ وَیَدْفَعُ الْمُؤْمِنُوْنَ أَوْ یَدْفَعَ اللہ وَیَأْبَی الْمُؤْمِنُوْنَ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۷۲)

ترجمہ:۔’’میرا اِرادہ ہوا تھا کہ میں ابوبکر اور ان کے صاحبزادے کو بلا بھیجوں اور تحریر لکھوا دُوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہنے والے کہیں گے اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے، لیکن پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ (ابوبکرؓ کے سوا کسی دُوسرے کا) انکار کریں گے، اور مسلمان مدافعت کریں گے۔ یا یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مدافعت فرمائیں گے اور اہلِ اسلام انکار کردیں گے۔‘‘

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس نزاع و اختلاف کا اندیشہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو لاحق تھا، اور جس کا وہ تصفیہ کرالینا چاہتے تھے، اس اندیشے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن مبارک بھی خالی نہیں تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی چاہتے تھے کہ اس کا تحریری تصفیہ کر ہی دیا جائے، لیکن پھر آپ نے حق تعالیٰ شانہ‘ کی رحمت و عنایت اور اہلِ اسلام کے فہم و بصیرت پر اعتماد کرتے ہوئے اس معاملے کو خدا تعالیٰ کے سپرد فرمادیا کہ اِن شاء اللہ! اس کے لئے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کا انتخاب ہوگا، اور اِختلاف و نزاع کی کوئی ناگفتہ بہ صورت اِن شاء اللہ پیش نہیں آئے گی۔

الغرض حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بزرگانہ مشورہ نہایت صائب اور مخلصانہ تھا اور اس میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کی صفائی یا معذرت کی ضرورت لاحق ہو۔ رہا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد کہ اگر خلافت ہمارے سوا کسی اور صاحب کو ملے گی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو ہمارے بارے میں وصیت فرمادیں گے، یہ بھی محض اپنے مفادات کا تحفظ نہیں (جیسا کہ سوال میں کہا گیا ہے) بلکہ یہ ایک دقیق حکمت پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلقین کی عزّت و توقیر درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی محبت و عظمت اور عزّت و توقیر کا ایک شعبہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام خدام اور متعلقین کے بارے میں مختلف عنوانات سے تاکیدیں اور وصیتیں فرمائی ہیں، کہیں عام صحابہ کرامؓ کے بارے میں، کہیں حضراتِ خلفائے راشدینؓ کے بارے میں، کہیں حضراتِ انصارؓ کے بارے میں، کہیں حضراتِ اُمہات المؤمنینؓ کے بارے میں اور کہیں حضرت علیؓ اور حضراتِ حسنینؓ کے بارے میں، جیسا کہ حدیث کے طالبِ علم ان اُمور سے بخوبی واقف ہیں۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے مشورۂ وصیت کا منشا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَعزّہ و اقارب کو نہ ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عظمت و توقیر کے بارے میں خصوصی وصیت فرماجائیں، تاکہ خلافت بلافصل سے ان کی محرومی کو ان کے نقص اور نااہلیت پر محمول نہ کیا جائے اور لوگ ان پر طعن و تشنیع کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جفا و بے مروّتی کے مرتکب نہ ہوں، پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو فکر اپنے مفادات کی نہیں، بلکہ ان لوگوں کے دِین و اِیمان کی ہے جو اپنی خام عقلی سے ان کی خلافت سے محرومی کو ان پر لب کشائی کا بہانہ بنالیں۔

اور اگر یہی فرض کرلیا جائے کہ وہ خلافت سے محرومی کی صورت میں اپنے خاندان کے مفاد کے تحفظ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وصیت کرانا چاہتے تھے، تب بھی سوچنا چاہئے کہ آخر وہ کس کا خاندان ہے؟ کیا خانوادۂ نبوّت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی کلمۂ خیر کہلانا جرم ہے؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے ذاتی مفاد کا تحفظ نہیں کر رہے (حالانکہ عقلاً و شرعاً یہ بھی قابلِ اعتراض نہیں) وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے خاندان کے بارے میں کلمۂ خیر کہلانا چاہتے ہیں، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ایک مسلمان کی نظر میں اس لائق بھی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں کوئی کلمۂ خیر اُمت کو اِرشاد فرمائیں؟ اور جو شخص ایسا خیال بھی دِل میں لائے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنالیا جائے؟ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ!

