October 16, 2026 at 5:21 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

(سائل‌کا‌دُوسرا‌خط)

جواب

محترم المقام جناب علامہ محمد یوسف لدھیانوی صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وبعد!

جناب کا محبت نامہ ملا، یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریر میں بہت وقت صرف ہوتا ہے، پھر آپ جیسے مصروف آدمی کے لئے اور بھی مشکل ہے، لیکن جیسا کہ جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’رفع التباس‘‘ کو الگ سے شائع کرانے کا ارادہ ہے، اس لئے کچھ وضاحت طلب باتیں تحریر کرنے کی جرأت کر رہا ہوں۔ کیونکہ یہ باتیں ہماری اعلیٰ درجے کی کتابوں میں درج ہیں۔ مترجمین حضرات نے ترجمہ کرتے وقت بریکٹس کے اندر فاضل الفاظ کا اضافہ کرکے پیچیدگیاں پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا، لہٰذا عوام کو دو طرح سے نقصان میں مبتلا کیا، ایک تو لوگ شک میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس شک کا فائدہ اِمامیہ حضرات اُٹھاتے ہیں کہ اہلِ سنت کے مذہب پر طعن کرتے ہیں، اور اپنے باطل عقائد کی اشاعت شروع کردیتے ہیں، ایک عامی سنی مسلمان جس کا مذہب سنی سنائی باتوں اور کچھ معاشرتی رسموں پر (جو اسے ورثے میں ملتی ہیں) مبنی ہوتا ہے، اگر اِمامیہ نہ بھی بنے تو ان سے متأثر ہوجاتا ہے اور خود اپنے اکابر سے بدگمان۔

اور تمام باتیں میں اِن شاء اللہ ملاقات پر ہی عرض کروں گا، لیکن فی الحال چند وہ باتیں تحریر کرتا ہوں کہ اگر ان کی صفائی ہوجائے تو جناب کی یہ تحریر ایک مقدس تحقیق کا مرتبہ پائے گی (اِن شاء اللہ)۔

