October 16, 2026 at 5:22 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

الجواب (1-7)

جواب

اَلْحَمْدُ لِلّہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

مخدم و مکرم، زیدت عنایاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

یہ ناکارہ قریباً دو مہینے کے بعد اپنے دفتر میں حاضر ہوسکا، پھر جمع شدہ کام کے ہجوم نے جناب کا گرامی نامہ اُٹھاکر دیکھنے کی بھی مہلت نہ دی، آج ذرا سانس لینے کا موقع ملا تو آپ کا خط لے کر بیٹھ گیا ہوں، تفصیل سے لکھنے کا موقع اب بھی نہیں، تاہم مختصراً لکھتا ہوں۔

خط کے مندرجات پر غور کرنے سے پہلے بلاتکلف مگر خیرخواہانہ عرض کرتا ہوں کہ روافض کی چیرہ دستیوں کے رَدِّعمل کے طور پر ہمارے بہت سے نوجوان، حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے نقائص و عیوب تلاش کرنے لگے ہیں، اور چونکہ علمی اِشکالات تو ہر جگہ پیش آتے ہیں، اس لئے جس طرح روافض حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے بارے میں کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں، اسی طرح ہمارا یہ نوجوان طبقہ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ ڈھونڈتا رہتا ہے، اور چونکہ دِل میں کدورت و نفرت کی گرہ بیٹھ گئی ہے، اس لئے انہیں ان اِشکالات کے علمی جواب سے بھی شفا نہیں ہوتی ۔۔۔

حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ باتفاق اہلِ سنت خلیفۂ راشد ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں، علاوہ ازیں خود حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما نے مدّۃ العمر ان سے محبت و اِکرام کا برتاؤ کیا ہے، گویا ہمارے جوشیلے نوجوان، رَفض کے رَدِّعمل کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو نقائص چن چن کر جمع کرتے ہیں، وہ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لائقِ توجہ تھے، نہ حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی نظر میں، اور نہ اکابر اہلِ سنت کی نظر میں۔ اب ان اِشکالات کے حل کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ ان مزعومہ نقائص کا ایک ایک کرکے جواب دیا جائے، یہ طریقہ طویل بھی اور پھر شفا بخش بھی نہیں، کیونکہ فطری بات ہے کہ جس شخص سے نفرت و عداوت کی گرہ بیٹھ جائے، اس کی طرف سے خواہ کتنی ہی صفائی پیش کی جائے، تکدّر نہیں جاتا۔

اور دُوسری صورت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما اور اکابر اہلِ سنت رحمہم اللہ پر اعتماد کرکے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو اپنا محبوب و مطاع سمجھا جائے، اور ان کے بارے میں جو اِشکالات پیش آئیں، انہیں اپنے فہم کا قصور سمجھا جائے، بلکہ ان اِشکالات پر حتی الوسع توجہ ہی نہ کی جائے۔ اس ناکارہ کے نزدیک یہی آخر الذکر طریق پسندیدہ اور اَسلم ہے۔ ان دونوں صورتوں کی مثال ایسی ہے کہ گھر کے صحن میں خس و خاشاک پڑے ہوں اور آدمی ان سے گھر کی صفائی کرنا چاہتا ہو تو ایک صورت تو یہ ہے کہ ایک ایک تنکے کو اُٹھاکر باہر پھینکے، ظاہر ہے اس میں وقت بھی زیادہ صرف ہوگا مگر پوری صفائی پھر بھی نہیں ہوگی، اور دُوسری صورت یہ ہے کہ جھاڑو لے کر تمام صحن کو صاف کردے، اس میں وقت بھی زیادہ نہیں لگے گا اور صفائی بھی دیدہ زیب ہوجائے گی۔ پس میرے نزدیک مؤخر الذکر طریق ہی ایسی جھاڑو ہے جس سے شکوک و شبہات کے تمام خس و خاشاک سے سینۂ مؤمن کو پاک و صاف کیا جاتا ہے۔ یہ روایات جن کی بنیاد پر اِشکالات کئے جارہے ہیں، ہمارے اکابر اہلِ سنت کی نظروں سے اوجھل نہیں تھیں، لیکن ان کے سینۂ بے کینہ میں حضرت علی یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی جانب سے کبھی میل نہیں آیا، اور نہ کسی نے ان بزرگوں پر زبانِ طعن کھولی، جی چاہتا ہے کہ ہم آپ، بھی بس یہی طریق اپنائیں۔

