October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

۶:۔حضرت‌علی‌رضی‌اللہ‌عنہ‌اور‌طلبِ‌خلافت:

جواب

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اس مشورے پر کہ چلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اِستصواب کرالیں کہ خلافت ہمارے پاس ہوگی یا کسی اور صاحب کے پاس؟ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے فرمایا:

’’إِنَّا وَاللہِ لَئِنْ سَأَلْنَاھَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعْنَاھَا لَا یُعْطِیْنَاھَا النَّاسُ بَعْدَہٗ، وَإِنِّیْ وَاللہِ لَا أَسْأَلُھَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔‘‘ (العواصم ص:۱۲۶ طبع: بیروت، صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۳۹)

ترجمہ:۔’’بخدا! اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نہ دی تو لوگ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں دیں گے۔ اور بخدا! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال نہ کروں گا۔‘‘

جس شخص کے ذہن میں حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کی طرف سے میل نہ ہو وہ تو اس فقرے کا مطلب یہی سمجھے گا کہ ان کا مقصود حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول نہ کرنا تھا، اور اس پر انہوں نے ایک ایسی دلیل بیان کی کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اس پر خاموش ہونا پڑا، یعنی جب خود آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جس طرح یہ احتمال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلافت ہمیں دے جائیں، اسی طرح یہ بھی احتمال ہے کہ کسی اور صاحب کا نام تجویز فرمادیں، اب اگر یہ معاملہ اِبہام میں رہے تو اس کی گنجائش ہے کہ مسلمان خلافت کے لئے ہمیں منتخب کرلیں، لیکن اگر سوال کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا تو ہمارے انتخاب کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہے گی، اب فرمائیے کہ یہ اِبہام کی صورت آپ کے خیال میں ہمارے لئے بہتر ہے یا تعیین کی صورت؟

ظاہر ہے کہ اس تقریر پر دُور دُور بھی کہیں اس الزام کا شائبہ نظر نہیں آتا جو آپ نے یہ کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر عائد کرنا چاہا ہے کہ:

’’ان کا ارادہ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں، انہیں اپنی خلافت درکار ہے، اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے، اس لئے انہوں نے کہا: میں سوال نہ کروں گا اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس خلافت کو حاصل کروں گا۔‘‘

اس الزام کی تردید کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل ہی کافی ہے، اگر ان کا ارادہ یہی ہوتا کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے علی الرغم ۔۔۔ نعوذ باللہ ۔۔۔ اپنی خلافت قائم کرنی ہے تو وہ ضرور ایسا کرتے، لیکن واقعات شاہد ہیں کہ خلفائے ثلاثہ کے دور میں انہوں نے ایک دن بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ خلافتِ نبوّت کا مدار محض نسبی قرابت پر نہیں، بلکہ فضل و کمال اور سوابقِ اِسلامیہ پر ہے، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان اُمور میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سب سے فائق ہیں اور ان کی موجودگی میں کوئی دُوسرا شخص خلافت کا مستحق نہیں، صحیح بخاری میں ان کے صاحبزادہ حضرت محمد ابن الحنفیہؓ سے مروی ہے:

’’قُلْتُ لِأَبِیْ: أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُوْبَکْرٍ! قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ! وَخَشِیْتُ أَنْ یَّقُوْلَ عُثْمَانَ، قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ؟ قَالَ: مَا أَنَا إِلّا رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ!‘‘(صحیح بخاری ج:۱ ص: ۵۱۸)

ترجمہ:۔’’میں نے اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل و بہتر آدمی کون ہے؟ فرمایا: ابوبکرؓ! میں نے عرض کیا: ان کے بعد؟ فرمایا: عمرؓ! ۔۔۔۔۔۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اب پوچھوں گا تو حضرت عثمانؓ کا نام لیں گے، اس لئے میں نے سوال بدل کر کہا کہ: ان کے بعد آپ کا مرتبہ ہے؟ فرمایا: میں تو مسلمانوں کی جماعت کا ایک فرد ہوں۔‘‘

وہ اپنے دورِ خلافت میں برسرِ منبر یہ اعلان فرماتے تھے:

’’خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا أَبُوْبَکْرٍ، وَبَعْدَ أَبِیْ بَکْرٍ عُمَرُ رَضِیَ اللہ عَنْہُ، وَلَوْ شِئْتُ أَخْبَرْتُکُمْ بِالثَّالِثِ لَفَعَلْتُ۔‘‘ (مسند احمد ج:۱ ص:۱۰۶)

ترجمہ:۔’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس اُمت میں سب سے افضل ابوبکر ہیں، اور ابوبکر کے بعد عمر، رضی اللہ عنہما، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے مرتبے کا آدمی بھی بتاسکتا ہوں۔‘‘

اس سلسلے کی تمام روایات حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ’’إزالۃ الخفاء‘‘ جلد:۱ صفحہ:۶۶ میں جمع کردی ہیں، وہاں ملاحظہ کرلی جائیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ بھی جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو اِمامتِ صغریٰ تفویض فرمائی ہے، یہ درحقیقت اِمامتِ کبریٰ کے لئے ان کا اِستخلاف ہے۔