جناب نے تحریر فرمایا ہے: ’’بہرحال حضرت ابوبکرؓ کے متنبہ کردینے کے بعد انہوں نے اس حدیث میں نہ کوئی جرح اور قدح فرمائی، نہ منازعت کی، بلکہ اپنے موقف سے دستبردار ہوگئے اور یہ ان مؤمنینِ قانتین کی شان ہے جن میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔‘‘ اس تحریر کو دیکھنے کے بعد اگر یہ تسلیم کیا جائے گا کہ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فیصلہ خلوصِ نیت سے تسلیم کیا اور اپنے موقف سے دستبردار ہوگئے تو پھر شکوہ و شکایت کا کیا معنی؟ جناب نے اس بیان کے بعد ’’بَابُ فَرْضِ الْخُمُسِ‘‘ کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اسے ’’ثُمَّ جِئْتُمَانِي‘‘ سے آگے ٹکڑا نقل فرمایا ہے، خود اس حدیث میں اس سے پہلے بیان ہے، خود حضرت عمرؓ کا کہ ان کو اس فیصلے پر شکایت تھی۔ حضرت عمرؓ مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں: ’’اور تم اس وقت سے اس مسئلے میں شکوہ کرتے تھے‘‘ لیکن حقیقت میں بات شکوہ و شکایت تک ہی محدود نہ تھی، اسی بخاری کی یحییٰ بن بکیر والی روایت کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ اس مسئلے میں حضرت ابوبکرؓ سے ناراض ہوگئیں، بلکہ اپنی وفات تک ان سے بات نہیں کی۔ ’’فتح الباری‘‘ لابن حجرؒ الجزء التاسع میں تحریر ہے کہ ان کو بھیجا گیا تھا (بھیجنے والے حضرت علیؓ تھے) ’’إِنَّ فَاطِمَةَ أَرْسَلَتْ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا‘‘غور فرمائیں۔ اس شخص سے ناراض، جس نے اپنا ذاتی مال سارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تصدق کردیا تھا، کیا معنی رکھتی ہے؟ ابنِ حجرؒ نے جلد نمبر:۷ کے حاشیہ میں جو بحث کی ہے، وہاں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’یہ جدائی نتیجہ تھی غصّے کی وراثت کے نہ ملنے پر۔‘‘ اس مضمون کو میں نے تیسیرالباری میں بھی دیکھا، علامہ وحید الزمان نے صفحہ: ۲۸۱، ۲۸۰ پر تحریر فرمایا ہے: ’’فاطمہؓ کی ناراضگی بمقتضائے صاحبزادگی تھی، اس کا کوئی علاج نہ تھا۔‘‘ یہ عبارت میں نہیں سمجھا کہ جناب کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس کے آگے انہوں نے طویل کلام کیا ہے جو کہ غیرمتعلق اور بے معنی ہے، چونکہ ابوبکرؓ نے فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کیا، یہ فیصلہ ان کا اپنا نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تھا، پھر ابوبکرؓ سے ناراضگی کیا معنی؟ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اسی حدیث میں آگے دیکھیں: ’’حضرت فاطمہؓ کی حیات میں حضرت علیؓ کو لوگوں میں وجاہت حاصل تھی، جب حضرت فاطمہؓ کا انتقال ہوگیا، حضرت علیؓ نے لوگوں کا رُخ پھرا ہوا پایا تو حضرت ابوبکرؓ سے صلح اور بیعت کی درخواست کی۔‘‘ گویا یہ صلح اور بیعت بحالت مجبوری قبول فرمائی، اور جو مقام حضرت علیؓ کو صحابہؓ کے درمیان حاصل تھا، وہ جنابؓ کی ذاتی وجاہت و لیاقت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ صحابہؓ حضرت فاطمہؓ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کی وفات پر حضرت علیؓ نے وہ مقام کھودیا، جب تک لوگوں نے نگاہیں نہ پھیریں وہ نہ تو صلح پر آمادہ ہوئے اور نہ بیعت پر، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! پھر راضی بھی ہوئے تو شرائط لگاتے ہیں کہ تنہا آئیے، آخر عمرؓ کیا کوئی مقام نہیں رکھتے تھے؟ کیا عمرؓ کوئی کم حیثیت کے آدمی تھے؟ ابوبکرؓ کی افضلیت تسلیم، کیا عمرؓ کی خدمات، ان کا ایمان، ان کا اسلام کوئی اور مثال آپ پیش کرسکتے ہیں؟ جو کچھ اسلام کے لئے عمرؓ نے کیا، کیا آپ ایک دُوسرا نام لے سکتے ہیں؟ خود اسی حدیث میں حضرت علیؓ اس بات کا اقرار فرما رہے ہیں کہ: ’’قرابت کی وجہ سے وہ خلافت کو اَپنا حق سمجھتے رہے ہیں۔‘‘

کیا اس مقصد کے حصول کے لئے جنگِ صِفّین برپا نہیں کی گئی؟ ’’عراقی‘‘ اور ’’عجمی‘‘ جو کہ شیعانِ علی کہلائے ’’شامیوں‘‘ اور عربوں سے کس لئے دست و گریباں کئے گئے؟ وہ بھی ایسے وقت میں جبکہ حضرت امیرمعاویہؓ کو رُومیوں سے جنگ درپیش تھی، کیا حضرت علیؓ کے یہ عجمی اور عراقی شیعان وہی لوگ نہیں تھے جو قتلِ عثمانؓ کے ہیرو ہونے پر ناز کرتے تھے، ان ہی لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلافت دِلوائی اور مجبور کیا کہ مسلمانوں کی صفوں کو درہم برہم کریں، مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کا پہلا کامیاب کارنامہ یہی انجام دیا گیا، آخر چنگیزخان، نپولین اور اس قبیل کے اور لوگوں کے حالات بھی تو ہیں، حالانکہ یہ لوگ کافر تھے، پھر بھی ایسے غافل اور بے بس نہ تھے کہ کسی اہم شخصیت کے قتل کے سلسلے میں یہ نہ معلوم کرسکیں کہ قاتل کون ہے؟ خود جن سپاہیوں کے ساتھ میدانِ کارزار میں مصروف ہوں، ان کے متعلق ہی نہ جانتے ہوں کہ کس قماش کے لوگ ہیں؟ انگریزوں اور فرانسیسیوںکی صدیوں پُرانی دُشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں، لائف آف نپولین کا مصنف ایک انگریز ہے، جس نے اعتراف کیا ہے کہ اسے اپنے ایک ایک سپاہی کا نام یاد رہتا تھا، اور صرف ایک نپولین ہی نہیں، بے شمار مشاہیر ایسے گزرے ہیں، اور آپ بھی بخوبی علم رکھتے ہیں کہ اپنی سلطنت کے گوشے گوشے کے حالات سے کیسے باخبر رہتے تھے، وقتی ذہول اور اِجتہادی غلطی آخر کہاں کہاں اور کب تک ساتھ دے گی؟ جس شخص کے تدبر کا یہ عالم ہو کہ اپنے حقیقی بھائی تک کو اپنا موافق نہ بناسکے اور جب حضرت عقیلؓ ان سے ناراض ہوکر معاویہؓ کے پاس گئے تو کیا ہوا؟ اور یہ سلسلہ کب صِفّین کے بعد ختم ہوگیا تھا؟ ’’بنو اُمیہ‘‘ اور ’’بنو عباس‘‘ کے اَدوار میں ’’علوی‘‘ اور ’’عباسی‘‘ خروج ایک دو تو نہیں کہ کسی سے پوشیدہ ہوں، ایک خط میں یہ سب بیان غیرممکن ہے۔