اسی ضمن میں ایک اور ضروری گزارش کرنے کو بھی جی چاہتا ہے، وہ یہ کہ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو جو زمانہ ملا وہ احادیثِ طیبہ کی اصطلاح میں ’’فتنے کا دور‘‘ کہلاتا ہے، اور ’’فتنہ‘‘ کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس میں صورتِ حال مشتبہ ہوجاتی ہے اور کسی ایک جانب فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہی اِشکال پیش آیا، کچھ حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، کچھ ان کے مقابل، کچھ غیرجانبدار، اپنے فہم و اِجتہاد کے مطابق جس فریق نے جس پہلو کو راجح اور اَقرب الی الصواب سمجھا، اسے اختیار فرمایا، اور ہر فریق اپنے اِجتہاد پر عنداللہ مأجور ٹھہرا۔ کیونکہ ان میں سے ہر شخص عنداللہ اپنے اِجتہاد پر عمل کرنے کا مکلف تھا اور ہر ایک رضائے الٰہی میں کوشاں تھا۔ جب فتنے کا یہ غبار بیٹھ گیا تو اکابر اہلِ سنت نے اس فتنے کی تفصیلات میں غور و فکر اور کرید کرنے کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ ایک مختصر سا فیصلہ محفوظ کردیا کہ اس دور میں حضرت علی کرّم اللہ وجہہ خلیفۂ راشد تھے اور وہ حق پر تھے، باقی حضرات اپنے اپنے اِجتہاد کی بنا پر معذور و ماجور ہیں۔ اب ہمارے نوجوان نئے سرے سے اس دور کی تفصیلات کو کھنگال کر ان اکابر کے بارے میں ’’بے لاگ فیصلے‘‘ فرمانے بیٹھے ہیں، خود ہی انصاف کیجئے کہ جن اکابر کے سر سے یہ سارے واقعات گزرے، جب وہی اس میں چکرا گئے تھے اور ان کو صورتِ حال کا تجزیہ کرکے فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا تو آج چودہ صدیوں کے بعد میں اور آپ، کتابیں پڑھ پڑھ کر فیصلے کرنے بیٹھ جائیں تو کیا کسی صحیح نتیجے پر پہنچنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔۔؟ کم از کم اس ناکارہ کی نظر میں تو یہ بالکل ناممکن ہے اور اس سے سوائے فکری اِنتشار اور دِلوں کی کجی کے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ پھر یہ کارِ عبث بھی ہے، نہ تو قبر میں ہم سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اَیامِ فتنہ کے واقعات میں کیوں غور و خوض نہیں کیا تھا؟ اور نہ حشر میں ہمیں یہ زحمت دی جائے گی کہ تم ان اکابر کے درمیان فیصلہ کرو اور ہر ایک کی فرد جرم ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ مرتب کرو۔ پس ایک ایسی عبث چیز جس میں بحث و تمحیص کا کوئی نتیجہ متوقع نہ ہو، بلکہ اس سے دامنِ ایمان کے تار تار ہونے کا خطرہ لاحق ہو، اس میں وقتِ عزیز کو کھونا اور اپنی توانائیاں صرف کرنا کہاں تک صحیح ہوگا۔۔۔؟ اس لئے میرا ذوق یہ ہے اور اسی کا آپ کو بلاتکلف مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ان چیزوں میں اپنا وقت ضائع نہ کیا جائے، بلکہ اہلِ سنت کے عقیدے کے مطابق تمام اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کا احترام ملحوظ رکھا جائے۔ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو ان کے دورِ خلافت میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سرتاج سمجھا جائے اور اس سلسلے میں اگر کوئی اِشکال سامنے آئے تو اسے اپنے فہم کا قصور تصوّر کیا جائے۔ ان اکابرؓ کے حق میں لب کشائی نہ کی جائے۔ ہاں! اگر کوئی شخص روافض و خوارج کی طرح، اہلِ سنت کی تحقیق ہی کو صحیح نہیں سمجھتا اور بزعمِ خود گزشتہ تمام اکابر سے بڑھ کر اپنے آپ کو محقق سمجھتا ہے، اس کے لئے یہ تقریر کافی نہیں، مگر خدا نہ کرے کہ ہم آپ یہ راستہ اختیار کریں، اس بے تکلف گزارش کے بعد اب میں جناب کے خط کے مندرجات پر بہت اِختصار کے ساتھ کچھ لکھتا ہوں۔