کیا اسی مرض الوفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔ تکلیف کی شدّت کے باوجود ۔۔۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیتیں نہیں فرمائیں(۱۲)؟ کیا حضراتِ انصارؓ کے بارے میں وصیت نہیں فرمائی؟(۱۳) کیا غلاموں اور خادموں کے بارے میں وصیت نہیں فرمائی؟(۱۴) کیا اہلِ ذمہ کے بارے میں وصیت نہیں فرمائی؟ ۔۔۔ اگر کسی نیک نفس کے دِل میں خیال آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاندانِ نبوّت کے بارے میں بھی کوئی وصیت فرمادیں تو اس کو خود غرضی پر محمول کرنا کیا صحیح طرزِ فکر ہے۔۔۔؟

غالباً اسی مرض الوفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، اُمہات المؤمنینؓ سے فرماتے تھے:

’’إِنَّ أَمْرَکُنَّ لَمِمَّا یَھُمُّنِیْ مِنْ بَعْدِیْ وَلَنْ یَّصْبِرَ عَلَیْکُنَّ إِلّا الصَّابِرُوْنَ الصِّدِّیْقُوْنَ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۱۶، مناقب عبدالرحمٰن بن عوف، مستدرک حاکم ج:۳ ص:۳۱۲، موارد الظمآن ص:۵۴۷ حدیث:۲۲۱۶، مشکوٰۃ ص:۵۶۷)

ترجمہ:۔’’بے شک میرے بعد تمہاری حالت مجھے فکرمند کر رہی ہے، اور تمہارے (اخراجات برداشت کرنے) پر صبر نہیں کریں گے مگر صابر اور صدیق لوگ۔‘‘

الغرض زندگی سے مایوسی کی حالت میں مرنے والے کے متعلقین کے بارے میں فکرمندی ایک طبعی اَمر ہے، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ توکل علی اللہ اور تعلق مع اللہ کے سب سے بلند ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود ۔۔۔ اپنے بعد اپنے متعلقین کے بارے میں فکرمند ہوئے، اسی کا عکس حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے قلب مبارک پر پڑا اور ان کو خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہلِ خاندان کے بارے میں بھی کچھ ارشاد فرماجائیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہلِ قرابت کے بارے میں بھی بڑی تاکیدی وصیتیں فرمائی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرامؓ، خصوصاً حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ قرابت کی رعایت کا بہت ہی اہتمام تھا، جس کے بے شمار واقعات پیش نظر ہیں، یہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں جسے ’’العواصم‘‘ صفحہ:۴۸ کے حاشیہ میں شیخ محب الدین الخطیب رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے حوالے سے نقل کیا ہے:

’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَقِرَابَۃُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِیْ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۲۶، باب مناقب قرابت رسول الله صلی الله علیہ وسلم)

ترجمہ:۔’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ قرابت کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا مجھے اپنے اہلِ قرابت کے ساتھ حسنِ سلوک سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘

بلاشبہ ایک مؤمنِ مخلص کا یہی ایمانی جذبہ ہونا چاہئے، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و محبت کی نمایاں علامت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’أَحِبُّوا اللہَ لِمَا یَغْذُوْکُمْ بِہٖ مِنْ نِّعَمِہٖ وَأَحِبُّوْنِیْ بِحُبِّ اللہِ وَأَحِبُّوْا أَھْلَ بَیْتِیْ بِحُبِّیْ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۲۰ واللفظ لہٗ، حاکم ج:۳ ص:۱۵۰ عن ابن عباس، حسنہ الترمذی، وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی ورقم لہ السیوطی فی الجامع الصغیر بالصحۃ ج:۱ ص:۱۱)

ترجمہ:۔’’اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو، کیونکہ اپنی نعمتوں کے ساتھ تمہیں پالتا ہے، اور مجھ سے محبت رکھو اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے، اور میرے اہلِ بیت سے محبت رکھو میری محبت کی وجہ سے۔‘‘

  1. (۱۲) عن ابن عباس قال: خرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی مرضہ الذی مات فیہ عاصبًا رأسہ بخرقۃ، فصعد المنبر فحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: إنہ لیس من الناس أحد أمنّ علیّ بنفسہ ومالہ من أبی بکر، ولو کنت متخذًا من الناس خلیلًا لَاتخذت أبابکر خلیلًا، ولٰـکن خلۃ الْإسلام أفضل سدوا عنی کل خوخۃ فی المسجد غیر خوخۃ أبی بکر ۔۔۔ وفی قولہ علیہ السلام: سدوا عنی کل خوخۃ، یعنی الأبواب الصغار إلی المسجد غیر خوخۃ أبی بکر إشارۃ إلی الخلافۃ أی لیخرج منھا إلی الصلاۃ بالمسلمین۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۳۰، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  2. (۱۳) أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی مرضہ ۔۔۔ فجلس علی المنبر ۔۔۔ ثم قال: یا معشر المھاجرین! إنکم أصبحتم تزیدون والأنصار علٰی ھیئتھا لَا تزید وإنھم عیبتی التی أویت إلیھا فأکرموا کریمھم وتجاوزوا عن مسیئھم۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۲۹)۔ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج فی مرضہ الذی مات فیہ ۔۔۔ فجلس علی المنبر فذکر الخطبۃ وذکر فیھا الوصایا بالأنصار۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۳۰)۔
  3. (۱۴) عن أنس بن مالک قال: کانت عامۃ وصیۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین حضرہ الموت الصلاۃ وما ملکت أیمانکم ۔۔۔إلخ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۳۸)۔
۵:۔حضرت‌عباسؓ‌کا‌مشورہ: - شہید اسلام