October 16, 2026 at 5:25 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

الجواب (8-14)

جواب

’’کیا اس مقصد کے حصول کے لئے ’’جنگِ صِفّین‘‘ برپا نہیں کی گئی؟ عراقی اور عجمی جو کہ شیعانِ علی کہلائے، شامیوں اور عربوں سے کس لئے دست و گریباں کئے گئے؟ وہ بھی ایسے وقت میں جبکہ حضرت امیر معاویہؓ کو رُومیوں سے جنگ درپیش تھی ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

اہلِ حق نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے دورِ خلافت میں خلیفۂ برحق اور خلیفۂ راشد سمجھا ہے، اور یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے ارشادات کی بنا پر اہلِ سنت کے عقائد میں داخل ہے، اس لئے ہمیشہ حضراتِ اہلِ سنت نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عذر کو واضح کیا ہے جو حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے بالمقابل صف آرا ہوئے، لیکن جناب کی تحریر سے مترشح ہوتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ نعوذباللہ!۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفۂ جائر تھے، جنھوں نے ہوسِ اِقتدار کی خاطر ہزاروں مسلمانوں کو کٹوادیا۔ گویا جناب کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی انکار ہے، جس کی آگے چل کر جناب نے یہ کہہ کر قریب قریب تصریح کردی ہے کہ:

’’جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے ان صاحب نے اور تاریخِ اسلام کے مؤلف نجیب خیرآبادی نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ تینوں کی خلافت کے حالات تحریر کرنے کے بعد باب اس عنوان سے قائم کیا ہے: حضرت علیؓ بحیثیت گورنرِ کوفہ۔‘‘

اگر جناب اہلِ سنت کے عقیدے کے علی الرغم حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو خلیفۂ راشد ہی تسلیم نہیں کرتے تو مجھے جنگِ صِفّین وغیرہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقف کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہئے، بلکہ خود اِسی مسئلہ پر گفتگو ہونی چاہئے کہ اہلِ سنت کا عقیدہ ونظریہ صحیح ہے یا ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ غلط؟ لیکن اگر آپ اہلِ سنت کے عقائد و نظریات کو برحق سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو خلیفۂ راشد جانتے ہیں تو آپ خود ہی انصاف کیجئے کہ خلیفۂ راشد کو بغاوت رُونما ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہئے تھا۔۔۔؟

جہاں تک عراقیوں اور عجمیوں کو شامیوں اور عربوں سے دست و گریباں کرانے کا تعلق ہے، یہ عراقی و شامی اور عربی و شامی کی تفریق حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے ذہن میں نہیں تھی، ان کے سامنے صرف مطیع و غیرمطیع کا سوال تھا، خواہ کوئی ہو، انہیں نہ شامیوں کے شامی اور عربوں کے عرب ہونے کی وجہ سے ان سے کوئی پرخاش تھی، اور نہ عراقیوں اور عجمیوں سے محض ان کے عراقی یا عجمی ہونے کی بنا پر کوئی اُنس تھا۔ یہ تفریق ہی ’’عصبیتِ جاہلیت‘‘ ہے، جو میرے، آپ کے ذہن میں تو آسکتی ہے، لیکن حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا دامنِ ذہن ان داغ دھبوں سے آلودہ نہیں تھا، وہ واقعتا خلیفۂ راشد تھے، ان کی حمایت میں صحابہؓ بھی تھے اور تابعینؒ بھی، عرب بھی تھے اور عجمی بھی، ’’شیعانِ علی‘‘ کی اصطلاح ان کے زمانے کی نہیں تھی، بلکہ بعد کی پیداوار ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ جاکر وہاں کی گورنری کا منصب نہیں سنبھالا تھا، بلکہ مدینہ طیبہ سے خلیفہ بن کر گئے تھے، اور مہاجرین و انصار نے ان سے بیعتِ خلافت کی تھی، بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جن چھ اکابر کو خلافت کے لئے نامزد کیا تھا، ان میں صرف حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ہی کا نام باقی رہ گیا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ خودبخود مستحقِ خلافت رہ گئے تھے، اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے نامزد کردہ خلیفہ تھے۔(۱۵)