۱:۔طلبِ میراث کے سلسلے میں، میں نے دو جواب دئیے تھے: ایک یہ کہ یہ حضرات، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے مطمئن ہوگئے تھے، جس کا قرینہ یہ ہے کہ وہ خود بھی حدیث: ’’لَا نُوْرِثَ، مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃً!‘‘ کو روایت فرماتے ہیں۔ میرے نزدیک یہی توجیہ راجح ہے اور روایات کے جن الفاظ سے اس کے خلاف کا وہم ہوتا ہے، وہ لائقِ تأویل ہیں۔ دُوسرا جواب میں نے حاشیہ بخاری کے حوالے سے دیا تھا کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ حضرات، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے سے متفق نہیں ہوئے، تب بھی ان کے موقف میں کوئی علمی اِشکال نہیں، بلکہ یہ حدیث کی توجیہ و تأویل کا اختلاف ہے، اور یہ محلِ طعن نہیں۔ قرآن و حدیث کے فہم میں مجتہدین کا اختلافِ رائے کبھی محلِ طعن نہیں سمجھا گیا، پس حدیث کی مراد میں اگر ان حضرات کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہوا، اور اس ضمن میں شکوہ و شکایت کی نوبت بھی آئی ہو تو یہ ان حضرات کا آپس کا معاملہ تھا، مجھے اور آپ کو ان میں سے کسی ایک فریق سے شکوہ و شکایت کرنے کا کیا حق ہے، جبکہ وہ آپس میں شیر وشکر تھے۔

۳:۔علمائے اہلِ سنت کے نزدیک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ناراض ہونے کی روایت راوی کی تعبیر ہے۔ حافظؒ نے عمر بن شبہ کی روایت نقل کی ہے: ’’فَلَمْ تُكَلِّمْهُ فِي ذٰلِكَ الْمَالِ‘‘ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے اس مال کے بارے میں پھر گفتگو نہیں کی۔ اس عدمِ تکلم کو ناراضی سمجھ لیا گیا۔ اور پھر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اِمام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے بہ سندِ صحیح نقل کیا ہے کہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور ان کو راضی کرلیا۔ پس یہ دونوں حضرات تو باہم راضی ہوگئے اور حق تعالیٰ شانہ بھی دونوں سے راضی ہوگئے۔ رضی اللہ عنہما۔ اب اگر روافض اس رضامندی کو تسلیم نہ کرکے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے راضی نہ ہوں یا ہم آپ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ناراض ہوں تو اس سے نقصان کس کا ہوگا؟ ہمارا یا ان بزرگوں کا؟ اور اگر یہی فرض کرلیا جائے کہ وہ مرتے دَم تک ناراض رہیں تو ان کی یہ ناراضی بھی للہ فی اللہ تھی، ان کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تأویل سے اختلاف تھا، گو ان کی رائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں مرجوح ہو، مگر یہ ان کا اِجتہاد تھا۔ اور انہوں نے جو کچھ کیا، محض رضائے الٰہی کے لئے کیا۔ ادھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی جو موقف اختیار کیا، محض رضائے الٰہی کے لئے۔ اور میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اختلافِ رائے مخلصین کے درمیان بھی ہوسکتا ہے، اور ہوتا رہا ہے۔

۳:۔’’إِنَّ فَاطِمَةَ أَرْسَلَتْ۔۔۔الخ‘‘ میں ’’أَرْسَلَتْ‘‘ کا لفظ بصیغۂ معروف پڑھا جائے، یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔

۴:۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ذاتی وجاہت بھی حاصل تھی، مگر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے مغلوب تھی، جس طرح چاند کے سامنے ستارے مغلوب ہوتے ہیں، لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیات میں ان کو دُہری وجاہت حاصل تھی، ان کے وصال کے بعد یہ دُوسری وجاہت نہیں رہی۔ اور قدرتی طور پر حضراتِ شیخینؓ کی موجودگی میں ان کی طرف لوگوں کا رُجوع کم تھا، اس سے یہ سمجھ لینا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی نظر میں ان کی کوئی وقعت نہیں تھی، غیرمنطقی بات ہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ خود چل کر ان کے درِ دولت پر تشریف لے جاتے ہیں تو ان کی عظمت و وجاہت کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں، کیا حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے اس طرزِ عمل کے بعد بھی مجھے اور آپ کو حق پہنچتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حمایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بے وقعتی کریں۔۔۔؟

۵:۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعتِ خلافت ثقیفہ بنی ساعدہ میں اچانک ہوئی تھی اور اس سلسلے میں حضرت علی کرّم اللہ وجہہ اور دیگر اکابر بنوہاشم کو شریکِ مشورہ کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، جس کا انہیں طبعی رنج تھا، ان اکابر کو اس پر اعتراض نہیں تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کیوں خلیفہ بنایا گیا؟ البتہ انہیں دوستانہ شکوہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو اتنا غیراہم کیوں سمجھ لیا گیا کہ ان سے مشورہ بھی نہ لیا جائے۔ پس ایک تو صدمہ سانحۂ نبوی کی وجہ سے، دُوسرے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مرض کی وجہ سے اور تیسرے اس رنج کی وجہ سے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ اکثر گوشہ گیر رہتے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کچھ کھنچے کھنچے سے رہتے تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیات میں بھی لوگ اس کھنچاؤ کو محسوس کرتے تھے، مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صدمہ، ان کے مرض اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مشغولی کے پیشِ نظر لوگوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سانحۂ وصال کے بعد اس صورتِ حال میں تبدیلی ناگزیر تھی۔ دُوسرے حضرات کی بھی خواہش تھی کہ اس کھنچاؤ کی سی کیفیت کو ختم کردیا جائے، اور خود حضرت علی کرّم اللہ وجہہ بھی یہی چاہتے تھے، مگر شاید وہ منتظر تھے کہ رُوٹھے ہوؤں کو منانے میں پہل دُوسری طرف سے ہو، بالآخر حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے فیصلہ کرلیا کہ اس جمود کی سی کیفیت کو ختم کرنے میں وہ خود پہل کریں گے۔ اس کے لئے انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلابھیجا، جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے، کم از کم اس ناکارہ کو تو اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جسے لائقِ اعتراض قرار دیا جائے۔

انسانی نفسیات کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ ایسے طبعی اُمور میں رنج و شکوہ ایک فطری بات ہے، اور حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا اس صورتِ حال کو ختم کرنے میں پہل کرنا اس ناکارہ کے نزدیک تو ان کی بہت بڑی منقبت ہے، اور خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کو ’’مجبوری‘‘ کا طعنہ نہیں دیا، جو آپ دے رہے ہیں، بلکہ جیسا کہ اسی روایت میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، گویا ان کے طبعی شکوہ و رنج کو قبول فرمایا، اس کے بعد کیا میرے، آپ کے لئے رَوا ہوگا کہ اس واقعے کو بھی ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ ان اکابر کے جرائم و عیوب کی فہرست میں شامل کرکے ان پر لب کشائی کریں؟ نہیں۔۔۔! بلکہ ہمارا فرض تو یہ بتایا گیا ہے کہ ہم یہ کہیں:

.6رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِيٓ أَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ

۶:۔جہاں تک آپ کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں ساتھ آنے سے منع کیا؟ اس کے بارے میں گزارش ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کو حضرت علی کرّم اللہ وجہہ، مجھ، آپ سے زیادہ جانتے تھے، کتبِ حدیث میں حضرت عمرؓ کے جو فضائل و مناقب حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کی روایت سے مروی ہیں، اس سلسلے میں ان کا مطالعہ کافی ہے۔