اس میں شک نہیں کہ شاہ ولی اللہؒ نے إزالۃ الخفاء میں حضرت علیؓ کے مناقب بے شمار بیان کئے ہیں (حالانکہ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ کے دورِ خلافت میں اسلام کو جو فروغ حاصل ہوا، طرزِ حکومت، معاشرت غرضیکہ ہر قسم کی تفصیل ہے جو انہوں نے لکھی) اس کے علاوہ اور لکھ بھی کیا سکتے تھے؟ پھر شاہ ولی اللہؒ کا ماخذ زیادہ تر ’’ریاض النضرۃ للمحب الطبری‘‘ ہی رہا، نہایت کثرت سے موضوع اور ضعیف روایتیں مذکور ہیں، اور جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے ان صاحب نے اور تاریخِ اسلام کے مؤلف نجیب خیرآبادی نے بھی حضرت علیؓ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ تینوں کی خلافت کے حالات تحریر کرنے کے بعد باب اس عنوان سے قائم کیا ہے: ’’حضرت علیؓ بحیثیت گورنرِ کوفہ‘‘۔

میرا خیال تھا کہ عمرؓ کی تقریر پر علامہ عینیؒ کا خیال بھی دیکھوں، لیکن گناہ گار ابھی تک ایسا نہ کرسکا، ہاں فتح الباری کی ۷ویں جلد کے ۱۴، ۱۵ صفحہ پر یہ بحث ہے، وہاں تین احادیث کا حوالہ موجود ہے:

۱:۔عمر بن شبہ من طریق ابی البختری علی سبیل المیراث (نسائی)۔

۲:۔بلکہ نسائی میں بھی من طریق عکرمہ علی سبیل الولَایۃ کا حوالہ ہے۔

۳:۔اور بطور والی کے مطالبہ کے، سلسلہ ابوداؤد کی حدیث کا بھی ذکر ہے، بہرحال نسائی ؒ جیسا کہ آپ کے بھی علم میں ہے، حدیث کے معاملے میں بخاریؒ سے بھی سخت تھے، ان تینوں احادیث کی روشنی میں ہی کوئی رائے دُرست ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ واضح فرمادیں کہ کیا بات مانع تھی کہ حضرت علیؓ نے کسبِ معاش کی طرف کوئی توجہ نہ دی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف اُمت کو راغب فرماتے تھے، جب مطالبہ نکاح کا فرمایا تو کچھ نہ تھا کہ زرہ بیچ دی گئی، آگے فاطمہؓ کو ہی نہیں، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اَذیت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمن کی بیٹی سے نکاح فرمانے کا ارادہ کرتے ہیں، نکاح تو خیر چار تک ہوسکتے ہیں، لیکن ایسا شخص جو ایک بیوی کی کفالت اور خود اپنی کفالت نہ کرسکے کیا اسے بھی اجازت ہے کہ نکاح پر نکاح کرتا چلا جائے؟ کتبِ احادیث میں وقتی طور پر صرف دو کام کرتے نظر آتے ہیں، یہودی کے باغ میں پانی دینا یا پھر ایک مرتبہ گھاس کاٹنا ۔۔۔۔۔!

والسلام، محمد ظہور الاسلام

(سائل‌کا‌دُوسرا‌خط) - شہید اسلام