۹:۔آپ نے یہ شبہ بھی کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص کیوں نہیں لیا؟ اور آپ نے ان کو مغفل ثابت کرنے کے لئے خاصا زورِ قلم صرف کیا ہے۔ یہ شبہ آج کل بہت سے عنوانات سے بار بار دُہرایا جاتا ہے۔ مجھے صفائی سے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ ایک عرصے تک میں خود بھی اس وسوسے کا مریض رہا ہوں، مگربحمداللہ! یہ وسوسہ محض وسوسے کی حد تک رہا۔ میں نے کبھی اس وسوسے کو حضرت علی کرّم اللہ وجہہ پر نکتہ چینی کا ذریعہ نہیں بنایا اور نہ اس کی وجہ سے حضرتِ موصوفؓ سے محبت و عقیدت میں رتی برابر کوئی فرق آیا، بلکہ جب بھی یہ وسوسہ آیا، فوراً یہ خیال آتا رہا کہ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ جنھوں نے تیئس برس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اُٹھائی ہے، جنھیں لسانِ نبوّت نے: ’’یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیُحِبُّہُ اللہ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ (صحیح بخاری و مسلم و ترمذی، مشکوٰۃ ص:۵۶۶) کا اعلیٰ ترین تمغہ مرحمت فرمایا، جنھیں پیچیدہ ترین مسائل میں صحیح فیصلہ کرنے کی سند: ’’اَقْضَاھُمْ عَلِیّ‘‘ (ترمذی، مشکوٰۃ ص:۵۶۶) کہہ کر عطا فرمائی اور ۔۔۔ ’’اَللّٰھُمَّ اَدْرِ الْحَقَّ مَعَہٗ حَیْثُ دَارَ‘‘ (ترمذی، مشکوٰۃ ص:۵۶۷) کی دُعا دے کر حق کو ان کے ساتھ اور ان کو حق کے ساتھ دائر و سائر کردیا، وہ علم و دانش، دیانت و امانت، طہارت و تقویٰ اور مقاصدِ شریعت کے فہم و بصیرت میں مجھ نالائق و بدکار سے تو بہرحال فائق ہی تھے۔

(واقعہ یہ ہے کہ یہ ناکارہ اب تو اس خیال کو بھی گستاخی اور سوئِ ادب سمجھتا ہے اور اس پر سو بار اِستغفار کرتا ہے، کہاں حضرت علیؓ اور کہاں مجھ ایسے ٹٹ پونجیے: ’’چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔‘‘)

پس انہوں نے وفورِ علم و تقویٰ، کمالِ خشیت و انابت اور خدا اور رسول سے محبت و محبوبیت کے باوصف جو کچھ کیا وہ عین تقاضائے شریعت و تقویٰ ہوگا۔ اور اگر ان کا موقف مجھ نالائق کو سمجھ میں نہ آئے تو ان پر اِعتراض کا موجب نہیں، بلکہ اپنی بدفہمی لائقِ ماتم ہے۔ الغرض اس وسوسے کو ہمیشہ اپنی نالائقی و کم فہمی پر محمول کیا، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دستگیری فرمائی اور اس وسوسے سے نجات دِلائی، َلَهُ الْحَمْدُ وَلَهُ الشُّكْرُ!

اس شبہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں نے خلیفۂ مظلوم حضرت عثمان شہید رضی اللہ عنہ و اَرضاہ کے خلاف یورش کی اور آپؓ کے مکان کا محاصرہ کیا، فقہِ اسلامی کی رُو سے ان کی حیثیت باغی کی تھی، پھر ان کی دو قسمیں تھیں، ایک وہ لوگ جنھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے اپنی دُنیا و عاقبت برباد کی، اور دُوسرے وہ لوگ جن کا عمل صرف محاصرے تک محدود رہا۔

اوّل الذکر فریق میں چھ نام ذکر کئے جاتے ہیں: ۱:محمد بن ابی بکرؓ۔ ۲:عمرو بن حمقؓ۔ ۳: کنانہ بن بشیر۔ ۴:غافقی۔ ۵:سودان بن حمران۔ ۶: کلثوم بن تجیب۔ مگر قاتلینِ عثمانؓ میں اوّل الذکر دونوں صاحبوں کا نام لینا قطعاً غلط ہے، کیونکہ محمد بن ابی بکرؓ کے بارے میں تو تصریح موجود ہے کہ جب انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پر ہاتھ ڈالا اور حضرتؓ نے یہ فرمایا کہ: ’’بھتیجے! اگر تمہارے والد زندہ ہوتے اور وہ اس حرکت کو دیکھتے تو پسند نہ کرتے۔‘‘ تو یہ شرمندہ ہوکر پیچھے ہٹ گئے، اس کے بعد نہ صرف یہ کہ خود قتل میں شریک نہیں ہوئے، بلکہ دُوسروں کو بھی روکنے کی کوشش کی،(۱۶) اور حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ صحابی ہیں،(۱۷) اور علمائے اہلِ سنت نے تصریح کی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی اس گناہ میں شریک نہیں ہوا۔(۱۸) اس سے معلوم ہوا کہ محمد بن ابی بکرؓ اور عمرو بن حمقؓ کو قاتلینِ عثمانؓ کی فہرست میں ذکر کرنا صحیح نہیں۔

رہے باقی چار اشخاص! ان میں سے مؤخر الذکر دونوں شخص موقع ہی پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غلاموں کے ہاتھوں مارے گئے،(۱۹) اب صرف دو شخص رہ گئے! کنانہ بن بشیر اور غافقی، یہ دونوں موقع سے فرار ہوگئے، بعد میں یہ بھی مارے گئے۔(۲۰) اس طرح قاتلینِ عثمانؓ میں سے کوئی شخص ہلاکت سے نہیں بچا۔