اس موقع پر چونکہ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو اپنے رنج و شکوہ کا اظہار کرنا تھا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے تحمل و بردباری سے واقف تھے، اس لئے ان کو یقین تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تو ان کے شکوہ شکایت کو سن کر تحمل و متانت سے جواب دے دیں گے، اور اَشک شوئی فرمائیں گے، کوئی اور ساتھ ہوا تو ایسا نہ ہو کہ شکووں کے جواب میں وہ بھی شکوہ و شکایت کا دفتر کھول بیٹھے، اور نوبت تو تو میں میں تک آپہنچے۔ اس لئے انہوں نے درخواست کی کہ تنہا تشریف لائیے تاکہ جن دو شخصوں کا معاملہ ہے وہ اندرون خانہ بیٹھ کر تنہا ہی نمٹالیں، کسی تیسرے کو مداخلت کی ضرورت نہ پڑے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آنے سے انہوں نے منع نہیں کیا، بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے تنہا تشریف لانے کی درخواست کی، اور ان دونوں تعبیروں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

اور اگر بالفرض وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لانے سے منع کردیتے تب بھی کوئی اعتراض کی بات نہیں تھی، نہ اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت اور اہمیت کا انکار لازم آتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و اہمیت مسلّم، لیکن جب ان سے کوئی گلہ شکوہ ہی نہیں، نہ کوئی جھگڑا، تو اگر ان کی مداخلت کو بھی قرینِ مصلحت نہ سمجھا گیا ہو تو مجھے، آپ کو کیوں شکایت ہو؟ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سختی تو ضرب المثل ہے، اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہوتے تو ممکن تھا کہ ان کے کسی شکوہ کو نادُرست سمجھتے ہوئے سختی سے اس کی تردید فرماتے، اور گفتگو بجائے مصالحت کے مناظرے کا پہلو اختیار کرجاتی۔ اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بلیغ اصرار کے باوجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا ساتھ جانا قرینِ مصلحت نہیں سمجھا، اور اسی کی نظیر ثقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ ہے کہ وہاں بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود تقریر فرمانا بہتر سمجھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تقریر کی اجازت نہیں دی۔ بعض دفعہ ایک بات بالکل حق ہوتی ہے لیکن اندازِ بیان میں سختی آجانے سے اس کی افادیت کم ہوجاتی ہے، مصالحت کے مواقع میں اگر آدمی پورا تولنے بیٹھ جائے تو کبھی صلح نہیں ہوپاتی، بلکہ بعض اوقات معمولی بات سے بنا بنایا کھیل بگڑ جاتا ہے۔ بہرحال اس مصالحتی موقع پر کسی تیسرے کا آنا نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرینِ مصلحت سمجھا، اور نہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے۔ اس سے اگر ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے بیٹھ جائیں تو یہ ہماری خوش فہمی ہوگی کہ ان اکابر کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نفرت تھی، یا ان کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔

۷:۔آپ نے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ’’قرابت کی وجہ سے وہ خلافت کو اپنا حق سمجھتے رہے ہیں‘‘ یہ فقرہ شاید جناب نے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کی اس تقریر سے اَخذ کیا ہے جو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے کی تھی، اس کا پورا متن حسبِ ذیل ہے:

’’فَتَشَھَّدَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا یَا أَبَابَکْرٍ فَضِیْلَتَکَ وَمَا أَعْطَاکَ اللہ وَلَمْ نَنْفُسْ عَلَیْکَ خَیْرًا سَاقَہُ اللہ إِلَیْکَ وَلٰـکِنَّکَ إِسْتَبَدَدْتَ عَلَیْنَا بِالْأَمْرِ وَکُنَّا نَحْنُ نَرٰی لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یَزَلْ یُکَلِّمُ أَبَابَکْرٍ حَتّٰی فَاضَتْ عَیْنَا أَبِیْ بَکْرٍ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۹۱)

