October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بدگمانی کرنا

سوال

ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بہت سے لوگ بدگمانیاں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صحابی نہیں تھے۔ ان کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔ نیز حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں کے علاوہ کسی اور کے نام کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ لگایا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جواب:۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ صحابی تھے، ان کے حق میں یہ بدگمانی غلط ہے۔(۱)

’’رضی اللہ عنہ‘‘ صحابہ کے لئے ہے، دُوسروں کو نہیں کہنا چاہئے، اگرچہ لغوی معنی کے لحاظ سے دُعا ہے اور اسی بنا پر تابعین واَئمۂ دِین کے لئے بھی یہ صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔(۲)

  1. (۱) وکان أبوہ من سادات قریش ۔۔۔ ثم لما أسلم حسن بعد ذٰلک اسلامہ، وکان لہ مواقف شریفۃ، وآثار محمودۃ فی یوم الیرموک وما قبلہ وما بعدہ۔ (البدایۃ والنہایۃ لِابن کثیر ج:۸ ص:۱۱۷ ترجمۃ معاویۃ بن ابی سفیان)۔
  2. (۲) وفی الدر المختار: ویستحب الترضی للصحابۃ ۔۔۔ والترحم للتابعین۔۔۔ وکذا یجوز عکسہ الترحم للصحابۃ والترضی للتابعین ومن بعدھم۔ وفی رد المختار: ویستحب الترضی للصحابۃ لأنھم کانوا یبالغون فی طلب الرضا من اللہ تعالٰی ویجتھدون فی فعل ما یرضیہ، ویرضون بما یلحقھم من الْإبتلاء من جھتہ أشد الرضا، فھٰؤلَاء أحق بالرضا وغیرھم لَا یلحق أدناھم ولو أنفق ملء الأرض ذھبا۔ (رد المختار ج:۶ ص:۷۵۴، طبع ایچ ایم سعید)۔
حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بدگمانی کرنا - شہید اسلام