رہا وہ فریق جس کا عمل محاصرے تک محدود رہا، اور انہوں نے خونِ عثمانؓ سے ہاتھ رنگین نہیں کئے، ان کی حیثیت باغی کی تھی، خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی آخری لمحے تک ان کے خلاف تلوار اُٹھانے کی اجازت نہیں دی،(۲۱) اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی کرّم اللہ وجہہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے نئے خلیفہ کی اطاعت کرلی، انقیاد و اطاعت کے بعد محض بغاوت کے جرم میں کسی کو قتل کرنے کا کوئی شرعی جواز نہیں۔ بحرالرائق (ج:۵ ص:۱۵۳) میں ہے:

’’وَفِي الْمُحِيطِ قَالَ الْبَاغِي: تُبْتُ، وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ، كُفَّ عَنْهُ، لِأَنَّ تَوْبَةَ الْبَاغِي بِمَنْزِلَةِ الْإِسْلَامِ مِنَ الْحَرْبِيِّ فِي إِفَادَةِ الْعِصْمَةِ وَالْحُرْمَةِ.۔‘‘ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۵۳)

ترجمہ:۔’’اور محیط میں ہے: جب باغی کہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور ہتھیار ڈال دے تو اس سے ہاتھ روک لیا جائے گا، کیونکہ جس طرح حربی کافر اسلام لانے کے بعد معصوم الدم ہوجاتا ہے، اسی طرح باغی کے توبہ کرنے کے بعد اس کی جان و مال محفوظ ہوجاتے ہیں۔‘‘

پس اطاعت و انقیاد کے بعد اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان باغیوں سے تعرض نہیں کیا تو یہ قواعدِ شرعیہ کے عین مطابق تھا۔

(یاد رہے کہ یہاں صرف حضرت علیؓ کے موقف کی وضاحت کر رہا ہوں، جو اکابر صحابہؓ قصاص کا مطالبہ فرماتے تھے، وہ بھی اپنے علم و اِجتہاد اور فہم و بصیرت کے مطابق اپنے موقف کو برحق سمجھتے تھے، اور وہ عنداللہ اپنے اِجتہاد پر عمل کرنے کے مکلف تھے، ان کے موقف کی وضاحت کا یہ موقع نہیں۔)

اور ان پر ہماری نکتہ چینی دراصل باغیوں کے اَحکام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے، اور جناب کا یہ فقرہ کہ: ’’وقتی ذہول اور اِجتہادی غلطی آخر کہاں کہاں اور کب تک ساتھ دے گی؟‘‘ اس موقع پر قطعاً بے محل ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں نہ کوئی ذہول ہوا اور نہ انہوں نے یہاں کوئی اِجتہادی غلطی کی، بلکہ پوری بیدار مغزی کے ساتھ اس پیچیدہ ترین مسئلے میں ٹھیک منشائے شریعت کی تعمیل کی۔

۱۰:۔جناب نے حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جاملنے کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عدمِ تدبر کی دلیل قرار دیا ہے، اور اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ جو شخص اپنے سگے بھائی کو اپنے موقف کا قائل نہ کرسکے، اس کی بے تدبیری کا کیا ٹھکانا ہے۔۔۔! جناب نے یہ لطیفہ سنا ہوگا کہ ایک صاحب (مجھے نام میں تردّد ہے، کتاب اس وقت سامنے نہیں) کھانا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دسترخوان پر کھاتے تھے اور نماز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھتے تھے، وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’کھانا ان کا لذیذ ہوتا ہے، اور نماز ان کی۔‘‘(۲۲)

واقعہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیت المال کے معاملے میں بہت ہی محتاط تھے، ان کے ہاں داد و دہش کی کوئی مد نہیں تھی، جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس سلسلے میں خاصے فراخ دِل تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ زُہد و تقویٰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے نقشِ قدم پر تھے، اور ان کے بلند ترین معیار پر پورا اُترنا کسی اور کے بس کی بات نہ تھی، اس لئے حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کا اپنے ماںجائے کو چھوڑ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب میں شمار کئے جانے کی چیز ہے کہ ان کے اعلیٰ ترین معیارِ تقویٰ کا ساتھ دینے سے ان کے سگے بھائی بھی قاصر تھے۔(۲۳) لیکن کیا کیجئے! جس شخصیت سے اُلفت و محبت کا رشتہ نہ رہے، اس کے محاسن بھی عیوب نظر آیا کرتے ہیں، عربی شاعر نے صحیح کہا ہے:

وَعَيْنُ الرِّضَا عَنْ كُلِّ عَيْبٍ كَلِيلَةٌ

وَلٰكِنْ عَيْنُ السُّخْطِ تُبْدِي الْمَسَاوِيَا

۱۱:۔اُموی اور عباسی دور میں وقتاً فوقتاً جو علوی و عباسی خروج ہوتے رہے، جناب نے ان کو بھی ’’عیوبِ علی‘‘ کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ان ’’خروجوں‘‘ کا منشا کیا تھا؟ ان میں سے کون سے حق بجانب تھے اور کون سے ناحق؟ اور یہ کہ اس وقت کے اکابرِ اُمت نے ان خروجوں کے بارے میں کیا اظہارِ خیال فرمایا؟ میں آپ سے یہ دریافت کرنے کی گستاخی کروں گا کہ آپ نے ان خروجوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف مرتب کردہ ’’فردِ جرم‘‘ میں کیسے شامل فرمالیا؟ کیا بعد کے لوگوں کے قول و فعل کی ۔۔۔اگر وہ ناحق ہوں۔۔۔ ذمہ داری بھی حضرت علی کرّم اللہ وجہہ ہی پر عائد ہوتی ہے؟ اگر کسی شخصیت کی طرف سے ہمارے دِل میں خدانخواستہ میل ہے تو کیا ناکردہ گناہوں کو بھی اس کے کھاتے میں ڈال دینا چاہئے۔۔۔؟

۱۲:۔آنجناب لکھتے ہیں:

’’اس میں شک نہیں کہ شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الخفاء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بے شمار بیان کئے ہیں۔ حالانکہ ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ کے دورِ خلافت میں اسلام کو جو فروغ حاصل ہوا، طرزِ حکومت، معاشرت غرضیکہ ہر چیز کی تفصیل ہے، جو انہوں نے لکھی ہے ۔۔۔۔۔ کہ اس کے علاوہ اور لکھ بھی کیا سکتے تھے؟ پھر شاہ ولی اللہؒ کا ماخذ زیادہ تر ’’ریاض النضرۃ للمحب الطبری‘‘ رہا، جہاں نہایت کثرت سے موضوع اور ضعیف روایتیں مذکور ہیں۔‘‘

یہ ناکارہ کند ذہن، جناب کے اس فقرے کا مدعا سمجھنے سے قاصر ہے، شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرات خلفائے ثلاثہ (رضی اللہ عنہم) کے دور تو خدماتِ اسلامیہ سے بھرپور ہیں، مگر حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا خانہ خدمات سے یکسر خالی ہے، ان کے پلّے فضائل و مناقب کے سوا کچھ نہیں، اور ان کے فضائل و مناقب کی روایتیں بھی چونکہ بیشتر محب طبری سے نقل کی گئی ہیں، اس لئے وہ من گھڑت اور ناقابلِ اعتبار حد تک ضعیف ہیں۔ گویا ان کے مناقب کی گاڑی بھی موضوع و منکر روایتوں ہی سے چلتی ہے، ورنہ وہ اس میدان میں بھی قریباً صفر ہیں۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمات کا تعلق ہے (ان خدمات سے قطع نظر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دورِ مسعود میں ان سے ظہور پذیر ہوئیں) ان کے زمانۂ خلافت کی خدمات بھی اُمت کے لئے مایۂ صد سعادت ہیں۔

البتہ زمانے کے اَلوَان مختلف ہونے کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمات کا رنگ اور ہے، حضرات عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کی خدمات کا اور، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمات کا اور۔۔۔! ان اُمور کی تفصیل کے لئے حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کے رسالہ ’’انتباہ المؤمنین‘‘ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک میں وہ خصوصیات ودیعت فرمائی تھیں جن کی ان کے دورِ خلافت میں ضرورت تھی۔ اس ناکارہ کا احساس یہ ہے۔۔۔ اور اِن شاء اللہ یہ احساس غلط نہ ہوگا۔۔۔ کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ملتا تو ان سے وہی کچھ ظہور پذیر ہوتا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہوا، اور اگر حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا زمانہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا جاتا تو وہ وہی کرتے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا۔ فتنوں کے پُرآشوب زمانے میں انہوں نے جس اِستقامت کا مظاہرہ کیا، اور قدم قدم پر مشکلات اور کانٹوں کے باوجود جادۂ شریعت پر جس طرح مضبوطی کے ساتھ گامزن رہے، بعد کا کوئی شخص اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ان کا وہ کمال ہے جو ہزار خوبیوں پر بھاری ہے۔ پھر اہلِ فتنہ سے کیا معاملہ کیا جانا چاہئے؟ یہ علم صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے اُمت کو حاصل ہوا، بلاشبہ ان کی خدمات فتنوں کے گرد و غبار میں دَب کر رہ گئی ہیں، اس لئے ظاہر بینوں کو وہ نظر نہیں آتیں، لیکن یہ بھی اپنی بصیرت کا قصور ہے، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا۔ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ کا وہ فقرہ پھر دیکھ لیا جائے، جسے اس سلسلے میں پہلے نقل کرچکا ہوں۔

اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ان کے پاس صرف ’’بے شمار فضائل و مناقب‘‘ ہیں اور بس! تب بھی میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ’’خدمات‘‘ سے مقصد قرب عنداللہ کے سوا کیا ہے؟ اور جب ان کا مقرّبِ بارگاہِ الٰہی ہونا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں تو آپ خدمات کو دیکھیں گے، یا ان کے اعلیٰ ترین مدارجِ قرب و رضا کو، جو نصِ نبوی سے ثابت ہیں؟ الغرض جب خدمات کا مقصد و مدّعا اور غرض و غایت ان کو حاصل ہے تو آپ خدمات کی تلاش کی فکر میں کیوں پڑتے ہیں۔۔۔؟

رہا آپ کا یہ ارشاد کہ مناقب کی روایات جو ’’إزالۃ الخفاء‘‘ میں ذکر کی گئی ہیں، موضوع یا ضعیف ہیں! اوّل تو یہ بات خود حضرت شاہ صاحبؒ کی تصریح کے خلاف ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’بالجملہ ما از ایراد احادیثِ موضوعہ و احادیث شدیدۃ الضعف کہ بکار متابعات و شواہد نمی آید تحاشی داریم وآنچہ در مرتبۂ صحت و حسن است یا ضعف متحمل دارد آں را روایت کنیم۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۶۰)

ترجمہ:۔’’ہم موضوع احادیث اور ایسی شدید ضعیف احادیث، جو متابعات و شواہد کے کام نہیں آتیں، ان کے ذکر کرنے سے پرہیز کریں گے، اور جو صحت و حسن کے مرتبے میں ہیں، یا قابل تحمل ضعف رکھتی ہیں ان کو روایت کریں گے۔‘‘

اس کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے ’’مِنَ الْمُتَوَاتِرِ‘‘ کہہ کر متعدّد اَحادیث ذکر کی ہیں۔ اور اس سے بھی قطع نظر کیجئے تو مناقبِ علیؓ کے لئے ہمیں محب طبری کی ’’الریاض النضرہ‘‘ پر اِنحصار کرنے کی ضرورت نہیں، صحاحِ ستہ اور دیگر مسانید و معاجم میں جو روایات منقول ہیں ان میں صحیح، حسن اور مقبول احادیث بھی کچھ کم نہیں، بشرطیکہ ہمارا دِل اس پر راضی بھی ہو، اور اَحادیث کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے عموماً اور حضراتِ مہاجرین و اَنصار کے خصوصاً جو فضائل قرآنِ کریم میں مذکور ہیں، کیا آپ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو ان سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں؟ پھر جس شخص کے فضائل و مناقب خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے ہوں، اس پر خردہ گیری کیونکر روا ہوسکتی ہے۔۔۔؟

۱۳:۔جناب نے دریافت فرمایا ہے کہ: ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسبِ معاش پر کیوں توجہ نہیں دی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو اس طرف راغب فرمایا ہے۔‘‘ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو فقر و اِفلاس کے طعنے دینا بھی آج کل کچھ لوگوں کا لذیذ مشغلہ ہے۔ جناب کا یہ سوال بھی غالباً انہی اصحاب سے تأثر کا نتیجہ ہے، اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت تھی، مگر فرصت اس کی متحمل نہیں! مختصر یہ کہ کسبِ معاش ہر ایک کے لئے یکساں حکم نہیں رکھتا، کسی کے لئے ضروری ہے، اور کسی کے لئے غیرضروری۔ اس کے لئے مراتب و درجات کی تفصیل اِمام غزالی رحمہ اللہ اور دیگر اکابر کی تصنیفات میں مل جائے گی۔ جو حضرات دِینی خدمات کے لئے وقف ہوں اور کسبِ معاش میں مشغول ہونے سے ان خدمات میں حرج ہوتا ہو ان کا کسبِ معاش میں مشغول ہونا صحیح نہیں۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ ہمارے سامنے ہے کہ ۲، ۲ مہینے تک گھر میں چولہا گرم نہیں ہوتا تھا، اس کے باوجود منصبِ نبوّت پر فائز ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسبِ معاش کا کوئی شغل اختیار نہیں فرمایا۔ اب اگر کوئی شخص آپ کا پورا فقرہ نقل کرکے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے بجائے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی لکھ دے اور جناب سے یہی سوال کر ڈالے جو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ہے، تو فرمائیے! آپ کا جواب کیا ہوگا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ۔۔۔ بقول آپ کے ۔۔۔ اُمت کو کسبِ معاش کی طرف راغب فرماتے تھے تو خود کون سا کسب فرماتے تھے؟ اور اسی سوال میں اگر جناب کا یہ فقرہ بھی نقل کردیا جائے کہ:

’’جو شخص ایک بیوی کی بھی کفالت نہ کرسکتا ہو، اور خود اپنی کفالت نہ کرسکے تو اسے بھی اجازت ہے کہ نکاح پر نکاح کرتا چلا جائے؟‘‘

تو سوچئے کہ معاملہ کتنا نازک اور سنگین ہوجائے گا، خصوصاً جب یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ اُمہات المؤمنینؓ کے نان و نفقے کے مطالبے کا واقعہ نہ صرف صحیح احادیث میں بلکہ قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہے۔(۲۴)