ترجمہ:۔’’حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے حمد و صلوٰۃ کے بعد کہا کہ: اے ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت کے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے، اس کے معترف ہیں۔ اور اس خیر پر ہمیں کوئی رشک و حسد نہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے حوالے کردی ہے، لیکن ہمیں شکوہ ہے کہ آپ نے معاملہ ہم سے بالا بالا طے کرلیا جبکہ ہمارا خیال یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کی بنا پر ہم بھی اس معاملے میں کچھ حق رکھتے تھے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنسو بہ نکلے۔‘‘

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے اس خطبے میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا یہ مفہوم ہو کہ وہ خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے، بلکہ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خیال تھا کہ یہ معاملہ ہمارے بغیر طے نہیں ہوگا، قرابتِ نبوی کی وجہ سے اس سلسلے میں ہم سے مشورہ ضرور لیا جائے گا، لیکن آپ حضرات نے معاملہ بالا بالا ہی طے فرمالیا اور ہمیں حقِ رائے دہی کا موقع ہی نہیں دیا، چنانچہ اِمام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’وَكَانَ سَبَبُ الْعَتْبِ أَنَّهُ مَعَ وَجَاهَتِهِ وَفَضِيلَتِهِ فِي نَفْسِهِ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَقُرْبِهِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِ ذٰلِكَ رَأَى أَنَّهُ لَا يَسْتَبِدُّ بِأَمْرٍ إِلَّا بِمَشُورَتِهِ وَحُضُورِهِ، وَكَانَ عُذْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَائِرِ الصَّحَابَةِ وَاضِحًا لِأَنَّهُمْ رَأَوُا الْمُبَادَرَةَ بِالْبَيْعَةِ مِنْ أَعْظَمِ مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ، وَخَافُوا مِنْ تَأْخِيرِهَا حُصُولَ خِلَافٍ وَنِزَاعٍ تَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ مَفَاسِدُ عَظِيمَةٌ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (شرح مسلم ج:۲ ص:۹۱)

ترجمہ:۔’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رنج و شکوہ کا سبب یہ تھا کہ اپنی ذاتی وجاہت اور ہر معاملے میں اپنی فضیلت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور دیگر اُمور کی بنا پر یہ سمجھتے تھے کہ اَمرِ خلافت ان کے مشورہ و حاضری کے بغیر طے نہیں ہوگا۔ ادھر حضرت ابوبکر و عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عذر واضح ہے کہ انہوں نے بیعت کے معاملے میں جلدی کو مسلمانوں کی سب سے بڑی مصلحت سمجھا، اور اس کی تأخیر میں خلاف ونزاع کے اُٹھ کھڑے ہونے کا اندیشہ کیا، جس پر مفاسدِ عظیمہ مرتب ہوسکتے تھے۔‘‘

الغرض حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی تقریر میں جس حق کو ذکر فرما رہے ہیں، اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ اپنے تئیں خلافت کا ابوبکرؓ سے زیادہ مستحق سمجھتے تھے، بلکہ اس حق سے مراد حقِ رائے دہی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ اپنی حیثیت و مرتبے کے پیشِ نظر وہ اَمرِ خلافت میں رائے دہی کے سب سے زیادہ مستحق تھے اور ان کا یہ شکوہ اپنی جگہ دُرست اور بجا تھا کہ ان سے کیوں مشورہ نہیں لیا گیا، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے اس شکوے کی تردید نہیں فرمائی، بلکہ اپنا عذر پیش کیا۔ بہرحال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فقرے سے اِستحقاقِ خلافت کا دعویٰ یا تو روافض نے سمجھا اور اس کی بنیاد پر حضراتِ شیخین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نشانۂ طعن بنایا، یا پھر آنجناب نے اسی نظریے کو لے کر اُلٹا استعمال کیا، اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عیوب میں شامل کرلیا، اہلِ سنت اس فقرے کا وہی مطلب سمجھتے ہیں جو اُوپر اِمام نوویؒ کی عبارت میں گزر چکا ہے۔

الجواب (1-7) - شہید اسلام