’’أَخْرَجَ أَبُو عَمْرٍو فِي الْإِسْتِيعَابِ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرِضَ لَيَالِيَ وَأَيَّامًا، يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَيَقُوْلُ: مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ! فَلَمَّا قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرْتُ، فَإِذَا الصَّلَاةُ عِلْمُ الْإِسْلَامِ وَقِوَامُ الدِّينِ، فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَنْ رَضِيَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدِينِنَا، فَبَايَعْنَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ۔‘‘

(إزالۃ الخفاء ج:۱ ص:۶۸)

ترجمہ:۔’’حافظ ابو عمرو ابنِ عبدالبرؒ الاستیعاب میں حضرت حسن بصریؒ سے اور وہ قیس بن عبادؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کئی دن رات بیمار رہے، نماز کی اَذان ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ابوبکر کو کہو کہ نماز پڑھائیں۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں نے دیکھا کہ نماز اسلام کا سب سے بڑا شعار اور دِین کا مدار ہے، پس ہم نے اپنی دُنیا (کے نظم و نسق) کے لئے اس شخص کو پسند کرلیا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے دِین کے لئے پسند فرمایا تھا، اس لئے ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔‘‘

اس لئے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ اسی کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بھی خلافتِ نبوّت کی صلاحیت و اہلیت بدرجۂ اَتم موجود تھی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدّد اِرشادات سے انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اس خلافتِ نبوّت میں بھی ان کا حصہ ہے، اور یہ کہ خلافت اپنے وقتِ موعود پر ان کو ضرور پہنچے گی، ان ارشاداتِ نبویہ کی تفصیل و تشریح کا یہ موقع نہیں، یہاں صرف ایک حدیث نقل کرتا ہوں:

’’عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ یَقُوْلُ: کُنَّا جُلُوْسًا نَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَیْنَا مِنْ بَعْضِ بُیُوْتِ نِسَائِہٖ، قَالَ: فَقُمْنَا مَعَہٗ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلَہٗ، فَتَخَلَّفَ عَلَیْھَا عَلِیٌّ بِخَصْفِھَا، فَمَضٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَضَیْنَا مَعَہٗ، ثُمَّ قَائِمٌ یَّنْتَظِرُہٗ وَقُمْنَا مَعَہٗ، فَقَالَ: إِنَّ مِنْکُمْ مَنْ یُّقَاتِلُ عَلٰی تَأْوِیْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ کَمَا قَاتَلْتُ عَلٰی تَنْزِیْلِہٖ۔ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِیْنَا أَبُوْبَکْرٍ وَّعُمَرَ (رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا)، فَقَالَ: لَا! وَلٰـکِنَّہٗ خَاصِفُ النَّعْلِ۔ قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُہٗ، قَالَ وَکَأَنَّہٗ قَدْ سَمِعَہٗ۔‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۸۲، قال الہیثمی رواہ احمد ورجالہ رجال الصحیح غیر فطر بن خلیفہ وھو ثقۃ۔ مجمع الزوائد ج:۹ ص:۱۳۳)

ترجمہ:۔’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ہم بیٹھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اَزواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کے گھر سے باہر تشریف لائے، پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کے لئے اُٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نعل مبارک ٹوٹ گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی مرمت کے لئے رُک گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے، ہم لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں کھڑے ہوگئے اور ہم لوگ بھی ٹھہر گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بے شک تم میں سے ایک شخص قرآن کی تأویل پر قتال کرے گا، جیسا کہ میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا ہے۔ پس ہم سب اس کے منتظر ہوئے کہ اس کا مصداق کون ہے؟ ہم میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے تم لوگ مراد نہیں ہو، بلکہ وہ جوتا گانٹھنے والا مراد ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خوشخبری دینے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ایسا محسوس ہوا، گویا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پہلے سے سن رکھا ہے۔‘‘

اس تفصیل سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کا مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال نہیں کرتا، اور یہ کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمادیا تو مسلمان ہمیں کبھی نہیں دیں گے، کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر یہ فرماتے (اور یہ فرمانا محض احتمال نہیں تھا بلکہ یقینی تھا) کہ میرے بعد علی کو خلیفہ نہ بنایا جائے بلکہ ابوبکرؓ کو خلیفہ بنایا جائے تو اس کا متبادر مفہوم تو یہی ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ بلافصل حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں، لیکن لوگوں کو یہ غلط فہمی ضرور ہوسکتی تھی کہ علیؓ میں خلافت کی صلاحیت و اہلیت ہی نہیں، یا یہ کہ خلافتِ نبوّت میں ان کا سرے سے کوئی حصہ ہی نہیں، اور آپ کے دورِ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کو پیش کرکے لوگوں کو اس غلط فہمی میں ڈالا جاسکتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ’’میرے بعد علی کو خلیفہ نہ بنانا‘‘ یہ تھا غلط فہمی کا وہ اندیشہ جس کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روک دیا تو اندیشہ ہے کہ مسلمان اس کو ایک دائمی دستاویز بنالیں گے اور ہمیں خلافت کے لئے نااہل تصوّر کرلیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ غلط فہمی، جس کا اندیشہ تھا، نہ صرف منشائے نبوی کے خلاف ہوتی، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے ساتھ ایک بدترین ظلم بھی ہوتا، جو آپ نے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے بارے میں ارشاد فرمائے ہیں۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِـلّاً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَـآ اِنَّکَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔

۶:۔حضرت‌علی‌رضی‌اللہ‌عنہ‌اور‌طلبِ‌خلافت: - شہید اسلام