کسبِ معاش تو اپنی یا اپنے عیال کی ضرورت کی بنا پر ایک مجبوری ہے، نہ کہ بذاتِ خود کوئی کمال۔ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ اگر کچھ نہیں کماتے تھے تو وہ خود یا ان کے اہلِ خانہ کسی کے دروازے پر بھیک مانگنے تو نہیں گئے تھے کہ انہیں نہ کمانے کا طعنہ دیا جائے؟ اور اگر وہ اپنے فقر و فاقہ، زُہد و قناعت اور تبتل عن الدنیا کے باوجود، بقول آپ کے نکاح پر نکاح کئے چلے جاتے تھے تو لوگ انہیں لڑکیوں پر لڑکیاں نہ دیتے؟ کیسی عجیب بات ہے کہ فقر و فاقہ اور زُہد و قناعت کی صفت، جو بھلے زمانوں میں مایۂ صد فخر سمجھی جاتی تھی اور جسے اعلیٰ ترین فضیلت تصوّر کیا جاتا تھا، آج اسی پر طعنہ زنی ہورہی ہے۔۔۔!

حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو بقول آپ کے: ’’یہودی کے باغ کو پانی دینے یا گھاس کاٹنے‘‘ کے سوا کوئی ہنر نہیں آتا تھا، تو اس کے لئے مجھے اور آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کی فکر اگر ہوتی تو اس مقدس ہستی کو ہوتی جس نے اپنی چہیتی بیٹی ’’خاتونِ جنت‘‘ ان کو بیاہ دی (صلی اللہ علیہ وسلم و رضی اللہ عنہا)، کتنی عجیب بات ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کسبِ معاش کی نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت ہے، نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اہلِ خانہ کو، لیکن آج حضرت علی رضی اللہ عنہ پر یہ طعن بھی کیا جارہا ہے کہ وہ کچھ کماتے نہیں تھے، ِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ!

۱۴:۔آنجناب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ابوجہل کی بیٹی سے اِرادۂ نکاح کے واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ: ’’آگے فاطمہؓ ہی کو نہیں، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اذیت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمن کی بیٹی سے نکاح فرمانے کا ارادہ کرتے ہیں۔‘‘ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اَذیت دینے کا قصد کیا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ انہوں نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ ضرور کیا تھا، لیکن یہ بات ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھی کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناگواریٔ خاطر کی موجب ہوسکتی ہے، ورنہ اس نکاح کا انہیں وسوسہ بھی نہ آتا، پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا تو انہوں نے اپنا ارادہ فوراً ترک کردیا۔(۲۵)

اگر وہ یہ نکاح کرتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اور ان کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اَذیت ہوتی لیکن نہ انہوں نے نکاح کیا اور نہ ان حضرات کو اَذیت ہوئی، بلکہ ان کے ارادہ ملتوی کردینے پر ان حضرات کو یقینا مسرّت ہوئی ہوگی۔ لیکن آنجناب ان پر یہ اِلزام دھرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَذیت پہنچائی اور اِلزام بھی ایسا سنگین جس پر قرآنِ کریم میں لعنت آئی ہے، آپ کچھ تو انصاف کیجئے کہ اگر حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اَذیت دی ہوتی تو وہ ’’رَجُلٌ يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ، وَيُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ‘‘(۲۶) اور ’’رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ‘‘ کی بشارتوں سے سرفراز ہوتے یا ﵟإِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابٗا مُّهِينٗا ٥٧ ﵞ (الأحزاب ٥٧)کے زُمرے میں آتے۔۔۔؟

جناب نے مقطعِ سخن پر اَذیتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات چھیڑی ہے تو یہ ناکارہ بھی جناب سے ایک بات پوچھنے کی جرأت کرتا ہے، وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا جو تعلق تھا وہ بھی آپ کو معلوم ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان کے ’’بے شمار مناقب‘‘ بیان فرمائے ہیں، وہ بھی جناب کے سامنے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین شخصیت کے نقائص و عیوب تلاش کرنا، اس کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا، اس کی تحقیر کے پہلو کرید کرید کر نکالنا، اس سے خود نفرت رکھنا اور دُوسروں کو متنفر کرنے کی کوشش کرنا، کیا ان ساری باتوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَذیت نہیں ہوتی ہوگی؟ اب جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عیوب اُچھال رہے ہیں، کیا ان کا یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں لائقِ ستائش ہے؟ اور کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے محبوب ترین عزیز کی تنقیص کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِیذادہی کے مرتکب اور دُنیا و آخرت میں خسرانِ عظیم کے مستوجب نہیں؟ روافض ۔۔۔خَذَلَهُمُ اللّٰهُ!۔۔۔ سے ہمیں یہی تو شکایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوبوں کی تنقیص کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِیذا دیتے ہیں، اگر یہی کام ہم بھی کرنے لگیں تو ان میں اور ہم میں کتنا فاصلہ رہ جاتا ہے۔۔۔؟ حق تعالیٰ شانہ ہمیں اس بلا سے محفوظ رکھے، والسلام!

  1. (۱۵) وخلافتھم أی نیابتھم عن الرسول فی إقامۃ الدین بحیث یجب علٰی کافۃ الاُمم الْإتباع علٰی ھٰذا الترتیب أیضًا یعنی ان الخلافۃ بعد رسول اللہ علیہ السلام لأبی بکر ثم لعمر ثم لعثمان ثم لعلی، وذالک لأن الصحابۃ قد إجمتعوا یوم توفی رسول اللہ علیہ السلام فی سقیفۃ بنی ساعدۃ واستقر رأیھم بعد المشاورۃ والمنازعۃ علٰی خلافۃ أبی بکر فأجمعوا علٰی ذالک وبایعہ علی علٰی رؤس الأشھاد بعد توقف کان منہ ولو لم تکن الخلافۃ حقا لہ لما أتفق علیہ الصحابۃ ولنازعہ علِیٌّ کما نازع معاویۃ ولَاحتج علیھم لو کان فی حقہ نص کما زعمت الشیعۃ وکیف یتصور فی حق أصحاب رسول اللہ علیہ السلام الْإتفاق علی الباطل وترک العمل بالنص الوارد ثم ان أبا بکر لما یئس من حیاتہ دعا عثمان وأملٰی علیہ کتاب عھدہ لعمر فلما کتب ختم الصحیفۃ وأخرجھا إلی الناس وأمرھم أن یبایعوا لمن فی الصحیفۃ فبایعوا حتّٰی مرت بعلی فقال: بایعنا لمن فیھا وإن کان عمر، وبالجملۃ وقع الْإتفاق علٰی خلافتہ ثم استشھد عمر وترک الخلافۃ شوریٰ بین ستۃٍ عثمان وعلی وعبدالرحمٰن بن عوف وطلحۃ وزبیر وسعد ابن أبی وقاص ثم فوض الأمر خمستھم إلٰی عبدالرحمٰن بن عوف ورضوا بحکمہ فاختار عثمان وبایعہ بمحضر من الصحابۃ فبایعوہ وانقادوا لأوامرہ وصلوا معہ الجمع والأعیاد فکان إجماعًا ثم استشھد وترک الأمر مھملا فأجمع کبار المھاجرین والأنصار علٰی علیّ والتمسوا منہ قبول الخلافۃ وبایعوہ لما کان أفضل أھل عصرہ وأولَاھم بالخلافۃ وما وقع من المخالفات والمحاربات لم یکن من نزاعٍ فی خلافتہ بل عن خطأ فی الْإجتھاد وما وقع من الْإختلاف بین الشیعۃ وأھل السُّنَّۃ فی ھٰذہ المسئلۃ وادعاء کل من الفریقین النص فی باب الْإمامۃ وایراد الأسولۃ والأجوبۃ من الجانبین فمذکور فی المطولَات۔ (شرح عقائد ص:۱۴۹-۱۵۱)۔
  2. (۱۶) والصحیح أن الذی فعل ذٰلک غیرہ، وأنہ استحیی ورجع حین قال لہ عثمان: لقد أخذت بلحیۃ کان أبوک یکرمھا، فتذمم من ذٰلک وغطی وجھہ ورجع وحاجز دونہ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۱۸۵)۔ ایضاً ودخل محمد بن أبی بکر فأخذ بلحیتہ ۔۔۔ فقال: مھلًا یا ابن أخی! فواللہ لقد أخذت مأخذًا ما کان أبوک لیأخذ بہ۔ فترکہ وانصرف مستحییا نادمًا فاستقبلہ القوم علٰی باب الصفۃ فردھم طویلًا حتّٰی غلبوہ ۔۔۔الخ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۱۸۴، صفۃ قتلہ رضی اللہ عنہ، طبع دارالفکر بیروت)۔
  3. (۱۷) عمرو بن الحمق بفتح أوّلہ وکسر المیم بعدھا قاف ابن کاھل ۔۔۔ قال ابن السکن: لہ صحبۃ، وقال ابو عمر: ھاجر بعد الحدیبیۃ وقیل بل أسلم بعد حجۃ الوداع، والأوّل أصح۔ (الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج:۲ ص:۵۳۲، ۵۳۳، القسم الأوّل، طبع دار صادر، بیروت)۔
  4. (۱۸) اعلم! ان قتل أمیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ من أکبر الکبائر، فانہ امام حق ۔۔۔ ولم یدخل أحد من الصحابۃ رضوان اللہ علیھم فی قتلہ ولم یرض بہ أحد منھم أیضًا بل جماعۃ من الفساق اجتمعوا کاللصوص۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۴۴۴، طبع نولکشور لکھنؤ)۔ وأیضًا وأما ما یذکرہ بعض الناس، من أن بعض الصحابۃ اسلمہ ورضی بقتلہ فھٰذا لَا یصح عن أحد من الصحابۃ أنہ رضی بقتل عثمان رضی اللہ عنہ، بل کلھم کرھہ، ومقتہ، وسبَّ من فعلہ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۱۹۸، طبع دارالفکر، بیروت)۔
  5. (۱۹) ۔۔۔ ثم تقدم سودان بن حمران بالسَّیف ۔۔۔ فجاء غلام عثمان فضرب سودان فقتلہ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۱۸۸)۔ ۔۔۔حتّٰی استلب رجل یقال لہ کلثوم التجیبی ۔۔۔ فضربہ غلام لعثمان فقتلہٗ۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۱۸۹)۔
  6. (۲۰) ۔۔۔ وقد اقسم بعض السلف باللہ انہ ما مات أحد من قتلۃ عثمان اِلّا مقتولًا۔ رواہ ابن جریر۔ (البدایۃ والنہایۃ ج:۷ ص:۱۸۹)۔
  7. (۲۱) ازالۃ الخفاء ج:۱ ص:۲۴۳۔
  8. (۲۲) عن أبی رافع قال: کان أبوھریرۃ رضی اللہ عنہ ۔۔۔ یأکل علٰی سماط معاویۃ ویصلی خلف علی ویجلس وحدہ، فسئل عن ذٰلک فقال: طعام معاویۃ أدسم والصلاۃ خلف علی أفضل وھو أعلم والجلوس وحدی لی أسلم۔ (المستطرف ج:۱ ص:۲۸۶ طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
  9. (۲۳) عقیل بن أبی طالب ۔۔۔ فقیل ان معاویۃ قال لہ یومًا ھٰذا أبو یزید لو لَا علمہ بأنہ خیر لہ من أخیہ لما أقام عندنا فقال عقیل: أخی خیر لی فی دینی وأنت خیر لی فی دنیای، وقد آثرت دنیای وأسأل اللہ خاتمۃ خیر عنہ ۔۔۔إلخ۔ (اُسد الغابۃ ج:۳ ص:۴۲۳)۔
  10. (۲۴) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ أُمَتِّعۡكُنَّ وَأُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحٗا جَمِيلٗا ٢٨ وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٢٩ ﵞ الأحزاب ٢٨ و ٢٩، أیضًا: وقال الْإمام أحمد ۔۔۔ عن جابر قال: أقبل أبوبکر رضی اللہ عنہ یستأذن علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والناس ببابہ جلوس والنبی صلی اللہ علیہ وسلم جالس فلم یؤذن لہ ثم أقبل عمر فاستأذن فلم یؤذن لہ، ثم أذن لأبی بکر وعمر فدخلا، والنبی صلی اللہ علیہ وسلم جالس وحولہ نسائہ وھو ساکت، فقال عمر: لأکلّمنّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لعلّہ یضحک، فقال عمر: یا رسول اللہ! لو رأیت ابنۃ زید امرأۃ عمر سألتنی النفقۃ آنفًا، فوجأت عنقھا فضحک النبی صلی اللہ علیہ وسلم حتّٰی بدا نواجذہ وقال: ھنّ حولی کما تری یسألننی النفقۃ، فقام أبوبکر رضی اللہ عنہ إلٰی عائشۃ لیضربھا، وقام عمر رضی اللہ عنہ إلٰی حفصۃ کلاھما یقولَان تسألَان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما لیس عندہ فنھاھما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلن نسائہ: واللہ! لَا نسأل رسول اللہ بعد ھٰذا المجلس ما لیس عندہ، قال: وأنزل اللہ عزَّ وجَلَّ الخیار، فبدأ بعائشۃ فقال: إنی أذکر لک أمرًا ما أحبّ أن تعجلی فیہ حتّٰی تستأمری أبویک، قالت: ما ھو؟ قال: فتلا علیھا: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَﵞ۔۔۔الآیۃ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۱۶۶)۔
  11. (۲۵) (ولَا تجتمع بنت رسول اللہ) أی فاطمۃ، (وبنت عدو اللہ) أی بنت أبی جھل (مکانًا واحدًا أبدًا) قال الحافظ: وقال أھل التین أصح ما تحمل علیہ ھٰذہ القصۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم حرم علٰی علی رضی اللہ عنہ أن یجمع بین ابنتہ وابنۃ أبی جھل لأنہ علل بأن ذٰلک یؤذیہ وأذیتہ حرام بالْإتفاق ۔۔۔ لأنہ یبعد ان فی خصائص النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لَا تزوّج علٰی بناتہ ویحتمل ان ذٰلک مختصًّا لفاطمۃ سلام اللہ علیھا۔ (بذل المجھود، کتاب النکاح، باب ما یکرہ أن یجمع بین النساء ج:۴ ص:۱۵ طبع مکتبہ امدادیہ)۔
  12. (۲۶) مشکوٰۃ، باب مناقب علی بن أبی طالب ص:۵۶۳۔
الجواب (8-14) - شہید اسلام